دامنِ یزداں چاک (انصاری افضال احمد) تجزیے و تبصرے
افسانہ نمبر 3
دامنِ یزداں چاک
(انصاری افضال احمد)
رات کا پچھلا پہر تھا ... میرے سامنے نئے افسانے کا ادھورا مسودہ پڑا ہوا تھا ، میں بالوں میں انگلیاں دیئے ہوئے مسلسل مرکزی کردار کے اختتام کے بارے میں سوچ رہا تھا ، بیوی کی بے حیائی، بے وفائی، دوسرے مردوں سے کھلے عام معاشقہ، مرکزی کردار کی بے روزگاری، بے بسی، بیوی کا اچھی تنخواہ پر کام کرنا، گھر میں آفس کے لوگوں کو کام کے بہانے سے لانا اور بے حیائی کرنا... مرکزی کردار کو کیا کرنا چاہیے؟؟ طلاق دے کر دوسری لڑکی تلاش کر لے؟؟ مگر اس سے بھی شاید دل دریدہ زخموں کا مداوا نہ ہو سکے اور یہ تو ایک سیدھا سا اختتام ہوگا، اس میں نہ کوئی کرب آزارافسانوی رنگ ہوگا نہ پڑھنے والے کے لیے کوئی دلچسپی... پھر؟؟؟ پھر کیا کرنا چاہیے اسے؟؟ یہ سوچتے ہوئے میرے ماتھے کی رگیں تن گئیں، مٹھیاں بھنچی ہوئیں اور سانسیں چڑھی ہوئی تھیں پھر اچانک ایک خیال سا ذہن میں آیا... ہاں اسے خودکشی کرنا ہوگی تاکہ انجام افسانوی اور چونکا دینے والا ہو .. اور ویسے بھی موت سے کردار کے سارے دکھوں کا مداوا ہوجاتاہے... موت زندگی کا سب سے بہترین حسن ہے۔موت سارے دکھوں کا اپنے خوبصورت ہاتھوں سے گلا گھونٹ کر اپنے چاہنے والوں کو رہائی دیتی ہے.. ہاں اسے یقیناً مر ہی جانا چاہیے.. یہ سوچتے ہوئے میں نے آنکھیں موند لیں.. اچانک کچھ آوازوں کے شور سے میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا.. کمرا مختلف نوع کی آوازوں سے بھرا ہوا تھا، ہر طرف پرچھائیاں اور سائے لہرا رہے تھے اور ہاتھ اٹھا اٹھا کر مجھ سے کچھ کہہ رہے تھے مگر ایک ساتھ آتی ہوئی آوازوں کے سبب میں کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا .. میری بے چینی بڑھتی جا رہی تھی، جسم سے جیسے پسینے کی دھاریں پھوٹ رہی تھیں، سانسیں تنی ہوئی تھیں ٹیبل لیمپ کی روشنی ہلکی ہلکی سی سارے کمرے میں پھیلی ہوئی تھی، اور اسے شاید روشنی کہنا بھی غلط تھا یہ تو ایک ایسا اندھیرا تھا جسے تھوڑی سے روشنی نے اور گھنا کر دیا تھا.... مسلسل آوازیں جب میری برداشت کے باہر ہونے لگیں تو میں اچانک پھٹ پڑا... "خدا کے لیے خاموش ہو جاؤ !!!کون ہو تم لوگ؟ اور میرے کمرے میں کیوں گھس آئے ہو ؟ " میں تم لوگوں کو جانتا تک نہیں" ۔۔ کون ہو تم لوگ"
میرا خاموش ہونا تھا کہ آواز کی بھنبناہٹوں کا شور غالب آگیا. ان میں غصیلی آوازیں بھی تھیں، تکرار اور اضطراب سے بھری آوازیں بھی، کچھ آوازیں خود میں بے انتہا درد سموئے ہوئی تھیں تو کچھ گریہ وزاری کر رہی تھیں... اس مرتبہ میں حلق پھاڑ کر چینخا... "چپ ہو جاو!!... چپ ہوجاؤ!!!... کیوں میری جان کے گاہک بنے ہوئے ہو؟اگر تم لوگ مجھ سے کچھ کہنا چاہتے ہو تو ایک ایک کر کے مجھ سے بات کرو! " یہ کہنا تھا کہ کمرے میں دل کو دہلا دینے والا گمبھیر سناٹا چھا گیا اور سایوں کی بھیڑ میں سے ایک سایہ آگے آ گیا.. " ہاں کہو! کیا کہنا چاہتے ہو؟ اور تم کون ہو یہ بھی مجھے بتاؤ؟؟ " " میں کون ہوں؟؟" ایک کھرکھراتی ہوئی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی "تم مجھے نہیں جانتے؟ تم نے مجھے زندگی دی، تمہاری ہی مرضی کے مطابق میں نے وہ زندگی گزاری!!اور تم نے ہی مری مرضی کے خلاف مجھ پر موت مسلط کر دی!! جس کہانی میں تم نے مجھے جنم دیا تھا، میں اس کے دوسرے کرداروں سے بے انتہا محبت کرتا تھا! ٹھیک ہے میری بیوی میری بے روزگاری کی وجہ سے مجھے کوستی رہتی تھی، یہ بھی درست ہے کہ میرا لڑکا مجھے ہمیشہ اس بات کا طعنہ دیتا تھا کہ میں نے اسے ایک اچھی اور معیاری زندگی نہیں دی، لیکن کیا تمہیں نہیں معلوم انہیں کرداروں میں میری چھ سال کی ایک بچی تھی.. جو مجھ سے بہت پیار کرتی تھی، میں جب گھر آتا تو میرے پیروں سے لپٹ جاتی، اپنی توتلی زبان میں مجھے دن بھر کی معصوم سی باتیں بتاتی، تم اگر میرے اندر جی رہے ہوتے تو تم جان پاتے کہ اس کی محبت ساری نفرتوں پر حاوی تھی، میں اس کے لیے جینا چاہتا تھا، مگر تم......!!.! اس کی آواز بلند ہوتی جا رہی تھی.. "مگر تم میرے خدا بن بیٹھے، تمھیں تو میری کہانی کا درد بھرا اختتام چاہیے تھا، تا کہ لوگ تمھیں سراہیں.. اور تم نے اپنے لالچ کے چلتے میرے حق میں موت کا فیصلہ سنا دیا، تم نے مجھے خود کشی پر مجبور کر دیا " " میں نے مجبور کیا ؟ " " ہاں تم نے!! لوگوں نے اسے خودکشی سمجھا ہوگا ! مگر میں جانتا ہوں کہ یہ قتل تھا، اور تم میرے قاتل ہو!! تم ہوتے کون ہو میری زندگی کا فیصلہ کرنے والے؟ کیا صرف اس لئے کہ تم نے مجھے تخلیق کیا ہے؟ "
" میرے لحاظ سے جو فیصلہ میں نے لکھا تھا ، وہ درست تھا " میں نے اپنے دفاع کی کمزور سی کوشش کی.. " اس نے سبھوں کے ساتھ ایک سا برتاؤ کیا ہے " ایک منمناتی ہوئی آواز میرے کانوں میں آئی اور ایک سایہ بھیڑ سے نکل کر سامنے آ گیا... " میں ایک عفیفہ تھی، شوہر کی شراب کی لت، اس کی بیماری، بچوں کی کثرت نے مجھے توڑ تو دیا تھا مگر پھر بھی میں اپنے حوصلے کے سہارے ان مصائب کا سامنا کیا مگر میری اس مجبوری اور میری خوبصورتی کا فائدہ اٹھا کر تم نے مجھے کوٹھے پر بٹھا دیا، مجھے جسم فروشی پر مجبور کیا... " " میں نے مجبور کیا؟؟" "ہاں تم نے.....!! کیوں کہ تم کہتے ہو 'چکی پیسنے والی عورت جو دن بھر کام کرتی ہے۔ اور رات کو اطمینان سے سو جاتی ہے۔ تمہارے افسانوں کی ہیروئن نہیں ہو سکتی۔ تمہاری ہیروئن چکلے کی ایک طوائف ہو سکتی ہے۔ تمہیں اور تمہارے پڑھنے والوں کو میری مشقت بھری با عزت زندگی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اس لیے تم نے مجھے چکلے پر بٹھا دیا، تم نے اگر میرے کردار کو جیا ہوتا، جیسا تمہارا دعوی ہے، تو شاید تم میرے لیے چکلے کا انتخاب نہ کرتے، لیکن تم تو ہمارے خالق ہو تمہیں ہمارے جذبات اور احساسات سے کیا لینا، تمہیں تو صرف اپنی تحریروں پر داد بٹورنی ہوتی ہے، میری عصمت کا سودا کرنے والے تم ہو، تم نے میری دلالی کی ہے، میرے جسم کو فروخت کر کے تم نے دولت، عزت اور شہرت کمائی ہے.
میری جانب اٹھنے والی غلیظ نگاہیں اور میری جانب لپکنے والے ہاتھ تمہارے تھے، تم کیا سمجھتے ہو کہ میری عصمت کے لٹنے کا الزام تم دوسروں پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاؤ گے؟؟ "
" سنو! میں نے تمہارے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کی ہے، مجھے لگا کہ ایسے حالات میں شاید یہی ہونا چاہیے تھا "میں نے دفاع کی ایک کمزور سی کوشش کی...
" یہی ہونا چاہیے تھا؟؟ تم ہوتے کون ہو میرا اگلا قدم طے کرنے والے؟؟ چکلہ اور کوٹھا تم مرد ذات کے دماغوں میں گھسا ہوا ہے، جتنی نجاست اور غلاظت تمہارے دماغوں میں بھری ہوئی ہے اتنی تو ان کوٹھوں پر بھی نہیں ہوتی،بلکہ کوٹھے تو تم لوگوں کے ذہنی بیت الخلاء کا کام کرتے ہیں، جہاں تم اپنی گندگیاں اگل کر معاشرے میں سفید پوش بنے پھرتے ہو.. اچانک ایک پھٹے پھٹے سے سائے نے اس عورت کو پیچھے کیا اور خود آگے آ گیا اور نہایت درد ناک آواز میں چلانے لگا، اس کی شکل میں پہچانتا تھا، میں نے بھی چلّا کر کہا..
"ارے تمہیں تو میں بہت اچھی طرح پہچانتا ہوں، تم میری آخری کہانی کے کردار تھے، تم جو ایک مذہبی جنونی تھے تم نے ایک بھرے چوک پر خود کو بم سے اڑا لیا تھا اور بے شمار معصوموں کی جان لی تھی "
"میں نے خود کو بم سے اڑایا تھا؟؟؛ ارے میں تو مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والا ایک عام سا نوجوان تھا، جو خود بھی جینا چاہتا تھا اور دوسروں کو بھی جینے دینا چاہتا تھا مگر تم نے میرے جسم ہر بم باندھ کر مجھے بھرے چوک میں اڑا دیا، تم جو کرداروں کے لہو سے اپنی کہانیوں میں رنگ بھرتے ہو، آہوں اور سسکیوں سے اس کا راگ سنوارتے ہو... کیا تمہارے پاس دریائے نیل سے آنے والے امن کے حوالے نہیں تھے؟ کیا تم نے برگد کے نیچے بیٹھے اس شخص کی انسان سے انسان کی محبت کے پیغام کو نہیں سنا جس نے امن اور محبت کے لیے اپنا سب کچھ تیاگ دیا تھا؟ کیا تم تک مردوں کو زندہ کرنے والے کا پیغام امن نہیں پہنچا؟؟ وہ جو مردوں کو زندہ کرکے مسیحائی کرتا تھا اور تم جو زندوں کو مردہ بنانے پر تلے ہوئے ہو.. کیا تمہارے کانوں میں رس گھولتی ہوئی بانسری کی وہ آوازیں نہیں آئیں جس نے جانوروں کو بھی محبت کی ڈور سے باندھ دیا تھا ؟ ہاں تم سنتے بھی تو کیسے سنتے!! تم دیکھتے بھی تو کیسے دیکھتے!! ان میں تمہارے اور تمہارے قارئین کے لیے دلچسپی کہاں تھی!!! تم نے تو ان قوموں سے سیکھا جنھوں نے دنیا کو لکیروں، زاویوں، رنگوں، نسلوں، زبانوں اور دھرموں میں تقسیم کیا، تم بھی تو انہیں کے علم بردار ہو، تمہیں کیا ہوجاتا اگر تم مجھے میرے اصلی کردار میں پیش کر دیتے؟ ہاں شاید تمہاری کہانی کا رنگ چلا جاتا کیونکہ امن کا پرچم بھی سفید ہوتا ہے"...
اچانک سایوں کی بھیڑ میں سے ایک سایہ آگے سرک آیا،اس کی آنکھوں میں موت کا خوف رقص کر رہا تھا اس نے فضا میں مکے لہرائے اور بلند آواز سے کہنے لگا.. "تمہیں تو اس نے انجام تک پہنچا دیا مگر میرا انجام ہونا باقی ہے، میری ادھوری کہانی اس کی میز پر رکھی ہوئی ہے، اور اس نے مجھے میرا انجام نہیں بتایا ہے،لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ میرے لیے بھی موت ہی چنے گا، سن رہے ہو تم؟؟ بتاؤ مجھے تم نے میرے لیے کیا چنا ہے؟؟ "
رفتہ رفتہ میرے سارے کردار سامنے سے ہٹتے چلے گئے، اب میرے سامنے ایک ہی کردار تھا جو مجھ سے سوال کر تھا کہ میں نے اس کے لیے کیا چنا ہے...
" ہاں تم نے صحیح سوچا ہے، موت ہی تمہارے غموں کا مداوا ہے "
" یہ تو تمہارا فیصلہ ہے... قلمکار!..!! تم اپنے حصے کی موت مجھ پر لادنا چاہتے ہو...مگر آج نہیں!! آج قلم وہی ہوگا اور کاغذ بھی وہی اور فیصلہ بھی وہی مگر لکھنے والے ہاتھ اور کردار بدل جائیں گے... "
رات کا سیاہ اندھیرا چھٹ چکا ہے ، سورج کی پہلی کرن ابھی ابھی اندرداخل ہوئی ہے۔ کلائیوں سے بہنے والے خون نے کاغذ پر پھیلی سیاہی کو مٹاکر ادھوری کہانی کو مکمل کردیا ہے.
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تجزیے و تبصرے
افسانے کا بیانیہ بہت شاندار ہے اور بالکل نئے طرز کا معلوم ہے ـ زبان و بیان سے قلم کار کا گہرا مطالعہ جھلکتا ہے ـ واقعی افسانہ نگار نے اس افسانے کی تکمیل میں بڑی محنت کی ہے ـ
اس کہانی 'دامن یزداں چاک' کا مرکزی کردار یعنی کہانی میں جو افسانہ نگار ہے وہ اپنے ہی تخلیق کردہ کرداروں کے انجام سے ہماری توجہ سماجی معاشرتی اور عالمی سطح کے چند اہم مسائل کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہے ـ
اس کا پہلا کردار اپنی کم مائیگی کے سبب خود کشی کا شکار ہوجاتا ہے ـ غریبی، تنگ دستی، مہنگائی، نوکری، ذرائع معاش کے مسدود و محدود ذرائع، بیماری، نا محرومی مظلومی اور استحصال ؛ ہر غریب، مجبور، مظلوم اور شریف النفس فرد کے بڑے مسائل ہیں ـ بیشتر کے لیے یہ مسائل لاسدباب ہیں، وہ اپنی زندگی اسی پزمردگی کے ساتھ گزارنے پر مجبور ہیں ـ ان میں سے بعض اس مفاہمت پر زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہتے اور از خود موت سے جا ملتے ہیں ـ تاہم ان کے چلے جانے کے بعد کی کہانی کون انجام تک پہنچاتا ہے ـ سماج اور سماجی رشتے رسمی طور پر اپنا رول پیش کرتے تو ہیں مگر کیا وہ اس طرح کے حادثوں کے ذمہ دار نہیں؟
دوسرا کردار ایک مجبور بے بس مگر خوب صورت عورت ہے جو غریبی اور تنگ دستی سے نبرد آزما ہے مصائب سے دوچار اپنی زندگی کر رہی تھی مگر آخر کار غلط راہ پر چل پڑتی ہے ـ یہ کردار بھی ہمارے سماج ایک بد نما داغ ہے اور اس پنپنے میں ہمارے ہی سماج کا بڑا دخل رہا ہے ـ
ملاحظہ فرمائیں : کہانی یہ اقتباس ( کوٹھے پر بیٹھنے والی عورت اور افسانہ نگار کا مکالمہ)
"تم نے مجھے چکلے پر بٹھا دیا، تم نے اگر میرے کردار کو جیا ہوتا، جیسا تمہارا دعوی ہے، تو شاید تم میرے لیے چکلے کا انتخاب نہ کرتے، لیکن تم تو ہمارے خالق ہو تمہیں ہمارے جذبات اور احساسات سے کیا لینا، تمہیں تو صرف اپنی تحریروں پر داد بٹورنی ہوتی ہے، میری عصمت کا سودا کرنے والے تم ہو، تم نے میری دلالی کی ہے، میرے جسم کو فروخت کر کے تم نے دولت، عزت اور شہرت کمائی ہے. میری جانب اٹھنے والی غلیظ نگاہیں اور میری جانب لپکنے والے ہاتھ تمہارے تھے، تم کیا سمجھتے ہو کہ میری عصمت کے لٹنے کا الزام تم دوسروں پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاؤ گے؟؟ "
" سنو! میں نے تمہارے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کی ہے، مجھے لگا کہ ایسے حالات میں شاید یہی ہونا چاہیے تھا "میں نے دفاع کی ایک کمزور سی کوشش کی...
" یہی ہونا چاہیے تھا؟؟ تم ہوتے کون ہو میرا اگلا قدم طے کرنے والے؟؟ چکلہ اور کوٹھا تم مرد ذات کے دماغوں میں گھسا ہوا ہے، جتنی نجاست اور غلاظت تمہارے دماغوں میں بھری ہوئی ہے اتنی تو ان کوٹھوں پر بھی نہیں ہوتی،بلکہ کوٹھے تو تم لوگوں کے ذہنی بیت الخلاء کا کام کرتے ہیں، جہاں تم اپنی گندگیاں اگل کر معاشرے میں سفید پوش بنے پھرتے ہو.. "
محولہ بالا اقتباس کی روشنی میں بلا تردد کہا جا سکتا ہے کہ افسانہ نگار نے اپنے کرداروں کی وجودیت اور نفسیات کو بڑی ہنر مندی کے ساتھ واضح انداز سے پیش کیا ہے ـ جس سے افسانے کا سیدھا پڑنے والا تاثر قاری کو اندر تک گویا ہلا کر رکھ دیتا ہے ـ
تیسرا کردار افسانہ نگار کے مطابق مذہبی نوجوان ہے جو اپنے مذہب کی آڑ میں تشدد کو عبادت کے زمرے گردانتا ہے، ـ اگرچہ یہ امر ایک قیاس کے مطابق مسلم معاشرے کے خلاف اغیار کی اپج ہے تاہم اس میں کسی حد تک سچائی بھی ہے جسے بطور مسلمان ہم نظر انداز بھی نہیں کر سکتے ـ مگر اس کے برخلاف نوجوان خود معصوم سمجھتا ہے ـ اب ایسی صورت حال کا ذمہ کس کے سر ہے؟ ادھر افسانہ نگار کا کردار بڑی صاف گوئی سے کہتا ہے کہ
ملاحظہ فرمائیں :
""میں نے خود کو بم سے اڑایا تھا؟؟؛ ارے میں تو مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والا ایک عام سا نوجوان تھا، جو خود بھی جینا چاہتا تھا اور دوسروں کو بھی جینے دینا چاہتا تھا مگر تم نے میرے جسم ہر بم باندھ کر مجھے بھرے چوک میں اڑا دیا، تم جو کرداروں کے لہو سے اپنی کہانیوں میں رنگ بھرتے ہو، آہوں اور سسکیوں سے اس کا راگ سنوارتے ہو... کیا تمہارے پاس دریائے نیل سے آنے والے امن کے حوالے نہیں تھے؟ کیا تم نے برگد کے نیچے بیٹھے اس شخص کی انسان سے انسان کی محبت کے پیغام کو نہیں سنا جس نے امن اور محبت کے لیے اپنا سب کچھ تیاگ دیا تھا؟ کیا تم تک مردوں کو زندہ کرنے والے کا پیغام امن نہیں پہنچا؟؟ وہ جو مردوں کو زندہ کرکے مسیحائی کرتا تھا اور تم جو زندوں کو مردہ بنانے پر تلے ہوئے ہو.. کیا تمہارے کانوں میں رس گھولتی ہوئی بانسری کی وہ آوازیں نہیں آئیں جس نے جانوروں کو بھی محبت کی ڈور سے باندھ دیا تھا ؟ ہاں تم سنتے بھی تو کیسے سنتے!! تم دیکھتے بھی تو کیسے دیکھتے!! ان میں تمہارے اور تمہارے قارئین کے لیے دلچسپی کہاں تھی!!! تم نے تو ان قوموں سے سیکھا جنھوں نے دنیا کو لکیروں، زاویوں، رنگوں، نسلوں، زبانوں اور دھرموں میں تقسیم کیا، تم بھی تو انہیں کے علم بردار ہو، تمہیں کیا ہوجاتا اگر تم مجھے میرے اصلی کردار میں پیش کر دیتے؟ ہاں شاید تمہاری کہانی کا رنگ چلا جاتا کیونکہ امن کا پرچم بھی سفید ہوتا ہے"..."
سوال یہ ہے کہ مذہب انسانیت کا بہترین مدرس ہے، مگر پھر مذہب ہی کی کار فرمائی سے انسانیت کو ایذا کیوں ؟ کیا واقعی اس کا سبب مذہب ہے، یا مذہبی؟
یہ افسانے کے چند نکات اور پہلو ہیں جنھیں میں نے اپنے طور پر سمجھنے کی کوشش کی ہے ـ اسے مزید کئی زاویوں سے کھنگالا جا سکتا ہے، یہاں اساتذہ موجود ہیں ـ
آخری بات، اس تبصرے پر سبھی کا اتفاق ضروری نہیں!
(وسیم عقیل شاہ)
٭٭٭
ایک ایسے فنکار کہانی اس افسانے میں پیش کی گئی ہے جس کی کہانی کے کردار خود کشی کرلیا کرتے ہیں.
زبان و بیان ٹھیک ٹھاک ہے. بس اس افسانے میں ذرا فنکار اپنے دفاع میں بہت ہی کمزور نظرآیا. ایسا لگتا ہے کہ اس کی یہ کمزوری بھی اصل فنکار کی شاطرانہ چال ہی تھی. ورنہ محافل میں تو فنکار مباحثوں میں بڑی بڑی مدلل باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ اس افسانے میں فنکار نے نہایت آسانی دے ہتھیار ڈال دیا.
درمیان میں کسی جگہ سعادت حسن منٹو کے اس قول سے استفادہ بھی نظر آیا جس میں منٹو نے بتایا تھا کہ اس کے افسانے کی ہیروئین کون بن سکتی ہے؟
یہ بھی ایک نفسیاتی موضوع پر لکھا گیا افسانہ محسوس ہورہاہے کہ ایک فنکار جب اپنی کہانیوں میں مایوسیاں ہی بھرتا رہے گا اور اپنے کرداروں سے خودکشیاں ہی کرواتا رہے گا تو اس کا ذہن بھی رفتہ رفتہ مایوسیوں کی آماجگاہ بنتا چلا جائے گا اور اس کا انجام ایسا ہی مایوس کن ہوگا جیسا کہ اس افسانے کا ہے.
شاید اسی لئے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونے کو کہا گیا ہے اور مایوسی کو کفر سے مشابہ قرار دیا گیا ہے.
میں اس افسانے کے فنکار کو جانتا ہوں جس کے پاس اس افسانے سے زیادہ بہتر افسانے موجود ہیں.
(طاہرانجم صدیقی)
٭٭٭
افسانہ ایک تخلیق کار کی ذہنی اور نفسیاتی کشمکش کی عمدہ تصویر پیش کررہا ہے۔
افسانے کا مرکزی کردار ایک تخلیق کار ہے۔اسی کی تخلیقات نہ صرف اس کے دامن کو چاک کرر ہی ہیں بلکہ اچھے معاشرے کی تشکیل کا پیغام بھی دے رہی ہیں ۔
ایک تخلیق کار اپنی کہانی کے لیے مختلف کرداروں کا انتخاب اسی معاشرے سے کرتا ہے۔
یہ معاشرہ جہاں شر ہے تو خیر بھی ہے ،غم ہے توخو شی بھی ہے، برائی ہے تو اچھائی بھی ہے۔
اور تخلیق کار نہ صرف اسی معاشرے سے اپنے کرداروں کا انتخاب کرتا ہے ، بلکہ ان کرداروں کی اچھا ئی ،برائی، خوشی، غمی ،حتی کے ان کی زندگی اور موت کا فیصلہ بھی خود ہی کرتا ہے۔
گویا ان کرداروں کے تمام احساسات و جذبات تخلیق کار کے ذہن میں مقید ہیں۔
یہ تخلیق کار کی اپنی سوچ ہے کہ وہ اپنی کہانی کےلیے معاشرے سے کس موضوع اور کونسے کردار کا انتخاب کرتا ہے۔
جس سے وہ معاشرے کی اصلاح چاہتا ہے یا بگاڑ ۔۔۔
پیش نظر افسانے میں افسانہ نگار نے مرکزی کردار ادیب کے خلق کردہ کرداروں کی زبانی ۔۔قارئین کی توجہ اہم موضوعات کی طرف مبذول کروائی ہے۔
ایسے مثبت اور اصلاحی موضوعات جس سے انسانوں میں مثبت فکر وسوچ پیدا ہوجائے، اوروہ ایک بہترین معاشرے کی تشکیل کا سبب بن جائے ۔
یہ تخلیق کار کا فرض ہے کہ وہ صرف معاشرے کی تلخ اور سفاک حقیقتوں کو ہی موضوع بحث نہ بنائے بلکہ اسی معاشرے میں چند ایسی روشن حقیقتیں بھی ہیں جس میں ایک انسان دوسرے انسان کا بھائی ہے،جہاں محبت ہے امن ہے سکون ہے۔جہاں رنگ ،نسل اور قوم کی بنیاد پر تفریق نہیں کی جاتی۔۔ہر انسان محبت کی مٹی سے بنا محبت اور خلوص باٹتا ہے۔
اس طرح افسانہ نگار نے تخلیق کار اور اس کے موضوع کے انتخاب کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔
بے شک یہ حقیقت ہے کہ دھوکہ، چوری ڈکیتی ،لوٹ مار،قتل و غارت گیری، جسم فروشی، کوٹھے، فحاشی،شراب نوشی، دہشت گردی وغیرہ سماجی برائیاں، ہمارے معاشرے کی سفاک حقیقتیں ہیں۔جنھیں دیکھ کر آنکھ بند کرلینا یا منھ پھرلینا آسان نہیں لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم ان حقائق کو اپنی کہانی میں خوبصورت لفظوں کا جامہ پہنا کر یہ کہتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں سے بری ہو جائیں کہ
ہم نے تو صرف اور صرف معاشرے کی تلخ حقیقت بیان کی ہےاورکچھ نہیں ۔
لیکن ایسی تلخ حقیقتوں کا کیا فائدہ جن سے ہمیں اپنی تہذیب و روایت کے مٹ جانے کا خوف لاحق ہوجائے، جو ہمارےمعاشرے کو منفی سمت لے جانے کی وجہ بن سکتے ہیں ۔
بے شک ایسی حقائق کو تخلیق کار اپنی کہانیوں کا موضوع بنا کر شہرت اور دولت تو کما سکتا ہے لیکن اس سے اچھے معاشرے کی تشکیل ممکن نہیں۔
معاشرے میں پنپ رہی برائیوں کو حقیقت کے ساتھ لفظوں میں بیان کرنے سے برائیوں کا خاتمہ ممکن نہیں بلکہ ان برائیوں کے ذکر سے نہ صرف ہماری روایت اورتہذیب کے نقش مٹ جائیں گے بلکہ پوری انسانیت بھی شرمسار ہوجائےگی ۔
اسی لیے افسانہ نگار نے ہر تخلیق کار کو بہترین انداز میں یہ پیام دیا ہے کہ تخلیق کار کےلیے صرف یہی سماجی برائیاں موضوعات نہیں ہیں بلکہ ہمارے اسی معاشرے میں کئ ایسے کردار بھی موجود ہیں جو اپنی محنت، محبت سچائی اور اچھائی سے ایک اچھے صحت مند معاشرے کی تشکیل میں ہمہ تن مصروف ہیں ۔اب وہ کردار چاہے ایک بے روزگار باپ کا ہو جو اپنی تمام تر بری عادتوں کے باوجود اپنی بیٹی کی محبت کی وجہ سے اچھا تھا۔باپ اور بیٹی کی بےلوث محبت کا یہ رشتہ معاشرے کے لیے مثبت ثابت ہوسکتاہے۔
یا عفیفہ کا کردار جو تمام مصیبتوں کے بعد بھی صابر و شاکر ہے،یاکسی مدرسے کا طالب علم جس کا مقصد تعلیم دینا اور لوگوں کو جیو اور جینے دو کی اہمیت سمجھانا تھا۔
اس سے ہٹ کر بھی ہمارے معاشرے میں امن و سکون کے کئ ایسے واقعات ہیں جن کو تخلیق کار اپنی کہانی کاموضوع بنا سکتے ہیں ۔
جس میں انبیائے کرام اورمزہبی رہنماوں کا اچھائی کا درس، ۔۔۔امن و سکون کا پیغام اور بھائ چارہ کا درس شامل ہے تو وہیں عیسی مسیحی کی مسیحائئ سے گوتم بدھ کی امن و آشتی کا پیام بھی پوشیدہ ہے۔
جہاں ہر انسان رنگوں نسلوں قوموں کی تفریق سے بے نیاز صرف امن و سکون کا خواہاں ہے۔
ایسے کرداروں کا انتخاب اور ان کا بہتر انجام اچھے معاشرے کی تشکیل اور بقا میں زیادہ معاون ہے۔
اگر تخلیق کار اپنی تخلیق کی بقا چاہتا ہے تو اسے معاشرے کی بقا کا سوچنا ہوگا۔ورنہ ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ معاشرے کے یہی برے کردار تخلیق کار کے خاتمہ کا سبب بن جائیں گے۔
افسانہ اپنی ہئیت،زبان و بیان اورپیشکش کے لحاظ سے بھی اچھا ہے۔
اگرمختصر الفاظ میں کہو تو۔
سماج کو بنانے میں ایک ادیب اپنا اہم کردار نبھاتا ہے۔ہر زمانے میں ادیبوں نے اپنی تخلیقات سے کئ اہم انقلاب لائے ہیں۔اور لاتے رہیں گے۔ان کی تخلیقات سے ہمارے معاشرے میں اچھا تو کبھی برا اثر پڑتا یے۔
اسی لیے اس افسانے کے ذریعہ افسانہ نگار نے تخلیق کارکو اپنے موضوع کے انتخاب کی اہمیت بتانے کی کوشش کی ہے۔
کہ وہ سماجی برائیوں اور منفی پہلووں کو موضوع بنانے کے بجائے معاشرے کےمثبت پہلووں اور اچھائیوں کو پیش کرے تاکہ ایک اچھا معاشرہ تشکیل پاسکے۔
اس طرح یہ افسانہ ہمارے مٹتی ہوئی تہذیب اوراخلاقی قدروں کو بچانے کی ایک ادنی سی کامیاب کوشش ہے۔
آخری بات ضروری نہیں کہ میری ہر بات سے ہر کوئی متفق ہوں ۔
ردو قبول تسلیم ۔
(ڈاکٹر عائشہ فرحین گلبرگہ کرناٹک ۔)
٭٭٭
زیر نظر افسانہ "دامن یزداں چاک" اپنے تخلیق کردہ کردار کے ذریعہ ڈرامائی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ "قلم" تخلیق کار کے ہاتھ میں ہوتا ہے کردار تراشنا اس کا فن ہوتا ہے۔وہ کس قسم کردار کو تخلیق کرتا ہے اس کا اپنا فیصلہ ہے کردار سے ہی فن کی معراج تک پہنچا جاتاہے۔ کسی عمدہ تخلیق کے کردار کہانی کی گہرائیوں میں اتر کر ایسا کارنامہ انجام دیتے ہیں کہ وہ کردار ادب میں زندہ جاوید بن جاتے ہیں اس کی کئی مثالیں ہمارے ادب میں موجود ہیں۔ اس لئے کردار کا اہم رول ہوتا ہے کہانی یاد نہیں رہتی مگر کردار یاد رہ جاتے ہیں
اس افسانہ میں ایک تخلیق کار کی "ذہنی اپچ اس کی نفسیاتی کیفیت" کو بیان کیا گیا ہے اور کردار خود کہہ رہے ہیں ایک تخلیق کار سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وقت کے حساب سے کردار کو بدلنا چاہئے۔دور حاضر کےحالات نے انسان کا ذہنی سکون تہس نہس کردیا ہے۔ہر طرف غربت لاچاری،مجبور ی،بےبسی، بے روزگاری، ظلم وجبر،استحصال، انتشار، تعصب،خود غرض ۔مطلب پرستی،
سب اہم بے حسی،فرقانہ وا ردات،عدم مساوات نے انسانی وجود کو ایک طرف موت کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے تو دوسری طرف ایسے پر فتن دور کو اصلاح کی سخت ضرورت ہے "جو ایک فنکار ہی اپنے قلم کے ذریعے کرسکتا ہے"۔۔
اسی لئے اس افسانہ میں کردار خود کہانی سے نکل کر مطا لبہ کر رہے ہیں کہ۔۔۔۔
"تم نے ہی مجھے زندگی دی،تمہاری ہی مرضی کے مطابق میں نے وہ زندگی گزاری!! اور تم نے ہی میری مرضی کے خلاف مجھ پر موت مسلط کر دی!! جس کہانی میں تم نے مجھے جنم دیا تھا۔میں اس کے دوسرے کرداروں سے بے انتہا محبت کرتا تھا!
مگر تم میرے خدا بن بیٹھے تمہیں تو میری کہانی کا درد بھرا اختتام چاہئیے تھا،تاکہ لوگ تمہیں سراہیں ۔
کردار کے ذریعہ یہ بتایا جارہاہے کہ تخلیق کار کو اب درد دکھ ۔۔موت نہیں تخلیق کرنی چاہئے بلکہ وہ زندگی چاہتے
ایک اور کردار
"میں ایک عفیفہ تھی۔۔۔۔۔۔میری خوبصورتی کا فائدہ اٹھا کر تم نے مجھے کو ٹھگ پر بٹھا دیا" ۔۔۔۔
اس کا استحصال اس کادرد و کرب اس کے لئے اب مصیبت بن گیا۔اب وہ اس زندگی سے باہر آنا چاہتی ہے۔اس مسئلہ کاے حل کا مطالبہ ہے
ایک اور کردار تم میری آخری کہانی کے کردار یہ سمجھا نا چاہتا ھے کہ تم اگر چاہوں تو مثبت کردار تشکیل دے سکتے ہو۔۔اس کی کئی مثالیں دے کر بتایا ہےکہ کیا تم بھول گئے
" دریائے نیل کی کہانیاں۔۔۔۔برگد کے اس شخص کی کہانی۔۔۔۔ یعنی گوتم بدھ۔۔
مردوں کو زندہ کرکے ۔۔ یعنی مسیحا۔۔
بانسری کی اواز۔۔ یعنی کرشنا
یہاں تخلیق کار کو یہ باور کرانا کہ یہ بھی تو بہترین کردار ہیں اب تمہارے سماج کو ایسے ہی کردار کی ضرورت ہے مگر تم کیا کررہے ہو۔۔۔خبردار کیا جارہاہے کہ
"تم نے ان قوموں سے سیکھا جنھوں نے دنیا کو لکیروں، زاویوں، رنگوں، نسلوں، زبانوں اور دھرموں میں تقسیم کیا۔تم بھی تو انہیں کے علم بردار ہو"۔۔۔
اشا رتا سمجھا یا جارہا ہے کہ تم اپنے آپ کو پہچان تم کیا ہو تمہارے اسلاف کیا تھے۔وہ کیسے کارنامے تھے۔
کلائمکس میں افسانہ نگار کے سامنے
ایک ہی کردار سامنے آتاہے۔۔۔پوچھتا ہے کہ میں نے اس کے لئے کیا چنا۔۔؟ موت۔۔۔
"ہاں۔۔۔۔۔موت ہی تمہارے غموں کا مداوا ہے"
یہ تو تمہارا فیصلہ ہے۔۔۔قلمکار۔۔!! تم اپنے حصے کی موت مجھ پر لادنا چاہتے ہو ۔۔
یہاں افسانہ نگار کمال فن سے کردار کے ذریعے سبھی تخلیق کار کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اب نئی نسل کو امن ،انسانی محبت،احساس کی ضرورت ہے اپنے خیالات کو بدلنے اور پھر سے ایک نئی تاریخ بنانے کی ضرورت ہے پھر سے دریائے نیل کی کہانیاں، مسیحا۔کرشنا،گوتم بدھ جیسے کردار تخلیق کرنے کی ضرورت ہے قلم وہی ہوگا خیالات میں مثبت مثالی کردار ہوں۔ یہ آخری جملے
"مگر آج نہیں ۔۔!! آج قلم وہی ہوگا اور کاغذ بھی وہی اور فیصلہ بھی وہی مگر لکھنے والے ہاتھ اور کردار بدل جائیں گے ۔۔ اس افسانہ میں مکالمہ ڈرامائی انداز میں روانی کے ساتھ بیان ہوئے ہیں تجسس جو قاری کو
باندھے رکھتا ہے مجموعی طور پر کامیاب افسانہ ایک مثبت پہلو لئے ہوئے ہے افسانہ نگار کو بہت مبارک باد پیش کرتے ہیں
(ڈاکٹر فریدہ بیگم۔ گلبرگہ)
٭٭٭
کہانی میں ایک خود غرض فنکار اپنے ضمیر سے برسرپیکار ہے ـــ
البرٹ کیموز کے ناول دی فال کا مرکزی کردار اپنی مفاد پرستی کی وجہ سے ضمیر سے جنگ ہارنے کے بعد اپنی ہی نظروں میں گر جاتا ہے تب ایسی کہانی سامنے ہوتی ہے ـــ
میک بیتھ کا مرکزی کردار جب سب کچھ حاصل کرلینے کے بعد اپنے آپ کو صحیح ہونے کا یقین نہیں دلا پاتا ہے تو ایسی کہانی وجود میں آتی ہے ـــ
یہ ہر دور کی کہانی ہے ـــ
یہ کہانی ہر معاشرے میں آسانی سے مل جائے گی ـــ
یہ ہر انسان کی کہانی ہے ـــ
اس کہانی کا کہانی کار ہم سب میں موجود ہے ـــ اگر ہم اپنی کہانی کے کرداروں کو اظہار خیال کی آزادی دیں تو وہ بھی یقینا ایسے ہی شکوے گلے کرتے نظر آئیں گے جیسے کہ اس کہانی کے کردار کررہے ہیں ـــ
کہانی کار نے خود کشی نہیں کہ ہے ـــ بلکہ کہ حقیقت جان لینے کے باجود اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرنا چاہتا ہے ــــ اسے یہ منظور نہیں کہ ضمیر کو کچل کر حاصل کی گئی شہرت پر حرف آئے ــــ ورنہ جاری کہانی میں بھی وہ اپنی غلطیوں کا ازالہ کرسکتا تھا ــــ
اخیر میں اس نے اپنے لیے بھی وہی حربہ اپنایا جو اپنے کرداروں کے لیے استعمال کرتا تھا اور سماج کی ہمدردی حاصل کرتا تھا ـــ
اس نے خودکشی کی ہے ـــ اب دنیا والے اس کی خودکشی کی سو وجوہات تراشیں گے ــــ اس طرح مرنے کے بعد بھی اس کی شہرت میں کمی نہیں آئے گی اور کہانی آگے بڑھتی رہے گی ـــــ
صاف و ششتہ زبان ـــ
عمدہ ٹریٹمینٹ ــــ
ایک کامیاب کہانی پر بہت بہت مبارکباد ــــ
(شہـــروز خـــاور)
٭٭٭
افسانے کی تکنیک بہت اچھی ہے ۔ مگر میں طاہر انجم صاحب کی بات سے متفق ہوں کہ کہانی کار اپنے دفاع میں کچھ کمزور نظر آرہا ہے ۔ سماج کے تلخ حقائق کو صفحہ قرطاس پر بکھیرنے کے لئے ایک قلمکار کو کس کرب سے گذرنا پڑتا ہے یہ افسانہ اس کی بہترین عکاسی کرتا ہے ۔
کسی نے کہا کہ قلمکار کو موضوع کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے ۔ مجھے نہیں لگتا کہ سماج میں موجود بگاڑ کو کسی بھی تخلیق سے جوڑ کر دیکھا جانا چاہئے ۔ سماج کے اصلاحی کاموں کی تمام تر ذمہ داری تخلیق کار پر کس طرح عائد ہوتی ہے یہ سمجھنے سے قاصر ہوں ۔ قلمکار کوئی مولوی یا واعظ نہیں ہوتا جس پر اچھے معاشرے کی تشکیل کی ذمہ داری تھوپی جائے ۔ جسم کا کچھ حصہ بیمار ہے تو اس حصے کو قطع و برید کئے بغیر یا نظر انداز کر کے قلمکار باقی جسم کے لئے کون سا اصلاحی کام کر سکتا ہے ۔ تلخ حقائق کا سامنا کرنے سے تہذیب کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے عجیب دلیل ہے ۔ معاشرے کی برائیوں کو لفظوں میں بیان کرنے سے اگر برائی کا خاتمہ نہیں ہو سکتا تو معاشرے کی اچھائیاں بھی صدیوں سے کتابوں میں بند ہیں پھر کیوں کر معاشرہ میں بگاڑ پیدا ہوا ؟
امن و آشتی کے لئے ، بھائی چارگی کے لئے دنیا کو ڈیڑھ ہزار سال قبل ہی ایک نسخہ کیمیا عطا کر دیا گیا ہے ۔ دنیا اس راستے سے ہٹ کر ہر گز صراط مستقیم نہیں حاصل کر سکتی ۔
افسانے میں الگ الگ کرداروں کا انجام سماج کی ہی مرہون منت ہے جس کا خمیازہ تخلیق کار کو بھگتنا پڑتا ہے ۔
ڈاکٹر ارشاد خان صاحب نے سچ کہا کہ سماج کے بد کردار قلمکار نے نہیں گھڑے ہیں ۔ مجھے نہیں لگتا کہ کردار تراشے جاتے ہیں ۔ بلکہ یہ سماج سے اٹھائے جاتے ہیں ۔
بہر حال ایک کامیاب افسانے پر تخلیق کار کو بہت مبارکباد
(عرفان ثمین)
٭٭٭
افسانے کا بیانیہ عمدہ ہے اور زبان اور بیان بھی خوب ہے۔
طاہر انجم صاحب نے میرے منہ کی بات چھین لی کی افسانہ نگار نے اپنے دفاع میں ایک لفظ بھی نہیں اور صرف اپنے کرداروں کو پہچاننے کا ہی کام کیا ہے۔
ایک کردار کا یہ کہنا کہ تم ہوتے کون ہو یہ طے کرنے والے۔۔۔۔۔۔ بڑا اٹ پٹا لگتا ہے کہ افسانہ نگار ہی تو ان کا خالق ہے پھر اس پر یہ انگلی اٹھانا کہ وہ ہوتا کون ہے ان کی زندگی کا فیصلہ لینے والا غیر ضروری لگا۔
تیسرا ہر کردار شکایت کے طور پر لمبی لمبی تقریریں کیوں کر رہا ہے اور اگر بھی رہا ہے تو کچھ ایسے کردار بھی پس پشت ہونے چاہیے جو تقریر کرنا تو نہ جانتے ہو لیکن بیچ بیچ میں دوسروں کی تائید تو کریں۔
خیر موضوع اچھا ہے اور اس پر کئی افسانے بھی لکھے جا چکے ہیں لیکن مجھے ابھی انگریزی کی ایک فلم stranger than fiction یاد آرہی ہے۔
افسانہ نگار چاہے تو اس فلم سے استفادہ حاصل کرسکتے ہیں۔
(شاداقب رشید)
٭٭٭
دامن یزداں چاک افسانہ پر مختلف آراء ہمارے سامنے ہیں۔ ماشاء اللہ ذی فہم لوگوں کی آراء و تنقیدیں مختلف زاویوں سے افسانہ کو پرکھ کر ان کے اپنے خیالات کی عکاس ہیں۔ میں شاداب کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ اگر تحریر افسانہ نگار کے نام کے بغیر آتی ہے تو ہر رائے رکھنے والا مذکورہ افسانہ نگار کی شخصیت سے متاثر ہوئے بغیر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے۔ دیگر صورت میں اکثر لحاظ معنی ہوتا ہے۔
افسانوں کا یہ سلسلہ اسی طرح دراز رہنا چاہئے کہ افسانہ نگار کا نام ممبران کی تنقید و تخصیص کے بعد ظاہر کیا جائے۔ اس کی وجہ سے ہر ممبر بغیر کسی لحاظ کے اپنی رائے رکھے گا۔
افسانہ دامن یزداں کی تحریر کا انداز اپنے انوکھے طرز کا مظہر ہے۔ شروع سے آخر تک قاری کی دلچسپی بر قرار رہتی ہے۔ یہ بات الگ کے اس کے تخلیق کردہ کردار ہی اس سے الجھ پڑتے ہیں اور وہ اپنے دفاع میں لاچار نظر آتا ہے۔ بہر حال خالق کا ہاتھ ہمیشہ اوپر ہوتا ہے اسلئے اسکا فیصلہ حرف آخر کے طور پر ہمیں قبول کرنا ہوگا۔
(مشیر احمد انصاری)
٭٭٭
ادب سماج کا آئینہ ہوتا ہے ۔ ادب کا قلمکار سماج کے دستر خوان پر وہی پروستا ہے جسے وہ سماج سے حاصل کرتا ہے ۔ افسانوں ، ڈراموں اور ناولوں کی طویل تاریخ ہماری نگاہوں کے سامنے موجود ہے جس میں قلمکاروں نےاپنی تخلیقات میں سماجی حقائق کو افسانوں، ڈراموں اورناولوں میں پیش کیاہے ۔ ترقی پسند تحریک کے دور سے لے کر آج تک قلمکار اپنی ادبی تخلیقات میں یہی جوہر بکھیرتے چلے آئے ہیں۔ بس اتنا فرق ہے کہ قلمکار اپنی فنی مہارت سے ایک حقیقی زندگی کو قلمی زندگی کا روپ دے دیتا ہے ۔ وہ زندگی جو کسی گاؤں دیہات یا شہر کی گمنامی میں چھپی ہوتی ہے قلمکار اسے اپنی تحریر کے ذریعے ہزاروں اورلاکھوں افراد کے سامنے لے آتا ہے ۔
یہ افسانہ ایک منفرد تخلیق تو ہوسکتا ہے مگر میری دانست میں ایک اچھا افسانہ نہیں اور بالخصوص حقیقت پر مبنی تو نہیں ۔ ہاں ! یہ بات ضرور ہے کہ برقی ذرائع تفریح یعنی ٹیلی ویژن کے لیے لکھے جانے والے ڈراموں اور بڑے پردے کے لیے لکھی جانے والی کہانیوں میں یہ عنصر ضرور پایا جاتا ہے کہ بنام تفریح یعنی ’’انٹر ٹیمینٹ ‘‘کے نام پر ناظرین کے خاطر ان شعبوں سے وابستہ پیشہ وارانہ قلمکار سچ جھوٹ بلا امتیازلکھ مارتے ہیں ۔ ان کی تحاریرتو ما فوق الفطرت عناصرجسے ادکے قلمکاروں نے خیر آباد کہہ دیا ہے اسے بھی پیچے چھوڑ کر تصورات و خیالات کی ای ایسی ادبدھ دنیا بسا کر ناظرین کے سامنے پیش کر دیتے ہیں جو کہیں سے کہیں تک حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں ۔ اگر اس افسانے کو قلمی دنیا کے چھوٹے بڑے پردوں کے تناظر میں دیکھیں تو انصاف سے کہنا پڑے گا کہ مصنف نے کمال دستی کا مظاہرہ کیا ہے اور فلمی دنیا کے شائقین کے لیے اس دنیا کے قلمکاروں کی ذہنی بالادستی کو بڑی مہارت بلکہ سچائی سے پیش کر دیا ہے لیکن اس صور ت میں مصنف کے لیے ضروری تھا کہ وہ خود کو کسی قلمی دنیا سے وابستہ رائٹر بتاتا ۔
مصنف کے تخیل کی پرواز عمدہ ہے جسے اس نے لفظوں کا خوبصورت پیرایہ دینے میں کامیابی بھی حاصل کی ہے ۔تحریر کا جائزہ لینے پر کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں ایک اچھے ادبی تخلیق کار کی پہچان حاصل کر لے گا۔
(اسما رحمت اللہ)
٭٭٭
Comments
Post a Comment