افسانے کا فن

چند معروضات 

از قلم: عمران عاکف خان



تاحال جب کہ ہمارا افسانہ ایک سو بیس برس کا ہورہا ہے اور اس دوران میں لاکھوں افسانے اور ہزارہا افسانوی مجموعے منظر عام پر آئے. افسانے نے جہاں اردو ادب بالخصوص اردو فکشن کی خدمت انجام دی ہے اس میں کوئی شبہ بھی نہیں اور نہ ہی اس کی نیٹ مخدوش ہے، سماج اور قاری کی افادی تربیت میں افسانے کابھی اہم کردار رہا ہے 

تاہم سوائے تحریکی یا، تقسیمی یا جدیدیت کے افسانوں کے بالعموم افسانوں میں چند خامیوں اور کمیوں کا احساس شدت سے ہوتا رہا ہے

*افسانے میں تنوع کے نام پر بس موضوعات ہی تبدیل کیے ہیں*


*کرداروں کے احسن پہلوؤں کا بیان اور ان کی خامیوں کی پردہ پوشی*


*غیر ضروری اور لا یعنی سیکس کا بیان نیز افسانے کو پورنیو گرافی کی فلیڈ بنادینا*

*زبان و اسلوب اور انداز بیاں کی نقل محض کرنا*


*مسلم افسانہ نگاروں کے کرداروں کو استعمال کرکے قارئین کے ذہن میں منفی تصویریں ثبت کرنا*


*80کے بعد کے افسانے کو محدود اور علاقوں میں قید کردینا*


*نئی صدی میں افسانے کو اس قدر کنفیوذ کردینا کہ وہ خود اپنی شناخت کی تلاش میں سرگرداں ہے اس پر مزید افسانے اور نہ جانے کیا کیا*


یہ اود اس طرح کی کچھ اور خامیاں افسانے میں در آئی ہیں جن کا آج کا افسانہ بھی وارث ہے بلکہ اپنی آنے والی نسل کو بھی ان ہی کو بطور ترکہ سنبھال کر رکھ رہا... اب افسانہ نگاروں کی ذمے داری ہے کہ وہ اس شاہد رعنا کو اچھی میراث ہنر کا حامل بنائیں....

*شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات*

Comments

Popular posts from this blog

بادِ صبا کا انتظار : سید محمد اشرف

پناہ گاہ: اسرارگاندھی

مسیحائی : ایم مبین (بھیونڈی)