پناہ گاہ: اسرارگاندھی
بزمِ افسانہ کی پیش کش
سترہواں ایونٹ
رنگ و آہنگ
افسانہ نمبر : 15
*پناہ گاہ*
اسرار گاندھی
اچانک موبائل کی آواز سے وہ چونک پڑا۔
اس نے موبائل کان سے لگایا تو دسری طرف سے ہنی کی آواز سنائی دی۔
”کہاں پہنچے؟“
”لکھنؤ اب بھی دو گھنٹے دور ہے۔“
”دو گھنٹہ؟“
”ہاں تم بنارس سے لکھنؤ کا راستہ تو جانتی ہونا۔“
”اچھا آؤ۔ وہیں ملتے ہیں جہاں ملنا طے ہوا ہے۔“
”او.کے.“
اس نے موبائل بند کیا اور سوچ میں ڈوب گیا۔
ہنی جو اسے پہلی بار شعبہئ انگریزی میں ہونے والی ایک کانفرنس میں ملی تھی۔
ہنی جو انگریزی کے شعبہ میں لکچرر تھی اور پوئٹری پڑھانے کی ماہر سمجھی جاتی تھی۔
ہنی ہاں وہی ہنی جو مذہبی تبلیغ کے لئے مشہور تھی۔
بیحد خوبصورت، مخروطی انگلیاں، روشن آنکھیں، سجے سجائے دانت اور ہیجان انگیز ہونٹ، چہرے پر بکھری بے پناہ مسکراہٹ۔
”میں جوزف ہوں، بنارس یونیورسٹی میں شعبہئ انگریزی میں پڑھاتاہوں۔“
”میں اسٹورٹ ہنی ہوں، لیکن لوگ صرف ہنی کہتے ہیں“ وہ مسکراتی ہوئی بولی۔
”آپ کا نام کافی خوبصورت ہے، سچ مچ ہنی جیسی ہی ہیں۔“ وہ ہنس کر بولا۔
وہ جھینپ گئی۔
پھر ایک دو ملاقاتوں کے بعد وہ دوست بن گئے تھے اور دھیرے دھیرے قریب آ گئے تھے۔ دونوں کے درمیان موبائل پر گھنٹوں گھنٹوں باتیں ہوتی رہتیں اور دوستی قریب سے قریب تر ہوتی گئی تھی۔ان دونوں کی ملاقاتیں تو کبھی ہی کبھی ہوتیں لیکن آوازیں ہر لمحہ ساتھ رہتیں۔
آہستہ آہستہ یہ آوازیں ایک دوسرے کے وجود میں پیوست ہونے لگی تھیں۔
وہ اکثر فون پر کہتی ”جوزف تمھاری دوستی میرے لئے مشکل بنتی جا رہی ہے کیا کروسب کچھ ادھورا ادھورا سا لگتا ہے۔“
”میں کر بھی کیا سکتا ہوں۔تمھیں تومعلوم ہے نا کہ میرے ساتھ میری فیملی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ فیملی نام کے لئے ہی فیملی ہے۔ ہنی بس اتنا ہی ہو سکتا ہے کہ کبھی کبھارہم یوں ہی مل لیں ایک دوسرے کو گلے لگا کر ایک دوسرے میں ڈوب جائیں۔ہنی کیا تم یہ سمجھتی ہو کہ جینا میرے لئے آسان ہے،میں شاید تم سے کہیں زیادہ جذباتی ہوں۔“
اورآج وہ بنارس سے لکھنؤ اسی لئے جا رہا تھا کہ ہنی کو دیکھے ہوئے اسے کافی دن ہو گئے تھے۔
شایداب ہنی اور جوزف ایک دوسرے کے وجود کا حصہ بننا چاہتے تھے۔ یہ الگ بات تھی کہ دونوں کے درمیان اس طرح کے جذباتی رشتے اب تک نہیں بن سکے تھے جہاں دو روحیں ایک ہو جاتی ہیں۔ کتنی یادیں دونوں کو اپنے خون میں گردش کرتی ہوئی محسوس ہوتیں۔
جوزف کو وہ شام یاد آئی جب وہ ہنی سے ملنے لکھنؤ آیا تھا۔وہ دونوں ایک اس خوبصورت پارک کے ایک تنہاگوشے میں بیٹھے ہوئے دنیا جہان سے بے خبر محبت بھری باتیں کر رہے تھے۔ ہنی کا ہاتھ جوزف کے ہاتھوں میں تھا جسے وہ بار باراپنی آنکھوں سے لگا رہا تھا۔
”ارے یہ کہاں؟“ ہنی اچانک بول پڑی تھی۔
جوزف کی نظریں ہنی کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے اس لڑکی پر ٹھہر گئیں تھیں، جو ان سے ذرا دور کھڑی انھیں دیکھ رہی تھی۔
"Sorry to disturb You" وہ لڑکی بڑے تہذیب یافتہ ڈھنگ سے بولی۔
”کوئی بات نہیں مس ہگنس۔آؤ آؤ“
ہیگنس ان کے قریب آ گئی۔
جوزف اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔وہ یہی کوئی پینتالیس کے ارد گرد رہی ہو گی۔ رنگ بھی خاصہ دبتا ہوا۔لیکن آواز میں خاصی مٹھاس تھی
”ان سے ملو یہ میرے دوست جوزف ہیں اور یہ مس ہیگنس ہیں،میری کلیگ۔“
جوزف نے ہاتھ ملانے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا تو ہیگنس نے بھی کافی گرم جوشی دکھائی۔ اسے ہیگنس کا یہ رویہ اچھا لگا۔
تھوڑی دیرادھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں پھرہیگنس ان لوگوں سے الگ ہو کر پارک کے دوسرے گوشے کی طرف چلی گئی۔ اس نے شاید محسوس کیاہوگاکہ وہ ان دونوں کو ڈسٹرب کر رہی ہے۔
جوزف نے ہنی کی طرف دیکھا، جو اب بھی ہیگنس کی طرف دیکھے جا رہی تھی۔
”بیچاری“ ہنی کے لہجے میں افسوس تھا۔
”کیا مطلب“ جوزف ہنی کو حیرت سے دیکھ رہا تھا۔
”ہیگنس بھی پروفیسر کارمن کا شکار بن چکی ہے۔“
”کون کارمن وہی ڈرامہ نگار؟“
”ہاں وہی کارمن جو نہ جانے کتنی لڑکیوں کی بربادی کی وجہ بن چکا ہے۔“
”تم کیسے بچ گئیں؟“
”مجھے دوسری لڑکیوں کی طرح یونیورسٹی میں پڑھانے کی جلدی نہیں تھی۔یہ لڑکیاں صرف ایک رات میں یونیورسٹی ٹیچر بننے کے خواب دیکھ رہی تھیں اور یہ خواب انھیں کارمن نے دکھائے تھے۔“
”پھر“
پھر سبھوں کے خواب چکناچور ہو گئے۔ استعمال کرنے کے بعد کارمن کو ان سے کیا لینادینا تھا۔ اس نے کئی لڑکیوں کے ابارشن بھی کرائے تھے۔“
”ارے“
”ہاں اس نے کسی طرح کی احتیاط بھی نہیں برتی۔ حرامزادہ ہے نا وہ۔ اس نے کئی بار مجھے بھی فلرٹ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن میں کیوں اس کے ہتھے چڑھتی۔ مجھے اپنے اوپر اعتماد تھا اور آج یونیورسٹی میں پڑھا بھی رہی ہوں۔“
”تھینکس گاڈ۔“ جوزف اسے اپنی بانہوں میں لیتا ہوا بولا۔
ہنی نے جوزف کی بانہیں بڑے پروقار انداز میں اپنے جسم سے علیحدہ کیں اور پھر بولی۔
”جوزف یہ یونیورسٹی کی دنیا بھی بڑی عجیب ہے۔ کب کون کس کے ساتھ ہو جائے یہ معلوم نہیں ہوتا۔افوہ کتنی سیاست ہے اس دنیا میں۔ کس کو ٹاپ کرانا ہے۔ کس کا اپائنٹمنٹ ہونا ہے۔ کسے اسکالر شپ ملناہے اور کس کا پروموشن ہونا ہے۔یہ سب پہلے سے طے ہو جاتاہے۔جوزف یہ دانشوروں کی دنیا کہلاتی ہے اور میرے خیال میں سب سے زیادہ کرپٹ یہ دانشور ہی ہیں۔ یقین کرو میں اور میری طرح اکا دکا دوسرے لوگ بڑی مصیبت میں پھنسے رہتے ہیں۔ ایڈجسٹ کرنامشکل ہوتا جا رہا ہے۔ گھریلو مجبوریاں نہ ہوتیں تو میں اس نوکری کو کب کاخیر باد کہہ دیتی۔“
جوزف اس کی پیٹھ سہلاتے ہوئے بولا۔”ہنی انتظار کرو۔ وقت حساب چکتا کرتا ہے۔جذباتی مت بنو۔تم یہ کیوں نہیں سوچتیں کہ جتنی عزت تمھیں مل رہی ہے، دوسرے اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے اور تمھیں تو یہ معلوم ہی ہے کہ عزت کیا چیزہوتی ہے۔“
”اوہ ساری جوزف، میں نے اس اچھے سے موسم میں کہاں کی چھیڑ دی۔ کیا تم کل چلے جاؤ گے؟“
”ہاں ہنی، جانا تو ہو گا ہی۔“
وہ اداس ہو گئی۔
جوزف نے پھر اسے اپنی باہوں میں لے لیا۔لیکن اس بار ہنی نے اس کی باہیں نہیں ہٹائیں بلکہ اپنا سر اس کے کاندھوں سے ٹکا دیا۔دونوں کی دوستی کے درمیان ایسا شاید پہلی بار ہوا ہو گا۔وہ دیر تک یوں ہی رہی۔ دونوں کی آنکھیں نم ہو رہی تھیں۔
کچھ دیر بعد ہنی نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو ہیگنس جا چکی تھی۔ نہ جانے کیوں ہیگنس کو دیکھ کر وہ ہمیشہ اداس ہو جاتی۔ شاید ہیگنس کی بے بسی پر یاپھر اس کی حماقت پر کہ وہ ذہین ہونے کے باوجود وقت کا انتظار نہ کر سکی اور اب صرف ایک ریسرچ اسسٹنٹ کے طور پر کام کر رہی ہے۔ کارمن نے اس کی کبھی کوئی مدد نہ کی۔ کاش اس کی شادی ہی ہو جاتی تو شاید اس کے لئے زندگی کرنا آسان ہو جاتا۔
”چلو چلتے ہیں“ وہ اپنے آپ کوجوزف سے الگ کرتے ہوئے بولی۔
پھر وہ دونوں اٹھ کھڑے ہوئے۔
موبائل کی آواز پھر ابھری اور جوزف یادوں کی دنیا سے باہر آ گیا۔
”اب کہاں پہنچے“
”لکھنؤ میں داخل ہو چکا ہوں اور وہاں پہنچنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ جہاں تم سے ملنا ہے۔“
نہ جانے کیا بات تھی کہ اس بار جوزف اپنے اندر وہ گرم جوشی نہیں محسوس کر رہا تھا کہ جیسے پہلے کبھی کیا کرتا تھا۔
تھوڑی دیر بعد اس نے ڈرائیور سے کہہ کر کار رکوائی تو کار میں ایک روشنی سی داخل ہوئی۔ ہر بار کی طرح اس بار جوزف نے اسے گلے لگانے کے بجائے اپنے ہاتھ اس کی طرف بڑھا دئیے تھے، جسے ہنی نے بڑے پرجوش طریقے سے اپنے ہاتھوں میں لے لیاتھا۔ ویسے ہنی کو جوزف کا یہ رویہ کچھ عجیب سا محسوس ہوا۔
اب کاران راستوں پر چل رہی تھی۔ جہاں بھیڑ بھاڑ بالکل نہیں تھی۔ جوزف اور ہنی ایک دوسرے میں ڈوبے ہوئے تھے اور دوستی کے جذبے پورے عروج پر تھے۔
”کہیں کھانا کھاتے ہیں۔ دو بج گئے ہیں۔“ جوزف اچانک بولا۔
”ہاں ٹھیک ہے۔میں بھی یہی سوچ رہی تھی۔“
انھوں نے حسب منشا ایک ایسا ریستوراں تلاش کرلیا جہاں تنہائی تھی، سناٹا تھااور نیم تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔ جوزف کو اس نیم تاریکی میں اپنی آئی سائٹ کی وجہ سے قدرے پریشانی ہوئی لیکن ہنی نے اس کی مدد کی۔ کچھ دیر بعد اسے اس ماحو ل میں سب کچھ صاف نظر آنے لگاتھا۔ میزوں پر موجود نوجوان جوڑے بیٹھے ہوئے اپنی اپنی طریقوں سے اظہار محبت کر رہے تھے۔ ہنی کے ہاتھوں میں جوزف کے ہاتھ تھے۔ اور یہ قربت ہنی کے اندر گرمی سی پیدا کرنے لگی تھی۔ اچانک جوزف نے اپنے ہاتھ ہنی کے ہاتھوں سے الگ کر لیا کہ اسے ہنی کے اندر پید اہونے والی کیفیت کا اندازہ ہونے لگا تھا۔
اچانک ہنی بولی ”جوزف اس بار میں تمھارے رویے میں بڑا فرق محسوس کررہی ہوں۔“
”نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ انسان کا موڈ ہے۔ ہمیشہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ ویسے کیا تم میری اور اپنی دوستی کے درمیان کچھ بے کیفی سی محسوس نہیں کرتیں۔“
”ہاں کبھی کبھی میں بھی ایسا ہی محسوس کرتی ہوں، لیکن وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔“
”وجہ شاید میرے مزاج اور تمھاری فطرت کا فرق ہو سکتا ہے۔ تم جس طرح سے اپنے شعبے کے متعلق گفتگو کرتی ہواس سے مجھے حیرت ہوتی ہے۔ مجھے بزدل اور مصلحت پسند لڑکیاں بہت دنوں تک اپیل نہیں کرتیں۔
”میں سمجھی نہیں۔“
”چلو اس پر پھر کبھی باتیں کریں گے۔“
کھانا ختم کرنے کے بعدچند لمحے خاموشی رہی، پھر اچانک جوزف بولا ”اچھا ہنی اب چلتے ہیں ورنہ بنارس پہنچنے میں کافی دیر ہو جائے گی۔“
رخصت ہوتے وقت جوزف ایک عجیب سی ذہنی کیفیت کا شکار ہو رہا تھا۔ ایک ایسی کیفیت جسے اس نے پہلے کبھی محسوس نہ کیا تھا۔نہ جانے کا غم، نہ آنے کی خوشی۔ بس ایک ملاقات اور کچھ نہیں۔البتہ ہنی کی آنکھوں سے قطار در قطار موتی ٹوٹ ٹوٹ کر بکھر رہے تھے۔
اس ملاقات کواب کوئی پندرہ بیس دن ہو چکے تھے۔ شاید ہنی اپنے کاموں میں بہت مشغول ہو گئی تھی اس لئے کہ فون پر بھی زیادہ باتیں نہیں کر پا رہی تھی۔خود جوزف بھی شاید ہنی سے کہیں زیادہ مشغول تھا۔
کافی دنوں بعدایک دن جوزف نے ہنی کو فون کیا اور ادھراُدھر کی باتوں کے درمیان اس نے ہنی سے پوچھا”تمہیں انگریزی ادب کی کون سی نظم سب سے زیادہ اچھی لگتی ہے۔“
ہنی برجستہ بولی کیٹس کی ”لا بیلے ڈیم ساں مرسی“La belle dame sans merci
”کیوں؟ تمہیں یہ نظم کیوں پسند ہے؟“
”میرے لئے یہ بتانا مشکل ہے بس یہ سمجھ لو کہ یہ نظم میرے پورے وجود کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔“
”کیا سچ مچ ایسی عورتیں بھی ہوتی ہیں؟“ جوزف نے سوال کیا۔
”کیوں نہیں ہو سکتیں۔ دنیا میں طرح طرح کے لوگ ہیں۔ کچھ بھی ہو سکتے ہیں۔صرف عورتیں ہی نہیں مرد بھی بے رحم ہوتے ہیں۔“
”ہاں تم ٹھیک کہتی ہو۔“ جوزف دھیرے سے بولا۔
جوزف کو آخری بار لکھنؤ گئے ہوئے اب کئی مہینے ہو گئے تھے۔کبھی کبھی اس کے دل میں ہنی کو دیکھنے کی خواہش جاگ اٹھتی۔ اب دونوں کے درمیان باتیں بھی کافی کم ہو گئی تھیں۔ جیسے وہ کسی ادھیڑ بن میں گرفتار ہوں۔
ہنی نے جوزف کو کئی بار فون کرنے کی کوشش کی لیکن کسی نہ کسی وجہ سے بات نہ ہو سکی۔لیکن ایک دن جوزف نے جب ہنی کو فون ملایا تو فون مل گیا۔
”ہلو ہنی کیسی ہو؟“
”بس ٹھیک ہوں اور تمہاری یاد کے سہارے زندہ ہوں۔ تم نے تو تقریباً دوستی کا سلسلہ ہی توڑ دیا“
”نہیں ہنی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ اب وہ گرم جوشی نہ رہ گئی ہو۔“
”کیوں، ایسا کیوں، میں نے کیا کیا ہے؟“
”تم نے تو کچھ بھی نہیں کیا،بس مزاجوں کا فرق دور لے گیا۔ ہنی میں نے پہلے بھی تم سے کہا تھا کہ مجھے بزدل، ڈرپوک اور مصلحت پسند لوگ اچھے نہیں لگتے۔ اتفاق سے یہ ساری کمیاں تم میں ہیں۔ تمھاری مصلحت پسندی تم سے پانچ قدم آگے چلتی ہے۔ اور تمہاری بزدلی کا یہ عالم ہے کہ تم اپنے شعبہ کے لوگوں کے خوف کے سائے میں زندہ ہو۔ ہنی ایسی زندگی جینے کا کیا مطلب ہے۔ مصلحت بغیر سانس بھی نہ لینے کو ہی کیا زندگی کہتے ہیں۔ انسان کم سے کم اپنی پسند یا نا پسند کے حساب سے اگر جی نہیں سکتا تو اس کا جینا مرنے کے برابر ہی جیسا ہے۔
ہنی میں ہمیشہ اپنے طریقہ سے ہی جیا ہوں۔ کبھی کسی کی پرواہ بھی نہ کی۔ جس کا جو دل چاہے مجھے کہے۔ میں نے ہمیشہ ایسے لوگوں کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھا ہے۔
ہنی کیا عزت اتنی ہی کمزور چیز ہے جب جو چاہے چھین لے۔ یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ بے عزتی کرنے والا خود کتنا عزت دار ہے اور سماج میں اس کی کیا جگہ ہے۔ نالی کے کیڑے جیسے لوگوں سے تمہارا اس قدر خوف زدہ ہونا میری سمجھ میں کبھی نہیں آیا۔دراصل بے عزتی کا خوف کمزور اور کچھ نہ کر سکنے والوں کا حربہ ہے۔ زندگی میں جد وجہد نہ کر سکنے کا بہانہ ہے۔
”تم مرد کچھ بھی کہہ سکتے ہویا کر سکتے ہو۔“ ہنی تلملا کربولی۔
”ایسا کچھ نہیں ہے۔ تم انیتا گانگولی، سندھیا شرمااور چارو ورما کو اچھی طرح جانتی ہو یہ سب عورتیں ہیں، لیکن اپنی زندگی اپنے حساب سے گزارتی ہیں۔ خوف اور بزدلی ان کے نزدیک نہیں پھٹکتی۔ لوگ ان کے ساتھ بڑے پروقار طریقے سے پیش آتے ہیں۔ کیا مجال کوئی کچھ کہہ کر نکل جائے۔ہنی عورت اپنے کو جیسا بناتی ہے ویسے ہی بن جاتی ہے۔تم ساری عمر خوف اور بزدلی کے سائے میں زندہ رہو گی اور ایسی زندگی میرے لئے بے مطلب ہے۔“
پھر تھوڑی دیر کے لئے گہری خاموشی چھا گئی۔
”معاف کرنا ہنی میں نے تمہیں سخت باتیں کہہ دیں لیکن یہ سچ ہیں۔میں تم سے معافی چاہتا ہوں۔“ اچانک جوزف بہت نرم لہجے میں بولا۔
ہنی کچھ بولی نہیں، بس چپ چاپ سنتی رہی۔
”ہنی ایک دلچسپ بات اور سنو۔ آج کل میں اپنی وائف کے ساتھ کوئی بارہ برسوں بعد مارننگ واک پر نکل رہا ہوں۔ کئی دن تو میرے سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا بات کروں۔ چپ چاپ ٹہلتے اور واپس آ جاتے۔ اب تھوڑی بہت باتیں ہونے لگی ہیں۔ لیکن نہ ماضی کی بے اعتنائیاں اور نہ ہال کی شکایتیں کہ تعلقات کو بہتر کرنے کا یہی راستہ ہے۔شاید وہ space جو برسوں سے میری زندگی میں خالی پڑا تھا، اس کے بھرنے کے دن آ گئے ہیں۔ کچھ بھی ہو وہ میرے بچوں کی ماں ہے۔ اس space کا حق شاید اس سے زیادہ کسی اور کو نہیں ہے کہ واپسی ہمیشہ خوبصورت ہوتی ہے۔
ہنی مجھے افسوس ہے کہ میں تمھارے لئے چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتا۔ کاش تم نے زندگی کو گزارنے کے لئے زیادہ بہتر کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ اور میں اب شیکسپیئر کے اس جملے کے ساتھ تمھیں الوداع کہتاہوں Since there is no help, let us kiss and part
”گڈ بائی ہنی۔“
ٹیلی فون رکھنے سے پہلے اسے ہنی کی سسکیاں سنائی پڑی تھیں۔
وہ واش بیسن کی طرف چل پڑا۔ آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا پھر آنکھیں دیکھیں وہ اسے کچھ نم سی لگیں۔ منھ دھونے کے بعد وہ ڈائننگ ٹیبل کی طرف چل پڑا، جہاں اس کی بیوی چائے پر اس کا انتظا رکررہی تھی ۔
ختم شدہ ـ

افسانہ : پناہ گاہ
ReplyDeleteافسانہ نگار : اسرارگاندھی
اظہار خیال : رفیعہ نوشین
اسرار صاحب معروف و ماہر افسانہ نگار ہیں جن کی تخلیقات نوواردان ادب کے لئے رہنمائی کا کام کرتی ہیں -
افسانہ 'پناہ گاہ' گوکہ تین کرداروں پر مشتمل افسانہ ہے لیکن بہت سارے سماجی مسائل کی طرف قاری کی توجہ مبذول کراتا ہے - جیسے
یونیورسٹیوں کا ماحول ، پروفیسرز کا مزاج، ان کے ذہنوں میں چلنے والی گھناؤنی سازشیں، سیاسی چالیں ،رشوت ستانی ، خواتین کا جنسی، ذہنی، استحصال وغیرہ وغیرہ
بیشتر یونیورسٹی کے پروفیسر کا خاتون ریسرچ اسکالرز کے ساتھ یہی رویہ ہوتا ہے - لڑکیوں کو بھی ترقی پانے اور پیسہ کمانے کا جنون کچھ ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنی ترقی اور ملازمت کے لئے کچھ بھی کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتیں - یہاں تک کہ خود سپردگی کے لئے بھی تیار ہو جاتی ہیں -
ایک اہم پہلو جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ یہ کہ مرد چاہے گھر کے باہر کتنے ہی افئیر کر لے آخر کار اسے پناہ اپنی بیوی کے پاس ہی ملتی ہے -
ساتھ ہی یہ افسانہ power concept
کے مختلف پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالتا ہے - بطور خاص power within
اور power over کا جس کا استعمال کرتے ہوئے کارمن جیسے لوگ خواتین کا استحصال کرتے ہیں - اور خواتین خود ان میں موجود power within کا صحیح استعمال نہیں کرکے ایسے درندوں کی درندگی کا شکار بنتی ہیں -
میں اسرار صاحب کو اس رواں،دواں سلیس افسانہ،جو جزیات نگاری سے مزین ہے کے لئے مبارکباد پیش کرتی ہوں -
افسانہ:پناہ گاہ
ReplyDeleteافسانہ نگار:اسرار گاندھی
تاثرات:عظیم اللہ ہاشمی(بنگال)
اسرار گاندھی صاحب کا افسانہ"پناہ گاہ"رومانی فضا میں اعلی تعلیمی درس گاہوں کے اخلاقی کرپشن کامنظرنامہ پیش کرتا ہےجس میں جوزف کا کردار بھونرے جیسا ہے.اس کے اندر کا اصل چہرہ تب سامنے آتا ہے جب اس کو یہ احساس ہوتا ہے کہ خالی spaceکو بیوی سے بھرنا چاہئے.کارمن کا کردار انتہائی گھناونا ہے.اور ہنی کا کردار ہینگس نہیں بن سکا جس کے باعث ہنی ہنی ہی رہ گئی.
افسانے کی بنت اورزبان خوبصورت ہیں.اسرار گاندھی صاحب کے متعددافسانے "آج کل" میں نظر سے گزرے ہیں.,کم وبیش ہر افسانے معاصر زندگی کے شب وروز کے محور پر گردش کرتے ہیں.افسانہ اچھا لگا.نیک خواہشات
افسانہ : پناہ گاہ
ReplyDeleteافسانہ نگار : اسرار گاندھی
تاثرات : وسیم عقیل شاہ
اسرار گاندھی بطور افسانہ نگار کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں ـ موصوف نے منفرد موضوعات کو اپنے خاص طرز و اسلوب میں کامیابی کے ساتھ برتا ہے ـ جنس سے متعلق ادراکی مکالمہ و مباحث ان کے افسانوں میں جابجا نظر آتے ہیں ـ راقم نے ان کے جتنے افسانے نہیں پڑھے اس سے کئی زیادہ ان افسانوں پر اعتراضی خطوط پڑھے ہیں ـ بہر حال بزمِ افسانہ میں پیش کردہ افسانہ 'پناہ گاہ' ان کے اچھے افسانوں میں سے ایک بہت اچھا افسانہ ہے ـ
افسانے کا پلاٹ طویل کینوس پر پھیلا ہوا ہے اور اس کے موضوع اور موضوع میں ضمنی موضوعات کے لحاظ سے یہ کہنا کچھ غلط نہ ہوگا کہ اس کا پلاٹ ایک فل لینتھ ناول کا پلاٹ ہے ـ اس پر بھرپور جزیات اور دیگر فنی لوازمات کے ساتھ ایک اچھا خاصا ناول لکھا جا سکتا ہے ـ لیکن فاضل افسانہ نگار اسرار گاندھی نے اسے بڑی چابکدستی سے چار صفحے کے افسانے میں سمیٹ دیا ہے ـ طویل کینوس کے سبب کہانی ازخود ہی بہت تیزی سے سفر کرتی ہے اور اسی تیزی میں افسانہ نگار موضوع کے علاوہ افسانے کے دیگر فنی لوازمات میں اپنے قلمی جوہر نہیں دکھا پاتا ـ لیکن یہاں افسانہ نگار نے اپنی مشاقی کا ہر محاذ پر احساس دلایا ہے ـ پلاٹ کی بنت ہو یا زبان و بیان کی شستگی، یا پھر کردار نگاری، افسانہ نگار نے اپنے کڑے تجزیے اور گہرے مشاہدے کو پیش کرنے کی کامیاب سعی کی ہے ـ
افسانوں کی بہت سی قسموں میں سے یہ ایک قسم ہے جس میں کہانی بہت پھیلی ہوئی ہوتی ہے اور افسانہ نگار سادہ و سلیس انداز اپناتے ہوئے صرف موضوع ہی کو پیش نظر رکھتا ہے، البتہ تب بھی اس میں موضوع در موضوع پرتیں کھلتی رہتی ہیں ـ جیسے کہ اس افسانے میں دیکھا جا سکتا ہے ـ افسانے کا مرکزی موضوع کسی بھی طرح کی مفاہمت سے پرے نڈر ہو کر، اعتماد کے ساتھ زندگی میں ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنا ہے ـ موضوع بظاہر عورت کے کردار کو محیط کرتا ہے لیکن یہ پیام ہر ذی روح کے لیے ہے ـ اب اسی موضوع کے ضمن میں نفسیات کی ایک دبیز لے متن کی زیری لہروں میں پنہاں ہے، جسے قاری نہ صرف دروان قرت محسوس کرتا ہے، بلکہ افسانہ ختم ہوجانے کے بعد بھی یہ محسوسات اسے کسی طور بے چین کیے رہتے ہیں ـ اسی طرح یونیورسٹیوں میں جاری طالبات اور chb پر کام کر رہی اسسٹنٹ پروفیسرز کا جنسی استحصال ، اس موضوع کا دوسرا ضمنی پہلو ہے ـ افسانے میں اس پہلو کو اس حرارت کے ساتھ پیش نہیں کیا گیا جو حرارت انگیزی اس معاملے میں حقیقی دنیا میں پائی جاتی ہے ـ بطور قاری افسانے میں موضوع کا یہ ضمنی نکتہ راقم کو سب سے زیادہ اپیل کرتا ہے ـ
ایونٹ میں شمولیت پر مبارکباد!
اسرار گاندھی افسانوی ادب کا انتہائی معتبر نام ہے۔ ایک دو بار بذریعہ موبائل ان سے بات کرنے کا شرف حاصل ہے مگر اب تک ملاقات نہیں ہو سکی ہے البتہ ان کی تحریروں سے ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں ۔ افسانہ" پناہ گاہ "بھی ان کے دیگر افسانوں کی طرح ایک شاہکار افسانہ ہے۔اس افسانے میں انسانی فطرت کی بھرپور عکاسی ہوئی ہے ۔ پروفیسر کارمن سیکس کا مریض ہے وہ ہر دن نئے شکار کی تلاش میں رہتا ہے۔ عورتیں اپنی ترقی کے لئے اس پر اپنا سب کچھ قربان کر دیتی ہیں۔ ہینگس بھی ان میں سے ایک ہے۔ ہنی کسی طور سے خود کو محفوظ رکھنے میں کا میاب ہے۔ جوزف اور ہنی کی محبت بھی عجیب ہے۔ ہنی یہ جانتے ہوئے بھی کہ جوزف شادی شدہ ہے اس کی محبت میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ اس کی قربت سے ہی اسے قرار میسر ہوجاتا ہے۔ جسمانی تعلقات کبھی قائم نہیں ہوسکا ہے البتہ ہنی کے جسم میں کئی بار اس طرح کی کیفیت کو محسوس کرکے جوزف خود کو اس سے الگ کرلیتا ہے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ بلند کردار کے مالک ہیں۔ اس افسانہ میں جوزف کو اپنی بیوی سے برسوں الگ رہنے کی وجہ سمجھنے سے قاصر ہوں ۔ میں اپنی اس کم علمی پر شرمندہ ہو ں۔ ہنی کی خوبصورتی کا ذکر پر کیف ہے۔ جملوں کی چاشنی نے افسانے کی طوالت پر فتح پا لی ہے۔ میں محترم اسرار گاندھی کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
ReplyDeleteشبیرذوالمنان۔۔۔۔ شیب پور ہوڑہ
شہناز فاطمہ
ReplyDeleteافسانہ نمبر :15
افسانہ :پناہ گاہ
افسانہ نگار :اسرا گاندھی
تاثرات :شہناز فاطمہ
بڑا ہی عجیب و غریب افسانہ ہے پڑھنے میں کشش بھی رکھتا ہے اور مرد کی فطرت اور عورت کی جزباتی ذہنیت کا عکس بھی بڑی خوبصورتی سے پیش کرتا ہے
ہنی بیگنس کی جن خامیوں کا ذکر کرکے افسردہ ہو رہی تھی اسی میں تو وہ خود بھی ملوث ہونا چاہتی تھی جو کارمن کر رہا تھا اسی کی متمنی ہنی بھی تھی کیونکہ "پیار" جز زندگی ہوتا ہے اور مرد کی فطرت میں عورت کو جزبات میں ڈبو کر حسین خواب دیکھا کر اسکا استحصال کرنا
لیکن اس افسانے میں محترم اسرا گاندھی صاحب نے اس مسئلہ کو نءے طرز سے فوکس کیا بروقت سنبھل جوزف اور سمجھ میں آگیا کہ وہ space وہ خلا اپنی واءف کے ساتھ پورا کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ اسکے بچوں کی کی ماں ہے
ہنی کو بزدل اور مصلحت پسند ثابت کرکے ہنی کے جزبات و احساسات سے لمحاتی طور پر کھیل کر کی تزیل کرکے خود سرخ رو ہوگئے اپنا دامن اسکو کمزور سمجھ کر بچا لیا یہ ہوتی عیار مردوں کی فطرت
بہرحال ہنی اپنے جزبات اور احساسات کو کچل کر بھی بچ گئی یہی اس افسانے کا حسن ہے
اور اس طرزِ تحریر کے لئے میں محترم جناب اسرار گاندھی صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں اور میں انکی خدمت میں اچھے افسانے کے لئے نیک خواہشات اور پرخلوص دلی مبارک باد پیش کرتی ہوں گر قبول افتد زہے عزو شرف
ایکسٹرا میریٹل افیئرز میں ہر بھٹکے ہوئے سمجھدار انسان کی آخری "پناہ گاہ " اس کی اپنی چہار دیواری اور چھت ہی ہوتی ہے. 😊
ReplyDelete(رفیع حیدر انجم)
افسانہ : پناہ گاہ
ReplyDeleteآفسانہ نگار : اسرار گاندھی
تاثرات : رفیع حیدر انجم
افسانہ "پناہ گاہ " انسانی فطرت کی نیرنگیوں کا باریک بینی سے مشاہدہ کرتا ہے. یہاں کارمن اور ہنگنس اکہرے کردار ہیں جن کا ظاہر و باطن ایک جیسا ہے. درس گاہوں میں تعلیمی اور اخلاقی انحطاط نے ہمارے معاشرے میں ایسے کرداروں کو جنم دیا ہے. جوزف دوہرے معیار کا کردار ہے اور ہنی ایک ایسا معصوم کردار جو کیٹس کی نظم La belle dame sans merci کے thoughts کو اپنے وجود کا حصہ محسوس کرنے کے باوجود اس نظم کی نفی کرتی چلی جاتی ہے اور اخیر میں ایک تعلیم یافتہ اور خوبصورت عورت جوزف کے ہاتھوں قابلِ رحم صورتحال کو پہنچ جاتی ہے. یہ افسانہ دراصل جنسی استحصال اور فکری تضاد کا افسانہ ہے جو یونیورسٹی کیمپس سے لے کر جوزف کے گھر اور اس کی نجی زندگی تک پھیلا ہوا ہے.
اسرار گاندھی کا فنکارانہ امتیاز و اختصاص اس افسانے میں بھی موجود ہے جو انہیں ایک قابلِ قدر افسانہ نگار کے مرتبے پر فائز کرتا ہے.