ادیب : فرخندہ ضمیر
بزمِ افسانہ کی پیش کش
سترہواں ایونٹ
رنگ و آہنگ
افسانہ نمبر : 12
*ادیب*
فرخندہ ضمیر
شاد صاحب کو جیسے ہی ہوش آیا انھوں نے اپنے آس پاس دیکھا۔۔ آنکھوں اور سر کو ہلکی سی جنبش دی تو انھیں احساس ہوا کہ وہ کئ طرح کے تاروں اور نلکیوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ دماغ پر زور ڈالا تو انھیں کچھ کچھ یاد آیا ۔ پھر سب کچھ روشن ہو گیا ۔
ہاں !انھیں یاد آیا ۔
بہت شدّت سے انھیں گردے میں تکلیف ہوئ تھی کہ وہ درد کی تاب نہ لاکر بے ہوش ہو گئے تھے ۔ اور انکا ذہن تاریکیوں میں ڈوبتا چلا گیا تھا۔
"انھیں یہاں کون لایا؟"
وہ درو دیوار کو غور سے دیکھنے لگے۔
شیشے کے اس پار سے نرس نے دیکھا تو فورا`قریب آئ ۔ ڈاکٹر بھی جلدی سے قریب آگیا ۔
"آپ ٹھیک ہیں " ڈاکٹر نے ان کی نبض چیک کرتے ہوئے کہا ۔
"جی" شاد صاحب نے نحیف آواز میں کہا ۔
ڈاکٹر نے نرس کو کچھ ہدایتیں دیں اور دوسرے مریضوں کے بیڈ کی طرف بڑھ گئے۔
شاد صاحب ڈاکٹر اور نرسوں کی مستعدی دیکھ کر، اور جدید سہولیات سے آراستہ I.C.U،صاف صفائی دیکھ کر سمجھ گئے تھے کہ یہ کوئ مہنگا پرائیویٹ ہسپتال ہے۔
"لیکن انھیں یہاں کون لایا؟" یہ ہی سوال انکے ذہن میں بازگشت کرتا رہا۔
انکی اتنی حیثیت کہاں کہ وہ اس ہسپتال کے اصرا ف برداشت کر سکیں ۔وہ تو ایک ادیب ہیں ۔ ۔۔ انکے پاس اتنا سرمایہ کہاں ، انھیں تو سرکاری ہسپتال کے علاج میں ہی چھینکیں آجاتی ہیں کہ وہاں صرف ڈاکٹر کی فیس ہی تو نہیں لگتی ۔ دوائیاں وغیرہ تو سب بازار سے خریدنی پڑتی ہیں ۔ وہ ایک اسکول ٹیچر اور ادیب ہی تو تھے ۔ یہ الگ بات ہے کہ انھوں نے کئ اعلی درجہ کی تخلیقات صفحئہ قرطاس پر اتاری تھیں ۔ ادبی دنیا میں انکا مقام تھا ۔ انکی ادبی خدمات پر انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ،میکش ایوارڈ، غالب ایوارڈ وغیرہ سے نوازا گیا تھا ۔ انکے کمرے کے شو کیس میں ایوارڈ کا روز بروز اضافہ ہو رہا تھا لیکن مالی حالت جوں کی توں تھی ۔ ۴بچہّ بیوہ بہن اور اسکے دو بچہ غرض ایک بڑے کنبہ کے وہ پالنہار تھے۔
انھیں احساس تھا کہ اگر وہ ہندی یا انگریزی کے ادیب ہوتے تو انکی زندگی مفلسی کے چراغ کی مانند نہیں ہوتی ۔ وہ بھی شان سے سہیل سیٹھ، چییتن بھگت ، ارودھنتی رائے،نرمل ورما،اشوک واجپئ جیسی شاندار زندگی بسر کرتے ۔ لیکن کیا کریں ان زبانوں پر عبور حاصل تھا لیکن اپنے مزاج سے مجبور تھے۔ مادری زبان اردو سے اس حد تک محبت تھی کہ کسی اور زبان میں لکھنے کا تصوّر ہی نہیں کر سکتے تھے ۔۔ ذہنی تسکین انھیں اردو سے ہی ملتی تھی ۔ اس لئے مفلسی بھی مقدّر تھی ۔ اردو کے ادیب تو بیچارے اپنی تخلیقات شائع کرانے کے لئے اپنے گرے کی رقم خرچ کرتے ہیں اور مفت کتابیں بانٹتے ہیں ۔
جب انھیں ساہتیہ اکادمی انعام سے نوازا گیا اس کے بعد کوئ کوئ میگزین انھیں معاوضہ دے دیتی۔
انکی کتابوں کے ترجمہ ملک کی مختلف زبانوں میں ہونے لگے۔ اب انھیں ہندی، انگریزی والے بھی عزّت کی نگاہ سے دیکھنے لگے ۔ مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا،لیکن پھر بھی انکے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ وہ اپنا گردہ ٹرانس پلانٹ کروا سکتے ۔ تکلیف دن بہ دن شدید ہوتی جا رہی تھی۔ گھر کی بھی ذمّداریاں تھیں ۔
دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں ۔ انکی تربیت شریکِ حیات نے اچھی کی تھی۔ وہ سیلف میڈ بچّے تھے ۔اور اپنی پڑھائ کا خرچہ اسکالر شپ اور ٹیوشن سے نکالتے تھے۔ بیوہ بہن کے بچّے بھی ایسے ہی تھے۔
ورنہ شاد صاحب تو پھکّڑ قسم کے انسان تھے ۔۔۔۔۔۔ غریبی میں پھاگ کھیلنے والے۔۔۔۔۔
ہمیشہ دوسروں کی مدد کو تیّار رہتے ۔ خاص کر اپنے ادیب دوستوں کی مدد کھلے دل سے کرتے۔ پیسہ سے نہیں تو خدمت سے۔
گاندھی اور آزاد کے معتقد تھے ۔
"لیکن انھیں اتنے مہنگے ہسپتال میں لایا کون؟"
یہ ہی سوال بار ۔بار ذہن میں اٹھتا رہا۔
شام کو بیوی کے آتے ہی انھوں نے یہ سوال پوچھا۔ ۔
"مجھے یہاں کون لایا؟
" آپکے دوست "
" میرے دوست!" انھیں حیرت ہوئ۔
"ہاں اس وقت جس طرح آپکے دوستوں نے مدد کی ہے ۔ میں بتا نہیں سکتی۔ ا" بیوی آبدیدہ ہو گئیں ۔ یہ ہی تشکّر کے آنسو شاد صاحب کی آنکھوں میں بھی چمکنے لگے۔
دوسرے دن عظمی صاحب ملنے آئے تو شاد صاحب نے گلوکوز کی نلکی لگا ہوا ہاتھ اٹھایا اور شاد صاحب کے ہاتھ پر رکھ دیا۔۔۔ آنکھوں سے موتی برسنے لگے ۔۔۔۔
عظمی صاحب نے انکے بولنے سے پہلے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی۔ ۔ ۔ وہ جانتے تھے کہ شاد صاحب کیا کہنا چاہتے ہیں آخر انکے بچپن کے یار غار تھے ۔!!!
" ڈاکٹر نے بولنے سے منع کیا ہے ۔!"
"اچھا میرے رفیقںوں کی خیریت تو سناؤ۔"
" سب خیریت سے ہیں، تم جلدی سے صحتیاب ہو جاؤ پھر یارانِ کہن کی محفلیں سجیں گی ۔ " عظمی صاحب کچھ دیر اور بیٹھتے لیکن نرس نے آکر اٹھا دیا ۔
" ملنے کا وقت ختم ہوا۔ "
" سسٹر آپ لوگ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ اپنوں کی قربت مریض کے لئےدوا سے زیادہ چارہ گری کرتی ہے ۔" اعظمی صاحب کل صبح تک کی تنہائی کے عزاب سے خائف تھے۔
" انفیکشن کا خطرہ رہتا ہے ۔اس لئے مریض کو زیادہ لوگوں سے ملنے کی اجازت نہیں دیتے " نرس نے انکا بی۔ پی چیک کرتے ہوئے کہا ۔
کچھ دنوں بعد انھیں روم میں شفٹ کر دیا ۔اب طبیعت قدرے بہتر تھی۔ ۔۔
دوست احباب ملنے آنے لگے ۔ انھیں اپنے دوستوں کی محبت کا احساس ہو گیا تھا ۔ ان کا گردہ ٹرانس پلانٹ کر دیا گیا ۔اور ڈونر کون انکا پیارا دوست" راہی،، وہ زندگی سے مایوس ہو چکے تھے۔ لیکن اب زندگی مسکرا رہی تھی۔ ۔
ایک دن ہسپتال میں کچھ زیادہ ہی گہما گہمی تھی۔ اسٹاف بہت زیادہ مستعد۔ ۔ ۔
نرس سے پتا چلا کہ۔۔
" مرکزی کابینہ منسٹر ہیں ۔ ایسا بخار ہے کہ اترتا ہی نہیں ۔ اور بے ہوشی ٹوٹتی نہیں ۔ تمام اعضاء بیکار ہوتے جا رہے ہیں ۔ ڈاکٹر پریشان! انکی قابلیت پرنکتہ چینی ہو رہی ہے ۔ ۔ ۔ روز سیاست دانوں کی آمد اور انکے پروٹوکول سے اسٹاف کی کارگردگی میں خلل پڑ رہا تھا ۔
عظمی صاحب آئے تو حالات ِ حاضرہ پر گفتگو ہوئ ۔
"منسٹر صاحب کو علاج کے لئےامریکہ کیوں نہیں لے جا رہے ؟ ملک میں تو غریب عوام علاج کراتے ہیں ۔ " شاد صاحب سیاست اور سیاست دانوں سے بہت نالاں تھے۔ ۔
" پہلی فرصت میں لے جائیں لیکن کچھ تو سدھار ہو ۔ غریب عوام کی بد دعائیں ہیں کہ زر وجواہر سے بھری تجوریاں بھی کسی کام نہیں آ رہی ہیں "۔ ۔ عظمی صاحب نے بھی جلے دل کے پھپھولے پھوڑے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیونکہ ان دونوں نے سیاست دانوں کے در پر علاج کے لئے کتنے چکّر لگائے کہ ۔۔
ایک عظیم ادیب موت اور زندگی کی کشمکش میں خوار ہو رہا ہے، اگر سرکاری امداد مل جائے تو زندگی کی ہاری ہوئی بازی جیت جائے ۔اور اعلی تخلیقات وجود میں آئیں جو کسی بھی ملک اور قوم کا سرمایہ ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔
لیکن انکی موٹی چمڑی پر کچھ اثر نہ ہوا ۔
اخبارات میں منسٹر صاحب کی علالت کے متعلق روز بیان جاری ہوتے۔ سیاست دانوں کی ہر وقت کی آمد سے دوسرے مریضوں کے عزیز رشتہ داروں سے ملنے پر پابندی عائد ہو گئ۔ شاد صاحب بہت بے چین تھے ۔
اسٹاف کی توجہ بھی دوسرے مریضوں پر سے کم ہو گئ۔۔۔۔۔ ۔
غفلت کی وجہ سے شاد صاحب انفیکشن کا شکار ہو گئے ۔ ایک مرتبہ پھر زندگی کا چراغ ٹمٹمانے لگا ۔
یہ خبر بھی عام ہو گئ ۔ ہر لب پر دعائیں اور آنکھوں میں آنسو تھے۔ ہر مذہب و ملّت کے لوگ دعاگو تھے ۔ آئ ۔ سی ۔ یو میں دونوں کے بیڈ قریب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ۔۔۔۔ منسٹر صاحب کے نزدیک ہر وقت اسٹاف موجود رہتا ؛ لیکن ساری محنت رائیگاں گئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منسٹر صاحب اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے ۔ ۔
شاد صاحب کے عزیز و احباب کے دل سے نکلی دعائیں رنگ لائیں ۔ موت کے آہنی پنجوں سے آزاد کرا لائیں ۔ ۔
دونوں کے چاہنے والوں کا مجمع باہر لگا تھا ۔ ۔ انکے چاہنے والوں کے چہرے کھلے ہوئے تھے۔
اخبارات میں منسٹر صاحب کی جھوٹی تعریفوں اور کارگردگی سے صفحہ کالے ہو رہے تھے ۔اور ایک کونے میں مختصر سی خبر ۔۔۔۔
" ساہتیہ اکادمی اوارڈ یافتہ شاد صاحب صحتیاب ہو گئے ۔"۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد

افسانہ :ادیب
ReplyDeleteافسانہ نگار : فرخندہ ضمیر
تاثرات : رفیع حیدر انجم
عصرِ حاضر میں صورتحال یہ ہے کہ ساہتیہ اکیڈمی یا غالب اکیڈمی ایوارڈ حاصل کرنے والے ادیبوں کے دشمن زیادہ اور دوست کم ہوگیےءہیں. شاد صاحب ان خوش نصیب ادیبوں میں شمار کئے جا سکتے ہیں جو اعلی انعام یافتہ بھی ہیں اور جن کے ساتھ مخلص اور بےلوث دوستوں کی ایک جماعت بھی ہے. اگر اردو زبان کا کوئی ادیب ہندی اور انگریزی زبان میں لکھنے کا اہل ہے اور لکھ بھی رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ وہ اردو زبان کے ساتھ نا انصافی کر رہا ہے. وہ معاشی طور پر خود کفیل ہونے کے لئے ایسا کر سکتا ہے اور یقیناً اسے ایسا کرنا ہی چاہئے. کئی زبانوں پر عبور رکھنے والا ادیب کئی زبانوں میں کیوں نہیں لکھ سکتا ؟
اس کہانی کا بنیادی خیال یا نکتہ یہ ہے کہ دوسروں کی مدد کرنے یا دوسروں کے محن و مسرت میں شریک ہونے والے افراد اپنے حلقہء احباب میں مقبول ہوتے ہیں اور ان کے چاہنے والے مصیبت کی گھڑی میں ان کی خدمت کے لئے دل و جان سے حاضر رہتے ہیں. دوسروں کے لئے ہمدردی اور خیر کا جذبہ رکھنے والا سماج کا کوئی بھی اور کسی بھی پیشے سے وابستہ شخص ہو سکتا ہے. اس کہانی میں ایک ادیب کے مثبت کردا اور ایک وزیر کے منفی کردار کو تقابلی پیرائے سے گزار کر یہی پیغام دیا گیا ہے کہ نیکی کا پھل میٹھا اور بدی کا پھل کڑوا ہوتا ہے. کہہ سکتے ہیں کہ نیک انسانوں کو غیب سے بھی مدد مل جاتی ہے اور ظالموں کے مال و اسباب بھی رضائے الٰہی کے سامنے مٹی ثابت ہو جاتے ہیں. محترمہ فرخندہ ضمیر صاحبہ کے لئے نیک خواہشات.
بہت افسانہ - ادیب
ReplyDeleteافسانہ نگار - فرخندہ ضمیر
تاثرات - عمران جمیل
________________________________
افسانہ ادیب سماج کے دوہرے رویے کی عکاسی کرتا ہے.. یہ جمہوری نظام کی کرم فرمائی ہے کہ کرپشن/غنڈہ گردی/اقربا پروری کی وجہ سے "گدھے گلگلے کھا رہے ہیں"... ایسے لوگوں کی پذیرائی و منہ بھرائی کرنے والا ایک بڑا طبقہ ہمارے ہی سماج میں موجود ہے اس قبیل کی سائیکی سمجھی جاسکتی ہے.. سیاسی لیڈروں سے مفادات کے حصول کے لیے صحیح غلط طریقہ سے انہیں کوئی غرض نہیں ہوتی.. جبکہ اسی سماج میں ایسے " ادیب " بھی پاے جاتے ہیں جن کے تخلیقی خمیر میں شریف النفسی کے بڑھتے تناسب میں آمیزش کی وجہ سے سماج کو ہمیشہ صحت مند پیغام جاتے رہتا ہے...
گو کہ ادبا کے صحت مند لٹریچر سے اور شعرا کی شاعری سے ہمیں سماج میں فوری تبدیلی ہوتی نظر نہیں آتی... یہ تبدیلیاں دھیرے دھیرے دل و دماغ پر اثر انداز ہوتی ہیں.. ادبا و شعرا کی تخلیقات انسانی جبلّتوں کو اور اخلاقی اقدار کو مہمیز کرنے کا کام کرتے ہیں.. اور جب انکی گہری چھاپ فطری طور پر انصاف پسندی، رحم، وفا و ایثار کو پسند کرنے والوں کے دلوں پر پڑتی ہے تب تب افسانے میں بتاے گئے آے سی یو میں زندگی و موت سے جوجھتے " ادیب" کی زندگی بےلوث و بےغرض لوگوں کی دعاوں کے طفیل بڑھ جاتی ہے... *بےغرض و سچے دل سے نکلی دعاوں کی قبولیت میں اکثر طبّی و تکنیکی اُصولوں کو بھی مات کھاتے دیکھا گیا ہے*
یہی اس افسانے کا واضح پیغام بھی ہے ہیکہ عوام کا خون چوسنے والے، عوامی بد دعاوں کی زد میں رہنے والے کرپٹ سیاسی لیڈروں پر ایسے دن بھی آپڑتے ہیں جب انکے لگزوریَس وسائل ہی اُنکے کام نہیں آ پاتے..
فاضل افسانہ نگار فرخندہ ضمیر صاحبہ نے رواں دواں بیانیئے و سادہ اُسلوب میں افسانہ تخلیق کیا ہے.. چھوٹے چھوٹے چُست و درست جملوں کی خوبصورتی سے مزین ہے یہ افسانہ..
افسانے میں منظر نگاری کی کمی مجھے کھٹکتی رہی... نیز جذباتی سطح پر بھی افسانہ مجھے اُتنا اپیل نہیں کرسکا جیسی توقع مجھے اس خوبصورت بیانئیے والے افسانے سے تھی...
بیانیہ بھلے سے خوبصورت ہے لیکن اگر شاد صاحب کی زندگی کی کسمپرسی کو ایک دو فعال واقعے کے ذریعے جذباتی رنگ کی آمیزش کے ساتھ کچھ اس طرح درشایا جاتا جس کی وجہ سے قارئین کے دل و دماغ شاد صاحب کے ہی ساتھ ساتھ اُنکی محرومیوں و ناآسودگیوں کو ہمدردانہ جذبے کے ساتھ محسوس کرپاتے... جبکہ فاضل افسانہ نگار نے محض بیانئیے کے ذریعے کڈنی ٹرانسپلانٹ تک شاد صاحب کو پہنچا دیا...افسانے میں اس جذباتی پہلو کو اگر کیش کرلیا جائے تو افسانہ " ادیب " بہتر سے بہترین کی صف میں بہ آسانی جگہ بنا سکتا ہے.....
افسانے میں افسانوی رنگ کی کچھ کچھ کمی نظر آئی گو کہ اختتام بہت خوش آئند و حوصلہ بخش رہا جسکی ستائش کرنا میرا ادبی فریضہ ہیکہ سیاسی لیڈروں جیسے آلودہ سوچ رکھنے والوں اور اُنکے سیاہ کرتوتوں کی خاموش حمایت کرنے والوں کی موجودگی میں بھی آج بھی ہمارا سماج دل سے سوچنے والوں بےغرض لوگوں کی دعاوں کے نذرانے سے خالی نہیں ہے... فاضل افسانہ نگار نے افسانہ ادیب سے خود غرضی سے آلودہ ہوتے جارہے سماج کو ایک مثبت پیغام دیا ہے...
ایک بہتر افسانے کی پیشکش پر محترمہ فرخندہ ضمیر صاحبہ کو مبارکباد اور سلامتی کی دعائیں.
عمران جمیل. 9325229900
افسانہ:واپسی
ReplyDeleteافسانہ نگار:رخسانہ نازنین
تاثرات:عظیم اللہ ہاشمی (بنگال)
بالکل عام فہم زبان میں لکھاگیا یہ افسانہ معاصر زندگی کے شب وروز کی ایک ایسی روداد ہے جس میں باپ اپنے گھریلو معاشی کفالت کے بوجھ تلے دب کر سسک رہا ہے لیکن زبان پر حرف شکایت نہیں.آج کے سماجی زندگی میں رشتے ناتے سب کے سب مادیت کے محور پر گردش کرتے ہیں.اس مادی دور میں ضرورتیں اور خواہشیں جذبات واحساسات پر حاوی ہوگئے ہیں.افسانے کو پڑھ کر ایسا ہی محسوس ہوا کہ
جھوٹے ہیں یہ خون کے بندھن رشتوں کا پیمانہ سکہ...,...نیک خواہشات
شہناز فاطمہافسانہ نمبر :12
ReplyDeleteافسانہ :ادیب
افسانہ نگار : فرخندہ ضمیر
تاثرات :شہناز فاطمہ
مخلص دوستوں سے ذیادہ دنیا میں کوئی بڑی دولت نہیں ہوتی
ہیرے جواہرات سے تجوریاں بھری ہونے سے کچھ نہیں ہوتا
مخلص انسان اگر غریب بھی ہے تو اسکے چاہنے والے ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے کہ شاد صاحب کے تھے
پروردگار بھی دل کی نکلی ہوئی خالص دعائیں سنتا ہے سیاست میں لپٹی ہوئی باتیں نہیں
جیسا کہ منسٹر صاحب کی موت اور شاد صاحب کی صحت مندی سے ثابت ہو گیا
ہاں! یہ ایک الگ بات ہے کہ آج کے دور میں ایسے سچے مخلص دوست ملنا بہت مشکل ہے لیکن بہرحال ہوتے ہیں
محترمہ فرخندہ ضمیر صاحبہ نے بہت ہی خوبصورتی سے روشنی ڈالی ہے کہ سچے دل کی پکار میں کتنا اثر ہوتا ہے اور بے لوث محبت کسطرح کی جاتی ہے کتنی سچی حقیقت لکھی ہے
"سسٹر آپ لوگ یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ اپنوں کی قربت مریض کے لئے ذیادہ چارہ گری کرتی ہے"
محبت، خلوص ،اپنائیت ،ہمدردی اور دعاؤں سے کیسا بھی انفیکشن ہو دور ہوجاتے
اور
جن کے ساتھ "غریب عوام کی بد دعائیں ہوں" زرو جواہر سے بھری بھری تجوریاں بھی کام نہیں آتیں "
شاد صاحب دل کے امیر تھے اور بہترین ادیب تھے ایوارڈ یافتہ تھے اور حلقہ احباب وسیع رکھتے ہوئے انکی ہر مدد کے لئے ہر لمحہ تیار رہتے تھے تو اسی طرح انکے دوست بھی انہیں دل کی گہرائیوں سے چاہتے تھے اور ایسے وقت میں آکر سب نے انہیں ایسا سہارا دیا جسکی انہیں توقع بھی نہ تھی ایسے کہتے ہیں "دوستی" اور سچی محبت
ادیب اردو کے تھے اسلیے شاد صاحب کو لگتا تھا کہ اگر وہ انگریزی یا ہندی کے راءیٹر ہوتے تو معاشی یہ صورتحال نہ ہوتی مگر میں کہتی ہوں کہ انکا ضمیر، دل اور روح مطمئن تھی ذہنی تسکین اردو میں لکھ کر ملتی تھی اس سے بڑی کیا بات ہوسکتی تھی جس سے انسان کو خود سکون ملتا ہو وہی کرنا چاہیے
اس بہترین افسانے میں محترمہ فرخندہ ضمیر صاحبہ نے اسپتال کی منظر کشی بھی بہت زبردست کی ہے بالکل نگاہوں کے سامنے مناظر آگءے خصوصاً منسٹر صاحب کے لئے بھاگ دوڑ کا منظر اور سیاسی لوگوں کی ڈاکٹروں کی قابلیت پر نکتہ چینی
بہت خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے
اس دلکش انداز بیاں کے ساتھ بہترین افسانے لئے محترمہ فرخندہ ضمیر صاحبہ کے لئے نیک خواہشات بہت داد و تحسین و ستایش کے ساتھ پیش کرتی ہوں گر قبول افتد زہے عزو شرف
ادیب فرخندہ ضمیر کا ایک عمدہ افسانہ ہے۔ جس میں ایک ادیب کی زبوں حالی کو بیان کیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ حق تعالٰی پر اس کے حق القین کو اجاگر کرنے کی کا میاب کوشش کی ہے اسی یقین کے سہارے اپنے بال بچوں کے ساتھ وہ اپنی بہن کے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری کو بڑی خوش اسلوبی سر انجام دے رہے ہیں۔ ادیب شاد خود بھی گردے کی بیماری میں مبتلا ہیں۔۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ جب شاد شدید طور پر بیمار پڑتے ہیں تو ان کی تحریروں کے سبب ان کے بے شمار چاہنے والےبے چین ہو اٹھتے ہیں دعا کے ساتھ ان کی مالی امداد بھی فرماتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے دوست عظمی صاحب نے آئی سی یو کا پورا خرچ اٹھا یا۔ یہی نہیں بلکہ ان کا پیارا دوست رابی نے اپنے گردہ کا عطیہ بھی دیا ۔ اس کے برعکس ایک لیڈر کی بیماری کے حال کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس کے پر سان حال ہزاروں کی تعداد میں نرسنگ ہوم میں جمع تو ہوسکتے ہیں سرکاری عملہ نیز ڈاکٹر وں کی ایک پوری ٹیم مستعد ہوسکتی ہے مگر زندگی بخشنے میں ناکامی کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں لگتا کیونکہ دوا میں شفا کی قدرت خدائے وحیدہٗ لاشریک کے اختیار میں ہے۔ یہ افسانہ اندھیرے میں نور کی کرن ہے ورنہ عصر حاضر میں کسی شاعر و ادیب کو ایسے مخلص لوگ کہاں ملتے ہیں یہ تو انتہائی ناقدری کا عہد ہے۔ افسانہ کی زبان نہایت ہی سلیس ہے مگر قارئین کو اپنے حصارِ لطف میں لینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ میں فرخندہ ضمیر کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
ReplyDeleteشبیر ذوالمنان۔۔۔۔۔۔ ہوڑہ