Posts

Showing posts from September, 2023

وہ ایک تخلیق کار: فریدہ نثار احمد

Image
 بزمِ افسانہ کی پیش کش سترہواں ایونٹ رنگ و آہنگ افسانہ نمبر : 14           *وہ ایک تخلیق کار*                فریدہ نثار احمد انصاری        پہیے پر چلتے چاک کی طرح زبیدہ کی زندگی کے شب و روز بھی ہر آتی جاتی سانسوں کے اردگرد گھوم رہے تھے ۔وہ جی رہی تھی اپنے اکلوتے ساجد کے لئے ، وہی ساجد جو اس کا متاع حیات تھا۔کتنے سپنے دیکھے تھے ان دونوں نے ۔لیکن وقت کا پہیہ ایسا گھوما کہ گاڑی غیر متوازن ہوگئ۔شکیل پیشے سے ڈرائیور تھا۔  ہنستے مسکراتے گھر سے رخصت ہوا تھا لیکن اس کی واپسی نے ہمیشہ کے لئے زبیدہ کے لبوں سے مسکراہٹ چھین لی، اس کے آنکھوں کے قمقموں میں آنسوؤں تیل بن کر شب روز کو روشن کرتے رہے۔        ایسے کڑے وقت میں جب رشتہ داروں نے اس کی گود میں ساجد کو ڈالا تب اس کا سفینہءحیات بھنور میں ڈوبتے ڈوبتے کچھ سنبھل گیا۔ اس نے ساجد کی خاطر پھر سے مٹی کے چاک کو گھر کے کونے سے نکالا ۔وہی چاک جسے شکیل بالکل پسند نہیں کرتا تھا کہ اس سے اس کے ہاتھ مٹی سے سند جاتے تھے، اس کے کپڑے گندے ہو جاتے ت...

واپسی : رخسانہ نازنین

Image
 بزمِ افسانہ کی پیش کش  سترہواں ایونٹ  رنگ و آہنگ  افسانہ نمبر : 13                  *واپسی*                    رخسانہ نازنین   " ممی. مجھے 500 روپئے چاہئے. بائیک میں پٹرول ڈلوانا ہے.  ہاں شام میں 2 ہزار روپئے بھی چاہئے .جم کی فیس دینی ہے! "  سہیل کی بات سنکر ثمینہ کے ماتھے پر بل پڑگئے. " افوہ.  کہاں مارے مارے پھرتے ہو. چار دن پہلے ہی تو پٹرول کے لئے پیسے دئیے تھے. اور یہ جم کا الگ جنجال پال رکھا ہے. پتہ نہیں آج کل کے لڑکوں کو یہ جم کا کیا شوق چڑھا ہے کوئی وزن بڑھانے کے لئے جم جاتا ہے تو کوئی گھٹانے کے لئے.  ہم نے نہ دیکھے کبھی ایسے چونچلے! " سہیل اسکی جھلاہٹ پر ہنس پڑا  " میری پیاری ممی.  آپکا دور گزر گیا.  یہ نیوجنریشن ہے. یہ سب کچھ اب ضروری ہے ـ"  " یہ لو پیسے . پٹرول ڈال لینا. مگر غیر ضروری سڑکیں مت ناپا کرو.  پتہ ہے نا پاپا واپس آگئے ہیں. کفایت شعاری سے گزر بسر کرنی ہے! " اسکی تاکید سن کر سہیل نے منہ بنا لیا... " افوہ م...

ادیب : فرخندہ ضمیر

Image
 بزمِ افسانہ کی پیش کش  سترہواں ایونٹ  رنگ و آہنگ  افسانہ نمبر : 12                   *ادیب*                    فرخندہ ضمیر      شاد صاحب کو جیسے ہی ہوش آیا انھوں نے اپنے آس پاس دیکھا۔۔  آنکھوں اور سر کو ہلکی سی جنبش دی تو انھیں احساس ہوا کہ وہ کئ طرح کے تاروں اور نلکیوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ دماغ پر زور ڈالا تو انھیں کچھ کچھ یاد آیا ۔ پھر سب کچھ روشن ہو گیا ۔  ہاں !انھیں یاد آیا ۔  بہت شدّت سے انھیں گردے میں تکلیف ہوئ تھی کہ وہ درد کی تاب نہ لاکر  بے ہوش ہو گئے تھے ۔ اور انکا ذہن تاریکیوں میں ڈوبتا چلا گیا تھا۔ "انھیں یہاں کون لایا؟" وہ درو دیوار کو غور سے دیکھنے لگے۔  شیشے کے اس پار سے نرس نے دیکھا تو فورا`قریب آئ ۔ ڈاکٹر بھی جلدی سے قریب آگیا ۔ "آپ ٹھیک ہیں " ڈاکٹر نے ان کی نبض چیک کرتے ہوئے کہا ۔ "جی" شاد صاحب نے نحیف آواز میں کہا ۔ ڈاکٹر نے نرس کو کچھ ہدایتیں دیں اور دوسرے مریضوں کے بیڈ کی طرف بڑھ گئے۔ شاد صاحب ڈاکٹر اور نرسوں...

اس پار: غیاث الرحمن

Image
 *بزمِ افسانہ کی پیش کش* *سترہواں ایونٹ رنگ و آہنگ*  *افسانہ نمبر : 11*  *اس پار* *غیاث الرحمان* ہرے ہرے کھیتوں اور گھنٹی جھاڑیوں کے اس پار پھیلی ہوئی اجنتا کی مہیب پہاڑیاں جن پر ہلکے ہلکے برساتی بادل منڈلا رہے ہیں۔ ایک ٹیڑھی میڑھی کالی سڑک دو پہر کی تیز دھوپ میں چمکتی ہوئی کھیتوں کے بیچ اور ندی کے اوپر سے گزرتی ہوئی پہاڑیوں میں کہیں گم ہو گئی ہے۔ سڑک کے آخری سرے پر دور سے ڈاک بنگلے کی سفید عمارت کے شیشے دھوپ میں چمک رہے ہیں۔  ندی کے پاس ہی سڑک کے کنارے ایک چھوٹا سا بس اسٹینڈ جس میں لمبے لمبے دو سیمنٹ کے پینچ بالکل خالی پڑے ہیں۔ آس پاس بہت سی جھونپڑیاں بے ترتیبی سے کھڑی ہیں۔ اسٹینڈ کے سامنے سڑک کے دوسری طرف ایک بہت بڑے املی کے پیڑ کے نیچے ایک بھینس بندھی بیٹھی ہے اور اس کے قریب ہی اس کا نوزائیدہ بچہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد’’بھیں...ا م... بھائیں‘‘ کر کے پکار رہا ہے۔  املی کے موٹے تنے سے ٹیک لگائے ایک جوان آدمی بیٹھا ہے۔ سر کے چھوٹے چھوٹے بالکل سیدھے کھڑے ہوئے بالوں کے ساتھ تھوڑی بڑھی ہوئی داڑھی ، وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا مستقل آسمان کی طرف دیکھ رہا ہے۔ جی...

پہاڑی گلاب: اسلم جمشید پوری

Image
بزمِ افسانہ کی پیش کش  سترہواں ایونٹ  رنگ و آہنگ  افسانہ نمبر : 10              *پہاڑی گلاب*         پروفیسر اسلم جمشیدپوری ایک بار کا ذکر ہے۔یہی کو ئی دس بارہ برس قبل کی بات ہوگی۔ وہ ہماچل پردیش کے سفر پر نکلا تھا۔دراصل کلو منالی کے راستے سے ایک راستہ شملہ کے لئے جاتا ہے۔اسی راستے پر ایک علاقہ بلاس پور پڑتا ہے۔وہاں ایک پہاڑی پر جواہر نوودے ودیالیہ ہے۔یہاں اس کا ایک دوست اکرم حسین اردو کا ٹیچر ہے۔ویسے تو یہاں پہاڑوں کا ایک سلسلہ ہے۔جو آگے جاکر ہمالیائی سلسلے سے  جا ملتا ہے۔ پورے ملک میں جواہر نوودے ودیالیہ کی ایک زنجیر ہے۔یہ اسکول ہر ضلع میں ہوتا ہے۔اس میں چھٹی سے بارھویں تک پڑھائی ہوتی ہے۔یہ اسکول سابق وزیر اعظم آنجہانی راجیو گاندھی کی نئی تعلیمی پالیسی کا نتیجہ ہے۔اس کا ریزلٹ پرایؤیٹ اسکولوں کے مساوی ہوتا ہے۔ان اسکولوں میں داخلے انٹرنس کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔یہ اسکول طلبہ کے ساتھ ساتھ اسا تذہ کے لئے بھی رہائشی  ہوتے ہیں۔ان اسکولوں میں طالب علموں کی تعلیم کے ساتھ تربیت بھی کی جاتی ہے۔حکومت فری ایجوکیشن اسکیم ...

افیم کی گولی: مقصود حسن

Image
بزمِ افسانہ کی پیش کش  سترہواں ایونٹ  رنگ و آہنگ  افسانہ نمبر : 09           *افیم کی گولی*                   مقصود حسن  گھر ہو یا اسکول، ایک کتابی کیڑے کو عموماً سبھی پسند کرتے ہیں اور اگر اس کے ساتھ " پڑھاکو" کا ٹیگ لگ جائے تو والدین ایسے بچوں کو بڑی محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں ـ لیکن کچھ کتابی کیڑوں کیلئے" کچی عمر " میں " پکی کتابوں" کا مطالعہ اکثر ان کی پٹائی کا سبب بھی بن جاتا ہے ـ اسد کے ساتھ بھی یہی معاملہ درپیش ہوا تھا ـ جب ایک دوپہر اس کے تکیے کے نیچے سے ابن صفی کا جاسوسی ناول برآمد ہوا تھا ـ ـ ـ ـ موسم سرما کی چھٹیوں کے دن تھے، ان دنوں اسد اپنے کمرے میں کچھ زیادہ ہی " گھسا" رہتا تھا ـ ـ ـ ـ کئی بار اس کے والد نے محسوس کیا کہ اچانک انہیں دیکھ کر وہ کچھ چھپانے کی کوشش کر رہا ہو ـ وہ ایک سخت گیر باپ تھے مگر دنیا شناس بھی تھے ـ جلد ہی وہ بھانپ گئے کہ کہیں تو کچھ گڑبڑ ہے ـ اور پھر ایک دن چوری پکڑی گئی ـ ـ ـ ـ اسد کو بہت ڈانٹ پڑی تھی اور اس ڈانٹ نے ہی یہ راز افشاں کر دیا کہ خاندان میں ایک او...

سانڈ : غضنفر

Image
 بزمِ افسانہ کی پیش کش  سترہواں ایونٹ  رنگ و آہنگ  افسانہ نمبر : 08                    *سانڈ*                         غضنفر ’’یہ کیسی بھگدڑ مچی ہے بھائی؟‘‘  سورج پور گاؤں کے ایک بوڑھے نے اپنے برآمدے سے بھاگنے والوں کو مخاطب کیا — ایک نوجوان نے رک کر ہانپتے ہوئے جواب دیا۔‘‘  ’’چاچا! گاؤں میں آج سانڈ پھر گھس آیا ہے۔‘‘  ’’سانڈ پھر گھس آیا ہے!‘‘ بوڑھے کی سفید لمبی داڑھی اوپر سے نیچے تک ہل اٹھی —  ’’ہاں چاچا! پھر گھس آیا ہے اور آج تو اس نے ایسی تباہی مچائی ہے کہ پوچھیے مت۔ نتھو کی بچھیا کو خراب کر دیا۔ چھیدی کے بچھڑے کو سینگ مار دیا۔ بھولو کے بیل کو ٹکریں مارمار کر لہولہان کر دیا۔ کالو کی گائے بھینس کے چارہ پانی کے برتن کو توڑ پھوڑ دیا۔ بدھو اور بھولا کی تیار سبزیوں کو نوچ کھسوٹ کر ملیامیٹ کر دیا۔ اب بھی بورایا ہوا اینڈتا پھر رہا ہے۔ نہ جانے اور کیا کیا کرےگا؟ کس کس پر قیامت ڈھائےگا؟‘‘  ’’تم لوگ دھام پور والوں سے کہتے کیوں نہیں کہ و ہ اپنے...