اجیت روڈ بٹھنڈہ: ملکیت سنگھ مچھانا
بزمِ افسانہ کی پیش کش
سترہواں ایونٹ
رنگ و آہنگ
افسانہ نمبر : 04
*اجیت روڈ بٹھنڈہ*
ملکیت سنگھ مچھانہ
میں جس سڑک پر اس وقت خراماں خراماں چل رہا ہوں وہ بٹھنڈہ شہر کی اجیت روڈ ہے۔ بٹھنڈہ ہندوستان کے شمالی صوبہ پنجاب کا ایک مشہور و معروف شہر جہاں کبھی ملکہ ہندوستان رضیہ سلطانہ قلعہ نشین رہی تھیں۔ باقی شہروں کی مانند یہاں بھی لاتعدادسڑکیں ہیں مگر یہ سڑک یعنی’ اجیت روڈ بٹھنڈہ ‘ نمایا ں اور اپنا ایک خاص الخاص مقام رکھتی ہے۔ فوجی چوک سے لے کر گھوڑے والا چوک ہوتے ہوئے آگے گورودوارہ صاحب بی بی مہاتمہ تک جو تقریباََ دو کلومیٹر کی طوالت پذیر ہے۔
آپ کا تجسس بڑھ رہا ہوگا کہ اس سڑک پر ایسا کیا ہے جو اس کو ممتاز و منفرد مقام بخشتا ہے ۔ جی جناب ! یہاں بزاز خانہ ہے اور نہ کوئی لوہا بازار۔ یہ کریانہ مارکیٹ بھی نہیں اور نہ ہی یہاں کوئی سبزی یا مچھلی فروش بیٹھتے ہیں تو پھر ... ! !! ؟؟؟
ہاں جی ہاں .... اس سڑک پر تو بس ! IELTS (International English Language Testing System) کی دکانوں کی ریل پیل ہے ... ان کو درس گاہ کہناکسی بھی پہلو سے واجب نہیں کیوں کہ یہاں یہ ’کورس‘ پڑھایا نہیں بلکہ بیچا جاتا ہے اور وہ بھی بہت اونچے داموں پر۔ ایک ایک دکان کی تین تین منزلوں پریہاں یہ ’تجارت ِ علم ‘ گام فرسا ہے اوریہ ایساکاروبارہے جو آئے دن نشو و ارتقا پا رہا ہے۔
بارش نے ذرا تازہ تازہ سانس لی ہے۔ موسم کافی خوشگوار ہو گیا ہے ..... میں نے ابھی گھوڑے والا چوک کراس کیا ہے اور فوجی چوک کی جانب بڑھ رہا ہوں۔۔۔
ہیَں ! کہاں جا رہا ہوں ؟ یہ سب آپ کو آگے چل کر خود بخود پتہ چل جائے گا .... پہلے آپ ان دکانوں کےنام کےفلیکس بورڈ دیکھیے ..... بارش میں دھُل کر کتنے نکھر گئے ہیں ، لگتا ہے ابھی آویزاں کیے ہیں۔
ملکی نظام اور نصاب ِتعلیم ہی ایسا نافذ کیا گیا ہے کہ یہاں تعلیم یافتہ ہونے کا مطلب محض حصول معاش ہے ..... زندگی کے ہر شعبے میں رشوت خوری، بد دیانتی اور کنبہ پروری اس قدر سرفراز ہو گئی کہ آزادی حاصل کرنےکے پونی صدی کے بعد ہی یہاں کی معاشی حالت چرمرا گئی ہےاور بڑے بڑے سرکاری اداروں کو کوڑیوں کے بھاؤ متمول گھرانوں کو بیچا جا رہا ہے۔ حکومتوں بالخصوص صوبائی حکومتوں کا تو دیوالہ نکل گیا ہے جس نےتعلیم یافتہ اہل اور بیدار مغذ لوگوں کو نوکری فراہم کرنے سے ٹکا سا جواب دے دیا ہے۔
مستقبل کی بوسیدہ تصویر کے زیر نظر، پلّس ٹو پاس کرنے کے بعداب پنجاب کا ہر طالب علم بیرون پرواز کر جانےپر آمادہ ہے۔ پلّس ٹو کے بعد کے اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے والےاسکول کالجز اب یہاں خالی خالی نظر آ رہے ہیں۔ سرکاری کالجوں میں تو ابھی بھی کچھ رونق میلہ باقی ہے جن میں معاشرے کے پچھڑے درجے کے بچوں کی فراوانی ہے یا وہ بچے ہیں جن کاباہر جانے کا کوئی جگاڑ نہیں بن پا رہا ہے مگر نجی کالج توتقریباََ بند ہو گئے ہیں یا پھر بند ہونے کی کگار پر ہیں۔ معدود ِ چند فیس اور سلانہ اخراجات وغیرہ آدھے سے بھی زیادہ کم وصول کرکے اپنی بقاء کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں ۔
اس سڑک پر جہاںاس ’تجارت ‘ کے سبب اتنے سارے طلباء کا جم غفیررونق افروزہے تو یہاں پھر مختلف اقسام کے خورد ونوش نہ دستیاب ہوں یہ ممکن ہی نہیں۔ آلو کے پراٹھوں کے لیے تو ’ بابے کا ڈھابہ ‘ مشہور ہے۔ وہاں ’جلدی ‘ کو کوئی جگہ نہیں ۔۔۔ سب کچھ باری سےملتا ہے۔ اس کے علاوہ فاسٹ فوڈ کی بھی بہت ساری دکانیں ہیںجہاںطلبا ء برگر ، پیژہ اور نوڈل وغیرہ کا لطف لیتے ہیں۔ چائے کے بجائے کافی اور کولڈ ڈرنکس کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیز کو بسکٹوں پر فوقیت حاصل ہے۔
دائیں بائیں سے تقریباََ تیس گلیاںاس سڑک سے منسلک ہیںجن میں زیادہ تر میںان طلباء کے رہنے کے لیے پی.جی. (Paying Guest)کھلے ہوئے ہیں۔ میری ایک بیوہ کزن سِسٹر نے بھی ’ خالصہ پی. جی.‘ کے نام سے یہ کارو بار چلا رکھا ہے۔ یہاں وہ محض لڑکیوں کو ہی یہ سُکھ سہولت مہیا کراتی ہے۔ بہن بتاتی ہے کہ لڑکوںکے مقابلے لڑکیوں کو رکھنا کافی آسان ہوتا ہے، جیسا کہ وہ بالکل شور نہیں کرتیں اور شام سات بجے کے بعد پی .جی. سے باہر جانے کی ضد نہیں کرتیں ۔ وہ لڑکوں سے بہت کم کھاتی ہیں لیکن خرچہ دونوں کا برابر پڑتا ہے۔
’’ اچھا ! ایسا کیسے ‘‘ میںبڑے تعجب سے پوچھتا ہوں تو بہن جواب دیتی ہے ’’ لڑکے روٹی چِن کر کھاتے ہیں جب کہ لڑکیاں گِن کر ‘‘
’’ مطلب ۔۔۔ ؟ ‘‘
’’ مطلب کہ لڑکوں کو تو کچھ دے دو انھیں ورائٹی سے کوئی مطلب نہیں ہوتا، انھیں تو بس ! شکم سیر ہو کر کھانا ہوتا ہے جب کہ لڑکیاںکھاتی توکم ہیں بس ! جیسے چڑی چونچ بھرتی ہے مگر ناز نخرہ زیادہ کرتی ہیں۔۔۔ ہم نے یہ نہیں کھانا ، ہم نے وہ نہیں کھانا وغیرہ وغیرہ۔۔۔ ‘‘
میں آج یہاں ظہرانے کے لیے پہنچا ہوں اور عشائیہ کے لیے بھی لازماََ آؤں گا۔ جب کبھی میری بیوی دو چار دن کے واسطے مائیکے چلی جاتی ہے تو میں یہاں ہی تشریف لاتا ہوں ..... اگر کسی ڈھابے یا ہوٹل کا رُخ کروں تو میری بہن خاصی ناراض ہو جاتی ہے ..... بات تو اس کی بھی ٹھیک ہے کہ بیس پچیس لڑکیوں کے کھانے میں سے اگر میں ایک بندہ کھا لوں تو کیا فرق پڑتا ہے ۔ لیکن میں اس کی حق تلفی نہیں کرتا اور دیوالی دسہرے کے موقع پر اس کا حق ادا کر دیتا ہوں .....
آج اتوار ہے ۔یہاں پی.جی. میں رہنے والی زیادہ تر لڑکیاں آج گھر پر ہی ہیں۔ کچھ سامنے کپڑے دھونے میں مصروف ہیں۔کچھ کھانا کھانے کے بعد گپ شپ لگا رہی ہیں۔ چلو آج ان سے مل کر ان کا حال احوال پوچھتے ہیں۔ میری بہن کی فرمائش پر چند چلبلی سی، چند شوخ مزاج اور بعض معصوم سی وہ میرے ارد گِرد کرسیوں پر بیٹھ جاتی ہیں۔ چند توقف کے بعد میں سانے بیٹھی لڑکی سے مخاطب ہوتا ہوں..... ’’ بیٹا کیا نام ہے تمھارا ؟ ‘‘
’’ جی انامکا .... . ‘‘
’’ کتنا پڑھے لکھے ہو ؟ ‘‘
’’ جی میں نے پلّس ٹو کیا ہے ‘‘
’’ ویری گُڈ ..... کہاں سے آئی ہو ؟
’’ جی سردول گڑھ شہر ضلع مانسہ سے آئی ہوں ‘‘
’’ بہت اچھا ! آپ کے ماں باپ کیا کرتے ہیں ؟ ‘‘
’’ جی ٹیچر ہیں ‘‘
’’ اچھا بیٹا تو پھر یہ IELTS کرنے کی کیا ضرورت پڑ گئی ۔ کینیڈا جانے کا ارادہ ہے کیا ؟ ‘‘
’’ جی بالکل انکل جی ‘‘ یہ بتاتے ہوئے اس کا چہرہ کھل گیا ۔
’’یہاں پلّس ٹو سے آگے کیوں نہیں پڑھنا شروع کیا ؟ ‘‘ بس ! میرا یہ جملہ ادا کرنے کی دیر تھی کہ انامکا ایک دم چھِڑ پڑی اور پھراس نے رکنے کا نام تک نہیں لیا ..... اس نے میرا مزاج بھی کچھ بھانپ لیا تھا.....
’’ یہاں انکل جی ! ‘‘ اتنی سی عبارت کاتلفظ ادا کرتے ہوئے اس کی پیشانی پر کئی شکنیں ابھر آئیں ...
’’ یہاںاور پڑھ لکھ کر کیا کریں گے ؟ نوکری تو کوئی ملنی نہیں ...
جنرل کیٹاگری والوں کو تو کوئی ویسے ہی نہیں پوچھتا !!!
بیرونی ملک میںمحنت کا صلہ تو مل جاتا ہے ... یہاں تو ہر جگہ استحصال ہی ہوتا ہے ‘‘
’’ اچھا ؟ ‘‘ میں نے سب کچھ جانتے ہوئے بھی عنقریب میں پرواز کے لیے پر تول رہے ان ذہین نُفوس کو کریدنے کی پوری کوشش کی۔
’’ اور کیا انکل جی .... آپ دیکھ نہیں رہے۔ یہاں لڑکیوں کے ساتھ روز کیا ہو رہا ہے ؟ انڈیا تو لڑکیوں کے لیے سیف نہیں ہے ‘‘ اتنا کہہ کر انامکا خاموش ہو گئی ، اس کے دل و دماغ پہ جیسے کوئی انجانہ سا ڈر طاری ہونے لگا تھا ، اس کی آنکھیںمجھے مُٹر مُٹر دیکھ رہی تھی ...
ضلع شری مکتسر صاحب کے گاؤں گدڑبہہ سے آئی ہوئی رمن دیپ کور جس کا باپ کھیتی باڑی کرتا ہے اور ۱۵ ایکڑ زمین کا مالک ہےنے بھی انامکا کے بیان کی زوردار تائید کی۔
پھر میں نے دائیں بائیں براجمان لڑکیوں سے بھی تقریباََ یہی سوالات دہرائے۔ وہ تمام انامکا کے تاثرات سے صد فی صد متفق تھیں اور انھوں نے بول کر اس کی تائید کی۔ ان میں سے کئی لڑکیاں پڑوسی صوبہ ہریانہ کے ضلع سِرسہ سے تعلق رکھتی تھیں جن میں گاؤں پِپلی سے پریتکا شرما، راجپورہ سے نودیپ کور، چورمار سے ارشدیپ کور اور سالم کھیڑہ سےجوبن جیت کور شامل تھیں۔
’’ اچھا تو پھر پڑوسیوں میں بھی یہ بیماری پھیل گئی ہے ‘‘ میں نے ہریانہ والی لڑکیوں سے نظر ملاتے ہوئے طنز اََ کہا۔ اس پر وہ مسکرا پڑیں۔
’’ آپ اتنی دور چل کر آئی ہیں۔وہاں کیا ایسی دکانیںنہیں ہیں ‘‘ میں نے ان سے سوال کیا۔
’’ نہیں انکل جی..... ہیں تو صحیح مگرایسی نوعیت کی نہیں ہیں..... بٹھنڈہ کی یہ مارکیٹ تو اس کام کے لیے دہلی دکھن تک مشہور ہے ‘‘ نودیپ نے جواب دیا۔
’’ ہریانہ تو کیا یہاں تو انکل جی ہماچل پردیس ، راجستھان اور دہلی تک کے بچے IELTSکا کورس کرنے آتے ہیں ‘‘
’’ پنجاب کا ایسا کون سا ضلع ہے جہاں سے بچے یہاں نہ آتے ہوں ‘‘ جوبن جیت نے لقمہ دیا۔
جو لڑکیاں پیچھے بیٹھی تھیں میں نے انھیں آگے آنے کومدعو کیا تا کہ ان کے دل کی بھی کچھ جان سکوں ۔ میری درخواست پر وہ اٹھ کر آگے آگئیں۔
’’ تمھارا کیا نام ہے بیٹا ہے اور کس شہر سے تعلق رکھتی ہو ‘‘ میں نے ایک سرخی مائل چہرے کی مالک لڑکی سے پوچھا جواپنے سیدھے ہاتھ کی انگشت شہادت کو منہ میں دبا کر کاٹ رہی تھی۔
’’ میرا نام انکل جی جسمیت کور ہے اورضلع موگا سے تعلق ہے میرا ‘‘
’’ آگے ؟ ‘‘
’’ میں نے بھی پلّس ٹو کے بعدIELTS کا کورس پاس کر لیا ہےاور اب اسی روڈ پر ایک انسیچیوٹ میں یہی کورس ٹیچ کر رہی ہوں... ‘‘
’’ اچھا ! تو پھر ؟ ‘‘
’’ آپ کو سچی بات بتاؤں انکل جی ! ویسے تو میںcardiologistبننا چاہتی تھی مگرگھر کے اور یہاں کے حالات دیکھ کر میں نے یہ ارادہ ترک کردیا ‘‘
’’ وہ کیسے ؟ ‘‘ میں چاہتا تھا کہ جسمیت کھُل کر بولے۔
’’ کچھ کر گزرنے کے بعد بھی آپ کا مستقبل یہاں محفوظ نہیں ہے ...یہاں وہاں رشوت خوری کا بول بالا ہے ... ہر در و دفتر میں ذلالت آپ کا ماتھا چومتی ہے ... بس ! یہاں مردم آزاری کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے انکل جی ... ‘‘
’’ اور بیرون میں ؟ ‘‘
’’ وہاں انکل جی ! پہلی بات ...آپ کو جاںفشانی کا پھل ملتا ہے ... self respectبہت ہے ... سب سے بڑی بات ... لڑکیوں کے لیے وہ ممالک بہت سیف ہیں ... ‘‘
’’ تم بیٹا اپنا نام بتاؤ اور کہاں سے آئی ہو ‘‘ میں نے ایک دوسری لڑکی کی طرف اشارہ کیا
’’ میرا نام مندیپ کور ہے اور میں قصبہ دھنولہ ضلع سنگرور سے آئی ہوں ‘‘
’’ جو کچھ جسمیت نے بیان کیا ہے تم اس میں کچھ ایڈ کرنا چاہتی ہو ؟ ‘‘
’’ ہاں جی انکل جی ... اس سڑک پر لڑکیوںکو چلنا پھرنا بہت مشکل ہے ... اوباش قسم کے منچلے بے جا مٹر گشتی کرتے ہیں ... ان کو روکنے والا کوئی نہیں ... چشمک بازی سے ذرا باز نہیں آتے ‘‘
’’ وہ تو انکل جی جارحانہ طور پرلڑکیوں کے ساتھ جاکر کلاس میں بیٹھ جاتے ہیں ...! ‘‘ یہ کہتے ہوئے ہرلین کور کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔
اپنے مستقبل کو لے کر انھیں تشویش میں مبتلا دیکھ کر میں بھی گہری سوچ میں ڈوب جاتا ہوں۔۔۔
’’ اگر IELTSمیں اچھے بینڈ آگئے پھر تو بس جہاز کی ٹکٹ ہی خریدنی ہے ؟ ‘‘ میں نے جسمیت سے نظریں ملاتے ہوئے سوال کیا۔
’’ نہیں انکل جی ! اصل کام تو پھر ہی شروع ہوگا ‘‘
’’ وہ کیسے ؟ مجھے ذرا تفصیل سے سمجھاؤ بیٹا ‘‘ میں کرسی پر دوبارہ ٹھیک ہو کر بیٹھ گیا۔
’’ کالج کی فیس اور دیگر اخراجات کے واسطے بیس لاکھ روپئے کا انتطام کرنا پڑیگا ۔۔۔ ‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کے چہرے پر فکر کی لکیریں طاری ہونے لگیں۔
’’ یہ تو بہت مشکل کام ہے ؟ ‘‘ میرے لب بستہ ہونے پر اتر آئے۔
’’ اس واسطے کوئی اپنی زمین بیچے گا۔۔۔ کوئی گھر گروی رکھے گا۔۔۔ کوئی ماں اپنے زیور اتار کر دے گی اور کچھ رشتہ داروں اور دوستوں سے ادھار لے لیا جاتا ہے۔ ۔۔۔ آخر انکل جی کینیدا یا امیرکہ تو پہنچنا ہی ہے ۔۔۔ ‘‘ کچھ پیسے ٹکےکے انتظام کا فکر اور زیادہ اپنوں سے بچھڑنے کا درداب ان تمام لڑکیوں کے چہروں پر نمایاں تھا۔
اب اور کچھ پوچھنے کی میرے میں ہمت ہی باقی نہ تھی۔سچ تو یہ تھا کہ میںاب ان سے آنکھ ملانے سے کترا رہا تھا۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے سر کو پکڑکر آنکھیںموند لیں۔
’’ انکل جی ! پانی لیجیے ۔۔۔ ‘‘ میں نے آنکھیں کھولیں، جسمیت سامنے پانی کا گلاس لیے کھڑی تھی۔’’ شکریہ بیٹا ‘‘ میں نے گلاس مُڑ ٹرے میں رکھتے ہوئے تہہ دل سے جسمیت کا شکریہ ادا کیا۔ خوشگوار ہونے کے باوجود اب موسم میںبلا کی امس محسوس ہو رہی تھی۔
میںاپنے گھر کو لوٹتا ہوا سوچ رہا تھاکہ کیا واقعی ہماری سرکاروں کاجنازہ نکل گیا ہے، ان کی معاشی حالت اتنی ناتاب ہو گئی ہے کہ اپنےذہین فطین نوجوانوں کو روزگار دینے سے قاصر ہیں۔
آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہاں کے فرسودہ مستقبل کومد نظر رکھتے ہوئے کتنے خاندان اپنے دل کے ٹکڑوں کو بیرون ممالک بھیجنے پر مجبور ہیں اور اس حساب سے ہمارے ملک کا کتنا قیمتی سرمایا باہر منتقل ہو رہا ہے۔
یہ اجیت روڈ بٹھنڈہ محض سڑک نہیں ہے ۔۔۔ یہ دو کلو میٹر لمبی ہوائی پٹی ہے جہاں سے، گھروں کی غربت و مسکنت کے مارے بچے اپنے روشن مستقبل کا تصور لے کر بیرون ممالک کو پرواز بھر رہے ہیں۔۔۔
ہمارے یہاں سب کچھ وافر مقدار میں دستیاب ہے مثلاََ ملک میں معدنیات کی کوئی کمی نہیں۔ صنعت کاری میں انقلاب آیا ہوا ہے۔ گندم، چاول،گنے کی لبالب فصلیں ہوتی ہیں۔ ہمارے برابر آم ، سیب ،سنترہ کہیں بھی میٹھے نہیں ہوتے کیوں کہ ان سب کے لیےسخت دھوپ کی ضرورت ہوتی ہےجس کی باقی ممالک کے بہ نسبت ہمارے یہاںماشاء اللہ فرا وانی ہے۔ تو پھر فرق کہاں رہ جاتا ہے ۔۔۔ ؟؟؟
ذرا یاد کرو ہمارے آبا و اجداد کے زمانے کو ۔۔۔ وہ کتنے فخر سے کہتے تھے کہ راج انگریز کا باقی سب جھوٹ۔۔۔ وقت کے پابند، ہر چیز میں ایمان دار
مطلب کہ ہمارے یہاںبرسر اقتدار لوگوں کی ’نیت ‘ میں فرق آ گیا جو دن بدن کھوٹی ہوتی گئی اور مزید ہو رہی ہے۔۔۔
پھرکیا سوچا آپ نے ؟؟؟
ہونہہ ! سوچنا کیا ہے !!! جب سب کچھ یہاں موجود ہے تو پھر اپنے جگر پاروںکو باہر بھیجنے کی کیا ضرورت ہے ؟
اپنا ایک وفد لے کر ہم خود انگریزوں کے پاس چلے چلتے ہیں۔۔۔ گلے میں پلوڈال کر ان سے گزارش کرلیں گے اور بس ! ۔۔۔
ایک مٹھی بھر انگریز لے آتے ہیں !!! ہاں ! یہاں ! اپنے ملک میں ۔۔۔
اور شہید اعظم سردار بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں سے معذرت کر لیں گے۔۔۔ کیا خیال ہے آپ کا ؟؟؟
ختم شدہ ـ

شہناز فاطمہ افسانہ نمبر :04
ReplyDeleteافسانہ :اجیت روڑبٹھنڑہ
افسانہ نگار :ملکیت سنگھ مچھانہ
تاثرات :شہناز فاطمہ
ایک بہترین طنزیہ افسانہ پڑھنے کو ملا
حالانکہ ٹائپنگ کی بے تہاشہ اغلاط ہیں مگر افسانہ زرا نئی طرز نگارش کا لگ رہا تھا اسلیے کسی طرح پڑھ ہی لیا
محترم ملکیت سنگھ مچھانہ صاحب کے افسانے بھی پڑھے ہیں اور شاندار تبصرے بھی لیکن یہ یہ افسانہ تو ملک کی تعلیمی نقائص اور موجودہ صورت حال کی اتنی زبردست عکاسی کررہا ہے
کے لوگ کی یہاں ذہنیت کیا ہے علم کی نوعیت کیا رہ گئی ہے لوگ اپنے بچوں کو غیر ممالک کیوں بھیجنے کو مجبور ہیں
بالکل کھلے لفظوں میں ملکیت سنگھ صاحب بڑی خوبصورتی سے روشنی ڈالی ہے اور پنچ لاین تو غضب ڈھاگءی بہت ہی لاجواب
واقعی اسوقت " یہاں کورس پڑھایا نہیں بیچا جاتا ہے" قدم قدم پر "تجارت علم گام فرساہے اور یہ ایسا کاروبار ہے جو آءے دن نشو ارتقاء پارہا ہے"
"یہاں تعلیم یافتہ ہونے کا مطلب محض حصول معاش ہے"
تعلیم کی صورت حال اور حالات کی نوعیت کو اسطرح منعکس کیا ہے ملکیت سنگھ مچھانہ صاحب نے کے دل عش عش کر اٹھا
انکے اس بہترین افسانے کے لئے نیک خواہشات اور پرخلوص دلی مبارک باد پیش کرتی ہوں گر قبول افتد زہے عزو شرف
افسانہ :اجیت روڈ بٹھنڈہ افسانہ نگار :اجیت سنگھ مچھانہ
ReplyDeleteمبصر :عظیم اللہ ہاشمی (بنگال)
رواں عصر میں تجارتِ علم کے موضوع پر لکھا گیا یہ افسانہ لوگوں کےتاجرانہ ذہنت سے پردہ ہٹاتاہے جس کا بیانیہ سادہ ہے۔یہ افسانہ یہ کہہ کر ملکی نظام اور نصابِ تعلیم پرچوٹ کرتاہے کہ یہ محض حصول معاش کی ترغیب دیتاہے۔ملک کی ڈگمگاتی معاشی حالت اور زندگی کے ہر شعبے میں پھیلی رشوت خوری،بدیانتی،کنبہ پروری پربھی افسانے میں انگلی اٹھی ہے۔افسانے میں افسانویت کم کم ہے۔افسانے کے کردار جن مسائل سے دوچار ہیں وہ سب کے سب میرے اور آپ کے بھی ہیں۔افسانے کا اختتام استفہامی ہے جس کا راوی دگر گوں حالت کے پیش نظر اس نکتے پر سوچناچاہتاہے۔۔۔لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو۔۔۔۔۔!نیک خواہشات
افسانہ : اجیت روڈ بھٹنڈہ
ReplyDeleteاظہارِ خیال : فریدہ نثار احمد انصاری
یہ حسن اتفاق ہے کہ پچھلے افسانے میں ڈاکٹر صاحب نے باہر گئے بچوں اور والدین کی پریشانیوں کو ضبط قلم کیا اور اب بچوں کو خصوصی لڑکیوں کو باہر جانا ہے.
بقول لڑکیوں کے کہ وہ اس ملک میں محفوظ نہیں ہیں. یہ ایک حقیقت ہے لیکن اس سے زیادہ ڈالر کی چاہ، وہاں کی آرائشیں جو میسر ہیں، یہاں سے بہت کم وقت میں مل جاتی ہیں.
بہرحال ہر ایک کا اپنا اپنا موقف ہے.
افسانے کا موضوع منفرد لگا لیکن آغاز کی منظر کشی بہت طویل اور کسی اخبار کی نیوز کا تراشا لگی ساتھ لڑکیوں کے بہت زیادہ مکالموں نے اسے افسانے سے زیادہ انٹرویو کی شکل دی اور افسانے پن کی کمی محسوس ہوئی.
اغلاط قاری پر بوجھ بنیں لیکن یہ ان پیج اور یونی کوڈ کا مسئلہ ہے اسے سمجھا جا سکتا ہے.
نیک خواہشات.
افسانہ : اجیت روڈ بٹھنڈہ
ReplyDeleteافسانہ نگار : ملکیت سنگھ مچھانا
مبصر : محمد شمشاد
افسانہ پڑھا, یہ افسانہ بہت ہی اچھے انداز میں لکھا گیا ہے جس میں اس ملک تعلیمی نظام کی بے راہ روی اور بگڑے ہوئے نظام کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے اسکے ساتھ ہی یہاں کے معاشرتی و سماجی نظام کو بھی پیش کیا گیا ہے کہ اس ملک کے باشندے کس طرح سے ڈرے سہمے ماحول میں جینے کے لئے مجبور ہوتے ہیں جبکہ دوسری جانب بیرون ملک کے حالات جہاں نہ صرف ہمارے مرد بلکہ ہماری لڑکیاں بھی اپنے کو محفوظ سمجھتی ہیں جو ملک کے نظام پر نہ صرف تنز ہے بلکہ ہمارے لئے ایک شرم کا بھی مقام ہے کہ ایک طرف ہم وشو گرو بننے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ہم اپنے ملک میں نہ امن شانتی قائم کرنے میں ناکام ہیں اور نہ ہی تعلیمی, میڈیکل , معاشرتی, سماجی نظام, کو درست رکھنے میں ناکام ہیں بلکہ ہر طرف اور ہر ایک شعبہ میں بے راہ روی اور افرا تفری لے شکار ہیں
بہر حال کچھ کمیوں اور غلطیوں کے باوجود یہ ایک بہترین افسانہ ہے ملکیت سنگھ کو شمولیت کے لئے بہت بہت مبارک باد اور نیک خواہشات
۰
ReplyDeleteبزم افسانہ
سترویں ایونٹ
افسانہ۔۔۔۔اجیت روڈ بھٹنڈہ
افسانہ نگار۔ملکیت سنگھ مچھانا
ماضی میں مختلف مذاہب کے افراد اردو میڈیم سے تعلیم پا کر اردو ادب میں مہارت حاصل کر لیتےتھے جن میں سے کئی قلمکاروں کے افسانے سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
بزم افسانہ میں ملکیت سنگھ مچھانا کا افسانہ " اجیت روڈ بھٹنڈہ " پڑھ کر بہت خوشی ہوئی ، جنھوں نے مختصر مدت میں اردو زبان سیکھی اور اس تیزی سے اپنا قلمی سفر طے کیا کہ اردو ادب کے قارئین ان کی تحریریں پڑھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ میں سرپرست اور منتظمین بزم کی بے حد شکر گزار ہوں کہ انھوں نے ہم ارکان" بزم افسانہ" کو محترم ملکیت سنگھ مچھانا سے متعارف کروایا اور انکا افسانہ بھی پڑھنے کا موقعہ فراہم کیا۔ بزم کے قابل مبصرین کے تاثرات پڑھ کر نئے لکھنے والوں کو قیمتی معلومات حاصل ہوئیں۔
یہاں تبصرہ نگار معززین سے میری مودبانہ درخواست ہے کہ انہیں ایک مہربان استاد کی طرح اپنے شاگرد کی غلطیوں کو نظر انداز کرکے اسکی مثبت کوششوں کو سراہنا چاہیے ، تاکہ استاد کی حوصلہ افزائی سے شاگرد میں جوش وخروش سے مزید آگے بڑھنے کی جستجو پروان چڑھے۔
درس و تدریس سے منسلک نعیمہ جعفری پاشا صاحبہ کا تبصرہ پڑھ کر مجھے اپنے اظہار خیال کو تقویت حاصل ہوئی جس کے لئے میں ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ نعیمہ جی نے بالکل درست فرمایا کہ آج کل اردو مشاعروں میں شعراء اپنی غزلیات دیوناگری رسم الخط میں لکھ کر لاتے ہیں۔ یہ دیکھ کر مجھے بھی بڑا افسوس ہوتا ھے کہ اردو کی تر ویج و ترقی کے لئے جو گروپس کام کررہے ہیں ان میں زیادہ تر گروپس میں مبصرین رومن رسم الخط میں تبصرے بھیجتے ہیں۔
ملکیت سنگھ مچھانا صاحب کو ان کی اس نادر تخلیق کے لئے میں بہت بہت مبارکباد پیش کرتی ہوں ، جسے پڑھ کر مجھے بھی اپنے شوق کو جنوں کی حد تک لے جانے کا حوصلہ ملا۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
افسانہ : اجیت روڈ بٹھنڈہ
ReplyDeleteافسانہ نگار : ملکیت سنگھ مچھانہ
تاثرات : وسیم عقیل شاہ
اردو دوست، اردو نواز اور اردو کے جانے مانے افسانہ نگار ملکیت سنگھ مچھانہ کی اب تک تین کہانیاں پڑھیں ـ تینوں کہانیوں میں زمینی حقائق واضح طور پر نظر آتے ہیں ـ ان میں گہری فکر مندی ہے، احتجاج ہے ، فکر فردا اور سد باب بھی ہے ـ زیر نظر افسانے کا موضوع بھی اسی نوعیت کا ہے ـ بظاہر افسانے میں ایک شہر کے تعلیمی مراکز پر فوکس کیا گیا ہے، لیکن بغور جائزہ لینے پر شہر کی یہ سڑک ہمارے ملک کے اعلی تعلیمی نظام اور یہاں کے معاشرتی مسائل، خواتین کی دشواریوں اور دیگر زمینی حقائق کا استعاراتی پہلو لیے ہوئے نظر آتی ہے ـ
اعلی تعلیم کے اس سیکٹر میں ہمارا جو مشاہدہ ہے اور ہم میں سے کئی شمالی ہندوستانیوں کا تجربہ بھی، وہ غالباً اسی طرح کا ہے ـ نیز فورین یا گلف کی طرف طلبا کا رجحان بھی کس سبب سے ہے، یہ کہنے کی ضرورت نہیں ـ اسی طرح خواتین کے حوالے سے جو کیفیت افسانے میں پیش ہوئی ہے وہ بھی ملک کے کونے کونے میں افسوس ناک حد تک بنی ہوئی ہے ـ
یوں ایک طرح سے افسانہ نگار نے ایک شہر کی سڑک کو استعارہ بنا کر ہمارے ملک کے چند اہم مسائل پر مکالمہ قائم کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے ـ
بین السطور میں افسانہ نگار کا یہ منشا قابل توجہ ہے کہ خوش گوار معاشرے کی تکمیل بغیر تعلیم کی اہمیت کو سمجھے نہیں ہو سکتی ـ اسی طرح خواتین کو ان کا حقیقی مقام دیے بغیر بھی خوشگوار معاشرے کا تصور ممکن نہیں ہے ـ
افسانے کی زبان بہت رواں اور شستہ ہے لیکن بعض جگہ روزمرہ کے برخلاف الفاظ در آئے ہیں جو قرت کے وقت اشکال پیدا کرتے ہیں ـ اسی طرح بہت سے الفاظ شاید کاپی پیسٹ کرتے ہوئے بگڑ گئے ہیں ـ افسانے میں تکنیکی طور پر کوئی پختہ کہانی نہیں ہے اور نہ ایسا کوئی مضبوط کردار ابھارا گیا ہے جس کا کہانی سے انسلاک گہرا ہو ـ یہی سبب ہے کہ افسانے میں افسانویت کم نظر آتی ہے ـ
آخری بات، افسانے کا کلائمکس سراسر غیر موزوں لگا ـ
افسانہ : میں بن گیا
ReplyDeleteافسانہ نگار : میر حسن صاحب
تاثرات : رفیع حیدر انجم
افسانہ نگار کی یہ کاوش اچھی لگی کہ اس موضوع کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے اور تفصیلات میں دلچسپی کا جو عنصر شامل ہے,اس نے اخیر تک وابستہ رکھا. ادب میں بد عنوانی تو ہے, اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور یہ صاحبِ حیثیت لوگوں کے لئے زیادہ آسان راستہ ہے. لیکن ایک وقت گزر جانے کے بعد پول کھل ہی جاتا ہے, جیسے نیند سے بیدار ہونے کے بعد حضرتِ قالب کا کھل گیا. تحریر میں انشایہ کا رنگ غالب ہے. کوئی بات نہیں, غالب کی ہمسری میں ایسا ہو سکتا ہے.
افسانہ : میں بن گیا
ReplyDeleteاظہارِ خیال :فریدہ نثار احمد انصاری.
قلم کار اپنے تخیل سے تحریر کو افسانہ بنانے کی کوشش کرتا ہے. اس میں کبھی انشاء پردازی بھی شامل ہوتی ہے کبھی طنز بھی اور کبھی تخیل میں وہ خوابوں کاسفر بھی طئے کرتا ہے.
مذکورہ افسانے میں بھی یہی سما باندھا گیا اور قاری کا تجسس آخر تک قائم رہا.
جب قاری بخوشی اختتام تک پہنچ جاتا ہے تب قلم کار کامیاب ہوتا ہے.
اگر اس میں انشاییے کے ساتھ کچھ افسانوی انداز بھی ہوتا تو سونے پر سہاگہ ہوتا.
خواب ہی میں نوک پلک سنور جاتی اور انداز بیان نکھر جاتا.
اس طرح کی تحریریں قاری کو خود خواب سے بیدار کرتی ہیں اور زندگی کا ایک نیا رخ دکھاتی ہیں.
قلم کار کے لئے دلی مبارک باد و نیک خواہشات.
شہناز فاطمہ
ReplyDeleteافسانہ نمبر :05
افسانہ : میں بن گیا
افسانہ نگار : میر حسن
تاثرات :شہناز فاطمہ
واہ کیا بات ہے بہت خوب بہترین اور دلچسپ افسانہ کس خوبصورتی سے خوابوں کی نرم ریشمی تہوں میں لپیٹ کر گہرا طنز کیا ہے حالات حاضرہ کے شعراء پر لطف آگیا اتنا تو سمجھ میں آرہا تھا کہ
ہوریے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
مگر لکھا اتنے خوبصورت انداز سے گیا تھا کہ اختتام کا یہ تصور نہیں تھا ذہن میں بہت سی باتیں گڈ مڈ ہورہی تھیں کہ انجام یہ ہوگا بہرحال راز کھلنے کا بڑی بیتابی سے انتظار تھا مگر
"مگر جو کہ دیکھا خواب تھا
جو کچھ سنا افسانہ تھا"
کے مصداق ہوگا یہی نہیں سوچا تھا بہرحال کافی دلچسپ رہا آج کے دور میں پیسوں کے بل بوتے کیا نہیں ہو رہا ہے دیوان تو دھڑادھڑ چھپ رہے ہیں اور جانے کتنی تھیسس لکھوا کر لوگوں کے نام کے آگے ڈاکٹر لکھ گیا
اسی صورت حال کے پیش نظر محترم جناب میر حسن صاحب نے اس افسانے کو اک نئی تکنیک سے ترتیب دیا
"اور آنکھ کھل گئی"
دوسروں کی علمی قابلیت سے اپنی امیری کے زوم میں بہت لوگ اسطرح فائدہ اٹھاتے ہیں جسکا مظہر یہ خواب نمایاں افسانہ ہے
بہت داد و تحسین کے ساتھ نیک خواہشات اور پرخلوص رلی مبارکباد پیش کرتی ہوں محترم جناب میر حسن صاحب کے لئے