تنہائی (از:اقبال نیازی) تجزیے و تبصرے
تجزیہ و تبصرہ
افسانہ: تنہائی
افسانہ نگار: اقبال نیازی
حالاتِ حاضرہ پر اقبال نیازی صاحب کا افسانہ *تنہائی* پڑھنے میں آیا.
ابتدا میں محسوس ہوا کہ کورونا کے سبب ہونے والے لاک ڈاؤن پر بس بالکل سادہ سا افسانہ ہوگا بلکہ کلائمکس سے قبل تو یہ خیال مزید زور پکڑگیا مگر اقبال نیازی صاحب نے اپنے افسانے کے کلائمکس سے اس خیال کو غلط ثابت کردیا. ان کا افسانہ آج کے پریشان کن حالات میں بھی مفاد پرستوں کے اندرون پلنے والے شیطانی خیالات کو بیان کررہا ہے.
زبان و بیان ٹھیک ٹھاک ہے. بس ذرا *اے بیوی* والا طرزِ تخاطب بالکل غیر فطری سا محسوس ہورہا ہے اور صرف ایک سٹنگ کے کینسل ہونے سے ساحل صاحب کے ذہن پر اتنا گہرا اثر پڑنا بھی کچھ عجیب سا محسوس ہورہا ہے لیکن غور کریں تو وہ سٹنگ بھی لاک ڈاؤن کے سبب انسان کو تنہا کردینے کا سبب بن رہی ہے اور رفتہ رفتہ رگوں میں سرایت کرجانے والے زہر کی طرح یہ تنہائی بھی انسان کے ذہن پر اثر انداز ہوتی ہے.
ساحل صاحب کی سٹنگ والی بات بھی ان کی تنہائی کے سبب شعور و تحت الشعور کے گڈ مڈ ہونے کی جانب اشارہ کررہی ہے. حالانکہ اگر اقبال نیازی صاحب چاہیں تو اس افسانے میں مختلف واقعات مناظر شامل کرکے افسانے کو مزید اثرانگیز بنا سکتے ہیں. بلکہ انھیں اس جانب متوجہ ہونا ہی ہی چاہئے تاکہ کورونا اور لاک ڈاؤن پر ایک اچھا افسانہ سامنے آسکے. شکریہ.
(طاہرانجم صدیقی)
🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸
اس افسانے میں لفظ 'ساحل'، 'موٹی بھدی گالی' اور 'بھتیجے' وغیرہ کا ذکر افسانے کے مرکزی کردار سے جڑے ہیں اور ایک بہت ہی خاص فلمی شخصیت کی طرف پرفیکٹ اشارہ کر رہے ہیں ـ افسانہ نگار کے انھی الفاظ اور تنہائی کے کربناک احساس کی لفظی تصویر جو قلم کار نے مرکزی کردار کے مطابق بہت ہی سلیقے پیش کی ہے، اس سے میرے ذہن میں وہ فلمی شخصیت پوری طرح ابھر کر سامنے آ چکی ہیں، اس لیے یہ کہانی مجھے الگ طرح سے متاثر کرتی ہے ـ
جہاں تک بیانیہ کا سوال ہے تو یقیناً بیانیہ نیا نہیں، موضوعاتی سطح پر ندرت بھی کچھ خاص نہیں، نہ کہانی کا کوئی پہلو تازگی دیتا ہے ـ البتہ تنہائی کا ایک پہلو ایسا عبرت ناک یا "بھینکر "بھی ہو سکتا ہے یہ بات اہم ہے ـ میرا خیال ہے مطالعہ ہی افسانہ سمجھنے میں معاون نہیں ہوسکتا، مشاہدہ بڑی چیز ہے ـ جن قارئین کے مشاہدے میں اس افسانے کا مرکزی کردار یعنی یہ فلمی شخصیت ہیں وہ ضرور اس افسانے سے محظوظ ہوں گے ـ
(اپنی ذاتی راے ہے سبھی کا اتفاق ممکن نہیں)
زبان کا استعمال نیازی صاحب نے افسانے کی تخلیقی فضا میں رچ بس کر کیا ہے جس کے سبب چند ایک غیر اردو لفظوں سے کہانی میں نقص کا عنصر تکنیکی تقاضا ہو سکتا ہے ـ
(وسیم عقیل شاہ)
🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸
*اقبال نیازی* صاحب کی کہانی
*تنہائی* حقیقت سے بے حد قریب لگتی ہے۔۔۔اور کوئی تعجب نہیں کہ شاید یہ حقیقت ہی ہو۔۔۔جو کہانی بن کر سامنے آئی ہے۔۔۔
ایک معمّر کہانی کار کا اپنے ماضی کی حسین اور خوشگوار یادوں میں جینا۔۔۔اور لاک ڈاؤن کے دور میں گھر سے باہر نکل جانا۔۔۔پھر اپنی ہی کسی کہانی کےکردار کی طرح بیوی بچّوں کو آواز دے کر بُلانا۔۔۔وہ بیوی بچّے، جو اُس کی زندگی میں نہ کبھی تھے اور نہ ہیں ۔۔۔یہ سب چیزیں کہانی کا تاثر اور تنہائی کا المیہ بڑھا دیتی ہیں۔۔۔اور اِن سب سے بڑھ کر کہانی کا کلائمکس!
یہ ایک اچھی کہانی ہے۔۔۔
جس پر شارٹ فلم بنانا چاہئیے!
(انور مرزا)
🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸
احمد فراز کا مشہور شعر ہے :
غم دنیا بھی غم یار میں شامل کرلو
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
افسانہ تنہائی اس کیفیت کا اظہار ہے ۔ پہلے دو غم الگ الگ تھے۔ غم یار کو دنیا کی آسائش نے ڈھانپ رکھا تھا تو کام چل رہا تھا لیکن جب غم یار میں غم دنیا شامل ہوگئی تو تنہائی کا نشہ دوبالا ہوگیا اور اس نے ساحل کو باولا کردیا۔ واپسی پر بیوی بچوں کو پکارنا دراصل دبی ہوئی نامراد خواہشات کا ابھر کر آجانا ہے ۔ ایسی صورتحال میں دماغ کا توازن بگڑ سکتا ہے۔ ساحل جیسے رعونت پسند تنہا شخص کے وصال پر اس کی اگلی نسل کے لوگوں میں خوشی کی لہر کا دوڑ جانا حیرت کی بات نہیں ہے کیونکہ نسلوں کے تفاوت اور فاصلوں کے سبب محبت و الفت کے جذبات پروان نہیں چڑھتے ۔ صارفیت کے اس دور کا المیہ یہ ہے کہ انسانی رشتوں کو مادہ پرستی کی عینک سے نہ صرف دیکھا بلکہ اسی کے مطابق برتا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے افسانے میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے۔ انتٹرنیٹ پر طویل افسانہ پڑھنا ایک مشکل کام ہے اس لیے میرے خیال میں نیازی صاحب اختصار سے کام لے کر اچھا کیا ۔ قصہ مختصر یہ ایک عمدہ افسانہ ہے اور بزم کی شروعات الحمد للہ اچھی ہوئی ہے۔ آغاز تو اچھا ہے انجام خدا جانے ۔
(ڈاکٹر سلیم خان)
🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸
افسانہ تنہائی ۔۔۔
اس افسانے میں مرکزی کردار ساحل کی تنہائی کو موضوع بنایا گیا ۔لیکن یہ صرف ساحل اس کردار کی تنہائی نہیں ہے بلکہ ہر کامیاب اور اپنے فن میں ماہر شخص کی تنہائی اس افسانے کا موضوع ہے۔
یہ تنہائی ایسے کئ فنکاروں کا المیہ ہے جو ایک عرصہ تک اپنے فن سے دنیا والوں کو فائدہ پہنچاتے رہے،جب تک ان کا فن عروج پر رہا دنیا والوں کے آنکھوں کا تارہ بنے رہے لیکن جب ان پر زوال آیا تو یہی چاہنے والے ان کی کسمپرسی کی حالت اور موت تک سے بے خبر رہے۔
اس افسانے میں ساحل صاحب کا ایک کامیاب فلم رائٹر ہونا،ان کا اپنے فن میں مہارت کی دلیل ہے۔
وہیں ان کی زبان پر گالیاں ان کے ماحول کی عکاس ہے۔
ساحل فلم اندسٹری سے جڑا ایک ایسا کردار ہے۔جو کامیاب رائٹر تو تھا لیکن فی الحال تنہائی اور گمنامی کا شکار ہے۔
پولیس والے کا ساحل کے نام اور کام سے مرعوب نہ ہونا ۔۔ساحل کی گمنامی کی طرف اشارہ ہے۔
گھر آکر بیوی اور بچوں کا ذکر کرنا۔۔۔ساحل کی وہ دلی خواہش کا اظہار ہے جو اب حسرت بن گئ ہے۔
نوکر کا ساحل کی بھتیجی کو فون کر نا ساحل کی حالت کے بارے میں بتانا۔
ساحل کا اپنوں کے ہوتے ہوئے تنہا ہونا۔۔
بھتیجی کا اپنے بہنوں کو فلاٹ کےنو کروڑ ملنے کی نویدسنانا ۔۔مفاد پرست رشتوں کی عکاسی کرتا ہے۔
جو جیتے جی چچا کی خبرگیری کرنا گوارا نہیں کرتے لیکن مرنے کے بعد ان کی جائیداد کے حقدار بن جاتے ہیں۔
اس افسانہ کا موضوع تنہائی ہے۔جو کسی بھی شخص کی ہوسکتی ہے۔ساحل کی تنہائی کو موجودہ حالات۔۔۔لاکڈاون ۔۔۔سے جوڑا گیا ہے۔۔۔جس سے افسانے میں کوئ خاص تاثر پیدا نہیں ہورہا ہے۔
۔لاک ڈاون نہ بھی ہو تو یہ افسانہ ایک فنکار کی تنہائی اور مفاد پرست رشتوں کی حقیقت بیان کرنے میں کامیاب ہے۔
وہین بیوی بچوں کو یاد کرنا، جو ہےہی نہیں۔۔ایک ایسے انسان کی حسرت ہے جو تنہائی کا شکارہے اور اس تنہائی میں اپنوں کی کمی محسوس کر رہا ہے۔
افسانہ نگار نے مختصر لیکن رواں اسلوب میں معاشرے میں فنکاروں کے ساتھ روا ناروا سلوک کو پیش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔۔
تنہائی افسانے کے تعلق سے ۔۔ایک دو باتیں جو کہنے سے رہ گی تھیں ۔۔
ساحل جو کئ ہٹ فلمیں بنا چکا ہے۔یعنی اس نے شہرت بھی حاصل کی دولت بھی۔۔لیکن اس قدر شہرت اور دولت کے باوجود وہ تنہائی کا عذاب جھیل رہا ہے۔بھتیجا بھتیجی جوقریبی رشتہ دار ہیں۔وہ بھی اپنے چچا کی دولت اور شہرت سے نہ صرف اس کی زندگی میں بلکہ مرنے کے بعد بھی فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔
۔یہی کہہ کر *میں فلاں مشہور رائٹر کا بھتیجا بھتیجی ہوں*
انھوں نے اپنی چچا کے لیے ایک عدد نوکر ۔۔۔رکھا ہے جوتنخواہ تو چچا سےلیتا ہے۔لیکن وفاداری بھتیجوں سے نبھاتا ہے۔
ساحل کا نشہ کا عادی ہوناجہاں فلم انڈسٹری کی صحبت اور تنہائی کی دین ہے۔وہیں اپنوں سے دوری کے غم کو اپنے نوکر اور دنیا والوں سے چھپانے کی ایک کوشش بھی ہے۔
اپنے غیر موجود بیوی بچوں کو یادکرنا۔۔۔۔یہی بتاتا ہے کہ ایک تنہائی کے عذاب میں مبتلا شخص اپنوں کی کمی کو شدت سے محسوس کررہا ہے جو اپنے بھتیجا بھتیجی کے آنے کی راہ تک رہا ہے۔
تنہائی میں بڑبڑانا۔۔۔۔۔جس کو نوکر نے دیوانگی۔ تو بھتیجی نے چچا کی موت کا پیش خیمہ سمجھا۔۔جو سماج کے مفاد پرست بے حس لوگوں کی بہترین عکاسی ہے۔
یعنی ایک تنہائی کے شکار شخص کی تکلیف کو سمجھے بغیر سب اپنے اپنے مفاد کے مطابق سوچ کر نتیجہ اخذ کررہےہیں۔
جو سماج کے ہر بے حس اور مفاد پرست انسان پر کڑا طنز ہے۔۔
۔۔افسانہ " تنہائی" ۔۔۔۔۔۔۔یوں تو ایک کامیاب فلم رائٹر کی تنہائی کی تکلیف بیان کرتا ہے لیکن درحقیقت ہر اس شخص کی تکلیف کی عکاسی ہے۔جو کامیاب ہے ،جس کے پاس سب کچھ ہے پھر بھی وہ اکیلےرہنے پر مجبور ہیں۔۔لیکن اپنے دکھ کو چھپانے اور لوگوں کے سامنے اپنے خوش ہونے کا بھرم شراب نوشی ذریعہ قائم رکھے ہوئے ہیں۔۔۔
ایک بہترین افسانہ ہے۔
(ڈاکٹر عائشہ فرحین گلبرگہ کرناٹک)
🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸
اقبال نیازی صاحب کی دوبارہ افسانہ نگاری کی طرف آنا ایک خوش آیند احساس ہے
مبارک ہو سر
افسانے کے مطالق ایک سطر میں کیول اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ بڑے کینواس کا مختصر افسانچہ۔
میں امید کرتا ہوں کہ اقبال سر دوبارہ اس پر محنت کر اسے مکمل افسانہ بنانے کی کوشش کریں گے۔
جہاں تک مکالمے اور ہندی الفاظ کی بات ہے ۔ اسکے کیے افسانہ نگار خود مختار ہے اور وہ بخوبی جانتا ہے کہ کہاں ہندی کے الفاظ آنےچاہیے اور کون سا کردار اپنی اور نوکر کو کس طرح آواز دے گا۔
اور جہاں تک ساحل کے کردار کی کسی اصل زندگی کے شخصیت سے مناسبت کی بات ہے تو افسانہ نگار نے اس افسانے کو کسی کے نام سے منصوب نہیں کیا ہے اور نہ ہی افسانہ نگار ہر قاری کو اپنا افسانہ سمجھانے کے لیےخودجائے گا۔
افسانہ نگار جو لکھ کر قاری کے سامنے پیش کردیا وہ اب قاری ہے کہ اسے کس طرح سمجھے۔
اقبال سر خدا کرے زورِ قلم اور زیادہ۔۔۔۔۔
(شاداب رشید)
🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸
*تنہائی* ــــــ
پہلا جملہ : *بہت عجیب بات ہوگئی*
اس جملے کا کوئی جواز نظر نہیں آیا ـ
کہانی مکمل ہے ـــ لیکن کردار نگاری کی کمی کے سبب مرکزی کردار کی نفسیات واضح نہ ہونے سے کلائمکس میں صناعی در آئی ہے ـــ ایسا لگتا ہے رشتے دار کہیں سے لاکر زبردستی ڈال دیے گئے ہوں ــــ وہ اس لیے کہ بیان کی گئی کہانی کے مطابق ، عنوان *تنہائی* کو ملحوظ رکھیں تو آخری تین لائنیں زائد ہیں ــــ یعنی افسانہ اس خبر کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے کہ ساحل صاحب نے شادی نہیں کی ہے ـــ
موجودہ کہانی کے مطابق رشتہ داروں کی بدنیتی کے بیان سے عنوان *تنہائی* مجروح ہورہا ہے ـــ کیوں کہ یہ باتیں افسانے کی اصل کہانی سے مطابقت نہیں رکھتیں ــــ ہاں یہ چیز عمدہ اینٹی کلائمکس ہو سکتی ہے ..... اگر ان بھتیجی بھجیتوں سے ساحل کا کوئی معاملہ پہلے بیان کیا جائے ـــــــ
پہلا مسئلہ یہ ہے کہ اتنی مختصر تحریر میں ساحل کے جذبات اور ذہنی کیفیت کو محسوس کرنا دشوار ہے ــــــ
دوسرے یہ کہ افسانے کے عروج پر جہاں ساحل سے ہمدردی پیدا ہوسکتی ہے .... معاً جائداد کے موضوع سے تنہائی کی فضا ختم ہوجاتی ہے ـــــ
واقعات و معاملات بڑھا کر افسانہ بہتر کیا جاسکتا ــــ ساحل کا کردار بہت عمدہ ہے ــــ زندگی کی رنگینی دیکھا ہوا ، غیر شادہ شدہ ایسا انسان جو اب زمانے کی بے توجہی کا شکار ہے ـــــ اس کردار سے سماج و رشتے کی کئی خامیوں کو اجاگر کیا جاسکتا ہے ـــــ
محترم افسانہ نگار کو ایک عمدہ کہانی تخلیق کرنے پر بہت بہت مباکباد ـــــ
شہروز خـــاور ـــــــــــــــــ
🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸🔸
السلام علیکم
افسانہ "تنہائی" افسانچہ زمرہ میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی اصل۔۔۔ساحل صاحب ایک فلم کہانی کار اپنی شہرت اور دولت کے باوجود تنہائی کے عذاب سے دوچار ہے
اس افسانچہ کی کہانی لاک ڈاون کے مکالماتی ڈرامائی انداز میں روانی کے ساتھ شروع ہوئی مگر کلائمکس میں کوئی اور رخ اختیار کر گئ ۔۔ اس کا پہلا جملہ ۔۔۔
" بہت عجیب بات ہوگئی" ۔۔۔قاری میں تجسس پیدا کرتا ہے ۔۔ لکن دوسرے ہی لمحے اس کا ربط ٹوٹ جاتا ہے۔ پھر راست بیانیہ شروع ۔۔۔فلموں کے سینئیر رائیٹر ساحل صاحب اچانک گبھرا کر،ہڑ بڑا تے ہوئے کپڑے پہننے لگے تو نو جوان نوکر نے حیرت سے پوچھا صاحب کہاں جارہے ہیں؟؟ باہر سب بند ہے۔۔
ساحل صاحب کی تنہائی کا سفر تو دراصل نفسیاتی طور پر یہیں سے شروع ہو چکا تھا ۔اپنی تنہائی اور اس کے نفسیاتی کیفیت کو کم کرنے وہ بار بار گالی دے کر بات مکمل کر رہے تھے۔۔حالات سے واقفیت کے باوجود لڑکا منع کرتا رہا، دہائی دیتا رہا اور ساحل صاحب اسے لے کر اپنی نئی فلمی پارٹی سے ملنے نکل پڑے۔۔۔ لاک ڈاون میں پولس جیپ نے روکا تو ان کو مرعوب کرنے یہ کہنا۔۔۔ "دیکھئے میں فلم رائٹر ہوں۔۔میں نے فلاں فلاں فلاں فلمیں لکھیں ہیں ۔میری آج ایک نئی فلم کی سیٹنگ ہے"
ان کی شہرت کو واضح کرتا ہے۔۔ اور جب گھر واپس لوٹتے ہیں تو ان کے اعصاب پر تنہائی کا شدید احساس جنون کی شکل اختیار کرتا ہے گھر کا دروازہ کھولتے ہی بیوی کو آواز دینا بچوں کے بارے میں پوچھنا "نالسٹالجیائی نفسیاتی کیفیت" کی عکاسی کرتا ہے ۔۔۔۔ اپنی ساری نفسیاتی دباو کی کسر یہ کہہ کر پوری کرتے ہیں کہ۔۔۔۔
"سالا پیاس ہی نہیں بجھ رہی"
۔۔ یعنی کسی طرح چین نہیں ۔۔ایک اضطراری کیفیت کا اظہار ہے اس افسانچہ کا تجسس اور وحدت تاثر یہیں ختم ہوتا ہے۔ مگر پھر افسانہ آگے بڑھتا ہے اور بھتیجی اور بھتیجے کی کانفرنس کال یہ ظاہر کرتی ہے کہ ان کے چاچا کی تنہائی کا اب اختتام اگیا۔۔ ان کی جائداد پر قبضہ کر نا چاہتے ہیں ۔۔۔افسانہ کے کلائمکس میں یہ دو کردار مل کر تنہائی ہی کو ختم کررہے ہیں۔۔جس کے لئے اصل کہانی بنی گئی۔۔اگر بالفرض قبضہ کر بھی رہے تو تنہائی کو پھر ثابت کرنے کے لئے کہانی کا مزید اضافہ ہونا لازمی ہوجاتاہے۔۔ یہ افسانہ بہت بڑی کہانی کے تجسس میں آگے بڑھا مگر اختصار پر انجام پذیر ہوا ۔کردار اور مکالمہ چست اور درست ہیں کہانی مزید متناسب طوالت کی متقاضی ہے ۔۔افسانہ نگار کو اس افسانچہ پر بہت مبارک
رد وقبول۔۔ تسلیم۔۔
(ڈاکٹر فریدہ بیگم گلبرگہ کرناٹک)
Comments
Post a Comment