بادِ صبا کا انتظار : سید محمد اشرف
بزمِ افسانہ کی پیش کش
سترہواں ایونٹ
رنگ و آہنگ
افسانہ نمبر : 06
*بادِ صبا کا انتظار*
سید محمد اشرف
ڈاکٹر آبادی میں داخل ہوا۔
راستے کے دونوں جانب اونچے کشادہ چبوتروں کا سلسلہ اس عمار ت تک چلا گیا تھا جو ککیا اینٹ کی تھی جس پر چونے سے قلعی کی گئی تھی۔ چبوتروں پر انواع و اقسام کے سامان ایک ایسی ترتیب سے رکھے تھے کہ دیکھنے والوں کو معلوم کئے بغیر قیمت کا اندازہ ہو جاتا تھا۔ سامان فروخت کرنے والے مختلف رنگوں اور نسلوں کے نمائندے تھے جو اپنی اپنی دوکانوں پر چاق و چوبند بیٹھے تھے۔ چبوتروں کا یہ سلسلہ اس عمارت پر جاکر ختم نہیں ہوتا تھا بلکہ عمارت کے دوسرے رخ پر اسی طرح کے چبوترے انواع و اقسام کے سامان کے ساتھ سجے ہوئے دور تک چلے گئے تھے۔ راستے میں گٹھیلے بدن کے مرد، کندھے پر مشکیزے لٹکائے ہاتھوں میں کٹورا پکڑے بجا رہے تھے اور چھڑکاؤ کرتے پھر رہے تھے۔ خریدار مختلف قبیلوں، گروہوں اور رنگوں کی پوشاک پہنے اس چبوترے سے اس چبوترے تک آ جارہے تھے۔ راستہ طرح طرح کی شیریں، نرم، سخت، کرخت، بھدی، چٹختی ہوئی، دکھی سکھی آوازوں سے بھرا ہوا تھا۔
ککیا اینٹ کی سفید عمارت کے دیواریں ناقابل عبور حد تک اونچی نہیں تھیں۔ ان میں جگہ جگہ در، دریچے اور روشندان تھے اور ان سے آتی ہوئی ھو، حق کی پراسرار گونج دار آوازیں بازار میں صاف سنائی دے رہی تھیں۔ بازار میں کھڑے ہو کر ان آوازوں کو سن کر ایسا لگتا تھا جیسے ان آوازوں کے جسم ہوں اور ان جسموں پر دراز سفید ریشم جیسی داڑھیاں ہوں اور کانوں سے نیچے تک کھیلتی ہوئی نرم نرم کاکلیں ہوں۔ ان آوازوں کو سن کر ایک ایسے سکون کا احساس ہوتا جو سخت لو میں، کوسوں کا سفر پا پیادہ طے کرنے کے بعد ٹھنڈی صراحی کا سوندھا سوندھا پانی سیر ہو کر پینے پر ملتا ہے۔ نیچی نیچی دیواروں والی اس نورانی عمارت کو چاروں طرف سے ستونوں، برجیوں، مناروں اور پھاٹکوں نے گھیر رکھا تھا جو بظاہر کسی محل کی موجودگی کا احساس دلاتے تھے۔ کسی نے شاید بہت کوشش کی بھی نہیں اور اگر کرتا بھی تو غالباً یہ جاننا بہت مشکل ہوتا کہ بازار اس سفید عمارت کو گھیرے ہوئے ہے یا بازار اس سفید عمارت کا باہری حصہ ہے یا یہ دونوں ستونوں اور مناروں والی عمارت کے ناقابل تقسیم حصے ہیں۔ یہ تینوں کسی واحد نقشے کی بنیادی لکیروں کی طرح ایک دوسرے سے متصل اور مسلسل تھے۔ محل نما عمارت کے اندر سے کبھی کبھی تیز آوازیں بلند ہوتیں جو سفید عمارت کے ’ھوحق‘ اور بازار کی چہکتی رنگا رنگ آوازوں پر ایک لمحے کے لئے چھا جاتیں۔ کبھی کبھی یہ وقفے طویل بھی ہو جاتے۔ پھر اچانک یہ بھی ہوتا کہ بازاروں کی آوازیں دھیمی دھیمی سرگوشیوں کے لب و لہجہ میں بلند ہوتیں ان میں کھنکھناہٹ پیدا ہوتی بہت سی آوازیں مل جاتیں اور پھر سفید عمارت نورانی کاکل دار آوازیں بازار کی آوازوں کے ساتھ مل کر محل کی سب آوازوں کو ڈھانپ لیتیں۔
ڈاکٹر نے ہاتھ لگا کر جنئیوں برابر کیا، گلے میں پڑے آلے کو ٹٹول کر محوس کیا اور ہاتھ میں تھامے بیگ کو مضبوطی سے پکڑے اس اونچے مستطیل کمرے میں داخل ہو گیا جو اس آبادی اور عمارتوں کے عین درمیان میں واقع تھا۔ ایک لمحہ کو ٹھٹھک کر اس نے کمرے کی سو گوار ٹھنڈی خاموشی بھری فضا سے خود کو ہم آہنگ کیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس بےپناہ حسین کمرے کو دیکھ کر سہم گیا ہو۔ کمرے کے درمیان مدور پایوں کی ایک بڑی اور حسین مسہری پڑی تھی جس کے سرہانے کے سیاہ حصے میں نفیس کام بنا ہوا تھا۔ مسہری پر قیمتی اور مرعوب کرنے والا بستر لگا ہوا تھا اور اس بستر پر وہ بدن رکھا ہوا تھا۔ وہ ایک دراز قد نہایت حسین و جمیل خاتون تھی۔ اس کے بال ترکی نژاد عورتوں کی طرح سنہرے تھے جن سے عمر کی شہادت نہیں ملتی تھی۔ اس کی پیشانی شفاف اور ناک ستواں اور بلند تھی۔ آنکھیں نیم وا اور سرمگیں تھیں۔ ہونٹ اور رخسار بیماری کے باوجود گلابی تھے۔ ہونٹ بھی نیم وا تھے اور سفید موتی سے دانت ستاروں کی طرح سانس کے زیر و بم کے ساتھ ساتھ رہ رہ کر دمک رہے تھے۔ شفاف گرد پر نیلگوں مہین رگیں نظر آ رہی تھیں اور گردن کے نیچے کا عورت حصہ اٹھا ہوا اور مخروطی تھا۔ ساعد سیمیں کولہوں کے ابھار سے لگے ہوئے رکھے تھے۔ ڈاکٹر نے غور سے اس کے ہاتھوں پیروں کو دیکھا اور ایک عجیب بات محسوس کی کہ خاتون کے بھرے بھرے ہاتھ اور پیر محنت کے عادی ہونے کی غمازی کر رہے تھے لیکن انہیں نرم اور صاف ستھرا رکھنے کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ مریضہ کی سانس بے ترتیب تھی۔ کئی لمحوں تک بدن ساکت نظر آتا پھر یکایک جھٹکے کے ساتھ بے ترتیب سانسیں آنے لگتیں۔
مسہری سے ٹکا ہوا وہ دراز قد شخص استادہ تھا جس کے سر اور بالوں کو ایک گوشے دار کلاہ نے ڈھانپ رکھا تھا۔ سرخ و سفید معمر چہرے پر خوبصورت داڑھی تھی جو باترتیب نہیں تھی۔ اس شخص کی آنکھوں میں جلال و جمال کی پر چھائیاں رہ رہ کر چمکتی تھیں۔ اپنی شخصیت اور لباس سے وہ کبھی بادشاہ لگتا کبھی درویش۔ ڈاکٹر مسہری کی دوسری طرف اس شخص کے مقابل سر جھکا کر کھڑا ہو گیا۔
ڈاکٹر دیر تک مریضہ کو دیکھتا رہا۔ وہ شخص متفکر آنکھوں سے مریضہ کو ایک ٹک دیکھے جا رہا تھا۔ دفعتاً ڈاکٹر کو احساس ہوا کہ اس بڑے مستطیل کمرے کے چاروں طرف بہت سے کمرے ہیں جن پر پردے پڑے ہوئے ہیں اور ان پردوں کے پیچھے چوڑیوں کی کھنکھناہٹ دھیمی دھیمی مغموم سرگوشیاں اور دبی دبی آہیں سنائی دے رہی ہیں۔ کسی کسی کمرے میں نوعمر بچوں کی شور مچانے والی آوازیں بھی بلند ہو رہی تھیں۔ جب ان آوازوں کا شور ایک خاص آہنگ سے زیادہ بلند ہو جاتا تو دراز قدر شخص کے ماتھے پر ناگواری کی لکیریں کھینچ جاتیں۔ ڈاکٹر نے محسوس کیا کہ پردے کے پیچھے سے بلند ہونے والی سرگوشیاں قابل فہم ہیں لیکن ان کا تعلق کسی ایک زبان سے نہیں ہے۔
ڈاکٹر نے قدرے توقف کے بعد مرض کا حال جاننے کے لئے اس شخص کے رشتے کے بارے میں سوچا۔
’’یہ۔۔۔ آپ کی کون ہیں؟‘‘
’’عزیزہ ہیں‘‘
’’کیا؟‘‘
’’عزیزہ کا مطلب بہت عزت والی اور بہت پیاری بھی‘‘
’’آپ سے سمبندھ کیا ہے؟‘‘
’’میں ہی رب مجازی ہوں۔‘‘
ڈاکٹر آنکھیں پھیلائے اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔ پھر آواز صاف کر کے بولا، ’’ڈاکٹر ہونے کے ناطے مجھے جاننا چاہیئے کہ روگی کو کیا روگ ہے۔ روگ کے بارے میں جاننے کے لئے آپ سے ان کے سمبندھ کے بارے پوچھنا آوشک ہے۔ آپ جو سمبندھ بتا رہے ہیں وہ میری سمجھ میں نہیں آ سکا۔‘‘
دراز قد انسان تکلیف کے ساتھ مسکرایا۔
’’آپ معلوم کیجئے جو کچھ میرے علم حضوری میں ہے آپ کے روبرو پیش کروں گا‘۔ ‘
ڈاکٹر کے چہرے کے تاثرات سے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اس جملے کو مکمل طور پر نہ سمجھ پانے کے باوجود مطمئن ہے کہ وہ شخص مریضہ کے بارے میں بہت کچھ یا سب کچھ جانتا ہے۔
’’یہ دشا کب سے ہے؟‘‘
’’بہت عرصے سے‘‘
پھر دیر تک خاموشی رہی۔ خاموشی اور زیادہ گہری محسوس ہونے لگی تھی کہ برابر کے کمروں سے اسی قابل فہم مگر نامانوس زبان میں سرگوشیاں بلند ہو رہی تھیں۔
دراز قد انسان نے ڈاکٹر کے چہرے پر پریشانی پڑھی اور اس بار وہ تفصیل سے گویا ہوا۔
’’عزیزہ۔۔۔ میری مراد مریضہ نے مدتوں سے غذا کو منہ نہیں لگایا۔ گھریلو نسخوں سے تیار شدہ ادویات ہونٹوں تک تو پہنچ جاتی ہے لیکن معدے تک نہیں جاپا تیں۔ مریضہ اپنے مرض کا اظہار بذات خود کبھی نہیں کرتیں۔ کبھی کبھی جلد بدن بخار کی شدت سے سرخ ہو جاتی ہے اور زندگی کے سارے آثار ختم ہوتے محسوس ہونے لگتے ہیں۔ تنفس کی بے ترتیبی تردد کا سب سے بڑا سبب ہے۔‘‘
’’کس چیز کی بےترتیبی‘‘ ڈاکٹر نے پوچھا۔
تنفس کی، ’’مراد سانسوں کی بے ترتیبی۔‘‘
ڈاکٹر نے ایک گہر سانس لی اور جھجھکتے ہوئے پوچھا۔
’’کیا میں روگی کو آلہ لگا کر دیکھ سکتا ہوں؟‘‘
’’ضرور۔ عزیزہ کبھی بھی پردہ نشین خاتون نہیں رہیں۔‘‘
مریضہ کی سانسیں اس وقت نسبتاً معمول پر تھیں۔ ڈاکٹر نے سینے پر پڑے کام دار دوپٹے کو تہذیب سے ایک طرف کیا اورسینے پر آلہ رکھ کر غور سے سنا۔ اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ اس نے جلدی سے آلہ ہٹایا اور کان لگا کر کمرے کے ہر کونے سے ابھرتی مہین سے مہین آواز کو سننا چاہا۔ کمرے میں سانسوں کے علاوہ اور کوئی آواز نہیں تھی۔ اس نے پھر آلہ لگایا۔ اس کے چہرے پر پھر حیرت کے آثار نمودار ہوئے۔ وہ دیر تک آلے کو سینے پر رکھے آنکھیں بند کئے کچھ سنتا رہا۔ مریضہ کے چہرے پر، جتنے وقت تک آلہ رہا اطمینان رہا۔ ڈاکٹر نے آلہ ہٹایا اور بےچین آواز میں بولا۔
’’روگی کا دل بہت اچھی حالت میں ہے۔ کسی روگ کا کوئی نشان نظر نہیں آتا۔‘‘
دراز قد انسان کے چہرے پر کوئی تحیر نمودار نہیں ہوا۔
’’کیا اس بات سے آپ کو اچرج نہیں؟‘‘
’’نہیں‘‘ دراز قد انسان کا جواب مختصر تھا۔ ڈاکٹر کو اس جواب کی امید نہیں تھی لیکن اس نے خود کو سنبھالا اور ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولا۔
’’اب جو بات آپ کو بتاؤں گا اسے سن کر آپ اچھل پڑیں گے۔ روگی کے دل سے سنگیت کی لہریں نکل رہی ہیں جنہیں میں نے کئی بار سنا۔‘‘
دراز قد انسان دھیمے سے وقار کے ساتھ مسکرایا اور آہستہ سے اثبات میں سر ہلایا۔
دراز قد انسان کے اطمینان پر ڈاکٹر کو حیرت ہوئی لیکن اس نے سلسلہ کلام جاری رکھا۔
’’ہر دے کی چال سے جو دھن پھوٹ رہی تھی اس میں ندی کے بہنے کی کل کل تھی۔ ہوا کی مد بھری سرسراہٹ تھی، پنچھیوں کی چہکار تھی۔۔۔‘‘
دراز قد انسان نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔ ڈاکٹر کو محسوس ہوا کہ دراز قد انسان کسی پچھلی بات کو یاد کر کے کہیں کھو گیا ہے۔ دراز قد انسان گویا ہوا۔
’’اس آواز میں میدان جنگ میں طبل پر پڑنے والی پہلی ضرب کی آواز کا ارتعاش بھی ہوگا۔ دو محبت کرنے والے بدن جب پہلی بار ملتے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنے ہونٹوں سے محسوس کرتے ہیں وہ نرم لذت بھری آواز بھی ہوگی۔ ملا گیری رنگ کی عبا پہنے صوفی کے نعرہ مستانہ کی گونچ بھی ہوگی۔ دربار میں خون بہا کا فیصلہ کرنے والے بادشاہ کی آواز کی گرج بھی شامل ہو گی۔ صحراؤں میں بہار کی آمد سے متشکل ہونے والی زنجیر کی جھنک بھی ہو گی اور بنجر زمین پر پڑنے والے موسم بر شگال کے پہلے قطرے کی کھنک بھی ہو گی۔ بربط، ستار اور طبلے کی۔۔۔‘‘ وہ خاموش ہو گیا۔
’’ہاں کچھ اس پرکار کی آوازیں ہیں پر انہیں شبدوں میں بتا پانا بہت کٹھن ہے۔‘‘ ڈاکٹر بولا۔ اچانک برابر کے کمرے سے ایک نوعمر لڑکا نکلا۔
’’ڈاکٹر نے لیڈی کو کیا روگ بتایا اندر سے انکوائری کی ہے۔‘‘
یہ آواز سنتے ہی مریضہ کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور سانسیں یکا یک بے ترتیب ہو گئیں۔ دراز قد شخص کے چہرے پر ناگواری کا دھواں پھیل گیا۔
’’اندر جاؤ۔ اند ر جاؤ۔ خبردار بلا اجازت یہاں قدم نہ رکھنا۔‘‘ نو عمر بچہ حیرت سے اسے دیکھتا ہوا اندر چلا گیا۔
ڈاکٹر نے مریضہ کے سنہرے بالوں میں کنگھی کرنے والے انداز سے جڑوں تک انگلیاں لے جاکر کاسہ سر پر ہتھیلی جمادی۔
’’فیور بڑھ رہا ہے‘‘ وہ بڑبڑایا۔ پیشانی کی پسینے کے قطروں سے اپنی ہتھیلی کو نم کرتا ہوا وہ آنکھوں تک ہاتھ لے گیا۔ انگوٹھے کے نرم پیٹ سے آنکھ کے پپوٹے کو آہستگی سے اوپر اٹھایا۔ آنکھوں کی سفیدی چمکی۔ رخساروں کی گرمی ہاتھ کی پشت سے محسوس کرتا ہوا وہ دھیمے سے بولا۔
’’اصل مرض کا تعلق تنفس سے ہے۔‘‘
ڈاکٹر نے اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر کچھ سوچا اور پھر مریضہ کے ابھرتے ڈوبتے سینے پر آنکھیں جمادیں اور بے ترتیب سانسوں کا معائنہ کرنے لگا۔ ڈاکٹر نے سیدھے کھڑے ہو کر بہت یقین کے ساتھ کہا۔
’’اس روگی کے سارے شریر میں جیون ہے۔ کیول سانس کی پرابلم ہے اور یہی سب سے بڑی پرابلم ہے۔ پھیپھڑے کی خرابی کا کوئی علاج نہیں ہے۔‘‘
’’کیا آپ کو یقین کامل ہے کہ اعضائے تنفس قطعاً بیکار ہو چکے ہیں؟‘‘ ڈاکٹر نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے ڈاکٹر کو آسان زبان میں سوال سمجھایا۔
ڈاکٹر نے آلہ لگا کر پہلی بار پھیپھڑوں کو دیکھا۔ دیر تک دیکھتا رہا۔ پھر بولا۔
’’بڑی و چتر بات ہے۔ پھیپھڑے بالکل ٹھیک ہیں پرپوری سانس نہیں لے پا رہے۔‘‘
’’پوری سانس لینے سے بدن کے دیگر اعضا کی قوت کا کیا تعلق ہے‘‘ ؟ دراز قد انسان نے سوال کیا
’’بہت بڑا سمبندھ ہے۔ تازہ ہوا جب پھیپھڑوں کے راستے رکت میں ملتی ہے تو جیون کا سروپ بنتا ہے۔ وہ جیون رکت کے ساتھ مل کر شریر کے ہر انگ کو شکتی دیتا ہے۔ پوری ہوا نہ ملے تو رکت۔۔۔ لال رکت تھوڑی دیر بعد نیلا پڑ جاتا ہے اور شریر کے ہر بھاگ میں روگ چھا جاتا ہے۔‘‘
’’آپ کا گمان ہے اعضائے تنفس اپنا کام بحسن و خوبی انجام دے رہے ہیں تو پھر بدن میں تازہ ہوا کی کمی کیوں ہے؟‘‘
’’شریر میں تازہ ہوا کی کمی اس لئے ہے کہ اس کمرے میں تازہ ہوا نہیں ہے۔‘‘ ڈاکٹر نے اعتماد کے ساتھ جواب دیا۔
’’اس کمرے میں کھلنے والے باقی کمروں کے دروازے کھلے ہوئے ہیں ان کمروں میں باہر کی طرف بےشمار کھڑکیاں ہیں‘‘ دراز قد انسان نے تفصیل سے بتایا۔
’’پر مجھے لگتا ہے کہ کسی کھڑکی سے تازہ ہوا نہیں آ رہی۔‘‘
دفعتاً برابر کا ایک کمرا کھلا اور ایک نو عمر فراک اسکرٹ پہنے داخل ہوئی۔
’’ماما نے پوچھا کہ لیڈی کا فیورڈاؤن ہوا کہ نہیں؟‘‘
مریضہ کا بدن ایک لمحے کو تڑپا اور سانس پھر بے ترتیب ہو گئی۔
’’دور ہو جاؤ میرے نگاہوں کے سامنے سے۔ ناہنجار۔‘‘ دراز قد انسان شدید طیش کے عالم میں دانت پیستے ہوئے آواز کے آہنگ کو کم کرتے ہوئے بولا۔
’’آپ اینگری کیوں ہوتے ہیں۔ میرے کو حال پوچھنے اندر سے ماما بھیجتی ہے۔ میری مسٹیک کدھر ہوتی۔‘‘ لڑکی نے ناک پھلا کر احتجاج کیا۔
اس لڑکی کے الفاظ، لہجے اور آواز سے دراز قد انسان پر پاگل پن جیسا دورہ پڑ گیا۔ ڈاکٹر نے بمشکل اسے سمجھایا۔ لڑکی کو ہاتھ کے اشارے سے اندر جانے کو کہا۔
پھر ڈاکٹر بولا۔ ’’میرے پاس ایک ہی دوا ہے۔ اس پرکار کے روگی کے لئے کسی بھی ڈاکٹر کے پاس ایک ہی میڈیسن ہوتی ہے۔ وہ میڈیسن دے کر پھیپھڑوں کی باریک باریک نسوں کو پھلا یا جا سکتا ہے تاکہ ان میں تازہ ہوا بھلی بھانت بھر جائے۔ پر۔۔۔‘‘
’’پر کیا؟۔۔۔‘‘ دراز قد انسان نے بے صبری سے پوچھا۔
’’پر یہ دوا تبھی کام کرتی ہے جب روگی کو اچھی ماترا میں تازہ ہوا مل سکے۔ تبھی تو پھیپھڑوں کی پھولی ہوئی نسوں میں ہوا جا سکے گی۔ جب تازہ ہوا ہی نہ ہو تو کیول پھیپھڑوں کی نسوں کو پھلا کر کیا کیا جا سکتا ہے۔‘‘
’’تب‘‘؟ دراز قد انسان نے متفکر ہو کر پوچھا۔
’’اس کا کوئی اپائے نہیں ہے۔‘‘ ڈاکٹر کا لہجہ مایوسانہ تھا۔ پھر کچھ دیر کی خاموشی کے بعد بولا۔
’’کیا روگی کا کمرہ بدلا نہیں جا سکتا۔‘‘ ڈاکٹر نے پوچھا۔
’’نہیں یہ عزیزہ کا مخصوص کمر ہ ہے۔ زندگی اسی میں گزری ہے۔ باہر پھیلی تمام عمارتوں کے درمیان یہ کمرہ عزیزہ کے علاوہ کسی کو نہیں دیا جا سکتا۔‘‘
’’لیکن روگی کو اس کمرے کے علاوہ دوسرا کمرہ تو دے سکتے ہیں۔‘‘
’’لیکن بنا تازہ ہوا کے روگی اتنے دن تک جیوت کیسے رہا؟‘‘
تازہ ہوا کی کمی کا مسئلہ بہت پرانا نہیں ہے۔ اس کمرے کے چاروں طرف مریضہ کے متعلقین کے کمرے ہیں۔ ان میں دریچے اور روشندان ہیں، دروازے ہیں لیکن وہ لوگ ان کو کھولتے نہیں۔‘‘
’’کیا ان لوگوں کو دوسروں سے ملنے کے لئے اپنے کمروں سے نکلنا نہیں پڑتا؟‘‘
’’نہیں۔ انہوں نے سہولت اور آرام کے پیش نظر دوسروں سے ملنے کے لئے اندر ہی اندر دیواروں میں راستے بنا لئے ہیں۔‘‘
’’پھر تو بہت اچنبھے کی بات ہے کہ روگی اب تک جیوت کیسے ہے۔ دن رات اسی پرانی ہوا میں جیوت رہنا بہت کٹھن ہے۔‘‘
’’نہیں۔ دراصل اس عمارت کے ایک کمرے میں شام ڈھلے باہر کا دروازہ کھلتا ہے اور تازہ ہوا کی ایک لہر اندر آ جاتی ہے۔ شاید اسی سے کاروبار ہستی قائم ہے۔ یوں بھی عزیزہ بہت سخت جان ہے۔‘‘ وجیہہ مرد نے بستر پر لیٹی خاتون کو محبت سے دیکھتے ہوئے کہا۔
ڈاکٹر کچھ دیر تک سوچتا رہا پھر بولا۔
’’میں نے اس پرکار کا روگی پہلی بار دیکھا ہے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ان کے اور ناطے دار بھی ہیں۔ کبھی کبھی بیماری پرکھوں سے بھی مل جاتی ہے۔‘‘
’’عزیزہ کی کئی بہنیں ہیں۔ ایک بہن بہت معمر ہے۔ اس کا گھر اس ملک سے باہر ہے۔ وہ نوجوانوں کی طرح ترو تازہ ہے۔ وہ اپنے دیس کے باہر بھی عقیدت و احترام کی نظر سے دیکھی جاتی ہے۔‘‘
’’اور؟‘‘
’’ایک بہن جو اس سے کچھ بڑی ہیں وہ بھی اس ملک سے باہر رہتی ہیں اور اپنے ملک میں بہت خوش و خرم ہیں۔ تمام تر عیش و لذت کوشی ان کی قسمت میں نوشت کر دی گئی ہے۔ ایک بہن اس ملک میں بھی ہے۔ اور بہت آرام سے ہے۔ اس کے متعلقین عزیزہ کو بھی اس کی روش پر چلانا چاہتے ہیں لیکن مریضہ کے عزیزوں نے انکار کر دیا۔‘‘
’’کیا اس بہن کے چال چلن میں کوئی برائی ہے؟‘‘ ڈاکٹر نے آلہ گردن میں لٹکاتے ہوئے پوچھا۔
’’نہیں کوئی برائی نہیں لیکن اگر عزیزہ اس کی چال چلتی تو اپنا آپا کھو دیتی۔‘‘
اچانک دراز قد شخص کو کچھ یاد آیا۔ وہ ہلکے ہلکے جوش کے انداز میں گویا ہوا۔ ’’عزیزہ کے بزرگوں میں ایک ضعیفہ ہے۔ ان کے گھر والے انہیں بہت عزت دیتے ہیں لیکن کبھی گھر سے باہر نکلنے نہیں دیتے۔ مسموع ہوا کہ وہ طاقت در ضعیفہ محبوس ہو کر اب کمزور ہو گئی ہیں۔ ان کے متعلقین احتراماً انہیں سلام تو کر لیتے ہیں لیکن کوئی ان کے پاس دیر تک بیٹھنا گوارا نہیں کرتا۔‘‘
یکایک کسی پردے کے پیچھے سے دال بھات مانگنے کی آواز آئی۔ یہ ایک شیریں نسوانی آواز تھی۔ وہ آواز تھوڑی دیر بعد رام سیتا، لنکا اور ہنومان کے قصے سنانے لگی۔
ڈاکٹر نے دراز قد انسان کو حیرت سے دیکھا جیسے اسے اعتبار نہ آیا ہو لیکن دراز قد انسان کے چہرے کے سنجیدہ تیوروں نے ڈاکٹر کا اعتماد اسے واپس کیا۔
ڈاکٹر نے مریضہ پر نظریں گاڑ دیں۔ اس کی حالت میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔
’’آپ بتا رہے تھے کہ شام ڈھلے برابر کے کمرے کی کھڑکی سے تازہ ہوا کا جھونکا اندار آتا ہے؟‘‘
’’ہاں! حالاں کہ وہ وقت شام کا وقت ہوتا ہے لیکن وہ ہوا باد صبا کی طرح دل خوش کن ہوتی ہے۔‘‘
’’کیا شام ڈھل چکی۔‘‘ دراز قد انسان نے بےچینی سے پوچھا۔
’’نہیں ابھی کچھ دیر ہے۔ کیا آپ کو سمے بیتنے کا اندازہ نہیں ہوتا؟‘‘ دراز قد انسان خاموش رہا۔ اس سوال کے اندر ایسا کچھ تھا جس نے اسے مزید بےچین کر دیا۔
ڈاکٹر اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتا رہا۔ جب یہ نظریں سوئی بن کر دراز قد انسان کے چہرے پر جگہ جگہ کھب گئیں تب اس نے گہری اور مجبور آواز میں کہا۔
’’نہیں۔‘‘
’’اچرج کی بات ہے۔‘‘ ڈاکٹر اور کچھ نہیں بول سکا۔
لیکن اس کی نگاہیں مرد کے چہرے پر جمی رہیں۔ مرد ان نگاہوں کی تاب نہ لا سکا۔ دھیمے دھیمے گویا ہوا۔
’’بہت دنوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر گھڑی وقت غروب چھایا ہوا ہے۔‘‘
’’کیا آپ بھی ہر وقت دیواروں کے بیچ بند رہتے ہیں؟‘‘ ڈاکٹر نے کرید نے والے انداز میں پوچھا۔
اس مرتبہ مرد کی خاموشی مہیب تھی۔ ڈاکٹر سہم کر رہ گیا۔
مرد نے ڈاکٹر کی دلی کیفیات کا اندازہ لگا لیا۔ شگفتہ لہجے میں بولا۔
’’بہت سی باتیں پراسرار ہوتی ہیں اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ میں بھید پر سے پردہ ہٹا بھی دوں تب بھی آپ پوری بات نہیں سمجھ سکیں گے۔‘‘
دونوں دیر تک خاموش رہے۔ پھر ڈاکٹر نے پہل کی۔
’’میں بس یہ جاننا چاہتا ہوں کہ جب تازہ ہوا کا جھونکا اس کمرے میں آتا ہے تو روگی کی حالت میں کس طرح کا فرق آتا ہے؟‘‘
’’شام ڈھلے آپ دیکھ لیجئےگا۔‘‘
’’شام ڈھلنے میں ابھی دیر ہے۔‘‘
دونوں پھر خاموش ہو گئے۔ ڈاکٹر کو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اس مرد کے علاوہ کسی اور کو خاتون کی زندگی میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ مریض کی حالت پوچھنے والیوں کو اس نے دیکھا نہیں لیکن اتنا اندازہ تھا کہ وہ بھی مریض کی حالت میں بس اتنی ہی دلچسپی لے رہی ہیں جیسے لوگ موسم کی تبدیلی کے بارے میں ایک دوسرے سے معلوم کرتے ہیں۔ اس کی سمجھ کام نہیں کر رہی تھی کہ اس رعب دار مرد کی اس آبادی میں کیا حیثیت ہے۔ اس عمارت کے دوسرے مکینوں سے اس کا کیا تعلق ہے اور باہر پھیلی ہوئی اس بستی سے مرد کا کیا علاقہ ہے۔ اس کے دل میں رہ رہ کر سوال اٹھ رہے تھے لیکن وہ مرد کے لہجے کی سنجیدگی اور موقع کی نزاکت کے پیش نظر زیادہ سوالات نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔ اس نے کچھ گھما کر معلوم کرنا چاہا۔
’’یہ باہر کا علاقہ کس کا ہے؟‘‘
’’کیا آپ پہلی مرتبہ آئے ہیں؟‘‘
’’جی ہاں۔ بس دور سے دیکھتا رہتا تھا۔ دیکھنے میں یہ پوری آبادی بہت اچھی لگتی تھی۔ دور سے ان عمارتوں کی اونچائی، مضبوطی اور پرانا پن من کو کھینچتا تھا۔ آج قریب سے بازار بھی دیکھا۔ رنگا رنگ چیزیں، طرح طرح کی پوشاکیں، الگ الگ نسلوں کے لوگ، پھر ہو حق کرتی سادھو سنتوں کی آوازیں۔ میں زیادہ نہیں دیکھ پاتا تھا۔ لیکن ککیا اینٹ کی باہر کی ایک عمارت کو دیکھ کر من کو بہت شانتی ملی کہ اس آبادی میں ایسی سادگی بھی ہے۔‘‘
’’آئیے میں آپ کو آبادی کی ایک جھلک دکھا دوں۔ جب سورج ڈھلنے کا وقت قریب آجائے تب مجھے بتا دیجئے گا۔ ہم لوگ مریضہ کے پاس واپس آ جائیں گے۔‘‘
ساگوان کے سیاہی مائل اونچے دروازوں کو کھول کر وہ دونوں باہر نکلے۔ غلام گردش میں کئی طرح کے لوگ ملے لیکن کوئی ان دونوں سے مخاطب نہیں ہوا۔ ڈاکٹر نے محسوس کیا کہ مخاطب کوئی نہیں ہوتا لیکن تمام افراد اس با رعب، وجیہہ اور خوش پوش مرد کو عقیدت و محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ غلام گردش کا یہ حصہ چوڑی سیڑھیوں والے ایک زینے کے مقابل تھا۔ دونوں اس پر چڑھے۔ اونچی نیچی چھتوں والی بے شمار عمارتوں کو عبور کرتے ہوئے وہ لوگ زینے پر چڑھتے رہے۔ یہاں تک کہ سب سے اونچی چھت آ گئی۔ چھت پر کنگورے دار حصار تھا۔ مرد نے اس کا ہاتھ پکڑ کر حصار کے پاس لاکر کھڑا کر دیا۔ نیچے پوری بستی پھلیپ ہوئی تھی۔ چھت پر ابھی سورج کی زرد شعاعیں تھیں لیکن نیچے — بہت نیچے بستی میں اندھیرا اتر چکا تھا۔
ڈاکٹر نے محسوس کیا کہ اندھیرا اترنے کے باوجود نیچے ابھی بھی رونق ہے۔ تب اسے محسوس ہوا کہ رونق کا لطف روشنی سے نہیں آبادی سے ہوتا ہے۔ یہ بلند اور مضبوط عمارت چاروں طرف سے بازاروں سے گھری ہوئی تھی اور اس عمارت سے متصل ککیا اینٹ کی وہ عمارت بھی ریشم جیسے اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی جہاں اس نے ہو حق کی صدائیں سنی تھیں۔
’’یہ سب کس کا ہے؟‘‘ اس نے نیچے آبادی پر نگاہ ڈالتے ہوئے پوچھا۔
یہ عمارتیں، یہ ستون، یہ بالا خانے، یہ حصار، یہ بازار یہ ہو حق کی صدائیں یہ سب میری ہی۔۔۔ ان سب کا مجھ سے ہی علاقہ ہے۔‘‘
مرد نے متانت کے ساتھ جواب دیا۔
ککیا اینٹ کی اس سادہ عمارت میں کچھ سفید پوش سائے نظر آئے جن کے چہروں کے خطوط ملگجے اندھیرے کی وجہ سے صاف نظر نہیں آ رہے تھے۔
وہ۔۔۔ وہ کون لوگ ہیں؟‘‘ ڈاکٹر نے بے صبری سے پوچھا۔
مرد نے ادب سے ان سایوں کو دیکھا اور تھوڑی دیر بعد بولا۔
’’وہ عمارت اور سفید پوش ہو حق کی صدائیں بلند کرنے والے سب اسی بستی کا حصہ ہیں۔ بازار کے تمام افراد بھی اسی بستی کا ایک حصہ ہیں۔ اس عمارت کے سارے مکین بھی اسی بستی کا ایک حصہ ہیں اور یہ سب کے سب اس مریضہ کی بیماری سے آدھے ادھورے رہ گئے ہیں۔‘‘
’’مطلب‘‘؟ ڈاکٹر کی آنکھیں پھیل گئیں۔
’’سب اسی خاتون کے حوالے سے اپنی زندگی گزارتے تھے۔ شعوری طور سے کسی کو احساس بھی نہیں ہوتا تھا کہ مریضہ ان کے لئے کتنی کار آمد ہے لیکن جب سے وہ بیمار ہوئی ہے، کمزور ہوئی ہے سب خود میں کچھ نہ کچھ کمی پا رہے ہیں۔‘‘
’’یہ باتیں تو پہلیونں جیسی ہیں۔‘‘ ڈاکٹر دھیمے سے بولا۔ اب اسے ڈر لگنے لگا تھا لیکن اب اس کی سمجھ میں کچھ کچھ آنے لگا تھا۔ جب سورج کی آخری شعاع ماند ہو کر اندھیرے میں کھو گئی تو اس پھیلی ہوئی آبادی میں استادہ اس عظیم الشان عمارت کی وسیع و عریض چھت کے حصار کے پاس کھڑے ہو کر اس نے خود کو مرعوب پایا۔ لیکن اب اس سے رہا نہیں گیا۔
’’روگی کون ہے آپ نے اب تک نہیں بتایا؟ آپ نے اب تک روگی سے اپنے رشتے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔‘‘ چھت کی کھلی فضا میں ڈاکٹر نے ہمت پاکر سوال کیا۔
مرد حصار کے نیچے جھانکتا رہا۔ پھر یکایک بولا۔
’’آپ خود کچھ نہیں سمجھ سکے؟‘‘ مرد کی آنکھوں میں ایک دکھ بھرا سوال تھا۔
تب ڈاکٹر کو اچانک ایسا لگا جیسے پردہ ساہٹ گیا ہو۔ اسے یاد آیا جب اس نے مریضہ کے دل کی دھڑکنیں سنی تھیں تو اسے کچھ آوازیں بھی سنائی دی تھیں جنہیں وہ اس سے پہلے بھی بارہا سن کر خوش ہو چکا تھا۔
اب اس نے بغور اس وجیہہ مرد کو دیکھا اور دیر تک دیکھتا رہا اور سر جھکا کر کھڑا ہو گیا۔
’’شام ڈھل گئی ہے۔ آئیے نیچے چلیں۔ روگی کو دیکھ لیں۔‘‘
وہ دونوں تیزی سے نیچے اترے۔ دروازے میں داخل ہوتے ہی انہیں محسوس ہوا کہ برابر والے کمرے سے ہوا کے تازہ جھونکے آ رہے ہیں۔ مریضہ بستر پر گاؤ تکیے کے سہارے وقار کے ساتھ بیٹھی تھی اور اس کے چہرے پر سرخی چھلک آئی تھی۔ ڈاکٹر کو آتے دیکھ کر اس نے کوئی تکلف نہیں کیا لیکن مرد کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں شکر گزاری کے جذبے لہرائے۔
’’کیسی ہو؟‘‘ مرد نے کمال محبت کے ساتھ قریب جا کر دھیرے سے پوچھا۔
وہ بد قت مسکرائی۔ بڑی بڑی آنکھوں سے مرد کا جائزہ لیا اور ادب سے بولی۔
’’اس وقت تو اچھی ہو جاتی ہوں۔‘‘
’’ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ تمہارے اعضائے رئیسہ مکمل طور پر تندرست ہیں۔ بس سانس لینے بھر کو تازہ ہوا کی کمی ہے۔‘‘
مریضہ خاموشی کے ساتھ سر جھکائے بیٹھی رہی۔
’’آپ اتنا پریشان کیوں ہوتے ہیں۔‘‘ وہ دیرے کے بعد بولی۔
’’تم جانتی ہو کہ اس بستی کا کاروبار ہستی مری وجہ سے قائم ہے۔ تم نصیب دشمناں ختم ہو گئیں تو دھیرے دھیرے سب کچھ خس و خاشاک ہو جائےگا۔‘‘
’’کیا‘‘ ڈاکٹر نے انہیں روک کر پوچھا، ’’کیا یہ نہیں ہو سکتا کہ برابر والے کمرے کی کھڑکی ہمیشہ کھلی رہے اور تازہ ہوا آتی رہے۔‘‘
’’برابر والے کمروں میں جہاں اور مکین ہیں وہیں کچھ نوجوان بھی ہیں۔ چاروں طرف بنے ان کمروں میں صرف ایک کمرہ ایسا ہے جس کے مکین نے باہر کی کھڑکی کھول رکھی ہے۔ شام کو جب وہ واپس آتا ہے تو دروازکھول دیتا ہے۔ تبھی تازہ ہوا کے جھونکے اندر آپاتے ہیں۔ دن بھر روزی روٹی کے چکر میں مارا مارا پھرتا ہے۔ شام ڈھلے واپس آپا تا ہے۔‘‘
باقی لوگ بھی اپنی رہائشگاہوں کی کھڑکیاں کھول کر ادھر والے دروازے نہیں کھول سکتے؟‘‘ ڈاکٹر نے پوچھا۔
’’غالباً انہیں اب اس خاتون سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘‘
’’اس نوجوان کو دلچسپی کیوں ہے؟‘‘
’’کیوں کہ وہ اس خاتون کو زندہ دیکھنا چاہتا ہے۔‘‘
’’وہ کیوں؟‘‘
’’کیوں کہ اسے اپنے اجداد سے محبت ہے۔‘‘
’’یہ باتیں میری سمجھ میں نہیں آ رہی ہیں۔‘‘ ڈاکٹر نے بہت مایوسی کے عالم میں کہا۔
’’میں نے پہلے ہی عرض کیا تھا کہ اگر میں کچھ بتانا بھی چاہوں تب بھی ضروری نہیں کہ ہر بات آپ کی سمجھ میں آ سکے۔‘‘ مرد نے رنجیدہ لہجے میں جواب دیا۔
’’کیا میں کچھ کر سکتا ہوں۔‘‘ ڈاکٹر نے جیسے ہتھیار ڈال دیئے ہوں۔
’’آپ ڈاکٹر ہیں۔ آپ ہی بہتر بتا سکتے ہیں کہ آپ کیا کر سکتے ہیں؟‘‘
تب ڈاکٹر نے بہت مضبوط لہجے میں لیکن ادب کے ساتھ کہا۔ میں صرف پھیپھڑوں کو مضبوط کرنے والی دوا دے سکتا ہوں لیکن پھیپھڑوں کی مضبوطی کی اصل دوا دراصل تازہ ہوا ہوتی ہے۔‘‘ اس ماحول میں اتنی دیر تک رہنے کے بعد وہ اب صاف و شفاف زبان میں بات کر سکتا تھا۔ وہ پھر گویا ہوا۔
’’اس عمارت کے تمام نوجوان مکینوں سے کہیئے کہ وہ باہرکھلنے و الی تمام کھڑکیاں کھول کر اس کمرے میں کھلنے والے دروازے کھول دیں۔‘‘
’’اگر وہ ایسا نہ کریں۔۔۔ تب۔۔۔ تب کیا ہوگا؟‘‘ مریضہ نے بہت بے صبری کے ساتھ پوچھا۔
’’تب‘‘ ڈاکٹر نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ ’’تب یہ ختم ہو جائیں گے‘‘ اس نے دراز قد وجیہہ مرد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا حسین و جمیل مغموم مریضہ اور دراز قد وجہہھ مرد نے ایک دوسرے کو کن نگاہوں سے دیکھا، یہ کوئی نہیں دیکھ سکا کیوں کہ ڈاکٹر دھیرے سے بیگ اٹھاکر خاموشی سے باہر نکل آیا تھا۔
ختم شدہ ـ

افسانہ : باد صبا کا انتظار
ReplyDeleteافسانہ نگار : سید محمد اشرف
مبصر : وسیم عقیل شاہ
اردو ادب میں جن چند شاعروں ادیبوں نے ستاروں کی سی شہرت پائی ان میں اردو فکشن کے قد آور تخلیق کار سید محمد اشرف کا شمار ناگزیر ہے ـ سید محمد اشرف اپنی منفرد فکر، خیال افروزی ،شگفتہ زبان اور زبان کے قادرانہ انداز و لہجے کے ساتھ پچھلے پچاس برسوں سے فکشن کی زمین کو چمن زار کرتے آئے ہیں ـ آپ کا تعلق صوفی گھرانے سے ہے ـ تصوف کے اس ماحول سے ان کے افسانوں اور ناولوں میں اسرار، رمز، علامت اور دبازت پیدا ہوگئی ہے ـ موضوعات کے برتنے میں بھی وہ اپنی مثال آپ ہیں ـ انھوں نے کئی اہم موضوعات کو نئے حوالوں اور نئے تناظرات میں کامیابی سے برتا ـ بزمِ افسانہ کی توسط پیش کردہ افسانہ 'باد صبا کا انتظار' اردو زبان کی بقا کے لیے لکھا گیا اپنی نوعیت کا یہ ایک شاہکار افسانہ ہے ـ یہ افسانہ عالمی ادب کے ان افسانوں میں شمار کیا جاتا ہے جن میں مادری زبان کی اہمیت و افادیت، اس کی تاریخ و تہذیب اور اس کی اشاعت و ترویج کو مرکزی خیال بنایا گیا ہے ـ (یہ ایک علامتی انداز کا افسانہ ہے، اس میں استعارے بھی ہیں چھوٹی چھوٹی علامات بھی لہٰذا اس کی اور بھی کئی تعبیریں ہو سکتی ہیں )
افسانے کی تلخیص معنی و اشارات کے ساتھ یہ ہو سکتی ہے کہ ایک لڑکی جو مریضہ ہے لیکن اس کے بارے ڈاکٹر کو معائنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسے کسی قسم کا مرض نہیں ہے بس عمل تنفس میں کچھ خرابی آئی ہے ـ اس کا دم گھٹتا ہے، اور دم اس لیے گھٹتا ہے کہ وہ ایسے جگہ رہتی ہے جو چاروں طرف سے بند ہے ـ درویش صفت نظر آنے والے بزرگ اس کے نگران دکھائی دیتے ہیں، وہ خود کو اس مریضہ کے مجازی رب کہتے ہیں، لیکن وہ مریضہ کے لیے صرف پریشان ہونے تدبیریں کرنے، ماضی میں جھانکنے کے سوا کچھ کر نہیں پاتے ـ آخر ڈاکٹر مریضہ کو دوا کے طور پر تازہ ہوا تجویز کرتا ہے ـ
یہاں مریضہ اردو زبان کی موجودہ علامت ہے جس کی بد حالی سے ہم سب واقف ہیں ـ درویش صفت بزرگ امیر خسرو، ڈاکٹر شاید ہندی زبان اور اس محل نما گھر اور اس کے آس پاس کا پورا حصہ اردو زبان کی ارتقائی مراحل کے استعارے ہیں جن میں اس زبان کی تاریخ و تہذیب واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے ـ اس کے بعد کہانی کے جتنے ضمنی کردار ہیں ان سب کا جائزہ لیں تو یہ سب اپنے اپنے اندر ایک علامتی وجود لیے ہوئے ہیں اور اپنے افعال سے مریضہ کی طبیعت کے مد و جزر کا سبب بنتے ہیں ـ
سید محمد اشرف صاحب قابل مبارک باد ہیں کہ انھوں نے اس موضوع کو اپنے افسانے میں پیش کیا ـ یہ ان کی زبان سے محبت کا ثبوت بھی ہے اور زبان کی تئیں ان کی فکر مندی بھی ـ یہ افسانہ ان کے افسانوی مجموعے 'بادِ صبا کا انتظار' کا ٹائٹل افسانہ ہے اور اس کتاب کا انتساب انھوں نے اپنے بچوں کے نام اس دعا کے ساتھ کیا ہے کہ " وہ بڑے ہو کر ان کہانیوں کو اسی زبان میں پڑھ سکیں کہ بادِ صبا کے انتظار کی مدت کچھ تو کم ہو ـ"
دوسری بات اس موضوع کو فکشن میں جس انداز سے برتا ہے وہ واقعی بڑا فن ہے ـ ہم اس افسانے کے کینوس پر غور کریں تو سید محمد اشرف نے اردو زبان کی ابتدا تا حال پوری کہانی چند صفحات میں پیش کر دی ـ اس پورے منظر نامے کو کس اسلوب اور کس عمدہ کرافٹ سے بیانیہ میں ڈھالا کہ قاری عش عش کر اٹھے ـ اردو زبان کی کہانی لکھ کر سید محمد اشرف نے بیانیہ میں زبان کی سچی حلاوت کا بھی احساس دلایا ہے ـ
افسانہ:باد صبا کا انتظار
ReplyDeleteافسانہ نگار:سید محمد اشرف
مبصر:عظیم اللہ ہاشمی(بنگال)
نئی نسل کے سامنےسید محمد اشرف کاقد معاصر افسانہ نگاروں کی صف میں قابل احترام ہے.ان کی تحریر کو یہ نسل غور سے ڈوب کر پڑھتی ہے.اس صف میں خاکسار بھی شامل ہے.زیر نظر افسانے کو پڑھ کر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے اس افسانے میں مریضہ دراصل ز.ندگی کی علامت ہے جو آج کےگھٹن زدہ ماحول کے حصار. میں ہے.اس سے بچاو کی ایک صورت ہے کہ ذہن وفکر کی تمام کھڑکیاں کھول دی جائے تاکہ تازہ ہوا کے جھونکے اندر آئیں اور ذہن وفکر کی تمام بند کھڑکیاں کھلیں اورفلیٹ زدہ زندگی گھٹن کےماحول سے باہر نکلے.اس افسانے میں تخلیقیت کی خوشبو ہے.اس کے درون متن عہد حاضر کی گھٹن ہے جس سےافسانہ نگار نجات چاہتا ہے.نیک خواہشات
افسانہ ۔ باد صبا کا انتظار ۔
ReplyDeleteافسانہ نگار ۔سید محمد اشرف ۔
اظہار خیال ۔نعیمہ جعفری ۔
کبھی کبھی ایک شعر حاصل غزل ہوتاہے اور کبھی ایک غزل حاصل مشاعرہ ہوتی ہے ۔سید محمد اشرف کا یہ دلکش اور شاندار افسانہ حاصل بزم ثابت ہونے کے درجے پر فائز رہے گا ۔
اشرف میاں کو بہت مبارکباد ۔
میں نے شاہکار اس لئے نہیں کہا کہ ابھی وہ اور شاہکار تخلیق کرینگے ان شاءاللہ ۔
افسانہ : بادِ صبا کا انتظار
ReplyDeleteافسانہ نگار : سید محمد اشرف
تاثرات : نسترن احسن فتیحی
سید محمد اشرف کا نام فکشن کی دنیا میں بہت معتبر ہے۔ اس حد تک کہ ان کی تخلیقات کلاسیک کے درجے پر فائز ہو چکی ہیں ۔آج ادب کا ہر قاری ان کے لکھے ہر ہر لفظ سے اچھی طرح واقف ہے۔ ادب کی دنیا سے وابستہ ہر ذی نفس ان ناموں سے نابلد نہیں رہ سکتا جو اپنے اپنے وقت کے مقبول ترین نام ہیں۔سید محمد اشرف کا نام آتے ہی صرف باد صبا کا انتظار ہی نہیں بلکہ نمبر دار کا نیلا، آخری سواریاں،نصف صدی کا قصہ یہ سارے نام ذہن میں تازہ ہو جاتے ہیں کیونکہ ان ساری تخلیقات میں وہ قوت ہے جو آپ کی سوچ کے در وا کرتی ہے۔ آپ کو پڑھنے اور لکھنے کا قرینہ سکھاتی ہے۔ باد صبا کے انتظار پر اب تک کئ لوگوں نے سیر حاصل تبصرہ کیا ہے اور خاص کر ذکیہ آپا نے تو تقریبا ہر اس پہلو پر بات کی جو اس کی علامت اور اس کے اسلوب کی خوبیوں کو سمجھنے میں مدد کرے۔سید محمد اشرف کے افسانوں میں انسانی نفسیات کی گہری سمجھ، تہذیبی اور اخلاقی پاسداری کے ساتھ ساتھ طبقاتی فرق اور ٹوٹ پھوٹ کے ساتھ انسانی ہمدردی کی بہترین تصویر کشی ملتی ہے۔ انسانی زندگی میں موجود مختلف تضاد کو انہوں نے خوب اجاگر کیا ہے۔اس افسانے میں جو المیہ موجود ہے اس کے لئے اتنا ہی کہونگی کہ یہاں موجود ہر فرد اردو سے محبت کرنے والا ہے تو اس مریضہ کی سانسیں بحال کرنے کے لئے اردو کی سچی خدمت کریں ۔ کاغذ سیاہ کرنے سے پہلے بہترین ادب پڑھنا ضروری یے۔ اردو رسالے کو زندہ رکھنے کے لئے انہیں خریدنا ضروری یے۔ اپنے بچوں کو انگریزی کے ساتھ اردو پڑھانا ضروری یے۔ میں شاید بھٹک گئ ۔
سید محمد اشرف کی تخلیقات اسلوبی سطح پر بھی بہت متاثر کرتی ہیں وہ سادہ بیانیہ ہو یا علامتی ۔ زبان اور تہزیب کا زوال ہو یا طبقاتی کشمکش ہمارے ذہن و دل پر اپنا اثر چھوڑتی ہیں،کیونکہ وہ گہری فکر کی حامل ہیں۔ وہ تہذیب جو اب ماضی بن چکا ہے اور وہ زبان جو مر رہی ہے اس کا نوحہ ان کی تخلیقات میں نظر آتا ہے ۔ بہر حال آخر میں صرف اتنا کہنا چاہونگی کہ یہاں موجود ادب کی دنیا کے بڑے نام اور اساتذہ کے درجے پر فائز لوگوں کی نئ چیزیں بھی ہمیں پڑھنے کو ملنی چاہئے۔ اس لئے کبھی ایک ایونٹ اساتذہ کی تازہ تخلیقات پر بھی رکھیں۔
افسانہ : بادِ صبا کا انتظار
ReplyDeleteافسانہ نگار : سید محمد اشرف
مختصر خیال : ناصر ضمیر
سوپور کشمیر
ایک اچھا افسانہ ہے۔
اس کا کنیوس کافی وسیع ہے مگر وسیم عقیل صاحب نے جس طرح کے تاثرات کا اظہار ابتدا میں کیا
اس سے تھوڑی سی گڑ بڑ ہوگئی ۔
معذرت
چونکہ اس گروپ کا فارمیٹ ہے کہ تبصرے پر تبصرہ نہیں کرنا ہے اس لیے میں وسیم بھائی کے تبصرے کو یہیں چھوڑ دیتا ہوں اور اپنا مختصر تاثر ۔۔۔۔۔۔۔
ہم کیوں اس بات پر بہ ضد ہیں کہ کہ فکشن پڑھنے کے بعد چاہیے افسانہ ہو ناول ۔۔۔۔۔۔اس کا کوئی مخصوص مقصد یا نظریہِ حیات ہونا چاہیے یا پھر اس سے کوئی ایسی چیز (برآمد) ہو جو ہمیں کسی مفہوم تک رسائی میں مدد کرے ۔۔۔۔۔۔مجھے لگتا ہے اس طرح کرنے سے فن پارے کی validity اور اس میں برتا گیا vision قید ہوجاتا ہے
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان ہر چیز کو جاننے اور پہنچاننے کی اس دھن میں ادب کا نقصان تو نہین کر رہا ہے ۔
ادب اور آرٹ آزاد ہے ۔
کسی خاص فکر یا نظرئیے کا محتاج نہیں۔
بالکل یہی بات اس افسانے پر بھی ۔۔۔۔۔۔۔
عمومی اور سطحی طرح اس کو نہیں دیکھا جاسکتا ہے
بادِ صبا کا انتظار بھرپور افسانوی مزاج کا حامل ۔۔۔۔۔۔
جناب۔سید محمد اشرف صاحب کو مبارک باد
ایڈمن حضرات سے گزارش ہے کہ گروپ میں شامل استاد ِفن جناب غضنفر صاحب و دیگر اساتذہ سے افسانے پر بات کرنے کے ساتھ ساتھ فکشن کے رموز و تکنیک کی باریکیوں پر کھل کر گفتگو کرنے کی استدعا کریں ۔ تاکہ مجھ جیسے طالب علم فیضیاب ہو سکیں۔
شکریہ
شہناز فاطمہافسانہ نمبر :06
ReplyDeleteافسانہ : باد صبا کا انتظار
افسانہ نگار : سید محمد اشرف
تاثرات :شہناز فاطمہ
واو کیا طرز نگارش ہے کیا شاعرانہ انداز ہے کیا الفاظ کی تراش خراش ہے کیا بندش الفاظ کی چابکدستی ہے
بھئی واہ مان گئی آپ کی فنکاری کو لوہا
طلسم ہوش ربا کے جیسے لفظوں کے بھنور اردو، ہندی کا جواب امتزاج
ایک سحر زدہ ماحول اسمیں ایسی زبردست علامتیں پیوست وہ تو کہیے محترم وسیم عقیل صاحب کے تبصرے کی مہربانی سے افسانے کے اوراق کھل کر سامنے آگءے ورنہ میں تو شاعرانہ انداز بیاں اور مسحور کن ماحول میں علامت کی ان پرتوں کو کھول ہی نہیں سکتی تھی صحیح طرح سے ایسے ریشمی اور باریک لفظوں کی تہ میں ملفوف کرکے مقصد افسانہ رکھا تھا
بہرحال ایک لاجواب بے مثال شاہکار افسانہ پڑھنے کو ملا ذہن فرش ہوگیا جبکہ میں علامتی افسانے بالکل نہیں پڑھتی بہت مشکل سے سمجھ میں آتے ہیں
مگر کیا زبردست غضب کا یہ افسانہ ہے کیا روداد اردو ہے کیا اسکی زبوں حالی ہے اور کس خوبصورتی سے آپ نے لفظوں میں موتیوں کی سجا کر حالت زار بیان کی ہے
ظاہر ہے الفاظ نہیں جو تعریف کی جاسکے کچھ کہنا آفتاب کو چراغ دکھانے کے مانند ہو گا لحاظ محترم جناب سید محمد اشرف صاحب کے لئے صرف نیک خواہشات اور پرخلوص دلی مبارک باد پیش کرتی ہوں گر قبول افتد زہے عزو شرف
ا
تاثرات :اقبال حسن آزاد
ReplyDeleteسید محمد اشرف کا نام محتاج تعارف نہیں. عصر حاضر کے فکشن رائٹرز میں انہیں ایک اہم مقام حاصل ہے. مجھے ان کے کئی افسانے پسند ہیں. خاص طور پر ان کے ناول /ناولٹ "نمبر دار کا نیلا" نے تو مجھے عرصہ تک اپنے حصار میں لے رکھا تھا.
"باد صبا کا انتظار" ان کا مشہور افسانہ ہے. اس کا شہرہ تو میں نے خوب سن رکھا تھا لیکن پڑھنے کا اتفاق پہلی بار ہوا اور اس افسانے کو پڑھنے کے بعد آتش کا یہ شعر ذہن میں گونج اٹھا :
بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرہء خوں نہ نکلا
اس افسانے کی مبالغہ آمیز تعریف کرنے والوں کو اکیس توپوں کی سلامی
معذرت کے ساتھ
افسانہ :باد صبا کا انتظار.
ReplyDeleteمبصر :فریدہ نثار احمد انصاری.
علامتی افسانوں کی کشش قاری کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے. ایک زمانہ تھا جب خون دل سے قلم کار ناگزیدہ حالات کو ضبط قلم کرتا تھا تاکہ قاری کو اپنے صبر و تحمل میں شامل کر حالات سے باخبر کرے.
زمانہ بدلا پھر بھی معاشرے کی گھٹن کو قلم کار قاری کے آگے لانے کی جرات کر بیٹھتا ہے. مذکورہ افسانے میں زبان اردو کی زبوں حالی کی پرتیں کھولی گئیں جس طرح یکے بعد دیگرے پیاز کو کھولا جاتا ہے.
قلم کار کے لئے یہ ایک اعزاز ہوتا ہے کہ وہ اس طرح کی تحریریں لکھے. وسیم عقیل بھائی کے پہلے تبصرے میں ہی افسانے کی کچھ وضاحت مل گئی.
آغاز میں مختلف نسلوں اور رنگوں کے نمائندوں سے مراد زبان اردو کو ملک کے ہر طبقے نے اپنایا. گٹھیلے بدن کے مرد، مشکیزوں سے پانی کے چھڑکاؤ نے نوابوں کے دور کی یاد تازہ کراو دی اور دکھی سکھی آوازوں و نورانی عمارت نے دور بادشاہت کی غلام گردشوں کا احاطہ کیا. ڈاکٹر جینیو پہنے ہندی کے شبد کا اپیوگ کرتے ہوئے مریضہ کو بس کہنے کے لئے طبی آلات لے کر آیا جس کا بدن خوبصورت مسہری پر رکھا تھا. اردو زبان جو کبھی شہزادی تھی جسے شعراء کرام جس طرح غزل میں بیان کرتے تھے اسی طرح مریضہ کے خدوخال کو یہاں تراشا گیا. اس زبان کے سر پر جہاں بادشاہوں کا دست شفقت رہا وہیں مزدوروں نے بھی اسے سر پر بٹھایا.
گوشے دار کلاہ والے معمر شخص چاہے امیر خسرو ہو، سر سید احمد خان بھی ہو سکتے ہیں یا دور حاضر کے سنئیر ادب نواز شخصیات. کیوں کہ یہ اب رب مجازی ہوئے.
اردو.... مریضہ نے کبھی اپنی نقاہت کا اظہار نہیں کیا لیکن بخار کا آجانا اور عمل تنفس کا برابر نہ چلنا اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ اس کے بدن کے ہر عضو کو برابر رکت نہ ملنے کے کارن اس شیرین زبان کی ہر اصناف کو تازہ ہوا نہیں پہنچ رہی اور اس پر کام نہیں کیا جا رہا. اگر یوں ہی رہا تو یہ نیلی پڑ سکتی ہے. انگریزوں نے بھی اسے تباہ کرنے میں کچھ کم کام نہ کیا. دیکھنے کو فورٹ ولیم کالج کا سنگ بنیاد رکھا لیکن تقسیم ہند نے اس کو بہت زیادہ متاثر کیا. اس کی بہنوں نے سرحد پار کر دئیے جلائے اور پڑوسی ملک کی زبان بنی وہیں اس کے چاہنے والوں نے خلیجی ممالک، ترکی وغیرہ میں اردو کی شمع فروزاں کی.
ان کے علاوہ اردو کو دیوناگری اسکرپٹ یا رومن انگریزی میں لکھ کر اس کی بہن بننے کا اعتراف کیا. اب تو کوی سمیلنوں میں بھی دیوناگری اسکرپٹ اختیار کر اس سے رشتہ داری نبھائی جارہی ہے. شام کے وقت مریضہ کی طبعیت بخیر ہو جاتی ہے کیوں کہ مشاعرے سج جاتے ہیں، مختلف محفلوں، بزموں میں اردو نواز طبقہ اپنی کارکردگی میں مصروف ہوجاتا ہے اور یہ دیکھ کر ہندی ڈاکٹر اپنی راہ لے لیتا ہے کہ اس سخت جان کو جتنا دباؤ یہ اتنی ابھر کر سامنے آتی ہے.
اس طرح کی تجریدی علامتی افسانے گو کہ ادب میں ایک منفرد مقام حاصل کرتے ہیں لیکن قلم کار جب لکھتا ہے تب کئی گتھیاں قاری نہیں سمجھ پاتا اس لئے بہت زیادہ ابہام قاری پر گراں گزرتا ہے.
میں محترم قلم کار کو دلی مبارک باد پیش کرتی ہوں کہ ایک شاہکار افسانہ ادب کی زینت بنا. نیک خواہشات کے ساتھ اختتام کرتی ہوں. سلامت رہیں.. اس طرح کے افسانے تحریر کرتے رہیں.
افسانہ : بادِ صبا کا انتظار
ReplyDeleteافسانہ نگار : سید محمد اشرف
تاثرات : رفیع حیدر انجم
جناب وسیم عقیل شاہ اور محترمہ ذکیہ مشہدی صاحبہ نے جس خوبصورت اور مدلل انداز میں افسانے کی گرہ کشائی کی ہے, اس کے بعد کچھ کہنا انہی الفاظ کو دہرانے کے مترادف ہوگا. سید محمد اشرف ہمارے عہد کے منفرد افسانہ نگار ہیں اور افسانے میں اپنے انفرادی اسلوب اور بیانیہ میں علامتی و استعاراتی نظام کو بحسن و خوبی برتنے کے لئے جانے جاتے ہیں. ان کے افسانوں کو پڑھنا اور بات کرنا بھی اپنے آپ میں ایک خوشگوار احساس ہے. ایسے ہی افسانے ہمیں مسرت و بصیرت سے ہمکنار کرتے ہیں. مجھے خوشی ہے کہ آپ کے اس افسانہ ایونٹ کے ذریعے مستند و معتبر افسانہ نگاروں کے افسانوں کو نہ صرف یہ کہ پڑھنے کا موقع مل رہا ہے بلکہ یہ افسانہ پسند قارئین کی تہذیبی و تربیتی مقاصد میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے.
غضنفر صاحب آپ کی خدمت میں فرشی سلام۔ عقیل کا تبصرہ پڑھ کر میں بھی یہی سمجھا تھا۔ اور میں سمجھا اتنے کامپلیکس بیانیہ کو انھوں زبردست طریقے سے ڈی کوڈ کیا۔ مگر مجھے دو سین تزبزب میں ڈالے ہوئے تھا۔ ایک تو پہلی شروعات منظر جب عمارت بازار اور ایک ہی گھر سے سب مربوط تھے۔ اگر اس نظریہ سے دیکھیں تو اردو زبان مغلیہ دور ایوانوں خانقاہوں بازاروں کی زبان اور تہزیب تھی۔ یہاں تک میں نے بغیر رکاوٹ سفر کرلیا۔ اب کمرے میں مبحوث وہ خوبصورت مریضہ اگر اردو زبان ہے تو کھڑکیاں کھول کر اس کو تازہ ہوا دینے کا کیا مطلب یا تو یہ کہ زبان اپنے اندر باہر کی دنیا کو سموئے۔ اور اگر وہ ہوا تو وجود ختم۔ اگر یہ نہیں ہوتا تو شام کو جو در کھولتا ہے۔ وہ ایک جانب اردو کا ناتواں قاری نظر آیا تو دوسری جانب مجھے منافق بھی نظر آیا کہ یہ اردو کو باہر کی ہوا دینا چاہتا ہے۔ دوسرا اس خیال سے ایک سین بالکل میل نہیں کھاتا تھا وہ تھا مریضہ کے دل سے نکلنے والی موسیقی کی ترنگیں۔ اسی کو میں مربوط نہیں کر پا رہا تھا۔ یہ بھی سچ ہے میں مستقل اردو زبان کے سحر سے سب کچھ جوڑ رہا تھا اسی وجہ سے پرسوں سے سید عقیل شاہ کی تشریح پڑھنے کے بعد سے تذبذب کا شکار اور بار بار یہ دو سین مجھے کچھ لکھنے سے روک دیتے تھے۔ لیکن آپ کی اس تشریح سے مطلع صاف ہوگیا۔ اصل بات یہی ہے یہ زبان کا نہیں بلکہ یہ مشترکہ تہزیب وہ مریضہ ہے جس کے چیتھڑے اڑ چکے ہیں۔ بہرحال۔ بہت بہت مبارک۔ بہت شکریہ اس واضح تشریح کا
ReplyDeleteسید محمد اشرف صاحب نے واقعہ یہ ہے اس افسانے کی کرافٹنگ میں کئ مہینے صرف کئے ہوں گے۔ کیوں کہ اس میں الفاظ کی دروبست، موزوں الفاظ کا ماحول کے حساب سے تصنع (بقول شخصے، حالانکہ اس طرح کے افسانوں میں تصنع سے پر زبان ہی کرافٹنگ کی ضرورت ہوتی ہے) نما سین بنانا یہ سب ایک ماہر اور پایہ کے قلمکار کا حسن ہے۔ دوسری بات اگر یہ افسانہ تاثر چھوڑنے میں کامیاب نہ ہوتا تو اس پر متضاد تبصرے نہ آتے۔ مجھے سید اشرف صاحب اس لئے نہیں پسند ہیں کہ وہ بہت بڑی شخصیت ہیں کہ میں ان کی چاپلوسی میں قلابے ملا دوں۔ بلکہ یہ ہے کہ اصلیت میں ان کی زبان۔ جو میری پسند ہے۔ جیسے کسی نے ذکر کیا ہے کہ اس خوبصورت مریضہ کا سراپا جن الفاظ میں اشرف صاحب نے بیان کیا۔ یہ اشرف جیسے خانقاہی تہزیب کا شخص ہی کرسکتا ہے۔ واقعی یہ زبان ایسے الفاظ ایسی تراکیب یہ ہی اردو زبان کا حسن ہے جو سید اشرف صاحب کے مزاج میں ہے ایک علی گڑھ یونیورسٹی کی تہزیب، خانقاہی تہذیب ایک ان کی اردو دانی کی تہذیب۔ یہ سب بلا شرکت غیرے سید اشرف کو منفرد کرتے ہیں۔ کسی کو کچھ بھی لگے لیکن میرے نزدیک اشرف صاحب کا یہ افسانہ بلاشبہ شاہکار ہے۔ اس کی کرافٹنگ واقعی کمال کی ہے۔ سید صاحب دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔
میں آپ دونوں معزز حضرات پروفیسر غضنفر صاحب
اور
اعلی مقام سید محمد اشرف صاحب
کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں
سترہواں ایونٹ رنگ و آہنگ افسانہ نمبر 6
افسانہ باد صبا کا انتظار
افسانہ نگار سید محمد اشرف
تاثرات محمد سراج عظیم