Posts

Showing posts from June, 2022

دروازے )سید محمد اشرف

*بزمِ افسانہ کی پیش کش* *چودھواں ایونٹ* *رنگ و بوئے باراں (رومانی افسانے )* *افسانہ نمبر : 01* *دروازے* *سید محمد اشرف* *اُس دِن* آسمان پر کہرا چھایا ہوا تھا اور گلیوں میں بھی سفید چمکتا کہرا دھیرے دھیرے بہہ رہا تھا۔ سردی کچھ کم ہو گئی تھی۔ ہوائیں کہرے کے مرغولوں کو اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے تھیں۔ دریا کنارے اس قصباتی بستی کے نسبتاً کم گھنی آبادی والے حصے میں کہرے کو چیرتا وہ شخص جس کے چہرے پر داڑھی بڑھی ہوئی تھی اور لباس ملگجا تھا، گلی کے دہانے سے آگے بڑھا۔ وہ رُک کر کبھی زمین کودیکھتا کبھی آسمان کو۔ پھر اُس نے مکانوں کے در و دیوار کو دیکھا اور پھر ہاتھ بلند کر کے کہرے کو محسوس کیا۔ چہرے پر ہاتھ پھیرا تو نمی کا احساس ہوا۔ اس نے ایک لمحے کو سوچا یہ نمی باہر سے آئی ہے کہ اندر سے۔ پھر ایک نعرے کی طرح پڑھا-- آنکھیں رو رو کے سجانے والے - جانے والے نہیں آنے والے وہ مسلسل اسی شعر کا وِرد کرتا رہا اور گلی میں آگے کی طرف بڑھتا رہا۔ اچانک ایک دروازے کا پَٹ کُھلا۔ایک عورت نے اِک ذرا سا چہرہ نکالا اور شعر پڑھتے اس شخص کو دیکھا جو اس کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا۔ چہرا اندر کر کے وہ ذرا بلند آواز میں...