Posts

Showing posts from June, 2020

دامنِ یزداں چاک (انصاری افضال احمد) تجزیے و تبصرے

افسانہ نمبر 3  دامنِ یزداں چاک (انصاری افضال احمد) رات کا پچھلا پہر تھا ... میرے سامنے نئے افسانے کا ادھورا مسودہ پڑا ہوا تھا ، میں بالوں میں انگلیاں دیئے ہوئے مسلسل مرکزی کردار کے اختتام کے بارے میں سوچ رہا تھا ، بیوی کی بے حیائی، بے وفائی، دوسرے مردوں سے کھلے عام معاشقہ، مرکزی کردار کی بے روزگاری، بے بسی، بیوی کا اچھی تنخواہ پر کام کرنا، گھر میں آفس کے لوگوں کو کام کے بہانے سے لانا اور بے حیائی کرنا... مرکزی کردار کو کیا کرنا چاہیے؟؟ طلاق دے کر دوسری لڑکی تلاش کر لے؟؟ مگر اس سے بھی شاید دل دریدہ  زخموں کا مداوا نہ ہو سکے اور یہ تو ایک سیدھا سا اختتام ہوگا، اس میں نہ کوئی کرب آزارافسانوی رنگ ہوگا نہ پڑھنے والے کے لیے کوئی دلچسپی... پھر؟؟؟ پھر کیا کرنا چاہیے اسے؟؟ یہ سوچتے ہوئے میرے ماتھے کی رگیں تن گئیں، مٹھیاں بھنچی ہوئیں اور سانسیں چڑھی ہوئی تھیں پھر اچانک ایک خیال سا ذہن میں آیا... ہاں اسے خودکشی کرنا ہوگی تاکہ انجام افسانوی اور چونکا دینے والا ہو .. اور ویسے بھی موت سے کردار کے سارے دکھوں کا مداوا ہوجاتاہے... موت زندگی کا سب سے بہترین حسن ہے۔موت سارے دکھوں کا اپنے خوبصورت...

تنہائی (از:اقبال نیازی) تجزیے و تبصرے

 تجزیہ و تبصرہ افسانہ: تنہائی افسانہ نگار: اقبال نیازی                حالاتِ حاضرہ پر اقبال نیازی صاحب کا افسانہ *تنہائی* پڑھنے میں آیا. ابتدا میں محسوس ہوا کہ کورونا کے سبب ہونے والے لاک ڈاؤن پر بس بالکل سادہ سا افسانہ ہوگا بلکہ کلائمکس سے قبل تو یہ خیال مزید زور پکڑگیا مگر اقبال نیازی صاحب نے اپنے افسانے کے کلائمکس سے اس خیال کو غلط ثابت کردیا. ان کا افسانہ آج کے پریشان کن حالات میں بھی مفاد پرستوں کے اندرون پلنے والے شیطانی خیالات کو بیان کررہا ہے. زبان و بیان ٹھیک ٹھاک ہے. بس ذرا *اے بیوی* والا طرزِ تخاطب بالکل غیر فطری سا محسوس ہورہا ہے اور صرف ایک سٹنگ کے کینسل ہونے سے ساحل صاحب کے ذہن پر اتنا گہرا اثر پڑنا بھی کچھ عجیب سا محسوس ہورہا ہے لیکن غور کریں تو وہ سٹنگ بھی لاک ڈاؤن کے سبب انسان کو تنہا کردینے کا سبب بن رہی ہے اور رفتہ رفتہ رگوں میں سرایت کرجانے والے زہر کی طرح یہ تنہائی بھی انسان کے ذہن پر اثر انداز ہوتی ہے.  ساحل صاحب کی سٹنگ والی بات بھی ان کی تنہائی کے سبب شعور و تحت الشعور کے گڈ مڈ ہونے کی جانب اشارہ کررہی ہے. حالانکہ...

سنگھار دان (شموئل احمد) تجزیے و تبصرے

افسانہ نمبر 2 سنگھار دان  افسانہ نگار:  شموئل احمد فساد میں رنڈیاں بھی لوٹی گئی تھیں.... برحمبوہن کو نسیم جان کا سنگھار دان ہاتھ لگا تھا۔ سنگھار دان کا فریم ہاتھی دانت کا تھا۔ جس میں قد آدم شیشہ جڑا ہوا تھا اور برجمبو ہن کی لڑکیاں باری باری سے شیشے میں اپنا عکس دیکھا کرتی تھیں۔ فریم میں جگہ جگہ تیل، ناخن پالش اور لپ اسٹک کے دھبے تھے جس سے اس کا رنگ مٹ میلا ہو گیا تھااور برجمبوہن حیران تھا کہ ان دنوں اس کی بیٹیوں کے لھچن.... یہ لچھن پہلے نہیں تھے.... پہلے بھی وہ بالکنی میں کھڑی رہتی تھیں لیکن انداز یہ نہیں ہوتا تھا.... اب تو چھوٹی بھی چہرے پر اُسی طرح پاﺅڈر تھوپتی تھی اور ہونٹوں پر گاڑھی لپ اسٹک جما کر بالکنی میں ٹھٹھا کرتی تھی۔ آج بھی تینوں کی تینوں بالکنی میں کھڑی آپس میں اسی طرح چہلیں کر رہی تھیں اور برحمبوہن چپ چاپ سڑک پر کھڑا ان کی نقل و حرکت دیکھ رہا تھا۔ یکایک بڑی نے ایک بھرپور انگڑائی لی۔ اس کے جوبن کا اُبھار نمایاں ہو گیا۔ منجھلی نے جھانک کر نیچے دیکھا اور ہاتھ پیچھے کر کے پیٹھ کھجائی۔ پان کی دکان کے قریب کھڑے ایک نوجوان نے مسکرا کر بالکنی کی طرف دیکھا تو چھوٹی نے منجھ...

افسانے کا فن

چند معروضات  از قلم: عمران عاکف خان تاحال جب کہ ہمارا افسانہ ایک سو بیس برس کا ہورہا ہے اور اس دوران میں لاکھوں افسانے اور ہزارہا افسانوی مجموعے منظر عام پر آئے. افسانے نے جہاں اردو ادب بالخصوص اردو فکشن کی خدمت انجام دی ہے اس میں کوئی شبہ بھی نہیں اور نہ ہی اس کی نیٹ مخدوش ہے، سماج اور قاری کی افادی تربیت میں افسانے کابھی اہم کردار رہا ہے  تاہم سوائے تحریکی یا، تقسیمی یا جدیدیت کے افسانوں کے بالعموم افسانوں میں چند خامیوں اور کمیوں کا احساس شدت سے ہوتا رہا ہے *افسانے میں تنوع کے نام پر بس موضوعات ہی تبدیل کیے ہیں* *کرداروں کے احسن پہلوؤں کا بیان اور ان کی خامیوں کی پردہ پوشی* *غیر ضروری اور لا یعنی سیکس کا بیان نیز افسانے کو پورنیو گرافی کی فلیڈ بنادینا* *زبان و اسلوب اور انداز بیاں کی نقل محض کرنا* *مسلم افسانہ نگاروں کے کرداروں کو استعمال کرکے قارئین کے ذہن میں منفی تصویریں ثبت کرنا* *80کے بعد کے افسانے کو محدود اور علاقوں میں قید کردینا* *نئی صدی میں افسانے کو اس قدر کنفیوذ کردینا کہ وہ خود اپنی شناخت کی تلاش میں سرگرداں ہے اس پر مزید افسانے اور نہ جانے کیا کیا* یہ اود اس ...