چراغوں کے اندھیرے ( محمد عرفان ثمین۔۔۔گلبرگہ ) دنیا کی سب سے عارضی،ناپائیدار اور نا قابلِ اعتبار شئے اگر کوئی ہے تو وہ ہے انسانی رشتے۔ کتابوں میں یہ بات شاید درج نہ ہومگر کتابِ زیست کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں انسانی تعلقات کے بنتے بگڑتے یا کمزور ہوتے رشتوں کی بے شمار گوناگوں کہانیاں درج ہیں۔چونکہ زندگی کا اعتبار ہے نہ انسان کا،اس لئے ان دونوں سے وابستہ ہر شئے بھی عارضی ہے۔ زندگی کے انہی بے ثبات رشتوں کی ڈور میں الجھا شہراز آفس میں اپنی کرسی پر بیٹھا پچھلے دو گھنٹوں سے مسلسل اونگھ رہا تھا۔ پچھلی تین راتوں سے وہ ٹھیک سے سو نہیں پایا تھا۔صبح گھر کا کام، بچوں کو اسکول ڈراپ کرنا، ننھے زین کو باہر لے جانا تاکہ زویا ناشتہ تیار کر سکے، پھر آفس میں سارا دن فائلس کے ساتھ اتناسرکھپانا کہ سر کا پسینہ ایڑی تک آ جائے، تھکا ماندہ شام کو گھر لوٹتاتو بچوں کا غل غپاڑہ،ان کے ہوم ورک کی تکمیل کرانا، پھر زین کو گھنٹہ بھر سنبھالنا تاکہ رات کا کھانا تیار ہوسکے۔ بچوں کے سونے کے بعد شہراز اور زویا ڈنر سے فارغ ہوتے، مگر تب...
Posts
Showing posts from September, 2020