وہ ایک تخلیق کار: فریدہ نثار احمد
بزمِ افسانہ کی پیش کش سترہواں ایونٹ رنگ و آہنگ افسانہ نمبر : 14 *وہ ایک تخلیق کار* فریدہ نثار احمد انصاری پہیے پر چلتے چاک کی طرح زبیدہ کی زندگی کے شب و روز بھی ہر آتی جاتی سانسوں کے اردگرد گھوم رہے تھے ۔وہ جی رہی تھی اپنے اکلوتے ساجد کے لئے ، وہی ساجد جو اس کا متاع حیات تھا۔کتنے سپنے دیکھے تھے ان دونوں نے ۔لیکن وقت کا پہیہ ایسا گھوما کہ گاڑی غیر متوازن ہوگئ۔شکیل پیشے سے ڈرائیور تھا۔ ہنستے مسکراتے گھر سے رخصت ہوا تھا لیکن اس کی واپسی نے ہمیشہ کے لئے زبیدہ کے لبوں سے مسکراہٹ چھین لی، اس کے آنکھوں کے قمقموں میں آنسوؤں تیل بن کر شب روز کو روشن کرتے رہے۔ ایسے کڑے وقت میں جب رشتہ داروں نے اس کی گود میں ساجد کو ڈالا تب اس کا سفینہءحیات بھنور میں ڈوبتے ڈوبتے کچھ سنبھل گیا۔ اس نے ساجد کی خاطر پھر سے مٹی کے چاک کو گھر کے کونے سے نکالا ۔وہی چاک جسے شکیل بالکل پسند نہیں کرتا تھا کہ اس سے اس کے ہاتھ مٹی سے سند جاتے تھے، اس کے کپڑے گندے ہو جاتے ت...