اس پار: غیاث الرحمن

 *بزمِ افسانہ کی پیش کش*

*سترہواں ایونٹ رنگ و آہنگ* 

*افسانہ نمبر : 11* 


*اس پار*

*غیاث الرحمان*




ہرے ہرے کھیتوں اور گھنٹی جھاڑیوں کے اس پار پھیلی ہوئی اجنتا کی مہیب پہاڑیاں جن پر ہلکے ہلکے برساتی بادل منڈلا رہے ہیں۔ ایک ٹیڑھی میڑھی کالی سڑک دو پہر کی تیز دھوپ میں چمکتی ہوئی کھیتوں کے بیچ اور ندی کے اوپر سے گزرتی ہوئی پہاڑیوں میں کہیں گم ہو گئی ہے۔ سڑک کے آخری سرے پر دور سے ڈاک بنگلے کی سفید عمارت کے شیشے دھوپ میں چمک رہے ہیں۔

 ندی کے پاس ہی سڑک کے کنارے ایک چھوٹا سا بس اسٹینڈ جس میں لمبے لمبے دو سیمنٹ کے پینچ بالکل خالی پڑے ہیں۔ آس پاس بہت سی جھونپڑیاں بے ترتیبی سے کھڑی ہیں۔ اسٹینڈ کے سامنے سڑک کے دوسری طرف ایک بہت بڑے املی کے پیڑ کے نیچے ایک بھینس بندھی بیٹھی ہے اور اس کے قریب ہی اس کا نوزائیدہ بچہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد’’بھیں...ا م... بھائیں‘‘ کر کے پکار رہا ہے۔ 

املی کے موٹے تنے سے ٹیک لگائے ایک جوان آدمی بیٹھا ہے۔ سر کے چھوٹے چھوٹے بالکل سیدھے کھڑے ہوئے بالوں کے ساتھ تھوڑی بڑھی ہوئی داڑھی ، وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا مستقل آسمان کی طرف دیکھ رہا ہے۔ جیسے وہ آسمان کی بلندیوں پر پہنچنے کی کوئی ترکیب سوچ رہا ہے۔ خا کی نیکر جس کو دھلے ہوئے زمانہ گزر گیا۔ جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی قمیص جس کا رنگ پسینے کی نمی اور دھوپ نے مدت ہوئی چھین لیا۔ اس کے مضبوط سینے کے گھنے بال کھلے گریبان سے نظر آرہے ہیں۔

 پیڑ کے پیچھے مٹی کی کچھ دیواروں پر بنے ایک موٹے سے چھپّر میں سامنے  ہی مٹّی کی بڑی سی انگیٹھی پر چائے کا بھگونا رکھا ہوا ہے۔ اس کے سامنے بنے ہوئے چبوترے پر ٹین کے خوانچوں میں مختلف قسم کی باسی مٹھائیاں سلیقے سے سجا کر رکھی ہوئی ہیں۔ جن پر بے شمارمکھیاں بھنک رہی ہیں۔ چھپّر کے اندر بیٹھے ہوئے چند آدمیوں کی باتوں کی آواز یں آرہی ہیں۔ کبھی کبھی کسی بات پر قہقہے بھی بلند ہو جاتے ہیں۔

 چھپّر کے پچھلے حصے کی طرف سے ایک نوجوان لڑکی نیلے رنگ کا کناری دار’ لگڑا ‘پہنے ہوئے ، جو مراٹھی عورتوں کا مخصوص لباس ہے، ہاتھ میں پیتل کی بالٹی لیے بھینس کے بچے کے قریب آتی ہے، پیار سے اس کو دیکھتی ہے۔ پھر اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیر کر بیٹھتی ہوئی اس کا سر بالٹی میں جھکاتی ہے اور دوسرا ہاتھ بالٹی میں ڈبو کر انگلیاں بچے کے منہ میں دے دیتی ہے اور بچہ ماں کے تھن سمجھ کر کھی کھٹی چھاچھ پینے لگتا ہے۔اور لڑکی کی رگوں میں لذت کی ایک لہر سی دوڑ جاتی ہے۔ 

بچے کو چھاچھ پلاتے پلاتے تھوڑی سی گردن موڑ کر پیڑ کے نیچے بیٹھے ہوئے آدمی کو اس انداز سے دیکھتی ہے جیسے وہ اس کو نہیں کچھ اور دیکھ رہی ہے۔ اس کی نگاہوں میں تھوڑی سی نفرت تھوڑی سی ہمدردی کی جھلک نظر آتی ہے۔

 اندر کی طرف سے موٹی تو ند لیے ایک ادھیٹر آدمی آتا ہے اور سنڈ اسی سے پکڑ کر چائے کے بگھونے کو ایک دو بار گھماتا ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے پھر آگ پر رکھتا ہے۔ بعد میں المونیم کی بڑی کالی کیتلی کے منہ پر کپڑا رکھ کر چائے کو اس میں انڈیل دیتا ہے اور کپڑے کو نچوڑ کر اس کی چائے کی پتی ایک طرف جھٹکتے ہوئے کہتا ہے: 

’’لے رے شنکر ...‘‘۔ اور ایک بچہ کیتلی اٹھا کر پیالوں میں چائے انڈیلنے لگتا ہے۔ وہ آدمی باہر دیکھتے ہوئے لڑکی کو مخاطب کرتا ہے: 

’’شانتا ...!‘‘ لیکن کچھ کہتا ہوا رک جاتا ہے اور کھنکار کے ایک طرف تھوکنے کے بعد زور سے چلاتا ہے:

’’ارے او گنگا کے بچے، ڈھور کھیت میں گھس گئے حرام کھور ! ‘‘ اور پیڑ کے نیچے بیٹھا ہوا آدمی ایک دم چونک جاتا ہے اور لاٹھی اٹھا کر سڑک پارکر کے کھیت کی منڈیرپر دوڑتے ہوئے چیخ چیخ کر ڈھلے پھینکتا ہے اور جانوروں کو ندی کی طرف اتاردیتا ہے۔

ندی کے کنارے ایک بوڑھا کپڑے دھو رہا تھا۔ قریب ہی ایک جھاڑی کی چھاؤں میں’’ گنگا رام رام کا کا ’’کہہ کر بیٹھ گیا۔

’’رام رام‘‘ بوڑھے نے جواب دیا اور کپڑا نچوڑتے ہوئے اس کے قریب آیا۔ کپڑے کو جھاڑی پر پھیلا کر گنگا کے پاس ہی گھاس پر بیٹھ جانے کے بعد کمر سے دھوتی میں لپٹی ہوئی چلم اور تمباکو کی تھیلی نکالتا ہے۔ گنگا اپنی بانسری کو جو نیچے سے ٹوٹی ہوئی ہے قمیص کی تھوڑی سی د ھجی پھاڑ کر باندھنے لگا جس میں پہلے ہی بہت سے دھاگے بندھے ہوئے ہیں۔

’’ارے ایڑے! اب پھینک دے اس بنسی کو ، سالی بالکل تو ٹوٹ گئی۔‘‘  بوڑھے نے چلم میں تمباکو کو بھرتے ہوئے کہا۔’’ دوسری لے لے۔ اب تو تیرے پاس پیسے بھی ہیں۔‘‘

’’ہنسی ٹوٹ گئی تو کیا۔‘‘ گنگا نے بانسری کو محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا ’’ اس کے سُر ابھی نہیں ٹوٹے کا کا ! جتی چوٹ اس کی لے میں ہے، وہ نئی بنسی میں بہت دنوں بعد جنم لے ۔گی ‘‘ اور گنجی مسکراتے ہوئے بانسری کو ہونٹوں سے لگا لیتا ہے اور ندی کی چنچل لہروں کے ساتھ بانسری کی سریلی آواز بہت دور کسی انجانے دیس کے لیے کوئی پیغام لے کر چل دیتی ہے۔

 بوڑھا چقماق سے روٹی جلا کر چلم پر رکھتا ہے اور آہستہ آہستہ کش کھینچ کر جلدی جلدی دھواں چھوڑتا ہے۔یہ عمل کرتے ہوئے اس کے گال بالکل لو ہار کی دھونکنی کی طرح لگتے ہیں۔ پھر ایک بہت لمبا کش کھینچ کر کھانسنے لگتا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد چلم گنگا کی طرف بڑھاتا ہے لیکن وہ اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔ اس کی بے تاب انگلیاں بانسری کے سوراخوں کو بند کر کے کھولتی رہتی ہیں۔ کچھ دیر بعد خود ہی بانسری کو رکھ دیتا ہے اور بڈھے کی طرف دیکھ کر مسکراتا ہے۔ اس کی بوڑھی میلی آنکھوں میں خوشی جھلملاتی ہے۔

’’گنگا ! میں سچ کہہ رہا ہوں تو شہر چلا جا... یہاں تیری کوئی قدر نہیں کرتا۔‘‘ بوڑھے کے چہرے پر گہرے سوچ کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔’’ کیا وہ چلی گئی؟‘‘

’’ہاں...‘‘ گنگا طویل سانس لے کر کہتا ہے۔ بوڑھے نے پھر پوچھا:

’’ کیا تو اس کی ایک بھی بات نہیں سمجھ سکا ۔‘ ‘

’’نہیں۔‘‘گنگا نے سر ہلاتے ہوئے کہا: 

’’تو نے اس سے کبھی کچھ کہا ؟‘‘ بوڑھے کی اندر دھنسی ہوئی آنکھیں اورگری ہو گئیں۔

’’ نہیں... ہاں، ایک مرتبہ کچھ کہا تھا لیکن وہ کچھ بھی نہ سمجھ سکی۔ زیادہ تر ہم دونوں ہی خاموش رہتے ۔ بس میں بنسی بجاتا اور وہ ... ‘‘

’’کتنے روپے ...؟‘‘ بوڑھے نے اشتیاق سے اس کی طرف دیکھا۔

’’ پچیس روپے ۔“ اس کی آواز کی آخری لہر میں خوشی کی تھر تھراہٹ تھی...’’ کیا وہ بہت مالدار تھی ؟‘‘

’’ہاں، اس کے پاس بہت روپے تھے، لیکن کا کا! شاید وہ بھی میری ہی طرح دکھی تھی... ہے نا؟ ورنہ کیا ضرورت تھی اس کو دیس بدیس پھرنے کی جب کہ اس کے پاس اتنی دولت بھی ہے۔‘‘

’’ ہاں تو صحیح کہتا ہے گنگا ! وہ بہت دور کی رہنے والی تھی، بہت دور سمندر کے اس پار اس کا گاؤں ہوگا۔‘‘

دونوں خاموشی سے خلاء میں دیکھنے لگے جیسے ان کی نظروں کا مرکز افق کے پار... زمینوں اور آسمانوں سے بھی پرے نہ جانے کہاں ہو گا۔ سورج مغرب کی طرف تھوڑا سا ڈھل گیا تھا۔ ہوا میں معمولی سی خنکی پیدا ہوگئی تھی ۔ ندی میں چھوٹی چھوٹی مچھلیاں تیز لہروں کو چیر چیر کر ادھر سے ادھر نہ جانے کیا تلاش کرتی پھر رہی تھیں ... شاید کچھ بھی نہیں۔ آسمان پر مشرق کی طرف سے گھٹا چھانے لگی۔ تھوڑی دیر بعد گنگا کہنے لگا:

’’ کا کا ! وہ کتنی اچھی تھی؟ اس کا شریر کتنا گورا، کتنا کومل تھا، اور کٹے ہوئے بال ریشم کی طرح ملائم، تم نے کبھی ایسی عورت دیکھی ہے؟‘‘ بوڑھے نے آہستہ سے نفی میں سر ہلا دیا۔گنگا پھر کہنے لگا:

’’ اس کے جسم سے بڑی پیاری خوشبو آتی تھی۔ چمیلی کے پھولوں جیسی۔ایک بار میں اچانک اس سے چھو گیا تھا تو مجھے ایسا لگا کہ وہ عطر میں گندھے ہوئے میدے کی کوئی مورتی ہے۔‘‘

’’اس سے تیری بھینٹ کیسے ہوئی ؟‘‘ بڈھے نے پوچھا۔ 

’’گپھا میں۔‘‘ گنگا نے جواب دیا۔ ایک دن ڈاک بنگلے کے پیچھے ڈھوروں کو چھوڑ کر میں و ہیں بنسی بجانے بیٹھا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کب میرے پاس آکے بیٹھ گئی۔ بہت دیر کے بعد جب میں نے آنکھیں کھول کر ڈھوروں کو دیکھا تووہ مسکراتی ہوئی میری طرف دیکھ رہی تھی۔

’’ سچ کا کا! اس وقت تو میں یہی سمجھا کہ وہی مورتی ناری کے روپ میںمیرے پاس آگئی ۔‘‘

’’ گنگا ! تجھے سارا گاؤں ایڑا کہنے لگا ہے، اس لیے کہ تو ...‘‘

’’ان کےکہنے سے کیا ہوتا ہے؟ ‘‘گنگا نے اس کی بات کاٹتے ہوئے تھوڑی خفگی سے کہا ” میں تو کہتا ہوں کہ وہ سالے سب ایڑے ہیں، دیوانے ہیں۔‘‘ اس کے چہرے پر طیش و غصہ کا اثر چھانے لگا۔

’’اچھا چھوڑ... یہ توبتا، تو اس مورتی کے پاس کیوں جاتا ہے؟‘‘ بوڑھےنے ناک سے دھواں چھوڑتے ہوئے کہا۔’’ گپھا میں اور بھی تو مورتیاں ہیں ۔“

’’ بس یوں ہی، اس لیے کہ وہ مجھے اچھی لگتی ہے۔ وہ ...وہ اکیلی ہے۔ اس مورتی کے پاس کوئی دوسرا نہیں جاتا۔ وہ بہت دور ہے نا اور راستہ بھی بہت خراب ہے۔ سب ڈرتے ہیں ادھر جانے سے۔“ 

’’تو بھی مت جایا کر گنگا ۔‘‘

’’ کیوں؟ تم کون ہوتے ہو مجھے روکنے والے؟“

 گنگا نے ہاتھ بڑھا کر ایک جنگلی پودے کو اکھاڑا اور غصے سے دور پھینک دیا۔

’’ارے میں تو تیرے بھلے کی کہتا ہوں۔ راستہ بڑا خراب ہے، کہیں پاؤں پھسل گیا تو کھڈ میں جا پڑے گا۔ کوئی رونے والا بھی نہ ہو گا ۔“ 

’’کسی کے نہ رونے سے کیا؟ وہ مورتی تو ضرور روئے گی۔‘‘  گنگا نےاعتماد سے کہا۔ بوڑھے نے اس کو ایک محبت بھری گالی دی اور کہنے لگا :

’’ تو سچ سچ ہی ایڑا ہے رے۔ کہیں پتھر بھی روتے ہیں؟‘‘

 اور بجھی ہوئیچلم کی راکھ جھٹکنے لگا۔

’’روتے ہیں ، پتھر ہی تو روتے ہیں کا کا لیکن ...‘‘

’’آخر...‘‘ بوڑھے نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا ” پتھر کی مورتی میں تجھے کیا ملتا ہے جو گھنٹوں اس کے پاس پڑا رہتا ہے اور ڈھیروں پھول اس پر چڑھاتا ہے۔‘‘

 گنگا نے اس کی طرف ایسے دیکھا جیسے کوئی ماسٹر بچے کے الٹے سیدھے سوالوں سے بیزار ہو کر اس کی طرف دیکھتا ہے۔

’’کا کا ! جب بھی میں اس مورتی کے پاس جاتا ہوں، تو مجھے لگتا ہے کہ وہ میرا ہی انتظار کر رہی ہے۔ اور میں اس کے چرنوں میں پھول ڈالتا ہوں تو وہ خوشی سے انھیں سوئیکار کر لیتی ہے۔ اور میں اس کو چھوتا ہوں تو وہ کچھ بھی نہیں کہتی ، ناراض بھی نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کا کوئی موٹا باپ ہے جس سے وہ شکایت کر سکے۔ اور اس کے پاس جات پات کا بھی کوئی بھید بھاؤ نہیں۔ مجھے تو یوں لگتا ہے کہ ایک روز وہ خود بڑھ کر مجھے گلے سے لگالے گی پھر مجھے کسی سے بھی شکایت نہیں رہے گی ۔‘‘

 بوڑھا اس کی طرف مغموم نگاہوں سے دیکھتا رہا جیسے بچے کی کچھ بھی سمجھ میں نہیں آیا۔

’’ یہ دیکھو ‘‘گنگا نے اپنے سر کو بوڑھے کی طرف جھکاتے ہوئے بال چیر کر دکھایا۔ ’’یہ گھاؤ ابھی تک نہیں بھرا۔ اور شاید جیون بھر ایسا ہی رہے گا۔ پتہ ہے؟ یہ شانتی نے مارا تھا۔‘‘ گنگا ایک لمحے کے لیے رُکا جیسے اس کی آواز رندھ گئی ہو۔

’’ ایک دن میں نے اس کو ایک پھول دینا چاہا تھا۔ بس ایک ہی پھول، دور ہی سے اس کو چھوا بھی نہیں لیکن اس نے اپنے ہاتھ کا دودھ سے بھرا ہوا پیتل کا لوٹا میرے سر پر دے مارا۔ اور خود ہی چیخ چیخ کر روتے ہوئے اپنے باپ سے شکایت کرنے لگی۔ اور پھر اس موٹے نے مجھے اتنا مارا اتنا مارا ...‘‘کہتے ہوئے گنگا خاموش ہو گیا۔ بوڑھا چلم میں پھر سے تمباکو بھرنے لگا۔ 

’’میں سب جانتا ہوں کا کا ! وہ رمیش ہے نا، ڈاک بنگلے والے کا بیٹا ، شہر سے پڑھ کے آیا ہے۔ پتلون پہن کر بڑا اتراتا ہے اور یہ شانتی جو بڑی پوتر بنتی ہے، روزانہ اس سے ملتی ہے۔ رمیش اُتم جاتی کا ہے۔ پیسے والا ہے۔ اس لیے وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ اور میں ایک غریب ’’ دھیڑ‘‘ ہوں۔ اس لیے ایک پھول بھی کسی حلوائی کی لڑکی کو نہیں دے سکتا ۔کئی بار میں نے انھیں جھاڑیوں کے پیچھے دیکھا ہے۔ اور وہ سالا مجھے دھمکی دیتا ہے، ’’اگر تونے کسی سے کہا تو تیری ٹانگ تو ڑ دوں گا ۔‘‘ کبھی کبھی تو میرا جی چاہتا ہے کہ اس کے سارے کپڑے چھین کر جلا دوں۔ اور شانتی کی خوبصورت چوٹی ، جس پر وہ بڑی مٹکتی ہے، کاٹ کر اس ندی میں پھینک دوں۔ اور اس کے باپ کا مار مار کر پیٹ پھوڑ دوں۔‘‘

وہ کچھ سوچنے لگا۔’’ لیکن میں ایسا نہیں کر سکتا۔ وہ بہت سے کھیتوں کا مالک ہے۔ میں تو اس کا نوکر ہوں۔ اس کے ڈھور چراتا ہوں نا، اس لیے وہ مجھے دونوں وقت روٹی دیتا ہے، روکھی سوکھی ہی سہی۔ لال جوار ہی کی سہی ، پیٹ تو بھرتا ہے۔ اگر میرا بھی کھیت ہوتا تو...‘‘  اور اس کی نظروں میں ایک ہرا بھرا لہلہا تا کھیت چھا گیا۔ ایسا کھیت وہ پہلے بھی کئی بار تصور میں دیکھ چکا تھا۔ جیسے وہ اس کی اپنی جاگیر ہے اور اس کی اپنی محنت ہے۔ وہ اپنی فصل دیکھ کر جوار کے ہرے ہرے جھومتے ہوئے پودوں کے ساتھ خود بھی ناچنے لگا۔

بوڑھے نے کھانستے ہوئے گنگا کی طرف چلم بڑھا دی اور وہ خلا میں گھورتے ہوئے لیے لیے کش بھرنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد گنگا کے ہونٹ ہلے:

’’ اب کبھی وہ یہاں آئی تو میں اس سے کہوں گا ۔‘‘ اس کی آواز بہت دھیمی تھی، جیسے وہ اپنے آپ سے مخاطب ہے۔

’’ کیا اس نے پھر آنے کے لیے کہا تھا؟‘‘کا کانے پوچھا۔ 

’’نہیں ، کہا تو نہیں لیکن جاتے وقت اس نے آخری بار میری طرف یوں دیکھا تھا جیسے اس کا دل میری بنسی میں اٹکا رہ گیا ہے۔ میرا دل کہتا ہے...‘‘

’’ یہ تیرا پاگل پن ہے رے، جانے والے بھی نہیں آتے۔ اور پھر ان بدیسی لوگوں کے دل میں محبت تھوڑی ہوتی ہے۔ یہ لوگ بڑے کٹھور ہوتے ہیں۔ اپنے گاؤں والوں سے بھی زیادہ ۔ اس نے تو تجھے بھلا بھی دیا ہوگا۔ یہ لوگ ہم دیسی لوگوں سے بڑی نفرت کرتے ہیں۔ پتہ نہیں تیرے دماغ میں یہ کیسے بیٹھ گیا کہ وہ تجھے...‘‘

’’نہیں کا کا!میںسچ کہتا ہوں۔ یہ تو میں نے بھی سنا ہے کہ وہ لوگ بڑے گھمنڈی ہوتے ہیں، لیکن تم نے اس کی آنکھیں نہیں دیکھیں ...ان نیلی آنکھوں میں کتنی دیا تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ ایک بار ضرور آئے گی۔ جب میں اس سے کہوں گا کہ مجھے اپنے ساتھ لے چلو، میں تمہیں دن رات بنسی سناتا رہوں گا۔ صرف تمھارے لیے ہی بنسی بجاؤں گا اور تمھارا سارا دکھ ختم ہوجائے گا۔ سال دو سال، چار سال جتنا جی چاہے مجھے اپنے پاس رکھنا، پھر مجھے تھوڑے روپے دے دینا۔ بس اتنے کہ میں واپس آ کر یہاں ایک کھیت خرید لوں ، چھوٹا سا کھیت پھر اس موٹے کے ڈھور تھوڑی چراؤں گا۔ اور ایسے پھٹے پرانے کپڑے بھی نہیں پہنوں گا۔ پھر مجھے اچھے کپڑوں میں دیکھ کر وہ مورتی بڑی خوش ہو گی۔ اور میں دن رات اس کے پاس رہوں گا۔ شانتی کی صورت بھی نہیں دیکھوں گا ۔‘‘

’’دھت تیرے کی ۔ ‘‘بوڑھا مسکراتے ہوئے چلم کی راکھ جھٹک کر اس کو کپڑے میں لپیٹتا ہوا اٹھا۔ بہت باریک باریک قطرے ہوا میں اڑ اڑ کر ان کےچہروں پر ٹھنڈی ٹھنڈی سوئیاں کی چبھونے لگے۔ بوڑھے نے جھاڑی سے سوکھا ہواکرتا اٹھا کر پہنا ۔ اورپھٹی ہوئی پگڑی سر پر لپیٹتا ہوا جھونپڑیوں کی طرف چل دیا۔ 

گنگا اس کو جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ پھر اٹھ کر بانسری کو نیکر میں گھسایا۔اور ایک بڑا سا پتھر اٹھا کر غور سے دیکھنے لگا۔ پھر اس انداز میں سر سے اونچاکیا کہ وہ پتھر کو ندی میں پھینکنے والا ہے۔ لیکن پھر ارادہ ترک کر دیا۔ اور سر کے پیچھے سے پتھر کو نیچے لڑھکا دیا اور لاٹھی اٹھا کر آہستہ آہستہ پھیلے ہوئے جانوروں کو گھیرنے لگا۔


 *ختم شد*

Comments

  1. افسانہ : اس پار
    افسانہ نگار : غیاث الرحمان
    تاثر: رضوان الحق

    'اس پار' پروفیسر غیاٹ الرحمن صاحب کا بہت اچھا افسانہ ہے۔ یہ افسانہ باریک نظر اور صبر و تحمل کا تقاضا کرتا ہے۔ اس میں آہستگی اور دھیمے پن کا راگ بہت ہی خوبصورتی سے گایا گیا ہے۔
    شروع میں افسانہ نگار ایک ماہر مصور کی طرح ایک ادھر اور دوسرا ادھر اسٹروک لگاتا ہے اور ایک طرح کی تجریدیت کے ساتھ پس منظر بناتا ہے لیکن جب وہ پیش منظر بناتا شروع کرتا ہے تو اسی پر مرکوز ہو جاتا ہے ایسے میں تجریدیت ختم ہو جاتی ہے اور افسانہ قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔
    گپھا کی مورتی اور اس پار کی بدیسی خاتون کی مماثلتیں بڑی دلچسپ ہیں، دونوں میں ایک ما بعد طبیعاتی رشتہ ہے۔ دونوں گنگا کے دل میں ایک مخصوص جگہ بناتی ہیں، گنگا کو دونوں سے محبت ہے۔ اور دونوں کو پتھروں سے خاص رغبت ہے۔ شاید دونوں سنگ دل بھی ہیں۔ لیکن بانسری کے سر بھی انھیں دونوں کی قربت میں ہی پھوٹتے ہیں، وہ دونوں اس کی زندگی کا حاصل ہیں۔ ان کے بغیر زندگی کی تمام بدصورتی گنگا کی زندگی کو گھیرے ہوئے ہے۔ اس کی بانسری دونوں کو پسند ہے۔
    آخر آتے آتے زندگی کا فطری انجام بھی آ جاتا ہے اور یہ میٹھا میٹھا درد ہی اس کی زندگی کا حاصل بن جاتا ہے۔
    غیاث الرحم صاحب کے پچھلے افسانوں کی طرح اس پار بھی دل پر گہرے نقوش چھوڑ جانے والا افسانہ ہے۔ شکریہ

    ReplyDelete
  2. شہناز فاطمہ
    افسانہ نمبر :11
    افسانہ :اس پار
    افسانہ نگار :غیاث الرحمن
    تاثرات :شہناز فاطمہ
    غریبی کے پیوند میں ارمان بکھر کر کسطرح ریز ریز ہوجاتے ہیں
    اسکی بہترین عکاسی کرتا ہوا افسانہ دل کو چھو گیا
    زبردست تشبیہات و استعارات سے مزین ہے افسانہ اور کیوں نہ ہو کیونکہ یہ فنکار فکشن نے اپنے فنکارانہ ڈھنگ سے قلم بند کیا ہے
    دیہات کی منظر کشی، جزئیات نگاری، جزبات و احساسات سے لبریز افسانہ بہت ہی خوبصورت انداز سے بتاگیا ہے کہ "محبت" کی قدر کرنے والا کوئی نہیں جزبات کی کوئی اہمیت نہیں صرف اسٹیٹس پر ہی دارو مدار ہے محبت کا
    ذات پات بھی اتنی رکاوٹ نہیں ڈالتی جتنی غربت
    محبت تو ایک جزبہ ہے کسی سے بھی ہوسکتی ہے مگر دور یہ ہے کہ دیکھ کر امیروں سے..............
    محترم جناب غیاث الدین صاحب نے اسمیں دو رنگ بکھیرے ہیں شانتا کی دی ہوئی بے اعتنائی ذلت اور محبت کی ناکامی کے بعد وہ خوب صورت پری جو گنگا کی بانسری اتنا مدہوش ہوکر سن رہی تھی جو کسی دور دیش کی پری گنگا سوچنے لگتا ہے کہ شاید وہ واپس آجائے یا میں اس لاءق بن جاوءں جب میری پہنچ اس تک ہوسکے اور جزبات کی تسکین کے لئے وہ ایک بے جان مورتی پر اپنے جزبات نچھاور کرتا رہتا ہے کیونکہ احساسات اور جذبات تو سب کے پاس ہوتے ہیں امیر غریب کی تفریق سے یہ جزبہ ہی نہیں تولد کیا گیا ہے اسے لگتا ہے کہ یہ بے جان پتھر کی مورتی میرے جزبات کو سمجھتی ہے خوش ہوتی ہے مسکراتی ہے
    گنگا کو اپنی محبت پر یقین ہے کہ ایک دن وہ آءے گا جب وہ حسین پری جو اسکی بانسری پر فریفتہ تھی ضرور آءے گا یا میں خود اس قابل بن کر اسے لے آونگا
    بہرحال بہترین بلکہ لاجواب جزبات نگاری کے ساتھ جزئیات نگاری کا مرقع منظر کشی کا تو کہنا ہی کیا
    اس شاندار شاہکار افسانے کے لئے محترم جناب غیاث الدین صاحب کی خدمت میں نیک خواہشات اور بہت داد و تحسین کے ستایش ساتھ پرخلوص دلی مبارک باد پیش کرتی ہوں گر قبول افتد زہے عزو شرف

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

بادِ صبا کا انتظار : سید محمد اشرف

پناہ گاہ: اسرارگاندھی

مسیحائی : ایم مبین (بھیونڈی)