پوش کالونی کے ویران کھنڈر: ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری
بزمِ افسانہ کی پیش کش
سترہواں ایونٹ
افسانہ نمبر : 03
*پوش کالونی کے ویران کھنڈر*
ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری
وہ ایک معروف پروفیسر تھا۔اس کی شہرت کے چرچے نہ صرف ملک بلکہ بیرونِ ملک میں بھی ہوتے تھے۔اس کی تحریر یں بطور ریفرنس پیش کی جاتی تھیں اور اس کے کئی مقالے عالمی سطح کے رسائل و جرائد میں شائع ہوچکے تھے۔ماہرِ سماجیات ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بطورِ محقق بھی کافی مشہور تھا۔ نئے اسکالرزکی کتابوں اور پرجیکٹوں میں شاید ہی کوئی ایسا ہوتا جس میں اس کا حوالہ نہ شامل ہو۔ اسے کئی اعزازات سے بھی نوازا گیا تھا۔ اب جبکہ ضعیف العمری کی وجہ سے وہ کم ہی گھر سے نکلتا تھا‘ تاہم کبھی کبھی اہم سمیناروں میں اسے ضروربلایا جاتا اور وہ بھی حاضر ہوتا رہتا۔اپنی تقریر میں متعلقہ موضوع پر مدلل روشنی ڈالتا اور سامعین بھی معلومات سے محظوظ ہوجاتے۔
ہم دوساتھی ایک سماجی پروجیکٹ پر کام کررہے تھے۔یہ پروجیکٹ ہمیں ایک این.جی.او کی طرف سے ملا تھا۔ یہ پروجیکٹ مابعد جدید سماج کی زندگی اور انسان کا سکون کے موضوع پر تیار کرنا تھا۔پہلے ہم لوگ یونیورسٹیوں اورسرکاری و غیر سرکاری کتب خانوں میں پروجیکٹ سے متعلق ضروری مواد جمع کرتے رہے۔اس کے بعد فیلڈ ورک کے ساتھ ساتھ مختلف شخصیات سے بالمشافہ ملاقات اور انٹرویوز کا سلسلہ چل پڑا۔اس دوران جتنے بھی ماہرین سے گفتگو کرنے کا موقع ملا‘ ان میں سے بیشتر نے اپنی معلومات اور تجربات کے علاوہ مذکورہ پروفیسر سے رابطہ کرنے کا مشورہ ضرور دیا۔اس طرح سے ہمارے اندر پروفیسر صاحب سے ملنے کاشوق روز بہ روز بڑھتا ہی چلا گیا۔ پروفیسر صاحب سے ملنا ہمارا شوق بھی تھا اور ضرورت بھی‘کیونکہ موصوف نہ صرف متعلقہ موضوع پر ایک اتھارٹی تھے بلکہ اس کے کتب خانے میں اہم کتابوں کاذخیرہ ملنے کا امکان بھی تھا۔ایک دن انہیں یونی ورسٹی کے ایک سمینار میں مدعوکیاگیا تھا۔آج ہم بھی پہلی بار ان کے کلیدی خطبے سے محظوظ ہوئے۔ سمینار کے بعد ہم لوگ ان کے پاس چلے گئے اور اپنا مدعا پیش کیا۔ انہوں نے بڑی خندہ پیشانی سے ہماری بات سنی اور اپنا موبائل نمبر بھی سیو کروایا کہ جب بھی آنا ہو تو پہلے کال کرکے مطلع کریں۔ کئی مہینوں تک ہم فیلڈ ورک میں مصروف رہے کیونکہ ہمیں شہروں کے علاوہ قصبہ جات کے ساتھ ساتھ دیہاتوں سے بھی معلومات اکٹھا کرنا تھیں‘اس لئے بہت ساری جگہوں کے چکر کاٹنے پڑے۔ سروے کے دوران ہم نے پایا کہ شہر یا قصبوں کے برعکس دیہاتوں میں ابھی بھی مشترکہ خاندانی نظام موجود ہے اور وہ لوگ بڑی خوشحال زندگی بھی گزار رہے ہیں۔کئی جگہوں پر ہم نے ایک ہی گھر میں بیس سے لیکر تیس تیس لوگ اکھٹا رہتے دیکھے اور ہر ایک کی زبان پر گھر کے بزرگوں کی تعریفیں سنیں۔ جب ہمارے پاس کتب خانوں اور دیگر ذرائع سے بہت حد تک مواد جمع ہوگیا تو پروفیسر صاحب سے ملنے کا مشورہ ہوا۔ پروفیسر صاحب سے اتنے دنوں کے بعد ملنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ اس کے ساتھ ایک ہی ملاقات میں کام نہیں چلے گا بلکہ ہمیں بار بار اس کے مشوروں اور راہنمائی کی ضرورت پڑے گی۔
ایک دن صبح سویرے میں نے پروفیسر صاحب کو فون کیا۔کال رسیو کرنے کے بعد سلام دعا کے ساتھ ہی میں نے اپنا تعارف دیااور ملاقات کا بھی پوچھا۔ پہلے وہ چند لمحات تک سوچتے رہے اورپھر پوچھ بیٹھے کہ مجھے یاد نہیں آرہا ہے تو میں نے جب سمینار کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے پروجیکٹ کے بارے میں بھی بتادیا تو وہ ہاں ہاں یاد آیا کہتے ہوئے ہنس پڑے اور ملاقات کا وقت بھی دے دیا۔دوپہر کے وقت ہم لوگ پوش کالونی پہنچے اور پروفیسر صاحب کے گیٹ پر موجود بیل بجائی۔چند لمحات کے اندر گیٹ کھل گیا۔اندر داخل ہوتے ہی ایک نوجوان نے پُرتپاک انداز سے ہمارا خیرمقدم کیا اور اپنے ساتھ پروفیسر صاحب کے کمرے کی طرف لے گیا۔ چلتے چلتے دائیں جانب سے ایک کتے کے غرانے کی آواز بھی سنائی دی۔شاید اس نے اجنبیوں کو دیکھ کر اپنی وفاداری کا اظہار کردیا۔شکل و صورت اور آواز سے کتا بدیسی لگ رہا تھا۔ہم جب پروفیسر صاحب کے کمرے کے پاس پہنچے تو کتا ہم سے پہلے ہی کمرے میں داخل گھس گیا۔پروفیسر صاحب کرسی پر بیٹھے تھے۔ہمیں دیکھ کر وہ پُرمسرت انداز سے اٹھ کھڑے ہوئے اور ہاتھ ملاتے ہوئے بیٹھنے کا اشارہ بھی کیا۔ہم بھی شکریہ کرتے ہوئے کرسیوں پر بیٹھ گئے۔سامنے میز پر چند کتابیں‘قلم کاغذ اور لیپ ٹاپ تھا۔کمرے کی کھڑیاں خوبصورت پردوں سے سجی تھیں۔کمرے میں ایک لائبریری بھی تھی۔ اس کے علاوہ دیوار پر فریم میں چند تصویریں تھیں جن میں پروفیسر صاحب کے ساتھ ایک عورت اور دوبچوں کے مسکراتے چہرے بھی نظر آرہے تھے۔ اسی دوران ایک بزرگ خاتون بیساکھی کے سہار ے کمرے میں داخل ہوئی اور کیا حال ہے بچو کہتی ہوئی صوفہ پر بیٹھ گئی۔ خاتون کو دیکھ کر ہم نے دوبارہ تصویر کی طرف دیکھا۔اس سے پہلے ہم کچھ کہتے پروفیسر صاحب بول پڑے کہ یہ میری بیوی ہے۔یہ بھی لیکچرر تھی۔ایک دن باتھ روم میں اسے چوٹ لگی تب سے بیساکھی کے سہارے چلتی پھرتی ہیں۔یہ سن کر بزرگ خاتون مسکراتے ہوئے ہماری طرف دیکھنے لگی اورپوچھ بیٹھی کہ آپ لوگ کس پروجیکٹ پر کام کررہے ہیں۔یہ سن کر ہمیں محسوس ہوا کہ پروفیسر صاحب نے ہمارا ذکر گھر میں کیا ہے۔ہم نے جب پروجیکٹ کی تھوڑی بہت جانکاری دے دی تو نوجوان بھی چائے لیکر دوبارہ حاضر ہوا۔۔چائے پینے کے دوران پروفیسر صاحب کی بیوی نے نوجوان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ نذیر بیٹا ہماری دل سے خدمت کرتا ہے۔کئی برسوں سے ہمارے گھر میں ہے۔ یہ گاوں کا رہنے والا ہے لیکن لگتا ہے کہ اب ہمارے ہی گھر کا فرد ہے۔پہلے اس کا باپ ہمارے ہاں کام کرتا تھا پھر جب وہ بوڑھا ہوگیا تو انہوں نے اسے ہمارے گھر پر یہ کہتے ہوئے چھوڑا کہ مالک اور مالکن کی خدمت اپنے والدین کی طرح کرتے رہنا اور یہ لڑکا برابر باپ کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے ہماری خدمت کرتارہتا ہے۔ تعریفیں سن کر نذیر کا سینہ چوڑا ہوگیا اور وہ مسکراتے ہوئے کیتلی اور پیالیاں اٹھا کر لے گیا۔اس کے ساتھ ہی پروفیسر صاحب بھی نذیر کی ستائش کرتے ہوئے بولے کہ ہاں میری بیوی صحیح کہتی ہیں۔نذیر دل و جان سے ہماری خدمت کرتا ہے۔ہم میں سے اگر کوئی تکلیف میں ہو تو یہ اپنی اولاد کی طرح تڑپ اٹھتا ہے۔کبھی کبھی ہمیں ایسا لگتا ہے کہ یہ ہمارا خدمت گار نہیں بلکہ اپنا بیٹا ہے اور سچ بھی یہی ہے اپنا وہی ہوتا ہے جو اپنائیت اور محبت سے پیش آئے۔
کئی اور باتیں ہونے کے بعد بنیادی موضوع کی بات چھڑ گئی۔ پروفیسر صاحب پوچھ بیٹھے کہ اچھا منظور صاحب اب آپ مجھے بتائیں کہ پروجیکٹ کا کام کہاں تک پہنچا۔آپ لوگوں نے اس دن کہا تھا کہ پہلے ہم ضروری مواد اور ڈاٹا جمع کریں گے۔اب تو بہت عرصہ ہوگیا۔ میرے خیال میں بہت کچھ جمع ہوا ہوگا۔ پہلے مجھے تفصیل دکھائیں اگر بنائی ہے تاکہ میں بھی کچھ سمجھ سکوں کہ آپ لوگ کہاں تک پہنچے ہیں۔یہ سن کر میری دوسری ساتھی زاہدہ نے بیگ سے کاغذات نکالے اور ہم لوگ بالتفصیل تحقیقی مشق اور جمع شدہ مواد کے بارے میں بتاتے رہے۔ اسی دوران پروفیسر صاحب کی بیوی دوسرے کمرے میں چلی گئی۔تقریباََ تین گھنٹے تک پروفیسر صاحب کاغذات دیکھتے رہے اور ہماری تحقیقی کاوشوں کا جائزہ لیتے رہے۔پورا جائزہ لینے کے بعد پروفیسر صاحب نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس پروجیکٹ پر آپ لوگوں نے کافی ہوم ورک کیا ہے۔ اب جو کچھ ضرورت پڑے گی تو اس سے متعلق آپ کو میری لائبریری سے مواد مل سکتا ہے اور باقی کام بھی ہوتا رہے گا۔ اہم چیز فیلڈ ورک ہے جو آپ لوگوں نے بخوبی انجام دیا ہے۔پروفسیر صاحب کی حوصلہ افزائی سے ہماری ہمت بندھ گئی۔چند اہم ہدایات سے نوازنے کے بعد پروفیسر صاحب فرمانے لگے کہ آپ لوگوں کی محنت‘قابلیت اور زندہ دلی دیکھ کر دل خوش ہوا‘اس لئے آپ لوگ کبھی اور کسی بھی وقت بلاتکلف یہاں پر آسکتے ہیں اور آنا تو ضرور ہوگا کیونکہ یہ آپ لوگوں کی مجبوری بھی ہے لیکن پہلے فون پر رابطہ کرتے رہنا۔ یہ سن کرہم لوگ مسکرا اٹھے اور شکریہ ادا کرنے کے ساتھ وہاں سے نکل گئے۔
گیٹ سے نکلنے کے بعد ہم نے کالونی پر ایک سرسری نظر دوڑائی۔ہرطرف کئی کئی منزلوں کے محل نما خوبصورت مکانات نظر آئے۔لیکن اتنی خوبصورت کالونی کا ماحول جنگل کے سناٹے جیسامحسوس ہوا۔ کیونکہ بستی کی چہل پہل کہیں سے بھی نظرنہیں آئی۔ تھوڑا چلنے کے بعد ایک خوبصورت پارک پر نظر پڑی۔وہاں کے بنچوں پرچند بزرگ محوِگفتگونظر آئے۔ کچھ اونگھ بھی رہے تھے۔ پارک میں موجود لوگوں کو دیکھ کر زاہدہ بولی کہ چلو ان کے ساتھ تھوڑی بہت بات کریں۔ میں نے انکار کرتے ہوئے بتایا کہ پھر کبھی دیکھیں گے لیکن باہمی مشورے کے بعد پارک کی طرف چل پڑے کہ کسی نہ کسی بزرگ سے بات ہوجائے اور پروجیکٹ سے متعلق کچھ جانکاری بھی مل سکے۔جب ہم پارک میں داخل ہوگئے تو بزرگ لوگ ہمیں دیدے پھاڑ پھاڑ کردیکھنے لگے۔پتہ نہیں انہوں نے کیا سمجھا لیکن جب ہم ان کے قریب پہنچے تو وہ ایک دوسرے کے چہروں کو استفہامیہ نظروں سے تکنے لگے۔جب علیک سلیک ہونے کے ساتھ ہم نے اپنا تعارف کرایا تو ان لوگوں کی حیرت دور ہوگئی اور بات چیت کرنے کے لئے آمادہ ہوگئے۔ہم نے بیٹھتے ہی پارک کا ایک جائزہ لیا۔کئی لوگوں کے علاوہ چند کتے بھی درختوں کے سایوں میں گم سم بیٹھے تھے۔ بیشتر کتے بدیسی نسل کے لگ رہے تھے اورہر ایک کے گلے میں زنجیر کے ساتھ ساتھ پٹابھی لگا ہوا تھا جس پر کتوں کے نام کے ساتھ انسانوں کے نام بھی رقم تھے۔ میں نے جب اپنے پروجیکٹ کے حوالے سے بات شروع کی‘ اس کے مقاصد پر مختصر روشنی ڈالی اور ساتھ ہی پروفیسر صاحب سے ملاقات کے بارے میں بتایاتو ان میں ایک بزرگ‘جس کی داڑھی اور سر کے بال پورے سفید ہوچکے تھے‘ نے اپنا تعارف بطور سبکدوش ایگزیکیٹیو انجینئر دینے کے ساتھ ساتھ ہنستے ہوئے کہا کہ اچھا آپ اپنے پروفیسر گلشن صاحب کی بات کررہے ہیں۔وہ بھی تو اپنی برادری کے آدمی ہیں اور یہاں پر اکثر آتے رہتے ہیں۔بھئی ان کی ایک خوبی تو دل چھو لیتی ہے کہ جب بھی کسی سوشل ایشو پر گفتگو کرتے رہتے ہیں توہم لوگوں کے علم میں بھی اضافہ ہوتا ہے اورتھوڑے دیر تک راحت کی سانس بھی لیتے ہیں۔یہ سن کر ایک بار پھر ہمارے دلوں میں پروفیسر صاحب کی قابلیت اور عزت کا گراف بلند ہوا۔اب ہم نے پہلے انجینئر صاحب سے ہی گفتگو کا سلسلہ شروع کیا کہ آپ لوگ پوش کالونی کے مکین ہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ آپ لوگوں کی زندگی خوشحال ہوگی‘یہاں پر زندگی کی جدید سہولیات دیکھ کر لوگ پوش کالونیوں میں گھر بنانے کی تمنا کرتے رہتے ہیں۔ پہلے انجینئر صاحب اور دوسرے لوگ یہ سن کر مسکرائے پھرانجینئر صاحب نے بڑے فخر سے کہا کہ جی آپ صحیح فرماتےہیں کہ ایسی کالونیاں جدید سہولیات کا نمونہ ہوتی ہیں اور یہاں پر کم آمدن والے لوگ گھر بنانا تو کیا زمین کا ایک چھوٹاسا ٹکڑا تک خریدنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ہیں۔ یہ سن کر ہم دونوں نے اثبات میں سر ہلائے اور اب زاہدہ پوچھ بیٹھی کہ اصل میں ہمارا موضوع خاندانی نظام ہے تو اس کالونی کی زندگی اور رہن سہن کے بارے میں تھوڑا بہت بتائیں اور مشترکہ خاندانی نظام جو کہ ہماری تہذیب کا ایک حصہ ہے اور دل کے سکون کا وسیلہ بھی‘پر اپنے تجربات سے نوازیں۔یہ سن کر انجینئر صاحب چند لمحات تک خاموش رہے پھر بول پڑے:
”آپ لوگ جدید دور کے بچے ہیں۔اب تو ایسی کالونیوں میں قدیم دور کا مشترکہ خاندانی نظام خواب سا بن گیا ہے۔
پہلے ایک ایک گھر میں کئی کئی لوگ محبت سے ایک ساتھ رہتے تھے لیکن اب تو دو بھائی بھی ایک ہی چھت کے نیچے اکٹھا
رہناپسند نہیں کرتے ہیں تو چاچا بھتیجوں کی بات ہی کہاں۔دراصل یہ شاید نئے زمانے کی ضرورت بھی ہے اور ہم جیسے
پرانی سوچ رکھنے والے لوگوں کی مجبوری بھی‘کیونکہ نئے دور کے ساتھ خود کو ایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے۔“
”اچھا انکل۔“زاہدہ نے یہ سن کر ایک اور سوال پوچھا.”آپ کے بچے کیا کررہے ہیں‘کیا وہ ایک ہی فیملی میں رہتے ہیں
یا الگ الگ گھربسائے ہیں۔“
”جی بیٹی“انجینئر صاحب سر ہلاتے ہوئے بولے۔”دراصل میرے دو بیٹے یورپ میں رہتے ہیں۔دونوں کا اپنااپنا بزنس
ہے۔ویسے پوش کالونی کے بیشتر بچے فائرن کنٹریز میں ہی رہتے ہیں۔اب ایسی کالونیوں میں رہنا کوئی بچوں کا کھیل
تھوڑا ہی ہے‘یہاں کا لائف ا سٹائل کافی دولت وشہرت کا تقاضا کرتا ہے جو کہ ہمارے یہاں ممکن نہیں ہے۔ویسے پروفیسر
صاحب کے بچے بھی تو بیرون ملک میں ہی ہیں‘کیا انہوں نے نہیں بتایا۔“
انجینئر صاحب کی فخر اساس باتیں سن کر میں نے سوال پوچھاکہ کیا وہ لوگ یہاں پر آتے رہتے ہیں۔اور اپنے والدین کا کتنا خیال رکھتے ہیں۔اب انجینئر صاحب کے بدلے ایک اور بزرگ بول پڑے:
”بیٹا ہمارے بچوں کو اتنی فرصت کہاں ہے کہ وہ یہاں پر بار بار آسکیں۔بس زیادہ تر فون پر ہی رابطہ رہتا ہے۔ہاں ایک
بات ضرورہے کہ انہوں نے ہمارا دل بہلانے کے لئے فائرن سے وہ کتے بھیجے ہیں۔بڑے قیمتی کتے ہیں وفادار
اتنے کہ ہمیشہ بچوں کی طرح ہمارا خیال رکھتے ہیں۔ہمارے والدین ہماری انگلی پکڑ کر مارنینگ واک کرتے تھے اور ہم
لوگ ان کتوں کی زنجیر پکڑ کرگھومتے پھرتے ہیں۔ آپ ان محل نما مکانوں میں جائیں تو بچوں کی بجائے ان کتوں سے
ضرور واسطہ پڑے گا۔آہ‘پتہ نہیں دولت کی ہوس نے انسان کو کیا سے کیا بنا دیا ہے۔“
بزرگ کی آبدیدہ نگاہیں اورمایوس لہجہ اس کے دل کی اداسی کا واضح اشارہ کررہاتھا۔ان لوگوں سے ملاقات کے بعدہم دونوں رخصت لے کر پارک سے نکل ہی رہے تھے کہ فائرن کتوں کے غرانے کا شور ہمیں اپنی طرف متوجہ کرگیا۔ کتے ایک بلی کے پیچھے دوڑ تے دوڑتے اس پر ٹوٹ پڑے اور اس کی بوٹی بوٹی نوچنے لگے۔بزرگ جس سرسبز وشاداب پیڑ کے سائے میں بیٹھے تھے اس کے اوپر کوئے بلی کی بے بسی دیکھ کر کائیں کائیں کرنے لگے۔میں پیڑ کے سائے میں بیٹھے بزرگوں کے اداس چہروں کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگا کہ جیسے بہار ہونے کے باوجود سرسبز و شاداب پیڑ کے پتوں پر خزاں کا اثر دکھائی دے رہا ہے۔
وہاں سے نکلنے کے بعد ہم دونوں پروفیسر صاحب‘ان کی بیوی اور بزرگوں کی باتوں پر گفتگو کرنے لگے۔زاہدہ نے فخریہ انداز سے کہا کہ آپ تو پارک میں جانے سے انکار کررہے تھے لیکن وہاں پر تو خاص قسم کا مواد مل گیا۔میں نے سر اثبات میں ہلاکرچند تعریفی کلمات کہے اور دونوں ہنس پڑے۔اس کے بعد کئی بار ہم پروفیسر صاحب کے ہاں چلے گئے اور ان کے کتب خانے کے ساتھ ساتھ گفتگو سے بھی استفادہ کرتے رہے۔جس کی وجہ سے ہمارا پروجیکٹ ٹھوس مباحث کی جانب بڑھنے لگا۔ایک دفعہ جب ہم نے ملاقات کو فون کیا تو وہاں سے پروفیسر صاحب کی بجائے نذیر نے کال رسیو کی اور بتا یاکہ چند روز قبل مالکن کا انتقال ہوگیا اور مالک کافی صدمے میں ہیں۔ ہم لوگ یہ افسوس ناک خبر سن کر غم زدہ ہوگئے اور ایک ہفتے کے بعد جب تعزیت پرسی کے لئے وہاں پرچلے گئے تو نذیر کو گھر میں اکیلے پایا۔ معلوم کرنے پر اس نے بتایا کہ مالک آتے ہی ہونگے وہ ڈاکٹر کے پاس چلے گئے ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد نزیر نے جب پانی کے دو گلاس ٹیبل پر رکھے تو میں نے پوچھا کہ ماں کی وفات پر ان کے بچے گھر آئے تھے کہ نہیں۔یہ سن کر نذیر نے سرد آہ بھری اور کہا‘نہیں‘مالک نے انہیں فون پر بتایا تھا لیکن انہوں نے کہا کہ ہم تین چار مہینے تک نہیں آسکتے ہیں کیونکہ یہاں پر کام بہت پڑا ہے اور بچوں کے امتحانات بھی شروع ہورہے ہیں۔ یہ سن کر ہمیں اور زیادہ افسوس ہوا۔نذیر نے چائے کے لئے پوچھا لیکن ہم نے انکار کیا اور تھوڑا بہت ان کے بچوں کے بارے میں جاننا چاہا۔اس نے کہا کہ مالک اور مالکن نے اپنے بچوں کی بہتری کے لئے کیا کیا کچھ نہیں کیا ہے اور وہ آج ماں کی خبر سن کر بھی نہیں آئے۔میں نے اپنے باپ سے سنا ہے کہ مالک کسی یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے اور اسی یونیورسٹی میں اپنے لڑکے کو بھی پڑھانے پر لگا دیا۔پھر ایک دن یہ امریکہ چلے گئے اور جب واپس آئے تو اپنے لڑکے کو وہاں پر پڑھانے کے لئے بھیج دیا۔پہلے وہ سال میں دوتین بار گھر آیا کرتا تھا لیکن اب صرف فون پر ہی بات چیت ہوتی رہتی ہے۔مالک کی بیٹی ڈاکٹر ہے اور وہ بھی باہر کسی ملک میں اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہیں۔نذیر نے اپنی بات ختم کردی اور گیٹ پرگھنٹی کی آواز بج اٹھی۔نذیر یہ کہتے ہوئے دوڑ پڑا کہ شاید مالک آگئے۔پروفیسر صاحب آتے ہی باتھ روم میں چلے گئے اور وہاں سے فراغت کے بعد ہمارے پاس چلے آئے۔ہم دونوں سلام کرتے ہوئے کھڑے ہوگئے اور انہوں نے سلام کا جواب دینے کے ساتھ ہی ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ اب ہم نے ماں جی کی وفات پر اظہار افسوس کیا اور بتایا کہ چند دن قبل نذیر نے فون پربتا دیا۔ وہ تھوڑی دیر دیوار پر ٹنگی تصویر کو دیکھتے رہے اور پھر اپنی بیوی کے کئی واقعات سنائے۔اس کے بعد آہ بھرتے ہوئے بولے کہ آخر سبھوں کو تو ایک نہ ایک دن جانا ہے اس لئے صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ہم نے جب بچوں کے بارے میں پوچھا تو یہ سنتے ہی پروفیسر صاحب کے صبر کا باندھ ٹوٹ گیا‘آبدیدہ ہوکربول پڑے:
”بچوں کی خوشی کی خاطر ہم لوگوں نے کیا کچھ نہیں کیا۔میرا بیٹا جب یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر بن گیا تو اس کے لئے
میں نے اپنے ضمیر کو مارکر سیاہ تو سفید اور سفید کو سیاہ کردیاتھا۔لڑکی کے بارے میں باقی کیا کہونگا۔اس کی خوشیوں کی
خاطرہم نے لاکھوں روپے خرچ کرڈالے تب جاکے وہ ڈاکٹر بن گئیں لیکن آج وہ لوگ دولت و شہرت اوراپنے بچوں
کا مستقبل سنوارنے کی دھن میں اپنے ہی والدین کو بھول بیٹھے ہیں۔“
ہم لوگ بار بار پروفسیر صاحب نے چہرے کو دیکھتے رہے۔وہاں پر ہمیں مایوسی کا جنگل نظر آیا۔پانی پینے کے ساتھ ایک گولی کھانے کے بعد وہ مزید کہنے لگے کہ:
”اس پوش کالونی کے بظاہر خوش نظر آنے والے بیشتر لوگ اند ر سے کتنے بیمار ہیں وہ ان کادردبانٹ کر ہی پتہ چلتا ہے۔
یہ سب آسیب ِ زر کا نتیجہ ہے۔ ہم لوگ مادیت پرستی کی دوڑ میں تہذیبی اور اخلاقی قدروں کو بھول گئے ہیں۔انسان
جب مادیت کا پجاری بن جاتا ہے تو پھر اس کی حیثیت ایک مشین سے کم نہیں رہتی ہے۔اس کے اندرنہ احساس باقی
رہتا ہے اور نہ ہی سکون کی خوشبودوڑتی ہے۔یہ اسی مادی تہذیب کا اثر ہے کہ اب آہستہ آہستہ مشترکہ خاندان کے کلچر
کا خاتمہ ہورہا ہے اور سوسائٹی میں مسابقتی دوڑ شروع ہوچکی ہے جس کی وجہ سے اپنائیت کی بجائے رشتوں کے کھوکھلے
پن کا چلن عام ہورہا ہے۔“
پروفیسر صاحب کے لہجے کا اتار چڑھاؤ اور سسکتی آواز کا کرب محسوس کرتے ہوئے میں سوچنے لگا کہ جیسے ہم لوگ ایک فاتح کھلاڑی کے لہجے میں ایک ناکام کھلاڑی کی داستان الم سن رہے ہیں۔ ہم لوگ کافی دیر تک وہاں پر ٹھہر ے رہے اورجب انہوں نے ہمارے کام کے بارے میں پوچھا تو یہ سن کر خوش ہوئے کہ تقریباََ اسی فیصد مکمل ہوچکا ہے۔وہاں سے نکل کر ہم دونوں پر مایوسی چھا گئی اور پروفیسر صاحب کی ذہنی کیفیت پر تبصرہ کرتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچے کہ اتنی دولت اور شہرت کے باوجود وہ اندر سے بکھر گئے ہیں۔اس کے بعد ہم کبھی کھبار ان سے فون پر ہی بات کرتے رہتے۔قریباََ پانچ مہینے کے بعد جب میں نے ایک دن فون لگایا تو فون سوچ آف آرہا تھا۔
میں نے جب یہ زاہدہ کو بتایا توہم نے سوچا کہ شاید ان کے بچے مت آئے ہونگے اور انہیں اپنے ساتھ لے کر چلے ہونگے۔کئی دنوں کے بعد میں نے دوبارہ فون لگایا تو نذیر کی آواز سنائی دی۔نذیر بات کرتے ہی رو پڑا کہ مالک کا انتقال ہوگیا ہے۔میں نے یہ بات جب زاہدہ کو بتائی تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔دوسرے دن ہم لوگ وہاں پر چلے گئے۔نذیر گھر میں اکیلا تھا۔ہمیں دیکھتے ہی اس کی آنکھوں میں آنسوامڈ آئے۔میں نے جب پروفیسر صاحب کی اچانک موت کے بارے میں پوچھا تو وہ کہہ اٹھا کہ مجھے پچھلے مہینے کے آخری ہفتے گھر سے فون آیا کہ باپ کی طبیعت خراب ہے اس لئے جلدی گھر آنے کے لئے کہا گیا۔میں نے جب یہ بات مالک کو بتائی تو وہ بھی پریشان ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھی ساتھ چلیں گے۔انہوں نے گاڑی نکالی اور چار بجے کے قریب ہم لوگ گھر پہنچ گئے۔وہاں پر ماتم کا ماحول چھایا ہوا تھا۔ وہ لوگ میرا ہی انتظار کررہے تھے۔میرے پہنچنے کے بعد کفن دفن کا کام شروع ہوا۔ رات کو جب بہت سارے بستی والے اور رشتہ دار گھر پر ہی ٹھہر گئے اور ہر کوئی دلاسہ دیتا رہا تو میں نے محسوس کیا کہ مالک کسی اور ہی عالم میں پہنچ گئے ہیں۔اس غم زدہ ماحول میں بھی وہ خوش نظر آرہے ہیں۔میں جب انہیں ایک ہمسائے کے یہاں رات کو سونے کے لئے چھوڑ گیا تو وہ کہنے لگے اگر چہ اس وقت یہ بات کہنے کی نہیں ہے لیکن میں خوش ہوں کہ گاؤں میں انسان لاوارث نہیں مرتا ہے۔میں سمجھتا ہوں اگر کسی کی اپنی اولاد بھی نہ ہو تو وہ ایسے سماج میں بے بسی سے نہیں مرے گا۔ دوسرے دن مالک شہر کے لئے نکل پڑے اور مجھے بتایا کہ اسے کسی نہ کسی طرح سے فون کرتا رہوں۔چند دنوں تک میں تعزیت پرسی میں ہی مصروف رہا اور ایک دن اپنے ایک ہمسایہ کو نمبر دیکر مالک سے بات کرنے کو کہا۔ فون پر مالک نے خیروعافیت پوچھی اور آنے کے بارے میں بھی کہا۔میں نے کہا آٹھ دس دنوں کے بعد ضرور آونگا۔اس کے چند دن بعد گاؤں میں برف بھاری شروع ہوگئی۔راستے بھی بند ہوگئے پھر جب گاڑیاں چلنے لگیں تو میں نے مالک سے فون پر رابطہ کرنا چاہا تاکہ اسے اپنے آنے کی خبر بھی دوں لیکن فون بند آرہا تھا میں تھوڑا ساپریشان ہوا اور اگلی صبح شہر کی طرف نکل پڑا۔یہاں پہنچ کر میں نے جب گیٹ کھولا تو کتے کی بھونکنے کی آواز آئی۔ میں اسے پچکراتے ہوئے آگے بڑھ گیا تووہ مجھے دیکھتے ہی دم ہلاتے ہوئے دروازے سے ہٹ گیا۔ میں نے کتے کے منہ پر خون دیکھا۔ میں پریشان ہوکر جلدی اندر چلا گیا۔مالک اپنے کمرے میں اوندھے منہ فرش پر پڑے تھے۔ میں نے جب انہیں آواز دیکر ہلایا۔اس کے بعد نذیر کی آنکھوں سے آنسوؤں کی دھار نکل پڑی۔یہ سن کر ہم لوگ بھی اپنے آنسو نہیں روک پائے اور وہاں سے اٹھ کر گیٹ سے نکل آئے۔باہر نکلتے ہی میں پروفیسر صاحب کے حوالی نما مکان کو دیکھنے لگا اور اس کے بعد کالونی کی طرف نظر دوڑائی۔مجھے ایسا محسوس ہوا کہ پوش کالونی کے محل نما مکانات خاموش رہ کر اپنے اندر کے ویران کھنڈرات کا ماتم منا رہے ہیں۔
ختم شدہ ـ

ڈاکٹر ریاض توحیدی کا شمار عصر حاضر کے بلند قامت ناقدین میں ہوتا ہے۔ تنقید کے ساتھ ساتھ تخلیقی میدان کے بھی شہسوار ہیں اور خاص کر علامتی افسانے بڑے جاندار لکھتے ہیں جن میں کشمیر کے حالات اور کشمیروں کے رنج و غم ، پریشانیوں ، مصیبتوں اور ان تمام عوامل کا تذکرہ علامتی انداز میں کرتے ہیں جن کا سامنا ہم کررہے ہیں۔پوش کالونی کے ویران کھنڈر میں ان والدین کے درد وکرب کو موضوع بنایا گیا ہے جن کے بچے بیرون ملک کمانے گئے ہیں اور پھر وہیں کے ہوکر رہ گئے۔افسانے میں پروفیسر گلشن کی علمیت اور بستی کے دیگر افراد کا تذکرہ بھی ہے جن کے بچوں نے ان کے لئے کتوں بھیجے ہیں۔کتے بچوں سے زیادہ وفادار ہے جو بزرگوں کا خیال تو رکھ رہے ہیں۔ایسے واقعات اب عام ہونے لگے ہیں کہ بچے بیرون ملک میں ہیں اور والدین کے جنازے میں شرکت تک نہیں کرتے۔یہ اکیسویں صدی کی دین ہے کہ اپنے فائدے اور زر کے لئے اپنوں تک کا بھی خیال نہیں کیا جاتا۔عنوان دیکھ کر مجھے لگا کہ علامتی افسانہ ہوگا لیکن خیر۔۔۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کے اس سے بہتر افسانے پڑھے ہیں اور اس کو ڈاکٹر صاحب کے نمائندہ افسانوں میں شمار اس لئے نہیں کروں گا کہ اس میں افسانویت کم اور یہ روداد زیادہ ہے۔جو بات اختصار کے ساتھ کہی جاسکتی تھی اور شاید اس کا اثر بھی زیادہ ہوتا اس کو خواہ مخواہ طول دیا گیا ہے۔چند ایک جگہ پر جملے بھی نظرثانی کا تقاضا کرتے ہیں جیسے۔۔۔
ReplyDelete"تو کتا ہم سے پہلے ہی کمرے میں داخل گھس گیا۔"
بہرکیف ڈاکٹر صاحب کے لئے مسکراہٹ ۔۔۔۔
ایس معشوق احمد
اپنا نام تبصرے کے اوپر لکھا کریں.
ReplyDeleteافسانہ: پوش کالونی کے ویران کھنڈر
ReplyDeleteافسانہ نگار : ڈاکٹر ریاض توحیدی
تاثرات : نسترن احسن فتیحی
میرے لئے یہ پورا افسانہ اس کا عنوان ہے ۔"پوش کالونی کے ویران کھنڈر "
عمدہ موضوع ہے۔ اس پر لکھا جانا چاہئے اور بہت لکھا بھی گیا ہے ۔عنوان بہت پسند آیا۔اس عنوان کے بعد شاید کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی سارا المیہ اس عنوان نے سمیٹ لیا ہے۔ مگر افسانے میں الفاظ کا بے دریغ استعمال کیا گیا ہے ۔ جس کی ضرورت نہیں تھی ۔کسے کے گھر وزٹ کرنے کی روداد میں ڈور بل بجانے سے لے کر اندر آنے، سلام کرنے، بیٹھنے، کھڑےہونے تک کی تفصیلات درج ہیں ۔اگر یہ سارے زائد جملے ہٹا دئے جائیں تو کہانی پر کوئ فرق نہیں پڑیگا۔اور ایسا ہر جگہ ہے۔ افسانہ اتنا گٹھا ہوا ہونا چاہئے کہ ایک لفظ ادھر سے ادھر کرنے کی گنجائش نہ ہو۔ مجھے حیرت ہے کہ یہ افسانہ ڈاکٹر ریاض توحیدی صاحب کا یے جو خود ایک نقاد ہیں ۔اور پہلے کئ ان کے اچھے افسانے پڑھ چکی ہوں۔ اس افسانے کا موضوع اچھا یے ۔ مگر اسے پیش کرنے کا انداز کچھ زیادہ سادہ اور سہل اپنایا گیا۔ ایک بار اس افسانے پر نظر ثانی ضرور کریں ۔
افسانہ: پوش کالونی کے ویران کھنڈر
ReplyDeleteافسانہ نگار: ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری
مبصر: جاوید نہال حشمی (کلکتہ)
ڈاکٹر ریاض توحیدی اپنی فعالیت کے باعث ادبی منظر نامے پر بہت نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ چاہے وہ سوشل میڈیا فورَمس ہوں یا پرنٹ میڈیا پبلیکیشنز، افسانوں کے تعلق سے ایک house-hold نام ہوتے جا رہے ہیں۔ موصوف کے بنیادی میدان تحقیق اور تنقید ہیں مگر انہوں نے افسانے بھی لکھے ہیں اور افسانوں کے مجموعے بھی لائے ہیں، اور اب بحیثیت افسانہ نگار بھی اپنی شناخت قائم کرتے جا رہے ہیں۔
زیرِ نظر افسانہ "پوش کالونی کے ویران کھنڈر" موضوعاتی اعتبار سے دَورِ جدید کے ایک سنگین المیے کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ گو کہ موضوع نیا نہیں ھے، فاضل تخلیق کار واقعات کے تانے بانے اور اپنے بیانیے سے قاری کے دل کو جھنجھوڑنے اور اس میں ہمدردی پیدا کرنے میں کامیاب ھے۔
اب آئیے افسانے کے فنّی پہلوؤں پر بھی تھوڑی نظر ڈال لیں۔
سپاٹ بیانیہ کی کمزوری کو جذبات نگاری نے جابجا سنبھال رکھا ھے۔ دوسرے نصف حصے میں والدین اور اولاد کی ذمہ داریوں اور فرائض کے تعلق سے 'درسِ اخلاقیات' افسانے کے معیار کو مجروح کرتا ہوا محسوس ہوا۔ والدین کے احسانات کو براہِ راست بیان نہ کر کے مکالموں کے ذریعہ بھی قاری کو محسوس کرایا جا سکتا تھا، ٹھیک اسی طرح جس طرح اولاد کی بےحسی والدین کی موجودہ زبوں حالی سے بالکل واضح ہو رہی ھے، ان کی احسان فراموشی کے براہِ راست ذکر کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ اسی راست بیانیے نے کہیں کہیں غیر ضروری طوالت کا بھی ہلکا سا احساس دلایا ھے۔ مکالموں کی شمولیت سے گو کہ طوالت میں مزید اضافہ ہو سکتا تھا مگر طوالت کا *احساس* جاتا رہتا نیز بیانیے کی یکسانیت پر بھی قابو پایا جا سکتا تھا۔
آج کل جدیدیت اور تجریدیت کے برخلاف افسانے میں "کہانی پن کی واپسی" کی بحث شد و مد سے جاری ھے۔ میں بھی افسانوں میں کہانی پن کی واپسی کا حامی ہوں، کہانی کہنے کے طرز یا اسلوب کی نہیں!
یہ میرا ذاتی نظریہ ھے اور دیگر احباب کو اختلافِ رائے کا پورا حق ھے۔
عنوان زبردست ھے جس کے لیے الگ سے خصوصی مبارک باد۔ اگر علامتی عنوان کی ہی طرح بیانیہ بھی منفرد ہوتا تو کیا کہنے۔
یہ افسانہ بہرحال قاری کو متاثر کرنے اور اپنا پیغام پہنچانے میں کامیاب ھے جس کے لیے ڈاکٹر صاحب کو دلی مبارک باد ❤️
*جاوید نہال حشمی* (کلکتہ)
افسانہ :پوش کالونی کے ویران کھنڈر
ReplyDeleteافسانہ نگار :ڈاکٹر ریاض توحیدی
مبصر :عظیم اللہ ہاشمی (بنگال)
زیر نظر افسانہ رواں بیانیے کی صورت قاری کے سامنے ۤۤآیا ہے۔اس افسانے میں اولادوں کی ناخلفی اور اس کے اسباب تلاشنے کی کوشش ہوئی ہے۔پروفیسر کا کردار ایک دکھی کردار کی صورت نمودار ہواہے جس کے پاس سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ بھی نہیں ہے۔ایسا کہاجاتاہے کہ اولاد بڑھاپے کی لاٹھی ہوتی ہے لیکن رواں عصر میں یہ بیساکھی بنے سے بھی قاصر ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ مادیت پرستی ہے جس کے ہوس میں آج کی اولاداپنی تہذیب اور اخلاقی قدروں کوبھول گئی ہے۔اسی کے سبب مشترکہ خاندانی کلچر زوال پزیر ہے۔اس کا شکار پوش کالونی میں رہنے والے لوگ زیادہ ہیں جو باہر سے بظاہر خوش پوش دکھتے ہیں لیکن اندر سے وہ اتنے ہی بیمار ہوتے ہیں۔ایسے ہی لوگوں کے ترجمان زیر نظر افسانے کامرکزی کردار پروفیسرصاحب ہیں ۔یہ افسانہ احسا س دلاتاہے کہ گائوں میں انسان لاوارث نہیں مرتااور پوش کالونی میں کوئی وارث نہیں ہوتا۔نیز بیٹوں کے بھیجے کتے وفادار ہوگئے لیکن بیٹے،جن کو خون جگرپلا کر پالاپوسا،ناخلف ہوگئے۔بہر حال افسانہ معاصر زندگی میں والدین کے کرب کا ایک نثری مرثیہ ہے جس پر مقامی بولی کااثر صاف صاف جھلک رہا ہے۔ نیک خواہشات
شہناز فاطمہ افسانہ نمبر : 03
ReplyDeleteافسانہ : پوش کالونی
افسانہ نگار :ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری
تاثرات :شہناز فاطمہ
افسانہ تو پڑھا ہوا تھا لیکن اسکا درد اثر ویسا ہی ہوا جیسا پہلے ہوا تھا اور یہ اس تاثر کا ہی اثر تھا جو میں فوراً کچھ نہیں لکھ سکی
سفیر مسکراہٹ ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری صاحب کے قلم میں تو ایک ایسی تاثیر ہے جو دل میں اتر کر ذہن کو جھنجھوڑ دیتی ہے اور اس افسانے میں تو وہ طرز نگارش اختیار کیا ہے کہ لگتا ہے حرفوں سے اسکرین بنا کر لفظوں سے ویڈیو تیار کیا ہے نگاہوں کے سامنے اسطرح ہر منظر آگیا جیسے میں پڑھ نہیں دیکھ رہی ہوں
اور یہ المیہ ہے آج کے دور کی "پوش کالونی" اکدم "پوش دل" ہوگئی ہے جہاں اپنائیت، محبت، ہمدردی ،اخلاق انسانوں سے نہیں فارن سے بھیجے ہوئے کتوں سے ہوتی ہے
انسانی اقدار ختم ہو چکے ہیں پوش کالونی کی فرسالٹیز "آسائشوں" سے دل کو بہلاتے ہیں اور زندگی کی "تنہائیوں" میں گم ہو کر تنہا سفر آخرت کرتے ہیں جیسا کہ اسمیں پروفیسر صاحب کے ساتھ ہوا
احساس سب بزرگوں کو ہوتا ہے اپنی تنہائی کا لیکن دور ایسا ہے کہ کچھ کھ نہیں سکتے کر نہیں سکتے بس یہ سوچ کر خوش ہو جاتے ہیں کہ میرے بچے فارن میں خوش اور مطمئین ہیں اور ہمارے لئے ساری سہولیات مہیا کررکھی ہیں اور ہمیں زندگی میں کیا چاہیے
دل دکھتا ہے احساسات زخمی ہوتے ہیں جزبات پلکوں کو بھگو دیتے ہیں لیکن حالات سے احتجاج نہیں کر پاتے
اتنا پر درد وپر اثر افسانہ پڑھ کر دل اداس ہو گیا
ایسی امیری ایسے عیش کو سلام
اس شاہکار افسانہ نگار کی عظمت کو سلام جسنے منو عن تصویر کھینچ دی موجودہ صورتحال کی
محترم ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری صاحب کے لئے نیک خواہشات اور پرخلوص دلی مبارک باد پیش کرتی ہوں گر قبول افتد زہے عزو شرف
افسانہ : پوش کالونی کے ویران کھنڈر
ReplyDeleteافسانہ نگار : ڈاکٹر ریاض توحیدی
تاثرات : رفیع حیدر انجم
ڈاکٹر ریاض توحیدی فکشن کے قابلِ ذکر ناقد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک افسانہ نگار کی حیثیت سے بھی اپنی شناخت رکھتے ہیں. فکشن کے باشعور قارئین کا مجموعی خیال ہے کہ ان کے افسانوی جوہر علامتی افسانوں میں کھلتے ہیں. پیشِ نظر افسانے کا موضوع آئینے کی طرح صاف ہے. یہ افسانہ مشترکہ خاندانی روایت کی حمایت اور نیوکلیر فیملی کے تباہ کن اثرات کی وضاحت کرتا ہے. پیش کردہ موضوع کے تمام ممکنہ جزیات کو سمیٹ لئے جانے کی لگن میں افسانہ غیر ضروری تفصیلات کے ساتھ قدرے طویل ہو گیا ہے. افسانہ باماجرا اور راست بیانیہ اسلوب میں لکھا گیا ہے جس میں کتا ایک علامت کے طور پر موجود ہے. مالک کی لاش کو کتے کے ذریعہ نوچا جانا ایک نیوکلیئر فیملی کے عبرت ناک پہلو کی جانب توجہ مبذول کرتا ہے. کتے وفادار ہو سکتے ہیں مگر انسانوں کی طرح باشعور نہیں اور نہ ہی اپنی وحشیانہ سرشت کو ترک کرنے کے اہل ہو سکتے ہیں. اسے ہم ایک عبرت انگیز اور سبق آموز افسانہ کہہ سکتے ہیں.ویسے اس افسانے میں جس پروفیسر صاحب کی زندگی سے قصہ اٹھایا گیا ہے, وہ پروفیسر موصوف کی اپنی چوائس تھی. وہ اچانک سے کسی پوش کالونی کے مکین نہیں بن گئے. ان کا تعلق بھی مڈل کلاس فیملی سے رہا ہوگا. مگر انہوں نے اپنے عہدے,اپنی قابلیت, پیسے, عزت اور شہرت سے اس پوش ایریا میں گھر لیا ہوگا. بچوں کو اعلی تعلیم یافتہ بنایا اور پھر ان بچوں کو بیرون ملک زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کے لئے بھیجنے میں وہ اور ان کی پروفیسر بیوی, دونوں کی مرضی شامل ہوگی. تنہائی کا کرب ایلیٹ کلاس کے لوگوں کا خود ساختہ کرب ہے. بس افسوس اس بات کا ہے کہ ویسٹرن کلچر کے اس تقلیدی رجحان نے انسان کے اعلی اخلاقی قدروں کو پامال کیا ہے اور نوجوان نسل اس کے مضر اثرات سے یا تو بے خبر ہیں یا پھر خود مرکزیت کے شکار ہیں. اس افسانے کا یہ ایک فکری پہلو ہے جو اسے ایک نتیجہ خیز افسانہ بناتا ہے.
✍
ReplyDeleteافسانہ: پوش کالونی کے ویران کھنڈر
افسانہ نگار: ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری
تاثرات : محمد علی صدیقی
عنوان میں پوش کالونی اور ویران کھنڈر کا کاک ٹیل غضب کا ہے۔ کہاں پوش کالونی اور کہاں ویران کھنڈر۔ لیکن جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے پوش کالونی بھی نظر آنے لگتی ہے اور نہ صرف اس میں موجود کھنڈرات کے نقوش واضح ہوتے جاتے ہیں بلکہ ان کی ویرانیاں بھی ہوری شدت سے محسوس ہونے لگتی ہیں۔
موضوع پرانا ہے۔ وہی امیر والدین۔ اپنے بچوں کے لئے آسمان چھوتی ان کی وہی امیدیں۔ انھیں ایک کامیاب انسان بنانے کی وہی تگ و دو اور پھر کامیاب ہو کر بچوں کا اس طرح دور دیس چلے جانا جیسے کسی پرندے کا بچہ اڑنا سیکھتے ہی گھونسلہ چھوڑ دیتا ہے۔ کبھی نہ واہس آنے کے لئے۔
گرچہ موضوع پرانا ہے لیکن اسلوب نے اس پرانے موضوع میں بھی تازگی بھر دی ہے۔ ایسا بالکل نہیں لگتا کہ قلم کار کا مقصد وہی کہانی بیان کرنا ہے جو کہ بیان کی گئی ہے۔ وہ تو دو اسکالر ہیں جو اپنا رسرچ پیپر تیار کر رہے ہیں اور بس اس بھاگ دوڑ میں ایک کہانی سامنے آ جاتی ہے۔ یہی اسلوب قاری کو اس پرانے موضوع کے ساتھ جوڑے رکھتا ہے۔
کچھ موضوع کے بارے میں
انسان ماحول ساز بھی ہے اور اپنے ماحول کا غلام بھی۔ کسان کا بچہ پیدائشی طور پر کسان ہوتا ہے۔ اگر کچھ نہ ہوا تو کم از کم کسان ضرور ہو گا۔ کسی کسان خاندان کے پاس سو ایکڑ زمین ہو تو یہ ان کی ضرورت ہے کہ سب مل کر کھیتی کریں اور ایک ساتھ رہیں۔ اس طرح گاؤں میں تو ایک بڑا مشترکہ خاندان نظر آ جاتا ہے لیکن یہ بات نوکری پیشہ لوگوں کے ساتھ نظر نہیں آتی۔ جج کا بیٹا پیدائشی طور پر جج نہیں ہوتا اور اگر اپنی محنت سے بن بھی جائے تو اسے باپ ہی کی کرسی نہیں ملتی۔ اسے کہیں دور بھی جانا ہڑ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی کے چار بیٹے ہیں تو چاروں کی ملازمت کا مقام اور نوعیت الگ الگ ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہروں میں مشترکہ خاندان نظر نہیں آتا۔ میرا خیال ہے کہ یہ کوئی ایسی بات نہیں جس کے لئے کسی پر ترس کھایا جائے یا کوئی خود اپنے آپ پر ترس کھائے۔ جب ایک انجبئیر اپنے بیٹے کو بھی انجنئیر بنا دیتا ہے تو یہ نہ صرف باپ کی کامیابی ہوتی ہے بلکہ اس میں بیٹے کی بھی لیاقت نظر آتی ہے۔ اب اگر بیٹا دور دیس چلا جائے تو اس کی اپنی ذمہ داریاں بھی اس کے ساتھ ہوتی ہیں۔ یہ بات ان کو پیدا کرنے اور بنانے والے والدین کو بھی معلوم ہوتی ہے اور وہ اس میں خوش بھی رہتے ہیں۔ ایسے موقعے پر کوئی اپنے بچوں کو موردِ الزام ٹھہراۓ تو اسے کردار کی کمزوری ہی کہا جائے گا۔
آدمی کی زندگی کے تین دور ہوتے ہیں۔ بچپن جوانی اور بڑھاپا۔ تینوں ادوار میں آدمی کی زندگی کے حالات ایک جیسے نہیں رہتے۔ بچوں کو مستقبل کی فکر کرنی پڑتی ہے، جوانوں کو حال اور مستقبل دونوں کی فکر ہوتی ہے جبکہ بزرگوں کے پاس پیچھے مڑ کر دیکھنے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ انھیں حال میں ماضی کو جینا پڑتا ہے۔
افسانے کے دیگر فنی پہلوؤں پر کافی روشنی ڈالی جا چکی یے جو میرے لئے سیکھنے کی باتیں ہیں۔
ایک عمدہ افسانے کے لئے
ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری صاحب
کو بہت بہت مبارک باد
شکریہ
💐
سیدہ تبسم ناڈکر
ReplyDeleteافسانہ نگار ریاض توحیدی
"پوش کالونی کے ویران کھنڈر"
آہ.......
پڑھ کر دل میں ایک ٹھیس سی اٹھی. ٹاپک نیا نہیں ہے مگر جس طرح لکھا گیا ہے. رواں دواں زبان وبیان. عصر حاضر کی عکاسی. آج سچ میں ہر انسان دولت کے پیچھے بھاگ رہا ہے. رشتوں کی کو اہمیت نہیں رہی. ہر کوئی فارین جانا چاہتا ہے.
دولت کما لیتے ہیں عالیشان مکانات بنواتے ہیں. مگر ان میں رہنے والا کوئی نہیں. سوائے بوڑھے ماں باپ کے. اس افسانے نے دل دماغ کو جھنجھور کر رکھا دیا.
اچھے افسانے کے لئے ریاض توحیدی صاحب کو مبارک باد
سیدہ تبسم ناڈکر
This comment has been removed by the author.
ReplyDeleteڈاکٹر ریاض صاحب کا افسانہ دلچسپ اور معنی خیز عنوان کے ساتھ شروع ہوا ہے ۔موضوع گرچہ نیا نہیں مگر جس کینواس پر اسے بکھیرا گیا ہے اس سے افسانے میں خوبی عیاں ہے۔
ReplyDeleteدیگر بات یہ کہ سنگدلی اور بے رخی اس مدّعے کو ذہن میں رکھ کر پارک میں کتّوں کے ذریعے بلّی پر حملہ ہونا اور بلّی کے چیتھڑے اڑا دینا اس واقعے سے بین السطور میں کہی جانے والی بات میں جان پیدا ہورہی ہے۔
افسانے پر گر نظر ثانی کرلی جاۓ تو افسانے میں مزید پختگی کی امّید ہے ۔
فاضل افسانہ نگار محترم ریاض توحیدی صاحب کےلئے ڈھیر ساری نیک تمنّائیں اور مبارک باد۔
پینٹر نفیس. . مالیگاؤں۔
ڈاکٹر ریاض توحیدی دورحاضر میں اردو نقدوادب کے ایک معتبر نام ہیں ـ وہ علامتی افسانوں کے مہارتھی ہیں ـ کبھی جب وہ بیانیہ کی طرف آتے ہیں تو ان کے قلم میں وہ مہارت باقی نہیں رہتی جو ان کا خاصہ ہے ـ زیرنظر افسانہ نئے دور کے المیے پر مبنی ہے جس میں زیادہ تر شہری پوش کالونی کے بزرگ افراد مبتلا ہیں ـ وہ اپنے بچوں کی بہتر اور پرآسائش زندگی کے لیے انہیں خود سے دور کردیتے ہیں اور آخر میں خالی ہاتھ ملتے ہوئے خاک میں جاملتے ہیں ـ موضوع بلاشبہ دردناک اور عبرت انگیز ہے لیکن اسے افسانوی پیکر عطا کرنے میں تھوڑی سی عجلت پسندی سے کام لیا گیا ہے ـ اگر اس پر محنت کی جاتی اور سپاٹ بیانی کی بجائے افسانوی انداز اپنایا جاتا تو بہتر نتائج حاصل ہونے کی امید تھی ـ موجودہ شکل میں یہ افسانہ قاری پر گہرا اور دیرپا تاثر قائم نہیں کرپاتا ـ زبان وبیان کے بھی مسئلے ہیں جو یقیناً عجلت کی وجہ سے ہیں ـ اگر اس افسانے پر نظرثانی کی جاتی تو بےشک وہ نہیں ہوتے کیونکہ ڈاکٹر صاحب قابل رشک قلمی صلاحیت کے مالک ہیں ـ معذرت
ReplyDeleteسلیم سرفراز
افسانہ : پوش کالونی کے ویران کھنڈر.
ReplyDeleteاظہارِ خیال : فریدہ نثار احمد انصاری.
عمر لگتی ہے ایک گھر بنانے میں!
تو چہ جائیکہ پوش ائیریا میں گھر بنانا!
گھر جو کہ زندگی کی ضرورت ہے اسے آج اسٹیٹس کا سمبل بنا دیا گیا ہے اور اسی کی جستجو انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے کہ کالا سفید سب ایک سا لگتا ہے.
معزز قلم کار نے مذکورہ افسانے میں معاشرے کے ناسور کو قلم بند کر قاری کے آگے رکھا.
سب سے اول تو یہ کہ پروفیسر کی اپنی چوائس تھی اس لئے انھوں نے بچوں کو خود سے دور کیا. کالی سفید زمیں پر پھل اسی طرح کے آئیں گے. یہی وجہ ہے کہ بچوں کو والدین کے اکیلے پن کے علاوہ ان کی موت تک کا احساس نہ ہوا. بیوی کے انتقال پر پروفیسر کو احساس ہو گیا کہ بچے اپنی دنیا میں مگن ہیں.
جو اسٹوڈنٹ تھیسس لکھ رہے تھے وہ بھی نیو کلئیر فیملی اور گاؤں کی زندگی پر لکھ رہے تھے. یہ اتفاق نہ تھا بلکہ محترم قلم کار نے سوچ سمجھ کر اسی عنوان کو ان کے لئے بھی مختص کیا اور ان کی گفتگو باغ کے سن رسیدہ، بچوں سے الگ رہنے والوں سے کروائی تاکہ قاری کا ذہن اس دوری کے جذبوں کو سمجھ سکے.
نوکر خود اپنے والد سے دور تھا، اس لئے وہ اس دکھ کو سمجھ سکتا تھا. اس کے والد نے بھی تو کچھ رقم کے عوض دور کیا تھا. حالاں کہ والد کے پاس دوسرے افراد خانہ موجود تھے پھر بھی بیٹا پاس نہ تھا.
کتے کے منھ سے خون کا آنا یہ بتاتا ہے کہ ہو سکتا ہے اس نے اپنے مالک کو گرا ہوا دیکھ کر سیدھا کرنے کی کوشش کی ہو اور یوں خون اس کے منھ پر لگ گیا ہو. جانوروں میں انسانوں سے زیادہ محبت کا جذبہ ہوتا ہے.
اختتام بھی اسی طرح ہوا جس سے افسانے کی قرات قاری پر اثر انداز ہو. یعنی گھر تو پوش ائیریا میں بنا دیا لیکن اس کے مکین اس گھر سے میلوں دور تھے. یہی آج کا نوحہ اور لمحہءفکریہ ہے.
قابل قلم کار نے ملٹی ڈائمیشن افسانہ رقم کیا جو بہ ظاہر دیکھنے میں ایک سادہ افسانہ نظر آتا ہے پر اس میں ایک نہیں بلکہ کئی سمتوں پر کام کیا گیا.
دلی مبارک باد و نیک خواہشات.
افسانہ " پوش کالونی کے ویران کھنڈر"
ReplyDeleteافسانہ نگار " ڈاکٹر ریاض توحیدی "
تاثرات " رخسانہ نازنین "
انسانی فطرت ہے کہ جو نعمت اسے میسر ہوتی ہے وہ اسکی قدر نہیں کرتا اور ان نعمتوں کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے جو دوسروں کو میسر ہیں ۔ اکثر متوسط طبقے کے لوگ بھی اسی احساس کمتری کا شکار رہتے ہیں ۔ اپنے خوشحال گھرانوں کی بہاریں انہیں مطمئن نہیں کرپاتیں اور وہ ان پوش کالونیوں کے محلات کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا کرتے ہیں ۔ مگر ان محلات کے باسی اتنے بدنصیب ہیں کہ انکی دیکھ بھال کرنے کے لئے اور دل بہلانے کے لئے کتے پال رکھے ہیں ۔ ! وہ ان محلوں میں تنہائی اور اولاد کی بے رخی کا دکھ سہتے سہتے ایک دن چپ چاپ دنیا سے چلے جاتے ہیں اور انکا بے جان وجود کئی کئی دن کسی وارث کے انتظار میں پڑا رہتا ہے ۔ انتہائی کربناک افسانہ جو ان پوش کالونیوں کے مکینوں کے حالات زندگی پر روشنی ڈالتا ہے اور یہ درس دیتا ہے کہ زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ایک ہنستا بستا گھرانہ ہے جہاں گھر کے تمام افراد خواہ روکھی سوکھی ہی کھاتے ہوں مگر مل جل کر رہتے ہیں اور ایکدوسرے کے سکھ دکھ میں ساتھ کھڑے رہتے ہیں ۔ محبت کی دولت سے مالا مال ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب کو اس تخلیق پر تہہ دل سے مبارکباد پیش ہے ۔
افسانہ: پوش کالونی کے ویران کھنڈر
ReplyDeleteافسانہ نگار: ڈاکٹر ریاض توحیدی
تاثرات: ڈاکٹر انیس رشید خان، امراؤتی
محترم ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری صاحب میرے پسندیدہ ترین مصنفین میں سے ایک ہیں۔ آپ کے جو بھی افسانے یا افسانچہ کسی بھی گروپ میں پیش کئے جاتے ہیں میں انہیں دو تین بار پڑھتا ضرور ہوں۔
زیر نظر افسانہ ایک درد بھرا افسانہ ہے جس کی بنیاد ایک ایسے موضوع پر رکھی گئی ہے جو دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔
والدین اور اولاد کے درمیان تعلق کیسا ہونا چاہئے اور فی الوقت یہ تعلق کس حد تک آلودہ ہوگیا ہے، یہی اس افسانے کا مرکزی موضوع ہے۔
اس افسانے میں ایک پوش کالونی کا ذکر کیا گیا ہے جو آج کل ہر شہر میں موجود ہے۔ اس پوش کالونی میں زیادہ تر بزرگ لوگ یعنی عمر رسیدہ ریٹائرڈ لوگ رہتے ہیں۔ ان کے بچے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں جو فارین کنٹریز میں زیر ملازمت ہوتے ہیں اور بہت پیسہ کما رہے ہوتے ہیں۔ ان بچوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ یہ وقت نکال کر تقریباً روزانہ اپنے والدین سے موبائل فون یا لیپ ٹاپ وغیرہ پر بات چیت کرلیتے ہیں لیکن وہ اپنے کاموں میں اس قدر مصروف ہوتے ہیں کہ اپنے والدین سے ملنے کے لئے یہاں نہیں آسکتے۔ اسی لئے یہاں والدین تنہائیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم، اچھی خاصی دولت و پراپرٹی اور شہر بھر میں شہرت و عزت رکھنے والے یہ عمر رسیدہ لوگ اپنے تنہائی کا درد کسی کے ساتھ نا تو شیئر کرسکتے ہیں اور نا ہی کسی کے پاس اتنا فارغ وقت ہوتا ہے کہ ان کے حالات کی خبر گیری کرے۔ تنہائیوں کے اسی گھٹن زدہ اندھیروں میں ڈوب کر یہ لوگ فوت ہوجاتے ہیں۔
انتہائی درد بھرا افسانہ ہے جو کسی بھی درد مند دل رکھنے والے شخص کو رلا سکتا ہے۔
محترم ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری صاحب کو اس پر اثر افسانے کے لئے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد 🌹
افسانہ : پاش کالونی کے ویران کھنڈر
ReplyDeleteافسانہ نگار : ڈاکٹر ریاض توحیدی
تبصرہ : رضوان الحق
افسانہ فکر انگیز ہے، ترقی کی دوڑ میں بھاگتے بھاگتے ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ اس تمام تر ترقی کا حاصل محض محرومی اور تنہائے ہے۔
اس افسانے کا موضوع ہی بزرگوں کے تئیں نئی نسل کی لاپروائی ہے اس لیے مجھے لگتا ہے اگر پروفیسر نے اپنے والدین کے ساتھ کیسا سلوک کیا تھا؟ اس کا بھی تھوڑا ذکر ہوتا تو غور و فکر کے مزید گوشے کھلتے۔ بچوں کو اگر ہم غیر اخلاقی طریقے سے آ باد کرانے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کا اثر ان کی زندگی پر بھی پڑتا ہے۔ وہ غیر اخلاقی طریقہ وہیں تک نہیں رکتا ہے آگے بھی بڑھتا ہے۔ اس افسانے میں بھی بچوں کا یہ رویہ شاید اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔
بات اگر فن اور تکنیک کی، کی جائے تو میرا خیال ہے افسانہ اگر پروفیسر یا اس کے خادم کے ذریعے بیان کیا جاتا تو اور بہتر ہوتا۔ محقق دوستوں کا رول افسانے کو افسانے کی بجائے ڈسکورس کی جانب لے جاتا ہے۔ جس سے افسانویت متاثر ہوتی ہے۔
ڈاکٹر ریاض کی کاوش کو مسکراہٹ بھرا سلام۔
ReplyDeleteافسانہ: پوش کالونی کے ویران کھنڈر
افسانہ نگار: ڈاکٹر ریاض توحیدی
اظہارِ خیال: محمد علیم اسماعیل
ڈاکٹر ریاض توحیدی نے فکشن کی تنقید میں نمایاں کام کیا ہے۔ وہ سوشل میڈیا پر بہت فعال رہتے ہیں اور مختلف رسائل و اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔
کہانی ’پوش کالونی کے ویران کھنڈر‘ کافی طویل ہے۔ شروعات میں یہ طوالت گراں گزرتی ہے۔ لیکن جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے دلچسپی بڑھتی جاتی ہے۔ موضوع اچھا ہے۔ میرے خیال سے کہانی کا عنوان کچھ اور ہونا چاہیے۔
’پوش کالونی کے ویران کھنڈر‘ یہ عنوان ایسا ہے کہ کہانی پڑھنے سے پہلے ہی قاری یہ طے کر لیتا ہے کہ یہ کہانی کس طرح کی ہوگی، اور ہوتا بھی ویسا ہی ہے، کہنے کا مطلب یہ کہ عنوان ہی کہانی کا عکس بتا دیتا ہے۔ تحریر میں روانی ہے جس سے پڑھنے میں کہیں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی۔ ابتدا میں کچھ واقعات کے طویل بیان کو چھوڑ کر باقی کہانی اچھی ہے۔
کہانی میں مصنف نے کرداروں اور سماجی تبصروں سے بھرپور داستان پیش کی ہے۔ کہانی اپنے کرداروں کی تفصیلی تصویر کشی کرتی ہے، خاص طور پر پروفیسر صاحب اور مرکزی کردار کے ساتھ ان کی بات چیت۔ یہ انسانی رشتوں اور جذبات کی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ کہانی اہم سماجی مسائل، جیسے کہ روایتی خاندانی نظام کا زوال، مادیت پرستی کے اثرات، اور بچوں کی اپنے والدین سے بیگانگی پر روشنی ڈالتی ہے۔
ابتدائی طوالت قارئین کی تھکاوٹ کا باعث بن سکتی ہے۔ کہانی میں کہیں کہیں معلومات کو دہرایا گیا ہے، جیسے کہ پروفیسر صاحب کا پس منظر، جسے کم یا مختصر کیا جا سکتا ہے تاکہ دلچسپی قائم رہے۔ کہانی اپنے کرداروں اور ان کے تعاملات کے ذریعے معاشرتی مسائل کی ایک بصیرت انگیز حقیقت پیش کرتی ہے۔ اس کہانی کو اور زیادہ جامع کہانی بنانے کے لیے پیشکش/ اسلوبی سطح پر مزید محنت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
تاثرات :اقبال حسن آزاد
ReplyDeleteڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری کی تنقید نگاری کے سلسلے میں ابھی کچھ نہیں کہوں گا کیونکہ یہاں وہ ایک افسانہ نگار کی حیثیت سے ہمارے سامنے آئے ہیں.میں اس سے قبل ان کے کئی افسانے پڑھ چکا ہوں لیکن زیرنظر افسانہ ان کے دیگر افسانوں سے ان معنوں میں بہتر لگا کہ اس میں کوئی بقراطی کوئی کرتب بازی نہیں ہے. الفاظ کا نا جائز استعمال نہیں ہے. سیدھے سادے راست لیکن دل چسپ بیانیے میں انہوں نے اپنی بات متاثر کن طریقے سے کہی ہے. آسیب ِزر کی ترکیب پسند آئی.البتہ بعض مقامات پر تفصیل نگاری کی ضرورت نہ تھی ہر کیف! مجموعی طور پر افسانہ پسند آیا.
نیک خواہشات کے ساتھ
اقبال حسن آزاد
سترہواں ایونٹ رنگ و آہنگ
ReplyDeleteافسانہ پوش کالونی کے ویران کھنڈر
افسانہ نگار ڈاکٹر ریاض توحیدی
تاثرات محمد سراج عظیم
ڈاکٹر ریاض توحیدی کی عصر حاضر کے ادبی منظرِ نامہ پر ایک سلجھے اور اچھے نقاد اور محقق کی حیثیت سے پہچان مستحکم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر ریاض افسانچہ، مائیکروف جیسے نئ ایجادات کے بھی ماہر ہیں، ساتھ ہی وہ ایک اچھے افسانہ نگار کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں۔ زیر مطالعہ افسانہ کا جو پلاٹ ہے۔ وہ عصر حاضر کی عروج پر پہنچی اقدار کی پامالیوں کا ایک درد ناک پہلو، والدین کی ناقدری ہے۔ اس پلاٹ کو ڈاکٹر ریاض جیسے افسانوی تنقید کے ماہر سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ اس افسانہ میں جذبات، حزن و ملال، خلش ، محرومی کے ان درد ناک مناظر کو پیوست کرتے کہ قاری اس کے درد میں ڈوب کر خود ان کرداروں میں تحلیل ہوجاتا اور زمانے کی کڑوی سچائی کی تکلیف دہ کڑواہٹ کو محسوس کرتا جس کی کڑواہٹ دور تک محسوس ہوتی۔ مگر اس کہانی کے دو نقص جو میرے نزدیک ہیں (کسی قاری یا قلمکار موصوف کا ان سے ان سے متفق ہوناضروری نہیں) پہلا چونکہ ڈاکٹر ریاض خود تدریس کے پیشہ سے منسلک ہیں اس لئے انھوں نے ریسرچ کے لوازمات، اپنے تجربے اور مشاہدہ کی بنا پر بےجا طویل کردئے۔ جو محض ایک سالانہ رپورٹ یا اسکالرس کی کارگزاری بیان کرنے کے مترادف ہے جس نے قلمکار کو اصل کہانی سے بھٹکا دیا۔اور ابتدا میں بھاری پن اور طبیعت پر اکتاہٹ ہوگئ۔ اس کے بعد کہانی میں کہیں بھی پروفیسر جوڑے کا یا خادم کا کوئی کرب نظر نہیں آتا۔کم از کم جب راوی پہلی بار پروفیسر کے گھر پہنچا تھا تب ہی وہ معذور پروفیسر جو لڑکھڑاتی آئ تھی۔اس کی زبانی کچھ ایسے مکالموں کی ادائیگی ہوتی،جس سے قاری کے خود کے جذبات مرتعش ہوتےپھر کہانی کا تاثر راوی واحد متکلم کے ذریعے اور ماند پڑ گیا۔ حالانکہ کہانی کا سپاٹ پن اور سیدھی سادی کہانی بہت سوں کو رنجیدہ کرگیا ہوگا۔ مگر اس افسانہ کے بیانیہ کو کرداروں کے مکالموں اور انھیں کے بیان کردہ درد سے مزید بہتر ٹچ دیا جاسکتا تھا۔جو قاری کے اندرون میں اتھل پتھل مچا ڈیتا۔مجھے یہ کہنے میں تردد نہیں کہ ڈاکٹر صاحب نے اتنے خوبصورت پلاٹ کو چابکدستی سے نہیں برتا۔ یہ تاثرات جلدی میں تحریر کررہا ہوں۔ اس وجہ سے زیادہ نہیں لکھوں گا۔ وقت زیادہ ہوگیا۔ ڈاکٹر ریاض توحیدی کو مبارکباد اس بات کے لئے کہ بہرحال وہ ایک پیغام دینے میں کامیاب ہوگئے مگر تاثر نہیں چھوڑ سکے۔ معذرت
افسانہ : پوش کالونی کے ویران کھنڈر
ReplyDeleteافسانہ نگار : ڈاکٹر ریاض توحیدی
تاثرات : محمد شمشاد
اگر کوئی ادیب افسانہ نگار کے ساتھ ساتھ ناقد بھی ہو تو اسکے افسانہ پڑھنے میں ایک عجب سی دلچسپی اور چاشنی محسوس کی جاتی ہے اس میں نہ صرف افسانوی پن ہوتا ہے بلکہ اس افسانہ میں موضوع کو تہ تک نکھار ہوتا ہے جسے پڑھنے کے بعد قاری کو کچھ دیر کیلئے سوچنے پر مجبور کردیتا ہے یہی بات میں ڈاکٹر صاحب کے افسانوں میں محسوسں کرتا ہوں انکے افسانوں میں کردار نگاری, منظر نگاری , اور موضوع کی بہترین اور بھر پور عکاسی ملتی ہے اور اسکے ایک ایک پہلو کو پرونے کی کوشش کی جاتی ہے
اس افسانہ میں ڈاکٹر صاحب نے نزیر اور کتے کی شکل میں دو ایسے کردار کو پیش کیا ہے جس کے سامنے اپنا خون پھیکا پڑ تا ہوا نظر آتا ہے یہ حقیقت ہے کہ لوگ اپنی اولادوں کے مستقبل کو بنانے کے لئے کیا کچھ نہیں کرتے ہیں دن کو رات اور غلط کو صحیح و صحیح کو غلط کر جاتے ہیں لیکن انکی اس محنت کا انکے ان بچوں کو کوئی احساس نہیں ہوتا نہ ہی انہی اپنے والدین کی کوئی پرواہ ہوتی ہے جبکہ اسکے انکے برعکس نزیر اور اس کتے کی وفاداریاں اور انکی محبت ناقابل ڈیڈ ہوتی ہے
بہر حال یہ افسانہ ہر پہلو سے ایک بہترین افسانہ میں شمار کیا جاسکتا ہے
۰
ReplyDeleteبزم افسانہ کی سترویں ایونٹ
رنگ ترنگ
افسانہ ۔۔۔۔۔پاش کالونی کے ویران کھنڈر
افسانہ نگار۔۔۔۔ ڈاکٹر ریاض توحیدی
تاثرات۔۔۔۔ شہانہ اقبال
پہلی بار ڈاکٹر صاحب کا افسانہ پڑھا۔ بے حس معاشرے کے لگائے ہوئے کئی زخم تازہ ہوگئے۔
بچپن میں انسان اپنی زندگی بنانے کیلئے سخت مشقت کرتا ہے۔جب خود کچھ بن جاتا ھے تو اپنی اولاد کو بام عروج پر پہنچا نے کے لئے جہد مسلسل میں لگ جاتا ھے۔ جن والدین کے کندھوں پر چڑھ کر اولاد آسمان چھونے کے قابل بن جاتی ھے ، ان بچوں کو یہ دیکھنے کی فرصت ہوتی ھے نہ توفیق کہ ان کے والدین ان کے بعد کس حال میں ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہوتا ھے کہ وہ اب اپنی مڈل کلاس کالونی سے نکل کر اپنے بچوں کی خریدی ہوئی پاش کالونی کی عالیشان رہائش گاہ میں منتقل ہو جاتے ہیں جہاں تنہائی اور ویرانی کا راج اور خدمت گزاروں کا ساتھ ہوتا ھے۔ جنکی موت پر آنسو بہانے والی بیٹی ہوتی ھے نہ انہیں آخری سفر کے لئے کاندھا دینے والا بیٹا۔
ایسے ہی ایک بے یار ومدد گار تنہا رہتے جوڑے کو جب کسی بہی خواہ نے ان کے بیٹے کی موت کی خبر سنائی تو ماں نے سوکھے ہوئے ہونٹوں اور پتھرائی ہوئی آنکھوں سے اپنے بے حس و حرکت پلنگ پر پڑے ہوئے شوہر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا " برسوں پرانی خبر لوگ ہمیں اب کیوں سنا رہے ہیں۔"
ڈاکٹر توحیدی صاحب کے اب تک میں نے صرف تبصرے ہی پڑھے ہیں۔اتنے خوبصورت افسانے کی تخلیق کے لئے دلی مبارکباد پیش ھے۔
معذرت کے ساتھ عرض ھے کہ میں ایک شوقیہ قلمکار ہوں جو یہ نہیں جانتی کہ افسانہ نویسی کے بنیادی اصول کیا ہیں اور افسانہ لکھتے ہوئے کن باریکیوں کا خیال رکھنا چاہئے۔
بزم میں شامل معززین تبصرہ نگاروں سے التجا ھے کہ اپنے تاثرات لکھنے میں مجھ سے کوئی کوتاہی ہوگئی ہو تو پلیز نظر انداز کر دیجئے۔ شکریہ۔