چراغوں کے اندھیرے


( محمد عرفان ثمین۔۔۔گلبرگہ )


           دنیا کی سب سے عارضی،ناپائیدار اور نا قابلِ اعتبار شئے اگر کوئی ہے تو وہ ہے انسانی رشتے۔ کتابوں میں یہ بات شاید درج نہ ہومگر کتابِ زیست کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں انسانی تعلقات کے بنتے بگڑتے یا کمزور ہوتے رشتوں کی بے شمار گوناگوں کہانیاں درج ہیں۔چونکہ زندگی کا اعتبار ہے نہ انسان کا،اس لئے ان دونوں سے وابستہ ہر شئے بھی عارضی ہے۔ 
            زندگی کے انہی بے ثبات رشتوں کی ڈور میں الجھا شہراز آفس میں اپنی کرسی پر بیٹھا پچھلے دو گھنٹوں سے مسلسل اونگھ رہا تھا۔ پچھلی تین راتوں سے وہ ٹھیک سے سو نہیں پایا تھا۔صبح گھر کا کام، بچوں کو اسکول ڈراپ کرنا، ننھے زین کو باہر لے جانا تاکہ زویا ناشتہ تیار کر سکے، پھر آفس میں سارا دن فائلس کے ساتھ اتناسرکھپانا کہ سر کا پسینہ ایڑی تک آ جائے، تھکا ماندہ شام کو گھر لوٹتاتو بچوں کا غل غپاڑہ،ان کے ہوم ورک کی تکمیل کرانا، پھر زین کو گھنٹہ بھر سنبھالنا تاکہ رات کا کھانا تیار ہوسکے۔ بچوں کے سونے کے بعد شہراز اور زویا ڈنر سے فارغ ہوتے، مگر تب تک شہراز کا جسم شل ہو جاتا۔ بستر پر پڑتے ہی وہ نیند کی وادیوں میں اتر جاتا۔یہ سلسلہ پچھلے تین دنوں سے جاری تھا۔  
”پچھلے دو منٹ میں یہ تیسری جماہی، ناقابلِ برداشت حرکت ہے۔“ راحیل نے شہراز کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے جھنجوڑا،جو اس کا سب سے قریبی دوست تھا اور اس کا کولیگ بھی۔
 ”ہاں یار، نیند پوری نہ ہونے کے سبب کچھ کسل مندی سی محسوس ہو رہی ہے۔“ شہراز نے قدرے بیزاری سے کہا۔
”تو بھابھی کو مع فوج کے چند روز کے لئے میکے کیوں نہیں بھیج دیتا،تاکہ نیند کا تقاضہ بھی پورا ہو۔“راحیل نے شرارتاً کہا۔
”بد تمیز۔“ شہراز جھینپ سا گیا۔”اپنے بے ہودہ مشورے اپنے پاس رکھ اور یہاں سے جانے کی زحمت کر،مجھے کام کرنا ہے۔“
”جانتا ہوں آج کل کام کا کتنا بوجھ آن پڑا ہے تجھ پر،مگر اس کا ذمہ دار بھی تو،توہی ہے شہراز۔“اچانک راحیل سنجیدہ ہو گیا۔
”ا س تعلق سے ہم کسی اور دن گفتگو کریں گے راحیل،ابھی سر میں بہت درد ہو رہا ہے پلیز۔“ شہراز نے دونوں ہاتھوں سے اپناسر تھامتے ہوئے کہا۔
”ٹھیک ہے۔ تیری ناسازطبیعت کی خاطر تجھے اکیلا چھوڑ رہا ہوں۔ مگرلنچ سے فارغ ہو کر کچھ ہی منٹوں میں سامنے والی کرسی پر مس شہلا اپنے تمام جلوؤں سمیت براجمان ہوں گی۔ایسا نہ ہو کہ انہیں دیکھتے ہی تیرا سر درد اڑن چھو ہو جائے اور تیری طبیعت بحال ہو جائے۔“ راحیل اتنی جلدی باز آنے والوں میں سے نہیں تھا۔
”تو جا رہا ہے یا اٹھاؤں یہ فائل؟“ 
”اوکے، اوکے۔ اگرشام میں فرصت میسر آئے تو فون ضرور کر لینا۔ٹیک کیر۔“
 راحیل ان دنوں شہراز کی ذہنی کیفیت سے بخوبی واقف تھا اس لئے اُسے مزید چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا اور وہاں سے چلا گیا۔راحیل کے جانے کے بعد شہراز نے کرسی پر اپنی پشت ٹکا دی اور آنکھیں موند لیں۔
     شہراز کو ہمیشہ سے اتنا کام کرنے کی عادت نہیں تھی۔وہ تو بے فکری سے دن چڑھے تک سونے کا عادی تھا۔اس کے اٹھنے سے قبل اس کے والد مرزا عنایت بیگ سودا سلف لے آتے اور والدہ زین کو سنبھالتیں تو زویا ناشتہ بھی جھٹ پٹ تیار کر لیتی۔ پھر مرزا صاحب بچوں کو اسکول چھوڑ آتے اور شہراز تیار ہو کر آفس کا رخ کرتا۔ شام کو اس کے گھر لوٹنے سے قبل مرزا صاحب شارق اور عدنان کا ہوم ورک کرا دیتے۔ رات میں دوستوں کے ساتھ گھنٹہ بھر وقت گزار کر جب وہ گھر کا رخ کرتا تو تب تک شارق اور عدنان دادی کے ہاتھوں کھانا کھا کر سو چکے ہوتے اور زین دادا کے ساتھ ہوا خوری کرنے کے لئے باہر گیا ہوتا۔ مرزا صاحب کے لوٹنے پر سب لوگ ساتھ ڈنر کرتے۔ رشتوں کے باہمی پیار سے مربوط اور خلوص و اپنائیت سے مزین شہراز کی پرسکون زندگی ایک آئیڈیل اور مکمل زندگی کہی جا سکتی تھی جس کی کوئی بھی شخص تمنا کر سکتا تھا۔ 
     مگر پھر دھیرے دھیرے گھر میں غلط فہمیاں پاؤں پسارنے لگیں۔ خلوص کی جگہ کلفتیں بسیرا کرنے لگیں۔ قریب رکھے برتن بِنا کھٹ پٹ کے زیادہ دیر نہیں رہ سکتے۔انسانی فطرت بھی اسی کے مماثل ہے۔ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ گھروں میں دراڑ کی شروعات عورتوں کی چپقلش کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی معاملہ تھا۔ عورتوں کے مابین چھوٹی چھوٹی باتوں سے ایک دوسرے کی دل آزاری ہونے لگی۔ ایک دوسرے کی باتیں اور نصیحتیں گراں گزرنے لگیں، لہجے ترش ہونے لگے۔ حالانکہ شہراز کی والدہ ان عورتوں میں سے نہیں تھیں جو ساس بن کے اجارہ داری کی حیثیت سنبھال لیتی ہیں،بہوؤں میں ہمیشہ مین میخ نکالتی ہیں، اور زویا کوبھی روایتی بہوؤں کی طرح ساس سسر بارِ خاطر نہیں گزرتے تھے۔ مگر غلط فہمیوں کے بیجوں سے جو خاردار پودے نکلے تھے ان پودوں میں ان کے پر خلوص رشتوں کی چادر الجھنے لگی جس کے چلتے گھر کے مکین جانے انجانے میں ایک دوسرے کو گزند پہنچانے لگے۔ بات بے بات پر چشمک زنی ہونے لگی۔شب و روز عجیب سی کھینچا تانی میں گزرنے لگے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ تعلقات میں کڑواہٹ کا زہر گھلتا چلا گیا۔ جب یہ اختلافات طول پکڑنے لگے اور مفاہمت کی کوئی صورت نظر نہیں آنے لگی تو مرزا صاحب نے شہراز سے دو ٹوک بات کی۔
”شہراز، ہر رشتہ کی اپنی جگہ اہمیت ہے اور ہر رشتے کی کچھ حد بندیاں بھی ہیں مگر رشتوں میں برتری ظاہر کرنے کی کوشش دلوں میں صرف اور صرف رنجشیں پیدا کر سکتی ہے۔“
”سچ کہا آپ نے ابو، مگر بدلتے حالات کے ساتھ انسان کو بھی کچھ بدلنا چاہئے۔“ شہراز کے لہجے میں شکایت در آئی تھی۔ 
”حالات چاہے جتنے بھی بدلیں بیٹامگرگھر کی نیو نہیں بدلی جاتی۔ہاں دہلیز ضرور بدلی جا سکتی ہے۔“ مرزا صاحب نے چبھتے ہوئے انداز میں کہا۔
”گھر کی نیو بھلے نہ بدلی جائے،مگر دیواریں اور چھت ضرور بدلی جا سکتی ہیں۔“
مرزا صاحب شہراز کے دل کا ماجرا بخوبی سمجھ رہے تھے مگر شہراز کھل کر اپنی بات کہنے کی جرأت نہیں کر پا رہا تھا۔
”رشتے جوڑے رکھنے کے لئے مزاج اور جذبات میں ہم آہنگی نا گزیر ہے بیٹا،دل سے دل جڑے رہیں اور اپنوں کے لئے ایثار کا جذبہ پیداہو تو اس کی نوبت نہیں آتی۔“ اس بار مرزا صاحب نے پندانہ لہجے میں کہا۔
”ہر بات میں اختلاف ہونے لگے تو یہ ممکن نہیں ہے ابو۔“ شہراز نے گویا ٹھان ہی لیا تھاکہ آج فیصلہ ہو جانا ہے۔
”اگر گھر کے مکین متفرق آرا رکھتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ایک دوسرے کے حقوق پامال کر رہے ہیں۔ اگر رشتوں میں دراڑ پڑ رہی ہے تو ایک دوسرے کے جذبات کی قدر کی جانی چاہئے تاکہ رشتوں کا رنگ اور نکھر جائے۔ گھر میں اختلافِ رائے ہو سکتا ہے لیکن گھر کے خوشگوار ماحول کا انحصار اس بات پر ہے کہ ان اختلافات کو کیسے حل کیا جائے۔اگر ایک چھت کے نیچے رہ کر ہم ایک دوسرے کی قدر نہ کریں تو وہ دراصل ہم سب کی ہارہے بیٹا۔“ مرزا صاحب زمانہ شناس تھے اس لئے وہ ہر ممکن طریقے سے دلوں کے میل کو دھونے کی کوشش کر رہے تھے مگر جوان خون کسی نصیحت کو کب خاطر میں لاتا ہے۔
”قدر اپنی جگہ ہے ابو،مگرسارا مسئلہ ایک چھت کا ہی ہے۔“ شہراز نے دبی زبان میں کہا۔
”صاف صاف کہو شہراز، اتنا تردد کیوں؟ حدِ ادب تو تم پہلے ہی پار کر چکے ہو۔“ مرزا صاحب کا ضبط جواب دے گیا اور ان کے لہجے میں تلخی اتر آئی۔اتنا سمجھانے کے باوجود بھی شہراز کے لب و لہجہ میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آرہی تھی۔شاید اس نے من ہی من کوئی حتمی فیصلہ کر لیا تھا۔
”آپ ہی کہیئے ابو، آپ کی خوشی میں میری خوشی ہوگی۔“شہراز نے کہہ تو دیا مگر وہ مرزا صاحب سے نظریں چرا ر ہا تھا۔
”اپنی برتری ثابت کرنے اور اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش میں،میں اس روز روز کی جھک جھک سے اوب گیا ہوں۔“ حالات کو بھانپنے کے لئے قطعی انداز میں مرزا صاحب نے کہا۔
”اوب تو میں بھی گیا ہوں ابو، باقی آپ اور امی سمجھدار ہیں۔“شہراز کا یہ جملہ تیر بن کر مرزاصاحب کے سینے کو چھلنی کر گیا۔ وہ سمجھ گئے کہ رشتوں کی ڈور میں گرہ پڑ چکی ہے۔اپنی اولاد کے منہ سے ایسے الفاظ مرزا صاحب کو زندہ در گور کر گئے۔ان کا پارہ چڑھ گیا۔
”جب بیٹا باپ کو سمجھدار کہنے لگے تو سمجھ جانا چاہئے کہ دلوں میں آئی ہوئی دراڑیں اب گھر کے آنگن میں اترنا چاہتی ہیں۔ ٹھیک ہے،تمہاری خوشی کی خاطر میں ہی اپنے دیوار ودر بدل لیتا ہوں،شاید یہی دن دیکھنے کے لئے میں اب تک زندہ تھامگرمیں تم سے اس بات پر قول و قرار چاہتا ہوں کہ میرے مرنے کے بعد تم میرے جنازے کو کندھا نہیں دو گے۔ زندگی بھر جس اولاد کی خاطر ماں باپ قربانیاں دیتے ہیں، مرنے کے بعد اس اولاد سے لوحِ تربت کی امید بھی نہیں رہتی۔مگر ایک بات یاد رکھنا بیٹا، ماں باپ کا دل دکھا کر آج تک کوئی سرخرو نہیں ہوا ہے۔تم بھی زندگی بھر محروم اور محزون ہی رہو گے۔“ مرزا صاحب کی زبان سے نکلے ان سخت الفاظ سے وہ خود بھی کانپ سے گئے،ان کی آواز رندھنے لگی تھی اور آنکھیں نمناک ہو رہی تھیں جن کو چھپاتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں چلے گئے۔ 
         اگلی صبح سورج طلوع ہونے سے قبل مرزا صاحب اپنی پیکنگ کر چکے تھے۔ دل سوختہ ہو کر انہوں نے اپنے آبائی مکان میں رہنے کا فیصلہ کر لیا تھا جو اس گھر سے محض آدھا کلو میٹر کے فاصلے پر تھا۔مرزا صاحب کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔وہ رات بھر سو نہیں پائے تھے،پوری رات انہوں نے بستر پر کسمساتے ہوئے گزار ی تھی۔ ان کی بیگم کا بھی رو رو کر برا حال تھا۔اپنے اکلوتے بیٹے سے انہیں یہ امید ہر گز نہیں تھی۔ انہیں اس بات سے شدید جھٹکا لگا تھا کہ شہراز نے ایک بار بھی انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ رشتوں میں نوک جھونک تو عام بات ہے مگر حالات ایسی کروٹ لیں گے،رشتے یہ رنگ اختیار کر لیں گے انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔
  رشتوں کی ضرورت انسان کو بڑھاپے میں زیادہ ہوتی ہے کیوں کہ تنہائی بڑھاپے سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔اس عمر میں کوئی تو ہو پکارنے کے لئے۔بڑھاپے میں ماں باپ اولاد سے صرف دو وقت کی روٹی کی امید نہیں رکھتے بلکہ وہ اپنا مان چاہتے ہیں۔اولاد صرف رسمی طور پر والدین کی خیرو عافیت دریافت کر کے خود کو ان کی دعاؤں کا حقدار نہیں بناسکتی۔ جب باپ کمزور ہونے لگے تو وہ چاہتا ہے کہ بیٹے کے مضبوط ہاتھ اسے بڑھ کر تھام لیں۔اگر اسی عمر میں یہ لاٹھی چھوٹ جائے تو ماں باپ کے لئے اس سے بڑا غم کوئی اور نہیں ہوسکتا۔جاتے جاتے مرزا صاحب نے شہراز کو اپنے نسب سے بے دخل کرنے کا اعلان کر دیا،ماں نے سینے پر پتھر رکھ کر اپنا دودھ معاف نہ کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔ یہ رشتے گزاشتنی تو نہیں تھے مگر شاید فاصلے ہی اب ان رشتوں کو قریب لاسکتے تھے یا مزید مسموم ہونے سے بچاسکتے تھے۔
       سکون کی تلاش میں چھت تو الگ ہو گئی مگر زندگی کا اصل کھیل اب شروع ہو گیا تھا۔ گھر کے بزرگوں کو زندگی گزرانے کے کئی گُر ازبر ہوتے ہیں اور ان کی رہنمائی سے زندگی بہت سہل ہوجاتی ہے، کئی چھوٹے بڑے مصائب بڑوں کے صبر اور حوصلے کی مضبوط چٹان سے ٹکرا کر پلٹ جاتے ہیں۔علاوہ ازیں گھریلو جھگڑوں میں مرد کا کردار نہایت ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اگر مرد کمزور رہے تو رشتوں کی ڈور ٹوٹتے دیر نہیں لگتی اورگھر کا سارا نظام ہر پہلو سے انتشار کا شکار ہو جاتاہے۔ شہرازنے ابھی یہ مراحل طے ہی نہیں کئے تھے۔ باپ کے زیرِ سایہ رہ کر زندگی کے اصل امتحان اور تقاضوں سے وہ نابلدتھا، اس لئے گھر کا سارا نظام درہم برہم ہو گیا اور شب و روز ذہنی تناؤ اور محرومیت کے احساس میں گزرنے لگے۔
 آفس میں تناؤ سے بھرا ہوا ایک اور بے مصرف دن گزار کر شام کو جب شہراز گھر پہنچا تو سات سالہ شارق اپنی رائٹنگ ٹیبل پربیٹھا ہوا تھا اور اپنی نوٹ بک پر جھک کر بڑے انہماک سے کوئی ڈرائنگ بنا رہا تھا۔ زویا شاید کچن میں مصروف تھی کیوں کہ کچن سے ہی زین اور عدنان کی آوازیں آرہی تھیں۔۔شہراز نے بیگ ایک طرف پھینکااور شارق کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔
 ”پاپا،یہ دیکھئے میں نے کیا بنایا ہے۔ مائی سویٹ ہوم۔“
”ارے واہ۔۔۔۔“ شہراز نے پچکارتے ہوئے کہا اور ڈرائنگ کو اپنے ہاتھ میں لیا۔”آپ نے تو بہت اچھی ڈرائنگ بنائی ہے بیٹا۔“
”تھینکس پاپا۔۔۔“ شارق کی خوشی دوبالا ہورہی تھی۔اس نے شہراز کے ہاتھ سے اپنی ڈرائنگ لی۔
”یہ دیکھئے، یہ میرا کمرہ،یہ عدنان کا، یہاں زین کا جھولا،یہ گارڈن،یہ چڑیا کا گھونسلہ۔۔۔۔۔“ شارق ایک ایک جگہ پر پنسل کی نوک رکھتے ہوئے اپنی دھن میں بولے جارہا تھا اور اس کے جوش اور معصوم انداز پر شہراز فریفتہ ہو رہا تھا۔
”مگربیٹا، اس میں میرا کمرہ کہاں ہے؟“شہراز نے پیار سے شارق کا گال سہلایا۔
”آپ کا کمرہ؟۔۔۔۔۔۔۔“۔ پنسل کو گال پر رکھتے ہوئے شارق کچھ سوچ میں پڑ گیا، پھر یکایک اس کی آنکھوں میں چمک ابھر آئی اور وہ
 اس ڈرائنگ پر پنسل سے مزیدآڑھی ترچھی لکیریں کھینچنے لگا۔
”آپ کا کمرہ۔۔۔یہ۔۔۔یہاں سے دور۔۔۔اِدھر سے۔۔۔روڈ کے اِس طرف۔۔۔۔یہاں ہے۔۔۔۔۔جیسے دادا جی کا۔۔۔“
*************ختم شدہ************






Comments

Popular posts from this blog

بادِ صبا کا انتظار : سید محمد اشرف

پناہ گاہ: اسرارگاندھی

مسیحائی : ایم مبین (بھیونڈی)