سنگھار دان (شموئل احمد) تجزیے و تبصرے

افسانہ نمبر 2


سنگھار دان 

افسانہ نگار:  شموئل احمد



فساد میں رنڈیاں بھی لوٹی گئی تھیں....


برحمبوہن کو نسیم جان کا سنگھار دان ہاتھ لگا تھا۔ سنگھار دان کا فریم ہاتھی دانت کا تھا۔ جس میں قد آدم شیشہ جڑا ہوا تھا اور برجمبو ہن کی لڑکیاں باری باری سے شیشے میں اپنا عکس دیکھا کرتی تھیں۔ فریم میں جگہ جگہ تیل، ناخن پالش اور لپ اسٹک کے دھبے تھے جس سے اس کا رنگ مٹ میلا ہو گیا تھااور برجمبوہن حیران تھا کہ ان دنوں اس کی بیٹیوں کے لھچن....

یہ لچھن پہلے نہیں تھے.... پہلے بھی وہ بالکنی میں کھڑی رہتی تھیں لیکن انداز یہ نہیں ہوتا تھا.... اب تو چھوٹی بھی چہرے پر اُسی طرح پاﺅڈر تھوپتی تھی اور ہونٹوں پر گاڑھی لپ اسٹک جما کر بالکنی میں ٹھٹھا کرتی تھی۔

آج بھی تینوں کی تینوں بالکنی میں کھڑی آپس میں اسی طرح چہلیں کر رہی تھیں اور برحمبوہن چپ چاپ سڑک پر کھڑا ان کی نقل و حرکت دیکھ رہا تھا۔ یکایک بڑی نے ایک بھرپور انگڑائی لی۔ اس کے جوبن کا اُبھار نمایاں ہو گیا۔ منجھلی نے جھانک کر نیچے دیکھا اور ہاتھ پیچھے کر کے پیٹھ کھجائی۔ پان کی دکان کے قریب کھڑے ایک نوجوان نے مسکرا کر بالکنی کی طرف دیکھا تو چھوٹی نے منجھلی کو کہنی سے ٹھوکا دیا اور پھر تینوں کی تینوں ہنسنے لگیں.... اور برحمبوہن کا دل ایک انجانے خوف سے دھڑکنے لگا.... آخر وہی ہوا جس بات کا ڈر تھا.... آخر وہی ہوا....

یہ خوف برحمبوہن کے دل میں اُسی دن گھر کر گیا تھا جس دن اس نے نسیم جان کا سنگھاردان لوٹا تھا۔ جب بلوائی رنڈے پاڑے میں گھسے تھے کہرام مچ گیا۔ برحمبوہن ور اس کے ساتھی دندناتے ہوئے نسیم جان کے کوٹھے پر چڑھ گئے تھے۔ نسیم جان خوب چیختی چلاتی تھی۔ برحمبوہن جب سنگھاردان لے کر اُترنے لگا تو اس کے پاﺅں سے لپٹ کر گڑ گڑانے لگی تھی۔

”بھیا....یہ موروثی سنگھاردان ہے.... اس کو چھوڑ دو.... بھیا۔“

لیکن برحمبوہن نے اپنے پاﺅں کو زور کا جھٹکا دیا تھا۔

”چل ہٹ........رنڈی....“

اور وہ چاروں خانے چت گری تھی۔ اس کی ساڑی کمر تک اُٹھ گئی تھی۔ لیکن پھر اس نے فوراً ہی خود کو سنبھالا تھا اور ایک بار پھر برحمبوہن سے لپٹ گئی تھی۔

”بھیا.... یہ میری نانی کی نشانی ہے....بھیا“

اس باربرحمبوہن نے اس کی کمر پر زور کی لات ماری۔ نسیم جان زمین پر دوہری ہو گئی۔ اس کے بلوز کے بٹن کھل گئے اور چھاتیاں جھونے لگیں۔برحمبوہن نے چھرا چمکایا۔

”کاٹ لوں گا۔“

نسیم جان سہم گئی اور دونوں ہاتھوں سے چھاتیوں کو ڈھکتی ہوئی کونے میں دبک گئی۔ برحمبوہن سنگھاردان لئے نیچے اتر گیا۔

برحمبوہن جب اتر رہا تھا تو یہ سوچ کر اس کو لذت ملی کہ سنگھاردان لوٹ کر اس نے نسیم جان کو گویا اس کے خاندانی اثاثے سے محروم کر دیا ہے۔ یقینا یہ موروثی سنگھاردان تھا جس میں اس کی پرنانی اپنا عکس دیکھتی ہو گی۔ پھر اس کی نانی اور اس کی ماں بھی اسی سنگھار دان کے سامنے بن ٹھن کر گاہکوں سے آنکھیں لڑاتی ہو گی۔ برحمبوہن یہ سوچ کر خوش ہونے لگا کہ بھلے ہی نسیم جان اس سے اچھا سنگھار دان خرید لے لیکن یہ موروثی چیز تو اب اُسے ملنے سے رہی.... تب ایک پل کےلئے برحمبوہن کو کو لگا کہ آگ زنی اور لوٹ مار میں ملوث دوسرے بلوائی بھی یقینا احساس کی اس لذت سے گزر رہے ہوں گے کہ ایک فرقہ کو اس کی وراثت سے محروم کر دینے کی سازش میں وہ پیش پیش ہے۔

برحمبوہن جب گھر پہنچا تو اس کی بیوی کو سنگھاردان بھا گیا۔ شیشہ اس کو دھندلا معلوم ہوا تو وہ بھیکے ہوئے کپڑے سے پونچھنے لگی۔ شیشے میں جگہ جگہ تیل کے گرد آلود دھبے تھے۔ صاف ہونے پر شیشہ جھل مل کر اُٹھا۔ اوربرحمبوہن کی بیوی خوش ہو گئی۔ اس نے گھوم گھوم کر اپنے کو آئینہ میں دیکھا۔ پھر لڑکیاں بھی باری باری سے اپنا عکس دیکھنے لگیں۔

برحمبوہن نے بھی سنگھاردان میں جھانکا تو قد آدم شیشے میں اس کو اپنا عکس مکمل اور دلفریب معلوم ہوا۔ اس کو لگا سنگھاردان میں واقعی ایک خاص بات ہے۔ اس کے جی میں آیا کچھ دیر اپنے آپ کو دیکھئے.... لیکن یکایک نسیم جان روتی بلکتی نظر آئی۔

بھیا....سنگھاردان چھوڑدو.... میری پرنانی کی نشانی ہے....بھیا....“

”چل ہٹ رنڈی....“برحمبوہن نے سر کو دو تین جھٹکے دیئے اور سامنے سے ہٹ گیا۔

برحمبوہن نے سنگھاردان اپنے بیڈ روم میں رکھا۔ اب کوئی پرانے سنگھاردان کو پوچھتا نہیں تھا۔ نیا سنگھاردان جیسے سب کا محبوب بن گیا تھا۔ گھر کا ہر فرد خواہ مخواہ ہی آئینے کے سامنے کھڑا رہتا۔ برحمبوہن اکثر سوچتا کہ رنڈی کے سنگھاردان میں آخر کیا اسرار چھپا ہے کہ دیکھنے والا آئینہ سے چپک سا جاتا ہے لڑکیاں جلدی ہٹنے کا نام نہیں لیتی ہےں اور بیوی بھی رہ رہ کر خود کو مختلف زاویوں سے گھورتی رہتی ہے.... یہاں تک کہ خود وہ بھی.... لیکن اس کےلئے دیر تک آئینہ کا سامنا کرنا مشکل ہوتا۔ فوراً ہی نسیم جان رونے بلکنے لگی تھی اور برحمبوہن کے دل و دماغ پر دھواں سا چھانے لگتا تھا۔

برحمبوہن نے محسوس کیا کہ آہستہ آہستہ گھر میں سب کے رنگ ڈھنگ بدلنے لگتے ہےں۔ بیوی اب کولہے مٹکا کر چلتی تھی اور دانتوں میں مسی بھی لگاتی تھی لڑکیاں پاﺅں میں پائل باندھنے لگی تھیں اور نت نئے ڈھنگ سے بناﺅ سنگھار میں لگی رہتی تھیں۔ ٹیکہ، لپ اسٹک اور کاجل کے ساتھ وہ گالوں پر تل بھی بنائیں۔ گھر میں ایک پاندان بھی آگیا تھا اور ہر شام پھول اور گجرے بھی آنے لگے تھے۔ برحمبوہن کی بیوی سرشام پاندان لے کر بیٹھ جاتی چھالیا کترتی اور سب کے سنگ ٹھٹھا کرتی اوربرحمبوہن تماشائی بنا سب کچھ دیکھتا رہتا۔ اس کو حیرت تھی کہ اس کی زبان گنگ کیوں ہو گئی ہے.... وہ کچھ بولتا کیوں نہیں....؟ انہیں تنبیہ کیوں نہیں کرتا؟

ایک دن برحمبوہن اپنے کمرے میں موجود تھا کہ بڑی سنگھاردان کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی۔ کچھ دیر اس نے اپنے آپ کو دائیں بائیں دیکھا اور چولی کے بند ڈھیلے کرنے لگی۔ پھر بایاں بازو اُوپر اُٹھایا اور دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے بغل کے بالوں کو چھو کر دیکھا۔ پھر سنگھار دان کی دراز سے لوشن نکال کر بغل میں ملنے لگی۔ برحمبوہن جیسے سکتے میں تھا۔ وہ چپ چاپ بیٹی کی نقل و حرکت دیکھ رہا تھا۔ اتنے میں منجھلی بھی آگئی اور اس کے پیچھے پیچھے چھوٹی بھی۔

”دیدی.... لوشن مجھے بھی دو....“

”کیا کرے گی........؟“بڑی اترائی

”دیدی یہ باتھ روم لگائے گی........“چھوٹی بولی

”چل ہٹ........“ منجھلی نے چھوٹی کے گالوں میں چٹکی لی اور تینوں کی تینوں ہنسنے لگیں۔

برحمبوہن کا دل کسی انجانے خوش سے دھڑکنے لگا.... ان لڑکیوں کے تو سنگھار ہی بدلنے لگے ہےں.... ان کو کمرے میں اپنے باپ کی موجودگی کا بھی خیال نہیں ہے.... تب برحمبوہن اپنی جگہ سے ہٹ کر اس طرح کھڑا ہوا کہ اس کا عکس سنگھاردان میں نظر آنے لگا۔ لیکن لڑکیوں کے روےے میں کوئی فرق نہیں آیا۔ بڑی اسی طرح لوشن ملنے میں منہمک رہی اور دونوں اس کے اغل بغل میں کھڑی دیدے مٹکاتی رہیں۔

برحمبوہن کو محسوس ہوا جیسے گھر میں اب اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔ تب یکایک نسیم جان شیشے میں مسکرائی۔

”گھر میں اب میرا وجود ہے....“

اور برحمبوہن حیران رہ گیا.... اس کو لگا واقعی نسیم جان شیشے میں بند ہو کر چلی آئی ہے اور ایک دن نکلے گی اور گھر کے چپہ چپہ میں پھیل جائے گی۔

برحمبوہن نے کمرے سے نکلناچاہا۔ لیکن اس کے پاﺅں جیسے زمین میں گڑ گئے تھے وہ اپنی جگہ سے ہل نہیں سکا۔ وہ خاموش سنگھار دان کو تکتا رہا اور لڑکیاں ہنستی رہیں.... دفعتاً برحمبوہن کو محسوس ہوا کہ اس طرح ٹھٹھا کرتی لڑکیوں کے درمیان کمرے میں اس وقت ان کا باپ نہیں ایک بھڑوا کھڑا ہے....

برحمبوہن کو اب سنگھاردان سے خوف محسوس ہونے لگا اور نسیم جان اب شیشے میں ہنسنے لگی.... بڑی چوڑیاں کھنکھاتی تو وہ ہنستی.... چھوٹی پائل بجاتی تو وہ ہنستی اور برحمبوہن کو اب....

آج بھی جب وہ بالکنی میں کھڑی ہنس رہی تھیں تو وہ تماشائی بنا سب کچھ دیکھ رہا تھا اور اس کا دل کسی انجانے خوب سے دھڑک رہا تھا۔

برحمبوہن نے محسوس کیا کہ راہ گیر بھی رُک رُک کر بالکنی کی طرف دیکھنے لگے ہےں۔ یکایک پان کی دکان کے قریب کھڑے نوجوان نے کچھ اشارہ کیا۔ جواب میں لڑکیوں نے بھی اشارہ کیا تو نوجوان مسکرانے لگا۔ برحمبوہن کے جی میں آیا کہ وہ نوجوان کا نام پوچھے۔ وہ دوکان کی طرف بڑھا۔ لیکن نزدیک پہنچ کر خاموش رہا۔ دفعتاً اس کو محسوس ہوا کہ وہ نوجوان میں اسی طرح دلچسپی لے رہا ہے جس طر ح لڑکیاں لے رہی ہےں.... تب یہ سوچ کر اس کو حیرت ہوئی کہ وہ اس کا نام کیوں پوچھنا چاہتا ہے....؟ آخر اس کے ارادے کیا ہےں....؟ کیا وہ اس کو لڑکیوں کے درمیان لے جائے گا؟ برحمبوہن کے ہونٹوں پر لمحہ بھر کےلئے ایک پراسرار مسکراہٹ رینگ گئی۔ اس نے پان کا بیڑہ کلے میں دبایا اور جیب سے کنگھی نکال کر دوکان کے شیشے میں بال سونٹنے لگا۔ اس طرح بالوں میں کھنگی کرتے ہوئے اس کو یک گونہ راحت کا احساس ہوا۔ اس نے ایک بار کنگھیوں سے نوجوان کی طرف دیکھا۔ وہ ایک رکشہ والے سے آہستہ آہستہ باتیں کر رہاتھا اور بیچ بیچ میں بالکنی کیطرف بھی دیکھ رہا تھا۔ جیب میں کنگھی رکھتے ہوئے برحمبوہن نے محسوس کیا کہ واقعی اس کی نوجوان میں کسی حد تک دلچسپی ضرور ہے۔ گویا خود اس کے سنسکار بھی.... اونہہ.... یہ سنسکارونکسار سے کیا ہوتا ہے....؟ یہ اس کا کیسا سنسکار تھا کہ اس نے ایک رنڈی کو لوٹا.... ایک رنڈی کو.... کس طرح روتی تھی.... بھیا ....بھیا میرے.... اور پھر برحمبوہن کے کانوں میں نسیم جان کے رونے بلکنے کی آوازیں گونجنے لگیں۔ برحمبوہن نے غصہ میں دو تین چھٹکے سر کو دیئے.... ایک نظر بالکنی کی طرف دیکھا پان کے پیسے ادا کئے اور سڑک پار کر کے گھر میں داخل ہوا۔

اپنے کمرے میں آکر وہ سنگھار دان کے سامنے کھڑاہوا گیا۔ اس کو اپنا رنگ روپ بدلا ہوا نظر آیا۔ چہرے پر جگہ جگہ جھائیاں پڑ گئی تھیں اور آنکھوں میں کاسنی رنگ گھلا ہوا تھا۔ ایک بار اس نے دھوتی کی گرہ کھول کر باندھی اور چہرے کی جھائیوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ اس کے جی میں آیا کہ آنکھوں میں سرمہ لگائے اور گلے میں لال رومال باندھ لے۔ کچھ دیر تک وہ اپنے آپ کو اسی طرح گھورتا رہا پھر اسکی بیوی بھی آگئی۔ اس نے انگیا پر ہی ساڑی لپیٹ رکھی تھی۔ سنگھاردان کے سامنے وہ کھڑی ہوئی تو اس کا آنچل ڈھلک گیا۔ وہ بڑی ادا سے مسکرائی اور آنکھ کے اشارے سےبرحمبوہن کو انگیا کے بند لگانے کےلئے کہا۔

برحمبوہن نے ایک بار شیشے کی طرف دیکھا۔ انگیا میں پھنسی ہوئی چھاتیوں کا عکس اس کو لبھاﺅنا لگا۔ بند لگاتے ہوئے ناگہاں اس کے ہاتھ چھاتیوں کی طرف رینگ گئے۔

”اوئی دیا....“ برحمبوہن کی بیوی بل کھا گئی اور برحمبوہن کی عجیب کیفیت ہو گئی۔ اس نے چھاتیوں کو زور سے دبا دیا۔“

”ہائے راجہ....“ اس کی بیوی کسمسائی اور برحمبوہن کی رگوں میں خون کی گردش یکلخت تیز ہو گئی۔ اس نے ایک جھٹکے میں انگیا نوچ کر پھینک دی اور اس کو پلنگ پر کھینچ لیا۔ وہ اس سے لپٹی ہوئی پلنگ پر گری اور ہنسنے لگی۔

برحمبوہن نے ایک نظر شےشے کی طرف دیکھا۔ بیوی کے ننگے بدن کا عکس دیکھ کر اس کی رگوں میں شعلہ سا بھڑک اُٹھا۔ اس نے یکایک خود کو کپڑوں سے ایک دم بے نیاز کر دیا۔ تببرحمبوہن کی بیوی اس کے کانوں میں آہستہ سے پھسپھائی۔

”ہائے راجہ....لوٹ لو بھرت پور)“

برحمبوہن نے اپنی بیوی کے منہ سے کبھی ”اوئی دیا“ اور ہائے راجہ“ جیسے الفاظ نہیں سنے تھے۔ اس کو لگا یہ الفاظ نہیں سارنگی کے سر ہےں جو نسیم جان کے کوٹھے سے بلند ہو رہے ہےں اور تب....

اور تب فضا کاسنی ہو گئی تھی.... شیشہ دھندلا گیا تھا.... اور سارنگی کے سر گونجنے لگے تھے۔

برحمبوہن بستر سے اُٹھا۔ سنگھاردان کی دراز سے سرمہ دانی نکالی آنکھوں میں سرمہ لگایا۔ کلائی پر گجرا لپیٹا اور گلے میں لال رومال باندھ کر نیچے اُتر گیا اور سیڑھیوں کے قریب دیوار سے لگ کر بیڑی کے لمبے کش لینے لگا۔
(ذہن جدید نئی دہلی فروری1993ئ)


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سنگھار پر تبصرے و تجزیے


پڑھتے جاؤ .... سردھنتے جاؤ ..... عش عش کرتے جاؤ ـــ
بہت عجیب ہوتا ہے جب ہم بہت کچھ کہنا چاہیں اور کہنے کے لیے تخلیق کے شایان شان لفظ نہ ہوں ـــــ
از اول تا آخر بھرپور افسانہ  ـــ
فساد میں رنڈیاں بھی لوٹ لی گئی تھیں
اس جملے کے  بھی  نے سنگھار دان کے لیے عمدہ جواز  مہیا کیا ہے ـــ
موضوع کے اعتبار سے واقعات و معاملات نے بالکنی ـ سڑک ـ پان دوکان ـ رکشا ـ گھر کی سیڑھیاں جیسی ہر لوکیشن کو معنی خیز علامت بنادیا ہے ـــ
بالکنی سے شروع ہونے والی کہانی کب نسیم جان کے کوٹھے سے لوٹ کر گھر کی سیڑھیوں پر ختم ہوگئی پتہ ہی نہیں چلا ـــ کلائمکس کا تو جواب ہی نہیں ــــ وااااہ
اس افسانے سے مجھ ایسے طالب علم کو بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے ـــ
شموئل صاحب ــــ آپ کا سایا تا دیر قائم رہے ــــ اور ہم فیضیاب ہوتے رہیں ـــ
(ڈاکٹر شہروز خاور)
٭٭٭


شموئل احمد کے افسانوں کا محورعموما" ماحول۔ شخصیات اور حالات کے تغئیر سے پیدا ہونے والاوہ جنسی تلذد ہے جسکے حصول کے لیے جائزو ناجائز طریقہ کار اپنایا جاتا ہے ۔جس کی مثال ان کا افسانہ مصری کی ڈلی ہے۔
افسانہ سنگھاردان ان کی شناخت بن چکا ہے۔ یہ افسانہ بظاہر ایک فساد کی کہانی ہے جس میں ایک طوائف نسیم جان کا سنگھاردان لوٹ لیا جاتا ہے۔ فسادی برجموہن اس بات پر خوش ہے کہ اس نے نسیم جان کی خاندانی میراث کو لوٹ لیا ہے لیکن شموئل احمد کا یہ دعوع ہے کہ میراث نہ تو لوٹی جاسکتی ہے اور ناہی اس کی چوری ممکن ہے ۔ 
برجموہن کے گھر سنگھاردان کے پہنچتے ہی اس کی ذلیل میراث اس کی بیٹیوں میں منتقل ہونا شروع ہوجاتی ہے حد یہ کہ بیوی کا مزاج بھی بدلنے لگتا ہے۔ 
شموئل احمد نے افسانے کی کرافٹ نہایت عمدگی سے کی ہے ۔مکالمے نہایت برجستہ ہیں افسانے کا منظرنامہ بھی چست ہے۔ اسے ایک کامیاب افسانہ کہا جاسکتا تھا اگر قاری کے دل میں یہ سوال نہ پیدا ہوتا کہ کیا ایک بےجان لکڑی کا سنگھاران بھی شرفاء کی زندگی میں پچھلی میراث کو منتقل کر سکتا ہے ؟
(نورالحسنین)
٭٭٭


سنگھاردان پر گفتگو مکمل نہیں ہوسکی ہے ـ سیدی نورالحسنین نے جامع تاثرات رکھے ـ لیکن سنیئرز میں سے مزید دو تین اراکین تبصرے فرماتے تو...... خیر سلام بن رزاق ،بیگ احساس ،حسین الحق، سید محمد اشرف، طارق چھتاری ،ذوقی ،بشیر صاحب، اسلم جمشید پوری اور ایم مبین وغیرہ سے امید ہے وہ ضرور اس افسانے پر بات کریں گے ـ 
میں کل سے اپنا ایک اکیڈمک مضمون ڈھونڈ رہا ہوں جس میں 'سنگھاردان' پر میں نے مختصراً تجزیہ کیا تھا ـ لیکن افسوس اب تک ملا نہیں، اور سنگھاردان جیسے افسانوں کے کسی ایک پہلو یا ایک زائد پہلوؤں پر اتنے کم وقت میں بات کرنا مشکل ترین نہیں تو سخت محنت طلب ضرور ہے ـ
'سنگھاردان ' فسادات کے موضوع پر لکھا گیا شموئل احمد کا شاہکار افسانہ ہے ـ یہ وہی افسانہ ہے جس نے شموئل احمد کو اردو ادب میں ایک منفرد شناخت عطا کی ہے ـ اگرچہ سنگھاردان کے بعد بھی شموئل احمد نے مزید چند ایک اعلی فکر و فن کے افسانے لکھے مگر "سنگھاردان" کی کہانی، موضوع اور فکر کے حصار میں افسانوی متن کو پوری کامیابی سے سمیٹ لینا، زبان  و بیان کا جادو اور دیگر تکنیکی حوالے ہیں کہ جنھوں نے اس افسانے کو شاہکار بنایا ہیں ـ
قیاس ہے کہ اس افسانے کے بیشتر پہلوؤں پر تحقیقی و تنقیدی مطالعہ ، تبصرے اور مضامین منظر عام پر آ چکے ہیں ـ یہاں اس گروپ میں کسی تحقیقی پہلو پر بات کرنا ہم سبھی کے لیے زرا مشکل ہے، یہاں صرف تجزیاتی یا تبصراتی گفتگو ممکن ہے ـ سیدی نورالحسنین نے مختصراً تجزیہ کیا اور اسے تفہیمی انداز میں لکھا ـ
بہ ہر حال، یہاں ایک بات ذہن میں آتی ہے کہ افسانے کے عنوان پر ہم نے غور نہیں کیا.... "سنگھاردان"  سنگھاردان دراصل ایک بکس (چھوٹی پیٹی یا ڈبہ ) ہوتا جس میں سنگھار کی چیزیں رکھی جاتی ہیں ـ 
اس افسانے میں سنگھاردان کے طور پر جو چیز پیش کی جا رہی ہے اس میں قد آدم آئینہ بھی تو ہے ـ لہذا یہ سنگھاردان نہیں ہے ـ کیوں کہ سنگھاردان چھوٹا بکس ہوتا اس میں آئینہ نہیں ہوتا ـ 
کسی نے اوپر کہاں تھا چھوٹا منہ بڑی بات، اس وقت میں بھی خاکم بدہن کی طرح.... لیکن سوال ضرور ہے ـ افسانے میں سنگھاردان کا کہیں تذکرہ نہیں ہے، سنگھاردان کے طور پر جو چیز پیش کی گئی ہے وہ 'سنگھار میز 'ہوتا ہے شاید..... لہٰذا اس نسبت سے افسانے کا نام سنگھاردان موزوں معلوم نہیں ہوتا ـ
(وسیم عقیل شاہ)
٭٭٭


اِس میں کوئی شک نہیں کہ شموئل احمد کا افسانہ ’سنگھار دان‘ اُردو ادب کا ایک شاہکار اور کلاسِک افسانہ ہے۔۔۔تبصرے یا تجزیے کے نام پر اس افسانے کی رسمی تعریف کرنا اور سوشل میڈیا والی’ واہ واہ، بہت خوب!‘کہنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے انگلی کٹا کر شہیدوں میں نام لکھانا ۔۔۔اور افسانہ نگار کے بہانے اپنی خود نمائی کرنا۔۔۔!
’سنگھار دان‘ پر میَں تبصرہ یا تجزیہ تو خیر کیا کروں گا۔۔۔بس کچھ باتیں شیئر کر رہا ہوں
سب سے پہلی بات تو یہ کہ’ سنگھار دان‘ کا موضوع فسادات ہر گز نہیں ہے۔۔۔یہ انسانی فطرت اور نفسیات کا افسانہ ہے۔۔۔
شموئل احمد کے افسانہ میں مرکزی کردار برجموہن یا نسیم جان نہیں ۔۔۔بلکہ سنگھار دان ہے۔۔۔افسانہ کی ابتداء میں ہی افسانہ نگار نے سنگھار دان کے موروثی ہونے پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔۔۔سنگھار دان نسیم جان کی وراثت ہے۔۔۔اور یہ وراثت اُس کی ماں۔۔۔نانی اور پر نانی سے نسل در نسل منتقل ہوتی  ہوئی طوائف نسیم جان تک پہنچی ہے۔۔۔فسادات کے دوران نسیم جان کی یہی وراثت برج موہن لُوٹ  کر اپنے گھر لے آتا ہے۔۔۔اور اِس کے ساتھ ہی سنگھار دان کی وراثت کا سلسلہ نسیم جان سے منقطع ہو کر برجموہن تک آجاتا ہے۔۔۔
اب یہ طوائف نسیم جان کی بددعا ہے۔۔۔ یا برجموہن کا احساسِ گناہ۔۔۔؟ یا کچھ اور۔۔۔؟  اس سلسلے میں تمام قارئین اور ماہرین کے پاس اپنے اپنے نظریات ہوں گے!
آخر میں عزیزی وسیم عقیل شاہ سے مودبانہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ
سنگھار دان یا سنگھار دانی کے چکّر میں نہ پڑیں۔۔۔جب افسانہ نگار خود اُسے سنگھار دان کہہ رہا ہے اور بڑی تفصیل سے بتا رہا ہے کہ ہاتھی دانت سے بنے اس سنگھار دان میں قدِ آدم آئینہ جڑا ہوا تھا تو اس سلسلے میں کسی  شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔۔۔!
شکریہ
(انور مِرزا)
٭٭٭


افسانہ سنگاردان 1993  میں ذہن جدید  میں  شائع ہوا  تھا  27 سال پہلے ۔ ہوسکتا ہے یہ افسانہ شموئل احمد صاحب نے 1993 سے پہلے ۔۔۔۔ یا بہت پہلے یہ افسانہ لکھا ہو اوراسے شائع  کروایا بعد میں۔۔۔1993 میں ۔ اس افسانے میں  سکس کی مقدار  جو ذیادہ  ہے اس افسانے  کےلئے ضروری تھا۔ یہ ایک منجھے ہوئے افسانہ نگار کی کمال خوبی ہےجو آج بھی 27برس بعد بھی  یہ  افسانہ بالکل آج کا لکھا دکھائی دیتا ہے ۔ افسانے میں کل ملا کر ایک  باپ ۔ اسکی تین بیٹیاں اور ان کی ماں  کے علاوہ  ایک کردار نسیم جان کا ہے ۔۔آس افسانے میں کم و پیش اتنے ہی کردار  کافی تھے اور افسانہ نگار نے اپنا فرض بخوبی انجام دیا ہے اور ان پانچوں کرداروں سے جو کام  لینا تھا وہ سوجھ بوجھ  سے  لیا  ہے ۔۔فسادات کو موضوع  بنا کر لکھے گئے افسانوں میں  سنگار دان  ہے   جو تقسیم کےکئی سالوں بعد لکھا گیا اور شائع ہوا تھا ۔اس طرح کے افسانوں کی آج کل کے حالات کو دیکھتے ہوئے شاید  ضرورت  پڑیگی اور  اس  موضوع پر افسانے لکھے جائیں گے۔۔۔ کھانی ویہی ہوگی اور کردار  بھی ویہی ہوں گے جو تقسیم کے وقت تھے  مگر حالات بدلے ہوں گے ۔۔
(محبوب پاشا)
٭٭٭


افسانہ سنگھاردان شموئل احمد کا ایک منفرد افسانہ ہئے میں اس کو اسوقت بھی نہی پڑھ سکا تھا جب یہ محفلوں میں اور خاص طور سے جامعہ کے ادیبوں کی محفل میں اور ابھی بھی دوروز کے بعد پڑھا ہئے بہر حال سب سے پہلی بات تو یہ ہئے کہ ہم جیسے نا اہل لوگوں کے سر کے اوپر سے یہ افسانہ صرف اس کی فحاشی کی بنا پر گزر جائے گا لیکن افسانہ نگار نے اس میں پورا زمانہ بیان کیا ہئے مین اپنے تجزئے کے مطابق اس کی تشریح پہلے ہی سنگھار دان کے معنی مین تقریبا کر چکا ہون جو مین نے بغیر پڑھے کیا تھا خیر اب نمبر وائز کرتا ہوں
1۔یہاں فساد استعارے کے طور پر تہزیبوں کا ہئے
2۔سنگھاردان اس تہزیب اور اسائش و عیش کا استعارہ جو ہر شخص اپنی بساط سے اوپر اٹھکر حاصل کرنا چاہتا ہئے جسکا تصور کسی زمانے میں تہزیب یافتہ درمیانہ طبقے میں معیوب سمجھا جاتا تھا
3۔نسیم جان کا پیرون میں لپٹنا اور منت سماجت کرنا اس معاشرہ یا تہزیب کی برائیون کے بارے میں اس کے ضمیر کی اواز ہئے اور اسکو ٹھوکر لگانا اپنے ضمیر کو جھٹکنا ہئے اور اپنے ساتھیون کے بارے میں لزت کا سوچنا ادمی کی وہ اناکی تسکین ہئے جو اس نے دوسرون کی حرص میں حاصل کر لی ہئے
4۔ائنے پر گندگی کا لگا ہونا اس تہزیب کی گندگی بیان کرتی ہئے بیوی کا صاف کر دینا برائیون کو جانتے ہوئے بھی اسکو اپنے لئیے اسٹیٹس بناکر قبول کر لینا
5۔لڑکیوں کا رویہ بے حیائ ااور نئے زمانے کا گرویدہ ہونا ہئے باپ کا دیکھنا اس بات کی علامت ہئے کہ نئ تہزیب کے کیا خطرات ہیں ائینہ میں سامنے اجانے کا مطلب اولادیں خود سر ہوگئ ہیں ادب لحاط شرم سب مفقود
6۔اسکی بیوی کا فحش انداز اور خاص جملے شادی شدہ لوگوں اور معاشرے میں انتہائ درجےکی خرابی بے حیائ اور بےشرمی کی غماز ہئے 
7۔ گجرا لپیٹ کر باہر نکل جانا اس ماحول کی قبولیت اور تمام اقدار کو پیچھے چھوڑ دینے اور نئے معاشرے کی تنزلی کی نشانی ہئے
بہرحال خاکسار اپنی بساط بھر اتنے بڑے بڑے لوگوں کے درمیان یہ سمجھ سکا ہئے جس سے کسی کا متفق ہونا ضروری نہی
(سراج عظیم)
٭٭٭


        🔸"بزمِ افسانہ" میں سنگھار دان پڑھنے میں آیا. میرے لئے یہ اس افسانے کی دوسری قراءت تھی. افسانے کا آغاز شموئل احمد صاحب نے جس طریقے سے کیا ہے  افسانے کی ابتدا کا یہ آرٹ بھی خوب ہے، جب کہانی کا آغاز درمیان سے کیا جاتا ہے اور ایک ایسی کشمکش بیان کی جاتی ہے کہ قاری انجام معلوم کرنے کے لئے رک جاتا ہے اور پھر فنکار کی کہانی کے بہاؤ کے ساتھ روانی سے بہتا چلاجاتاہے.
        شموئل احمد صاحب نے بھی اسی آرٹ کا استعمال کرکے قاری کو باندھ لینے کا کام آغاز میں ہی کرلیا ہے.
        🔸دوسرے پیراگراف میں شموئل احمد صاحب نے نہایت ہی آسانی کے ساتھ ایک پیشہ ور عورت کے لچھن کو برحمبوہن کی بیٹیوں میں منتقل ہوتے دکھایا ہے لیکن ایک خاص احتیاط برتی ہے کہ وہ فحش نگاری کا ارتکاب نہ کرسکیں. بس ایک بات جو مجھے کھٹک رہی ہے وہ ایک طوائف اور ویشیا کا درمیانی فرق ہے. شموئل صاحب نے افسانے کی ابتدا سے بھی پہلے یہ جملہ افسانے کے ماتھے پر سجایا ہے:
فساد میں رنڈیاں بھی لوٹی گئی تھیں....
         جبکہ برحمبوہن کی بیٹیوں کے جو لچھن دکھائے بیان کئے گئے ہیں وہ کسی ویشیا کے ہیں. حالانکہ شموئل احمد صاحب نے سکنگھاردان کو نسیم جان نامی طوائف کا بتایا ہے. 
           اگرمیں اس تضاد کو سمجھنے میں غلطی کررہاہوں تو مجھے سمجھایا جائے. 
           افسانے میں ایک جگہ لکھا ہے:
یہ خوف برحمبوہن کے دل میں اُسی دن گھر کر گیا تھا جس دن اس نے نسیم جان کا سنگھاردان لوٹا تھا۔
         🔸جب برجموہن کے دل میں سنگھاردان کو لوٹنے والے دن ہی یہ خوف تھا تو پھر وہ اسے گھر لے کر ہی کیوں گیا؟ اور گھر لے بھی گیا تو اپنے بیڈ روم میں رکھا. 
          اس عمل کا کوئی جواز افسانے میں موجود نہیں ہے. جس چیز سے آدمی کو خوف ہو وہ بھلا اسے اپنے گھر کیوں لے جائے گا؟ اگر خوفزدہ ہونے کے بعد بھی لے گیا تو اس کے اس عمل کے پیچھے ایک بھرپور جواز ہونا چاہئے مگر سنگھار دان کو گھر لے جانے کے معاملے میں افسانے کی داخلی منطق خاموش ہے.
       🔸ایک جگہ برحمبوہن کے لات مارنے پر جب نسیم جان زمین پر گر کر دہری ہوجاتی تب شموئل صاحب نے لکھا ہے:
اس کے بلوز کے بٹن کھل گئے اور چھاتیاں جھونے لگیں۔
          حالانکہ شموئل احمد صاحب چاہتے تو اس پیراگراف میں نسیم جان کے بلاؤز کابٹن کھلنے کے بعد "بو" والی منظر نگاری کرسکتے تھے مگر انہوں نے اپنے قلم پر گرفت مضبوط رکھی اور اسے پھسلنے نہیں دیا.
          آگے چل کر شموئل صاحب نے ایک جگہ لکھا ہے:
برحمبوہن جب اتر رہا تھا تو یہ سوچ کر اس کو لذت ملی کہ سنگھاردان لوٹ کر اس نے نسیم جان کو گویا اس کے خاندانی اثاثے سے محروم کر دیا ہے۔
        🔸جس طرف شموئل احمد صاحب نے اس جگہ اشارہ کیا ہے وہ ذہنیت بڑی زہریلی ہوتی ہے اور فسادات میں یہی ذہنیت بہت نقصان کرواتی ہے. اورہو سکتا ہے کہ اس ذہنیت کو بدلنے کے لئے ہی شموئل صاحب نے "سنگھار دان" کا تانا بانا بُنا ہو.
اس بات کا ثبوت افسانے سے ہی یوں ملتا ہے:
برحمبوہن کو کو لگا کہ آگ زنی اور لوٹ مار میں ملوث دوسرے بلوائی بھی یقینا احساس کی اس لذت سے گزر رہے ہوں گے کہ ایک فرقہ کو اس کی وراثت سے محروم کر دینے کی سازش میں وہ پیش پیش ہے۔
         🔸شموئل احمد صاحب نے مذہبی منافرت کے سبب انسان کے رذیل بن جانے کا المیہ پیش کرتے ہوئے کتنی آسانی سے ثابت کردیا ہے کہ یہ منافرت جب انسان کے اندر سرایت کرجاتی ہے تو انسان پوری طرح سے شیطنت پر اترآتا ہے. وہ یہ تک نہیں دیکھتا کہ وہ جس کا نقصان کررہا ہے وہ کون ہے؟ اسی لئے برجموہن نے بھی نسیم جان جیسے طوائف کو بھی نہیں دیکھا اور اس کا سنگھار دان اس کے احتجاج کے باوجود اٹھالایا جس کا خمیازہ اسے آگے چل کر بھگتنا پڑا.
         🔸افسانے کے مرکزی کردار کے نام کو لے کر میں پریشان ہوں. اگر اس کا نام برحمبوہن ہے تو ہندو سماج میں "بڑی حا" کا مجھے تو کہیں تصور نظر نہیں آتا. مجھے لگتا ہے کہ یہ نام برجموہن ہوگا جو ٹائپنگ مسٹیک سے برحمبوہن میں تبدیل ہوگیا ہوگا. 
         🔸اس افسانے کو پڑھنے کے بعد نہ جانے کیوں مجھے سعادت حسن منٹو کا "خوشیا" اور ٹھنڈاگوشت یاد آرہا ہے. شاید ان دونوں افسانوں کے حوالے سے میں سنگھار دان پر مزید کچھ بات کرسکوں. 
ٹھنڈاگوشت کا ایسر سنگھ بھی ایک مجرمانہ عمل کا مرتکب ہوتاہے. پاداش میں بلونت کور کے سامنے پتّے  پھینٹے تک ہی محدود رہتا ہے. پتّے پھینکنے سے معذور ہوجاتا ہے. وہی حال سنگھار دان کا برحمبوہن کا دکھائی دیتا ہے کہ وہ اسی احساس کے نفسیاتی اثرات کے سبب "خوشیا" بن جاتا ہے اور قاری صاف محسوس کرتا ہے کہ اس کی بیٹیاں اس کے وجود کو شاید "خوشیا"جیسا ہی سمجھنے لگتی ہیں. تبھی تو اس کے عکس کے آئینے میں نظر آنے کے بعد بھی اس کی موجودگی کا کوئی احساس نہیں کرتیں. 
          افسانہ بڑا رواں ہے. ایک ایک ایسا بہاؤ جو قاری کو اپنے ساتھ بہا لےجاتا ہے. زبان و بیان پیاری ہے اور افسانے کا ہر جزو مل کر ایک کُل بن جانے کے بعد نہایت متاثر کن بن گیا ہے. نیز کلائمکس تو واقعی قابلِ تعریف ہے. شموئل احمد صاحب کو اس خوبصورت افسانے پر بہت بہت مبارکباد پیش کرتا ہوں. 
(طاہرانجم صدیقی)
٭٭٭


ساتھیو!
کل میں کہیں اور مصروف تھا ۔آج حاضر ہوں ۔۔
میں سب سے پہلے بزم افسانہ کے نوواردان بساط کو مبارک باد دیتا ہوں۔
کل برادرم اقبال نیاز ی کا افسانہ اور اس پرقارئن کے تاثرات دیکھے۔اقبال نیازی کی مقبولیت کا بھی اندازہ ہوا۔مگر دو ایک تاثرات کے علاؤہ باقی رسم دنیا نبھاتے نظر آ ئے۔
مبارک بادی کے اتنےہار ڈالے گئے کہ پھولوں سے ممدوح کا چہرہ ڈھک گیا۔ مبارک بادی کے ہجوم میں جو دو چار کار آمد باتیں کہی گئیں وہ بھی کہیں گم ہو گئیں۔
 میں سمجھتا ہوں افراط زر اور فضول خرچ کی طرح لفظوں کا اصراف بھی بری چیز ہے۔ 
اقبال نیازی نے کردار مرکوزافسانہ لکھا ہے۔مگر افسانے کے تانے بانے کلائمکس تک آتے آتے بکھر جاتے ہیں۔
افسانہ عجلت پسندی کاشکارہو
 گیا ہے۔اس طرف بھی بعض احباب نے توجہ دلائی ہے۔
بہرحال ایک عرصے بعد اقبل نیازی۔ افسانے کی طرف مراجعت کرنا خوشی کی بات ہے۔
                 ۔۔۔۔۔۔۔۔
سنگھاردان اردو ہندی معروف افسانہ نگار شموئل احمد کے نمائندہ افسانوں میں سے ہےشموئل احمدکے  بیشتر افسانوں پر جنس زدگی کا الزام لگایا جاتا ہے جو میری نظرمیں درست نہیں۔منٹوکے بعد اپنے افسانوں میں جنس کو جس ہنر مندی کے ساتھ شموئل نے برتا ہے شائدوبائد ہی کسی نے برتا ہو۔۔
سنگھاردان پر آ ج احباب نے خوب لکھا ہے۔خاص طور پر انور مرزا اورسراج عظیم نےبڑی نکتہ رسی کی باتیں کی ہیں۔۔۔ایک اہم سوال یہ ہے کہ 
آ خر برجموہن ،اس کی بیوی اور لڑکیوں کے رویوں میں یہ تبدیلی کیوں پیدا ہوئ۔ آ ئینہ کوئ جادو کا آ ئینہ تو تھا نہیں۔سراج عظیم اس نکتے کے قریب سے گزر گئے لیکن وضاحت نہیں کر پائے ۔
اس قضیے کو  میں نے  یو ں سمجھنے کی کوشش کی ہے 
برجموہن اور اس کی فیملی جس   ماحول کی پرور دہ ہے اس پر افسانہ نگار نے آ خر میں  روشنی ڈالی ہے۔
اس کی بیوی اور لڑکیوں کو جب معلوم ہوتا ہے کہ یہ سنگھاردان ایک طوائف کے گھر سے لوٹا گیا ہے تو آئنے میں اپنا عکس دیکھ کر ان کے تصور میں ایک طوائف کا عکس ابھرا ہوگا اور طوائف کی سوقیانہ ادائیں،چشم وابرو کی بیباکی اور اسکا بازارو پن رفتہ رفتہ ان کی نفسیات پر اثر انداز ہوئ ہوگی۔ خاص طور پر ناخواندہ،اور کچی عمر کی لڑکیوں اور لڑکوں پر ایسی باتوں کااثر جلد ہوتا ہے۔
یہ سب کے مشاہدے کی بات ہے۔
اور برج موہن  تو خیر ویسے بھی ایک بے مروت ،لٹیرا اور غنڈہ ہے۔ایسے شخص کو بھڑوا بننے کیا دشواری ہو سکتی ہے۔
یہ میرامعروضہ ہے ضروری نہیں کہ اس سےاتفاق کیا جائے۔
اس افسانے غور کرنے کے لیے اور بھی بہت کچھ ہے۔
(سلام بن رزاق)
٭٭٭


افسانہ سنگھار دان ہر طرح سے مکمّل اور کامیاب افسانہ ہے ۔اس میں فسادات کا درد پرویا گیا ہے ۔ظالم کی سفاکی اور مظلوم کی لاچاری کو بڑی چابکدستی سے ضبطِ تحریر میں لایا گیا ۔برجستہ مکالموں نے افسانے میں چار چاند لگا دیے۔۔۔بھیا !۔۔یہ موروثی سنگھار دان ہے ۔۔۔اس کو چھوڑ دو بھیا !!۔۔اور برحمبوجن کی بیوی کے الفاظ ۔۔۔اوئی دیا ۔۔۔،ہائے راجہ ۔۔لوٹ لے بھرت پور۔۔۔کیا کہنے ان مکالموں کے ۔
دنیا مکافاتِ عمل ہے ۔ظلم کی ٹہنی پھلتی نہیں ۔۔۔سزا ملتی ہے آہستہ آہستہ ،عذاب آتا ہے آہستہ آہستہ ۔۔۔اور سزا نسلوں کو جھیلنی پڑتی ہے ۔تینوں لڑکیوں کے لچھن ،بے راہروی ۔۔جس نے ابھی پر نکالے ہیں ۔۔برحمبوجن کا گنگ ہوجانا ،پان کلے میں دبائے سرخ رومال لپیٹ لینا ،سنسکار کو جھٹلانا ایک علامت ہے دبے پاؤں طوفان کے آمد کی ۔۔۔نسیم جان کی پرچھائیاں اس کا پیچھا کرتی ہیں ۔۔۔وہ گویا سنگھار دان نہیں نسیم جان سے جڑی ساری روایات کو گھر لے آیا تھا !!!

ڈاکٹر ارشاد خان 
٭٭٭



Comments

Popular posts from this blog

بادِ صبا کا انتظار : سید محمد اشرف

پناہ گاہ: اسرارگاندھی

مسیحائی : ایم مبین (بھیونڈی)