مسیحائی : ایم مبین (بھیونڈی)
بزمِ افسانہ کی پیش کش
سترہواں ایونٹ
رنگ و آہنگ
افسانہ نمبر : 02
*مسیحائی*
ایم مبین
” شاید آپ لوگوں کو مریض کی جان کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ “
ڈاکٹر بابوجی کوچیک کرکےاُن پربھڑک اُٹھا ۔
” اِن کو ایڈمٹ کرنا بےحد ضروری ہے۔ اِن کا فوراً خون ، شُوگر ، یورین ٹیسٹ کیجئے، سٹی اسکین کرنےکی ضرورت ہے۔ بدن کی سونو گرافی اور چھاتی کےایکسرےکی رپورٹ آنےکےبعد صحیح طور پر علاج کرنا ممکن ہوگا ۔ میں ابتدائی علاج شروع کروادیتا ہوں ۔ “
ڈاکٹر نےکہتےہوئےدو تین پُرزےاُن کی طرف بڑھا دئے۔
اور مڑ کر اپنےپاس کھڑی نرسوں کو ہدایتیں دینےلگا ۔ نرسوں نےوارڈ بوائز کو آواز دی اور اِس کےبعد وارڈ بوائز کی ہلچل شروع ہوگئی ۔
وہ ایک اسٹریچر لےآئےاور پیروں پر چل کر اسپتال آنےوالےبابوجی کو اسٹریچر پر ڈال کر لےجایا جانےلگا ۔
” ڈاکٹر جنرل وارڈ میں جگہ نہیں ہے۔ “ ایک نرس نےآکر اطلاع دی ۔
” ٹھیک ہےمریض کو کسی پرائیویٹ روم میں شفٹ کردو ۔ “ ڈاکٹر نےحکم دیا ۔
” افسوس ڈاکٹر کوئی پرائیویٹ روم بھی خالی نہیں ہے۔ “ نرس بولی ۔
” اوہو ! مریض کو ایڈمٹ کرکےاس کا علاج کرنا بہت ضروری ہے‘ ٹھیک ہے! کسی اے۔ سی روم میں ہی شفٹ کرد و ۔ “ ڈاکٹر بولا
ڈاکٹر کی بات سن کر نرس اُس کا منہ دیکھنےلگی ۔
” اِس طرح میرا منہ کیوں دیکھ رہی ہو ؟ “ ڈاکٹر چِڑ کر بولا ۔
” اے۔ سی روم کےچارجز ! آپ مریض کےرشتہ داروں سےبھی تو پوچھ لیجئے ! “نرس رُک رُک کر بولی
” اب پوچھنےکی کیا ضرورت ہے؟ “ ڈاکٹر غصہ سےبولا ۔ ” مریض میرا ہے‘ میں مریض کی پوزیشن اچھی طرح سمجھتا ہوں ۔ یہ لوگ مریض کا علاج کرنےکےلئےیہاں آئےہیں ۔ اگر وہ فوراً اِس سلسلےمیں کوئی فیصلہ نہیں کرتےہیں تو مریض کی جان کو خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ “
کہتا وہ تیز تیز قدموں سےایک طرف چل دیا ۔
وہ سب ایک دُوسرےکا منہ دیکھنےلگے۔
اِس درمیان وارڈ بوائز بابوجی کو لےکر پتہ نہیں کہاں چلےگئےتھے۔ ڈاکٹر کےچلےجانےکےبعد اُنھیں ہوش آیا کہ ابھی تک اُنھیں اِس بات کا بھی علم نہیں ہےکہ بابوجی کو کہاں ایڈمٹ کیا گیا ہے۔ تو وہ گھبرا کر ایک طرف دوڑ پڑے۔ اور اُنھوں نےایک نرس کو روک کر پوچھا ۔
” سسٹر ! ہمارےبابوجی کو کہاں ایڈمٹ کیا گیا ہے؟ “
” بابوجی کو اوپر والےفلور پر اے۔ سی روم نمبر ٠١ میں ایڈمٹ کیا گیا ہے۔ دو اسپشلسٹ ڈاکٹر آئےہیں اور وہ آپ کےبابوجی کی جانچ کررہےہیں ۔ ابھی آپ اُن سےنہیں مل سکتے، اُن کا علاج شروع ہوچکا ہے۔ “ نرس بولی۔ نرس کی بات سن کر وہ سب ہکّا بکّا رہ گئے۔
” ہےبھگوان ! اُنھیں کیا ہوگیا ہے؟ ابھی تک تو اچھےبھلےتھے۔“ ماں نےاپنا دِل تھام لیا ۔
اور وہ یہ طےنہیں کرپارہا تھا کہ بابوجی سچ مچ اچھےتھےیا اُن کی حالت اِتنی غیر ہوگئی تھی کہ اگر وہ تھوڑی دیر اور اُنھیں یہاں نہیں لاتےتو اُن کی جان کو خطرہ پیدا ہوجاتا ؟
دو دِن سےبابوجی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی ۔
ویسےوہ جب سےریٹائر ہوئےتھے، تب سےہی اُن کی طبیعت نرم گرم رہتی تھی ۔ اِس بار بھی طبیعت خراب ہوئی تو اِسی ڈاکٹر کی دوائی شروع کی تھی جس کا وہ علاج کرنےآئےتھے۔
سویرےبابوجی نےبتایا ۔
” اِس بار مجھےکوئی فرق محسوس نہیں ہورہا ہے۔ تکلیف بڑھتی جارہی ہے، سانس لینےمیں دُشواری ہورہی ہے، سر درد سےپھٹا جارہا ہے، بار بار آنکھوں کےسامنےاندھیرا سا چھا جاتا ہےاور کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ “ بابوجی کی بات سُن کر اُس نےاُن کا علاج کرنےوالےڈاکٹر سےبات کی ۔
” دیکھئےعمر کا تقاضہ ہے۔ اِس طرح کی بیماریاں اور شکایتیں تو ہوں گی ، اِس کی وجہ کوئی بڑی بیماری بھی ہوسکتی ہے۔ اچھا ہےآپ کسی بڑےاسپشلسٹ کو دِکھا دیں ۔ میں ایک ڈاکٹر کےنام چٹ لکھ دیتا ہوں ‘ وہ مرض کو بہت جلدی پرکھ لیتاہے۔ “
اور وہ بابوجی کو اُس ڈاکٹر کےپاس لےکر آئےتھے۔
پورےتین گھنٹےتک لائن میں بیٹھ کر اُنھوں نےاپنی باری کا انتظار کیا تھا ۔
جب اُن کا نمبر آیا تو آدھےگھنٹےتک ڈاکٹر نےطرح طرح کےآلات سےبابوجی کو اچھی طرح سےچیک کیا تھا اور اُن سےاور بابوجی سےسیکڑوں سوالات کئےتھے۔
اور اِس کےبعد فیصلہ صادر کردیا تھا ۔
بوجھل قدموں سےچلتےوہ اوپر کےفلور پر آئےاور روم نمبر ٠١ کےسامنےایک بنچ پر بیٹھ گئے۔ ماں زار و قطار رو رہی تھی ۔ پونم اور وِدیّا اُسےتسلّی دےرہی تھیں ۔
” ماںجی ! آپ اپنےآپ کو سنبھالئے، بابوجی کو کچھ نہیں ہوا ہے‘ وہ جلد ٹھیک ہوجائیں گے، اُن کی تکلیف دُور کرنےکےلئےہی تو ہم اُنھیں اسپتال میں لائےہیں ۔ ایک دو دِن میں وہ بالکل ٹھیک ہوجائیں گے۔ “
وہ اور اشوک ایک دُوسرےکا منہ تک رہےتھے۔ چاہ کر بھی ایک دُوسرےسےکچھ کہہ نہیں پارہےتھے۔
سوچا کہ رینوکا اور وِشاکھا کو بھی بابوجی کی حالت سےمطلع کیا جائے۔
لیکن ماں نےاُنھیں منع کردیا ۔
” بابوجی کی بیماری کی خبر سُن کر دونوں پریشان ہوجائیں گی ۔ اور بال بچوں کو چھوڑ کر دوڑی آئیں گی ۔ وِشاکھا تو خیر ٠١ کلومیٹر دُور رہتی ہے‘ لیکن رینوکا ٠٠١ کلومیٹر دُور رہتی ہے۔ ۔ اُنھیں پریشان نہ کیا جائے۔ “
” ماں تمہارا کہنا دُرست ہے‘ لیکن بعد میں وہ ہم پر الزام لگائیں گی کہ بابوجی کی طبیعت اِتنی خراب ہوگئی اور ہم نےاُنھیں مطلع بھی نہیں کیا ۔ “ پونم اور وِدیّا بولیں
اور اُن کےچہروں کو کچھ اِس طرح تاکنےلگیں ، جیسےاُن سےسوال کرر ہی ہو کہ اِس بات کی روشنی میں وہ دونوں فوراً کوئی فیصلہ لیں ۔
اندر ایک گھنٹےتک پتہ نہیں کیا کیا چلتا رہا ۔ کبھی کوئی نرس باہر آتی تو کوئی اندر جاتی،کبھی کوئی ڈاکٹر کسی نرس کو ہدایتیں دیتا باہر آتا تو کبھی دُوسراکوئی ڈاکٹر نرس سےباتیں کرتا کمرےمیں جاتا ۔
ڈیڑھ گھنٹےکےبعد جب اُنھیں بابوجی کو دیکھنےکی اجازت ملی تو بابوجی کو دیکھ کر اُن کا کلیجہ دھک سےرہ گیا اور ماں تو دہاڑیں مار مار کر رونےلگیں ۔
بابوجی بےہوش پلنگ پر لیٹےتھے۔ اُن کی ناک پر ماسک لگا ہوا تھا ۔ آس پاس ایک دو مشینیں لگی تھیں ‘ جن کےوائر اُن کےدماغ اور دِل کےقریب کےمقامات سےجڑےتھے۔مشینوں پر ایک برقی رو بجلی سی لہرا رہی تھی ۔ دونوں ہاتھوں میں سرنج لگی تھی ۔
” شش! ماں جی آپ شور مت کیجئے، مریض کو تکلیف ہوگی ، آپ انھیں دیکھ کر چلےجائیے۔ اُن کی دیکھ بھال کرنےکےلئےہم موجود ہیں ۔ “نرس نےماں کو پیار سےڈانٹا ۔ اُنھیں زیادہ دیر بابوجی کےپاس رُکنےنہیں دیا گیا ۔
ایک نرس دواو
¿ں کی ایک لمبی لسٹ اُسےتھما گئی ۔
” یہ دوائیں فوراً لےآئیے۔ نیچےمیڈیکل میں مل جائیں گی ۔ “
اُس نےوہ لسٹ اشوک کی طرف بڑھادی ۔ اشوک دوائیں لانےکےلئےنیچےچلا گیا ۔
آدھےگھنٹےبعد وہ واپس آیا ۔
” کیا بات ہے؟ “ اُس نےاشوک سےپوچھا
” دوائیوں کا بل ساڑےچار ہزار روپیہ ہوا ہے۔“ اشوک بولا ۔ ” اور میری جیب میں اِس وقت صرف تین ہزار روپےہی ہیں ۔ “
اُس نےجیب میں ہاتھ ڈال کر پیسےنکالےاور ٥١ سوروپےگن کر اشوک کی طرف بڑھادئے
اشوک کےجانےکےبعد ایک نرس ایک چٹھی لےکر آئی ۔
” آپ مسٹر دیانند بھارگو کےبیٹےہیں ؟ “
” جی ہاں ! “
” آپ ٥١ ہزار روپےکیش کاو
¿نٹر پر جمع کرادیں ۔ اِس اسپتال میں مریض کو داخل کرنےکےساتھ ٥١ ہزار روپےپیشگی جمع کرنا ضروری ہوتا ہے۔ “
” لیکن میں تو اِتنےپیسےلےکر نہیں آیا ہوں ؟ “ وہ ہکلایا ۔
” تو گھر جاکر لےآئیے۔ ہمار کیش کاو
¿نٹر رات میں ٢١ بجےتک کھلا رہتا ہے۔ “
” لیکن سسٹر رات کے٠١ بج رہےہیں ‘ اِتنی بڑی رقم گھر میں تو موجود نہیں ہوسکتی جو میں جاکر لےآو
¿ں ؟ کل بینک کھلنےپر رقم میں لاکر جمع کرادوں گا ۔ “ وہ بولا ۔
” دیکھئے! آپ کا مریض ایڈمٹ کرلیا گیا ہے، اِس لئےاُصولوں کےمطابق پیشگی رقم جمع کرانا بہت ضروری ہے۔ آپ کسی سےاُدھار لےآئیے، سویرےاسےلوٹا دینا ۔ اگر ممکن نہیں ہےتو آپ ڈاکٹر سےبات کریں ۔ “ نرس کہہ کر چلی گئی ۔
نہ تو گھر میں اتنی بڑی رقم تھی اورنہ ہی اِتنی بڑی رقم کا انتظام ممکن تھا ۔
اس نےاِس سلسلےمیں ڈاکٹر سےبات کرنی ہی مناسب سمجھی ۔ ڈاکٹر سےاس نےجب اِس سلسلےمیں بات کی اور یقین دِلایا کہ سویرےگیارہ بجےتک وہ ٥١ ہزار روپےلاکر جمع کرادےگا تو ڈاکٹر نےاُسےرعایت دےدی ۔
ایک گھنٹےکےبعد اُنھیں گھر جانےکےلئےکہا گیا ۔ نرسوں کا کہنا تھا کہ مریض کےپاس کسی کو بھی رُکنےکی ضرورت نہیں ۔ مریض کی دیکھ بھال کےلئےوہ ہیں ۔ لیکن جب اُنھوں نےبہت زیادہ اصرار کیا تو وہ اِس بات کےلئےراضی ہوگئےکہ چاہےتو وہ یا اشوک رات کو اسپتال میں بابوجی کےپاس رُک سکتےہیں ۔
اشوک نےاُسےگھر جانےکےلئےکہا ۔ وہ بابوجی کےپاس رُک گیا ۔ وہ ، پونم ، وِدیّا اور ماں گھر واپس آگئے۔
ماں بابوجی کےپاس رُکنےکےلئےضد کررہی تھی ۔ بڑی مشکل سےاُنھوں نےاُسےسمجھایا ۔
دُوسرےدِن ٢١ بجےکےقریب وہ پیسوں کا انتظام کرکےاسپتال گیا ۔ اُ س نے٥١ ہزار روپےکیش کاو
¿نٹر پر جمع کرادئےاور اشوک سےبابوجی کی طبیعت کےبارےمیں پوچھا ۔
” رات بھر تو بےہوش رہےیا سوتےرہے‘ کچھ سمجھ میں نہیں آسکا ۔ سویرےہوش آیا تو اُن کا سٹی اسکین اور سونو گرافی اور ایکسرےلیا گیا ، خون وغیرہ تو رات میں ہی ٹیسٹ کرلیا گیا تھا ۔ سب کی رپورٹ شام تک آجائےگی ۔ ڈاکٹر نےکہا ہےکہ شام کو وہ ان رپورٹوں کی بنیاد پر صحیح طور پر بتا سکےگا کہ بابوجی کو کیا بیماری ہے؟ “
”ٹھیک ہےاب تم گھر جاو
¿ ‘ میں بابوجی کےپاس رہتا ہوں ۔ “ اُس نےاشوک سےکہا ۔
” گھر جاکربھی کیاکروں گا ؟ “ اشوک بولا ۔ ” آج تو آفس سےچھٹی ہی لینی پڑی ۔ دوپہر تک رُکتا ہوں ۔ “
اُسےبھی آفس سےچھٹی کرنی پڑی تھی ۔ جب تک بابوجی اسپتال میں ہیں تب تک آفس جانےکےبارےمیں وہ دونوں سوچ بھی نہیں سکتےتھے۔
سویرےوِشاکھا اور رینوکا کو بھی بابوجی کی بیماری کےبارےمیں مطلع کردیا گیا تھا ۔
شام تک دونوں بھی آگئیں ۔
رات کو ایک بار پھر پورا خاندان اسپتال میں جمع ہوگیا ۔ بابوجی اُس وقت سورہےتھے، دوپہر میں جاگےتھے۔ اُس سےایک دوباتیں بھی کی تھیں لیکن پھر شاید دواو
¿ں کےغلبہ سےپھر اُنھیں نیند آگئی ۔
رات میں ڈاکٹر رپورٹ دینےوالاتھا ۔
دس بجےکےقریب ڈاکٹر اُنھیں خالی ملا تو سب نےاُسےگھیر لیا ۔
” ہاں مجھےسب رپورٹیں مل گئی ہیں ۔ دراصل آپ کےبابوجی کےدماغ میں ایک گانٹھ ہےجس سےاُن کےدماغ کو خو ن کی سپلائی رُک جاتی ہے۔ اگر اس کا وقت پر علاج نہیںکیا جاتا تو اس سےبرین ہیمریج ہونےکا بھی خطرہ تھا ۔اس کی وجہ سےآپ کےبابوجی کو یہ تکلیفیں تھیں ۔ ہم نےعلاج شروع کردیا ہے۔ بھگوان نےچاہا تو آپ کےبابوجی آٹھ دس دِن یہاں رہنےکےبعد ٹھیک ہوجائیں گے۔ “
اور دو دِن کس طرح گذرےکچھ سمجھ میں نہیں آیا ۔ گھر کا ہر فرد اسپتال کےچکّر لگاتا تھا ۔ بابوجی کبھی بےخبر سوئےرہتےکبھی ہوش میں آتےتو چیخنےلگتے۔
” تم لوگوں نےمجھےیہاں کیوں ایڈمٹ کر رکھا ہے؟ میں بالکل ٹھیک ہوں ، مجھےگھر لےچلو ۔ ‘
تیسرےدِن نرس نےتین دِنوں کےاخراجات کا بل اُسےتھما دیا ۔ اُس کےمطابق اس وقت تک کل ٩١ ہزار روپےبل ہوچکا تھا ۔ ابھی مریض کو اور آٹھ دس دِن اسپتال میں رہنا تھا ۔ اِس لئےوہ فوراً اور ٥١ ہزار روپےجمع کردیں ۔ اس نےحساب لگایا اس وقت تک ٤٢ ہزار سےزائد خرچ ہوچکا تھا اور آٹھ دس دِن رہنا ہی‘ اُس کےحساب سےجو حاصل جمع خرچ آیا۔ اُسےدیکھ کر اُسےچکّر سےآنےلگے۔
اِدھر بابوجی نےسارا اسپتال اپنےسر پر لےلیا تھا ۔
وہ یہی کہتےتھے۔
” میں بالکل ٹھیک ہوں ، مجھےکچھ نہیں ہوا ہے۔ تم لوگ میری جان کےدُشمن بنےہوئےہو ، تم مجھےمارنےکےلئےیہاں لےآئےہو ۔ مجھےفوراً یہاں سےنکال کر گھر لےچلو ۔ “
خرچ اور بابوجی کی ضد کو دیکھتےہوئےاُنھوں نےبابوجی کو اسپتال سےگھر لےجانےکا فیصلہ کرلیا ۔
لیکن ڈاکٹر نےصاف کہہ دیا کہ وہ مریض کو ایسی حالت میں گھر لےجانےنہیں دےگا ۔ اگر مریض کو کچھ ہوگیا تو اس کا دمہ دار کون ؟
چِڑ کر اُس نےاشوک سےکہہ دیا کہ ساری ذمہ داری وہ اپنےسر لیتےہیں ۔
اس کےپاس اِتنا مہنگا علاج کرنےکےلئےاور پیسہ نہیں ہے۔ اگر ڈاکٹر نےزبردستی بابوجی کو اسپتال میں رکھا تو وہ اب ایک پیسہ بھی بل ادا نہیں کرسکتے۔
اُن کی دو ٹوک بات سن کر ڈاکٹر نےبابوجی کو اسپتال سےڈسچارج کردیا ۔
بابوجی گھر آئےتو بھلےچنگےتھے۔
وہ دونوں اِس بات کا حساب لگارہےتھےکہ بابوجی کےعلاج پر جو پیسہ خرچ ہوا ہے، اُنھوں نےکتنےدِنوں میں ایک ایک پیسہ جوڑ کر جمع کیا تھا
ایک دِن پھر بابوجی کی حالت خراب ہوئی ۔
پھر بابوجی کو ایک ڈاکٹر کےپاس لےجانا پڑا ۔
” شاید آپ لوگوں کو مریض کی جان کی کوئی پرواہ نہیں ہے؟ “ ڈاکٹر بابوجی کو چیک کرکےان پر بھڑک اُٹھا ۔ ” ان کو فوراً ایڈمٹ کرنا بےحد ضروری ہے۔ ان کا فوراً خون ، شوگر ، یورین ٹیسٹ کیجئے۔ سٹی اسکین کرنےکی ضرورت ہے۔ بدن کی سونوگرافی اور چھاتی کےایکسرےکی رپورٹ آنےکےبعد ہی صحیح طور پر علاج کرنا ممکن ہوپائےگا ۔ میں ابتدائی علاج شروع کروادیتا ہوں ! “
ختم شدہ
......................................................................
افسانہ نگار کا تعارف
بھیونڈی، مہاراشٹر سے ایم مبین اردو زبان کے جانے مانے افسانہ نگار ہیں ـ اسّی کی دہائی کے بعد کے لکھنے والوں میں ان کا نام خصوصیت کا حامل ہے ـ ایم مبین نے افسانے کے علاوہ ڈراما اور ادب اطفال میں بھی اپنے قلمی جوہر دکھائے ہیں ـ نیز برسوں سے ہندی زبان میں بھی وہ انھی اصناف میں طبع آزمائی کرتے رہے ہیں ـ بر صغیر کے تقریباً سبھی معیاری ادبی رسائل میں ان کے افسانے شایع ہوتے رہے ہیں ـ ممبئی، جلگاؤں ،اورنگ آباد ناگپور وغیرہ کے ریڈیو اسٹیشنوں پر کئی ڈرامے اور کہانیاں نشر ہوئیں ـ کئی بڑے جلسے، ادبی سمینار ایم مبین کے نام سے منسوب ہو چکے ـ ایم مبین کی کتابوں کی تعداد 70 کے قریب ہے جن میں افسانوی مجموعوں میں "نئی صدی کا عذاب" ، "ٹوٹی چھت کا مکان"،"لمس" اور "زندگی الرٹ" ان کے مشہور مجموعے ہیں ـ ایم مبین ایک بینک میں سی ای او کے عہدے پر فائز تھے اور سبکدوش ہوکر شہر بھیونڈی میں مقیم ہیں ـ
*انعام و اعزاز*
*ایم مبین کی ہندی کتاب "یاتنا کا ایک دن" قومی ایوارڈ وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی جی کے ہاتھوں تفویض کیا گیا تھا ـ*
*ان کے ہندی ناول "ریوڑ" پر ریاستی اکیڈمی کا منشی پریم چند ایوارڈ*
*مہاراشٹر اردو اکادمی سے ان کی پانچ کتابوں پر انعام*
*یوپی اکادمی سے دو کتابوں پر ایوارڈ تفویض کیا جا چکا ہے -*

رنگ آہنگ
ReplyDeleteافسانہ نمبر :02
افسانہ :مسیحائی
افسانہ نگار : ایم مبین
تاثرات :شہناز فاطمہ
واہ حالات حاضرہ کا آءینہ "مسیحائی" کے عنوان سے پیش کر دیا محترم جناب ایم مبین صاحب نے
اسپتال کی کتنی سچی عکاسی کی ہے نگاہوں میں ایک ایک منظر آگیا پہلے ڈاکٹر مسیحا کہا جاتا تھا اور سمجھا جاتا تھا لیکن اسوقت وہ صرف پیسہ کھنچنے کی مشین ہورہا ہے اتنا مفاد پرست یہ سسٹم ہوگیا ہے کہ اب تو اسپتال کے نام سے جی ڈرتا ہے
بابو جی کا جو حال ہوا
یہی سب کے ساتھ ہوتا ہے خون اور پیسہ چوسنے والی مشین کا نام اب ڈاکٹر اور اسپتال ہے نا ہمدردی ہے نا علاج ہے پہلے یہ پیشہ عبادت میں شمار ہوتا تھا لیکن اب تجارت بن گیا ہے بیمار کے لئے اب نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی کیونکہ کوئی ڈاکٹر اب فعال رہ ہی نہیں گیا ہے کچھ تعلیمی پالیسی کی گراوٹ کی وجہ سے اور کچھ اس گرانی کے دور میں صرف اپنا فائدہ دیکھتے ہوئے مریض کو موت کے گھاٹ پہنچا دیتے ہیں اگر کوئی شخص سورس رکھتا ہے تو تھوڑی بہت کیر بھی ہوجاتی ہے بظاہر لیکن اندر سے وہی کاروبار چلا کرتا ہے جو بابو جی کے ساتھ چل رہا تھا
بہرحال اتنی سچائی سے اظہار کرنے کے لئے محترم ایم مبین صاحب کا بہت شکریہ کیونکہ سچ بولنے کے لئے بھی دم ہونا چاہئے حقیقت کا اعتراف ہر کوئی نہیں کرپرتا
محترم جناب اءم مبین صاحب کے لئے نیک خواہشات اور پرخلوص مبارکباد پیش کرتی ہوں
افسانہ :مسیحائی
ReplyDeleteافسانہ نگار :ایم مبین
مبصر :عظیم اللہ ہاشمی (بنگال)
زیر نظر افسانے کا اسلوب سادہ بیانیہ ہے جس کے باعث ترسیل کا کوئی مسلہ نہیں ہے۔آج ہر اسپتال اور نرسنگ ہوم میں بابو جی مل جائیں گے۔افسانےکا پیغام یہ ہے کہ رواں عصر میں ڈاکٹری کا پیشہ عبادت نہیں تجارت بن گیاہے۔اس سے نجات کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔صارفیت کے اس دور میں زندگی کاہر شعبہ آلودہ ہے۔جان سے زیادہ قیمت پیسے کی ہوگئی ہے۔زندگی کی اس کربلا سے کیسے باہر نکلا جائے ؛اس پر غور وفکر کی اسد ضرورت ہے۔کم از کم علاج و معالجہ کے شعبے کو اس سے پاک ہونا چاہئے کہ ڈاکٹرکا مرتبہ زمینی خدا کے مترادف ہوتا ہے۔افسانہ یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کہیں کل کا بابو جی ہم ہی نہ ہوں۔۔۔۔نیک خواہشات
افسانہ " مسیحائی "
ReplyDeleteافسانہ نگار " ایم مبین"
تاثرات " رخسانہ نازنین"
"مسیحائی " پڑھتے ہوئے یہ خیال یقین میں بدل گیا کہ مسیحا ہی اب قاتل بن چکے ہیں ۔ معمولی مرض کو خطرناک بنا کر پیسہ اینٹھنا اب دواخانوں میں عام ہوگیا ہے ۔ مختلف ٹیسٹ کرواکے انکا الگ کمیشن لینا معمول بن چکا ہے ۔ ڈاکٹرز کے یہ روئیے متوسط طبقے کے لئے کسی عذاب سے کم نہیں ۔ بھلے چنگے شخص کو بستر مرگ تک پہنچانے کے ہزاروں واقعات ہم روز سنتے، پڑھتے ہیں ۔ محترم ایم مبین صاحب نے اس حقیقت کو افسانے کا روپ اسطرح دیا ہے کہ بابوجی کے اہل خانہ کا درد قاری اپنے دل میں محسوس کرتا ہے ۔کڑوے سچ سے روبرو کرواتا افسانہ ۔ مبارکباد پیش ہے ۔
افسانہ : مسیحائی
ReplyDeleteافسانہ نگار : ایم مبین
مبصر : وسیم عقیل شاہ
ہم اکثر ایسی کہانیاں بھی پڑھتے رہے ہیں جن میں اچھی شروعات اور تجسس تو ہوتا ہے تاہم کوئی خاص نقطہ عروج اور کلائمکس نہیں ہوتا ـ مگر کہانی ختم کرنے کے بعد جب ہم چند سوالوں کے ساتھ کہانی کے عنوان پر دوبارہ نظر ڈالتے ہیں تو اسی لمحے اور اسی مقام پر کہانی ہمیں اپیل کر جاتی ہے، اور بعض دفعہ عنوان میں کوئی ایسا لفظ ہوتا ہے کہ جو طنز کا پہلو لیے ہو ، تو طنز کی یہ کاٹ پورے افسانے پر چھا جاتی ہے اور کہانی کا اصل تاثر قائم کرتی ہے ـ اس کی ایک اچھی مثال ایم مبین کا افسانہ "مسیحائی" ہے ـ
ایم مبین عصر حاضر کے مشہور افسانہ نگار ہیں ـ راقم نے ذاتی طور پر انھیں خوب پڑھا ہے، اس لیے بھی کہ انھوں لکھا بھی 'خوب 'ہے ـ ایک اندازے کے مطابق ایم مبین کے افسانوں کی تعداد ایک ہزار کے قریب ہے ـ یہی وجہ ہے کہ موصوف 80 کے بعد کے لکھنے والوں میں شمار ہوتے ہیں لیکن آج بھی ان کے قلم کی روانی ذرا دیر کے لیے نہیں تھمتی، گویا یہ کہ ان کا قلم آج بھی جوان ہے ـ
بہر حال، زیر نظر افسانہ کی اگر بات کی جائے تو یہ فن کے اعتبار سے ایک مکمل افسانہ ہے اور اس کا موضوع بھی افسانے کی فکری فضا میں اپنی تکمیل کو پہنچ جاتا ـ موضوع اگرچہ نیا نہیں ہے، کئی اصناف بشمول شاعری میں اسے برتا گیا ہے ـ بسا اوقات ہم لوگ بطور تخلیق کار کسی یونک موضوع کی تلاش میں ہوتے ہیں اور دیر تک کچھ لکھ نہیں پاتے ـ لیکن بغرض تبدیلی ادب کا ایک وطیرہ تکرارِ حجت بھی ہے کہ ہمارے آس پاس جو ہو رہا ہے اسے بار بار دہرایا جائے یا اس پر بار بار ضرب لگائی جائے ـ
موصوف افسانہ نگار ایم مبین نے اس افسانے میں پیشہء حکیمی کا عصری حقیقی منظر نامہ پیش کیا ہے ـ یہ بھی کہ یہ افسانہ حقیقت نگاری کی اچھی مثال ہے ـ ہم جانتے ہیں کہ علاج و معالجہ سے جڑی تمام خدمات دراصل ' پیشہ ' نہیں بلکہ خدمت خلق کے زمرے میں آتی ہیں ـ لیکن اب سچ تو یہی بن کر رہ گیا ہے کہ اب یہ کام صرف پیشہ ہی ہے ، اور طرہ یہ کہ دوسرے پیشوں کے مقابلے میں اپنے معیار سے سب زیادہ گر چکا ہے ـ اس گراوٹ کو دیکھنے کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں بلکہ فرد اپنے محلے ہی کا جائزہ لے لے تو دل مسوس کر رہ جائے ـ حالانکہ ابھی چند انسان دوست،رحم دل، ہمدرد، خدا ترس اور مخلص ڈاکٹرز موجود ہیں جو اسے خدمت خلق سمجھتے ہوئے اپنے انسان ہونے کا ثبوت فراہم کر رہے ہیں ـ
دوسری بات، اس کہانی کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ یہ کہانی ہماری اپنی ہی ہے یا پھر ہمارے آس پاس کے جیتے جاگتے انسانوں کی ہے ـ ایم مبین کے فکشن کا خاصہ یہ بھی رہا ہے کہ انھوں نے ہر طرح کے قاری کے لیے عام انسانوں ہی کی کہانیاں لکھیں ـ ان کے افسانوں میں خال خال ہی ہی کوئی ایسا کردار نظر آتا ہے جس کا طرز حیات لگژری ہو ، وہ بہت رئیس ہو یا پھر اس کی کئی فیکٹریاں چل رہی ہوں ـ اگرچہ کہانی وہاں سے بھی اپنے بال و پر نکال لیتی ہے لیکن ایم مبین کا یہ انداز زمین سے ان کی گہری وابستگی کا واضح ثبوت پیش کرتا ہے ـ اس ضمن میں ایم مبین کے مشاہدے کا ذکر بھی ضروری ہے جو انھیں اسی مقام پر کھڑے ہو کر کرنا ہوتا ہے ـ دواخانے کا پورا منظر، مریض کی کیفیت، افراد خانہ کی بے حالی اور مریض کے بچوں کا دواخانے کے اخراجات پر پریشان ہونا وغیرہ ـ مشاہدہ دراصل کس چیز کا کرنا چاہیے اس سے تو ایم مبین واقف ہیں ہی نیز کن مشاہدات سے کیا محسوسات کشید کیے جانے چاہئیں یہ بھی موصوف خوبی سے جانتے ہیں ـ
بہر حال، ایک فکر انگیز افسانے کے لیے ایم مبین کو مبارک پیش کرتا ہوں ـ
افسانہ۔ مسیحائی
ReplyDeleteافسانہ نگار۔ ایم مبین صاحب
مبصر۔نسترن احسن فتیحی
جیسا کہ تعارف اور تبصرے سے انداز ہوا کہ جناب ایم مبین صاحب نے بہت لکھا ہے۔ زیر نظر تخلیق میں انہوں نے اس حقیقت کو موضوع بنایا ہے جس سے کم و بیش سب ہی واقف ہیں ۔آج کارپوریٹ ورلڈ میں جہاں ہاسپٹل پانچ ستارہ ہوٹل بن چکے ہیں وہاں ایسا بھی ہوتا ہے۔کورونا وبا کے دور میں اس کی زبوں حالی نے ہم سب کو خوف زدہ کر دیا ہے۔
زیر نظر کہانی میں سامنے کا ایک موضوع ہے اور اسے بہت سیدھے سادے انداز میں بیان کیا گیا یے ۔افسانے کا وحدت تاثر، شعریت اور کسی خاص تکنیک کا استعمال نظر نہیں آتا۔ اس لئے میں اسے ایک اچھی کہانی تو کہونگی مگر افسانہ نہیں ۔
This comment has been removed by the author.
ReplyDeleteافسانہ: مسیحائی
ReplyDeleteافسانہ نگار: ایم۔ مبین
تاثرات : محمد علی صدیقی
پرائیویٹ ہسپتالوں میں جو کچھ ہوتا ہے یا ہو رہا ہے، افسابے میں اس کی خوب عکاسی کی گئی ہے۔ مریض کے گھر والوں کے جذبات سے کھیلنا۔ غیر ضروری ٹیسٹ کروانا اور اے۔سی روم سے کم کا کوئی بیڈ خالی نہ ہونا وغیرہ۔ جن لوگوں کا کبھی بھی کسی پرائیویٹ ہسپال سے واسطہ پڑا ہو گا وہ ان باتوں سے خوب واقف ہوں گے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پرائیویٹ ہسپتالوں کو کاوبار کی طرح چلایا جاتا ہے اور مالکوں کی نظر ہمیشہ نفع نقصان ہر رہتی ہے۔ بہت سے پرائیویٹ ہسپتال تو corporatise ہیں اور اسٹاک ایکسچینج میں لسٹیڈ ہیں۔
پرائیویٹ ہسپتال کے ساتھ میرا تجربہ کچھ الگ رہا ہے۔ مجھے سانس کی کچھ شکایت تھی۔ میں اپولو ہسپتال جایا کرتا تھا۔ پورا ہسپتال A.C۔ چھوٹے بھائی ہمیشہ فکرمند رہتے تھے کہ سانس کے ڈاکٹر کے ہاس جا رہے ہیں اور اتنی دیر اے۔سی میں رہنا پڑ رہا ہے۔ بہر حال وہاں جو کچھ ہوتا ہے وہ میرے ساتھ بھی ہو رہا تھا۔ ایک بار میں PFT کرائے بغیر ڈاکٹر کے سامنے پہنچ گیا۔
ڈاکٹر نے پوچھا، "پی۔ایف۔ٹی کروایا۔"
میرا جواب تھا "نہیں"۔
اس نے میرا معائنہ کیا، دوائیں لکھیں اور کہا
"پی۔ ایف۔ٹی کرا لیجئے گا۔"
دوا تو آپ لکھ چکے۔ اب پی۔ایف۔ٹی سے کیا فائدہ۔" میں نے حیرت سے پوچھا
"میں دیکھ لوں گا" ڈاکٹر نے سرسری طور پر جواب دیا اور دوسری طرف متوجہ ہو گیا۔
اس دن میں ہسپتال کے باے میں الگ طرح سے سوچنے لگا۔ مجھے ہسپتال کے سارے مناظر یاد آنے لگے۔ ڈاکٹروں کے چمبر کے سامنے بھیڑ۔ ایڈمٹ ہونے والے مریضوں کے گھر والوں کی بھیڑ۔ الگ الگ ٹیسٹ کے لئے الگ الگ ڈیپارٹمنٹ اور ہر ڈیپارٹمنٹ میں ویسی ہی بھیڑ۔
یہ کاروبار تو بہت منافع بخش ہے۔ میں سوچا۔
اس دن گھر آ کر میں نے سب سے پہلے اپنا لیپ ٹاپ اٹھایا اور اپولو ہستال کا 100 شئیر 750 روپے کے حساب سے خرید لیا یہ تقریباً دس سال پہلے کی بات ہے۔ آج ایک شئیر کی قیمت 4800 روپے ہے۔ اپنے پاس موجود کسی شئیر کی قیمت کم ہوتی ہے تو دم گھٹنے لگتا ہے اور قیمت بڑھتی ہے تو سانس ٹھیک چلنے لگتی ہے۔ مالکان کی ذہنی کیفیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ایم۔مبین صاحب نے پرائیویٹ ہسپتال کے چنگل میں پھنسے ایک گھرانے کی ذہنی کشمکش کی تصویر کشی بھی خوب کی ہے۔ اس سے مفر بھی نہیں۔ دوبارہ طبیعت خراب ہوئی تو پھر وہی چکر۔ ایسے مسیحاؤں سے اللہ بچائے۔
حقیقت پر مبنی
اس افسانے کے لئے فاضل قلم کار کو
داد و مبارک باد پیش ہے۔
شکریہ
نوٹ: اپنا واقعہ زیبِ تبصرہ کے لئے لکھا گیا ہے۔ اسے حقیقت نہ سمجھیں۔
افسانہ : مسیحائی.
ReplyDeleteاظہارِ خیال :فریدہ نثار احمد انصاری.
ڈاکٹرز سے اکثر طاغوت بن گئے ہیں.
اس مقدس پیشے کو دولت کمانے کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے.
صرف ڈاکٹرز ہی نہیں اسپتال کا پورا عملہ مریض اور ان کے رشتے داروں کے ساتھ کھلواڑ کر رہا ہے.
قابل قلم کار نے اپنے گردوپیش سے متاثر ہو کر یہ افسانہ تحریر کیا.
بہ ظاہر اس تحریر میں حالات اور لوگوں کی کشمکش نظر آتی ہے لیکن یہ ایک آج کی زندہ حقیقت بن چکی ہے.
اور جب یہ تمام باتیں قلم کار کے سامنے متحرک ہوں تب قلم قرطاس پر جو پینٹ کرتا ہے اس میں دل کی کیفیات موجزن ہوتی ہے. یہی جذبات افسانے کی جان بن جاتے ہیں.
پورے بدن کی سونو گرافی نہیں ہوتی بلکہ مرض میں مبتلا کسی خاص عضو کی سونو گرافی ہوتی ہے.
ہو سکتا ہے کہ قلم کار یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ڈاکٹرز اس طرح رشتہ داروں سے کھلواڑ کر پیسے اینٹھنا چایتے ہیں.
پورے بدن کا ایم آر آئی ہوتا ہے وہ بھی ہڈیوں کے لئے. سٹی اسکین بھی کسی خاص نس یا عضو کے لئے ہوتا ہے کیوں کہ اس میں ڈائی ڈال کر جانچ کی جاتی ہے.
غرض یہ کہ ڈاکٹرز پڑھے لکھے لوگوں کو بھی جاہل بنا دیتے ہیں.
نیک خواہشات.
مسیحائی افسانہ دور حاضرکے اسپتالوں اور وہاں کے ڈاکٹروں نرسوں کے حالات کی کی بھر پور عکاسی کرتا ہے. کبھی سچ میں ڈاکٹر کو مسیحا سمجھا جاتا تھا مگر آج کل یہ پیشہ بھی تجارت بن گیا ہے.
ReplyDeleteایم مبین صاحب کو بہت بہت مبارک باد
سیدہ تبسم ناڈکر
افسانہ "مسیحائی "
ReplyDeleteافسانہ نگار: ایم مبین
تبصرہ: اسرار گاندھی
عرصہ پہلے میں نے جیلانی بانو کی ایک کہانی" قصائی کی دکان" پڑھی تھی۔ اس کہانی میں انہوں نے۔لکھا تھا کہ آج کل کے نرسنگ ہوم قصائی کی دکان کی طرح ہیں۔ جس طرح قصائی جانور کے ساتھ ٹریٹ کرتا ہے ۔ تقریباً ویسا ڈاکٹر بھی کر رہے ہیں۔ ضرورت نہ ہو تب بھی ڈاکٹر جسموں پر نشتر چلا دیتا ہے ۔ اس کا رویہ غیر انسانی ، غیر اخلاقی اور لوٹ کھسوٹ والا ہوتا۔ہے۔ "مسیحائی" میں یہ تمام صورتیں بہت واضع ہوکر سامنے آتی ہیں۔
کہانی پڑھ کر بس یہی خیال آتا ہے کہ قیامت کب آئے گی۔
میں مبین صاحب کو میں پڑھتا رہتا ہوں۔ وہ۔اچھا لکھتے ہیں۔
انہی میری طرف سے مبارک باد ۔
افسانہ - مسیحائی
ReplyDeleteافسانہ نگار - ایم مبین
تاثرات - عمران جمیل
ایم مبین صاحب کے افسانے عام آدمی کے افسانے ہوتے ہیں.. عام آدمی اپنی نجی زندگی میں گھریلو زندگی میں اور اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں کس طرح قدم قدم پر مختلف حالات و مسائل سے دوچار ہوا کرتا ہے.. ان باتوں کا افسانوی بیان آپ کے سینکڑوں افسانے کا محور و مرکز رہا ہے..
پیش کردہ افسانہ " مسیحائی " تکنیکی اعتبار سے کچی پکی آنچ لئے افسانوی لوازمات پر اُترتا تو ہے... لیکن افسانوں کے ذہین قارئین کے دل کیا اس طرزِ تحریر سے ویسا افسانوی حظ اُٹھا بھی سکیں گے جس کی واجبی توقع " افسانوں" سے کی جاتی ہے....؟؟؟ میری دانست میں اُن توقعات کے پورا ہونے میں کچھ تامل بہرحال افسانوں کے ذہین قارئین کے دل پر بنا ہی رہیگا.....
عنوان __________
" مسیحا " عنوان سے ہی یہ محسوس ہوگیا کہ عنوان کو طنز کے طور پر استعمال کیا گیا ہے.. اس عنوان سے ہی افسانے کے متن کا شعوری طور پر کیا گیا گھماو پھراو اور اختتام سمجھ میں آجاتا ہے جس سے افسانے کی تجسس آمیزی کا سرا ہاتھ سے چھوٹتے جانا یقینی ہے....
منظر نگاری ____________
چونکہ فاضل افسانہ نگار کے قلم سے سینکڑوں افسانے تخلیق کئے جاچکے ہیں تو اُن سے اس طرح کی ہی پختہ و موثر منظر نگاری کی امید تھی جس طرح کی منظر نگاری اس افسانے میں برتی گئی وہ قابلِ داد ہے...
افسانوی فضا _________
افسانوی فضا کسی بھی افسانے کی روح ہوتی ہے... ہر موضوع اپنے ساتھ اُس موضوع کے تقاضے کے مطابق اپنی زبان ساتھ لاتا ہے.. افسانہ " مسیحائی " میں طبی نظام میں موجود کرپشن کو اور مریض کے رشتے داروں کی جو حیرانی پریشانی بتائی گئی ہے دورِ حاضر کا تقریباً ہر دوسرا انسان ان حالات کو جھیل چکا ہے یا ان حالات سے جوجھ ہی رہا ہے اس لئے قارئین کے لئے افسانے کی ایسی فضا جو اس افسانے میں پیدا کی گئی ہے وہ اپیل نہیں کرسکے گی... *بیگ احساس صاحب کا ایک پُراثر افسانہ مجھے یاد آگیا جس میں اسپتال، مریض اور مریض کے رشتے داروں کی مریض سے بےاعتنائی نیز اسپتال کی آرام دہ سہولتوں کا چند رشتے داروں کا فائدہ اُٹھانا بتایا گیا تھا تو وہیں کسی کے لئے اُسی اسپتال کی سہولتیں اُنکی پرائیویسی کے لئے سوہانِ روح بنتی گئیں.. اُس افسانے کی فضا مکمل افسانوی تھی..* جب آپ نے" مسیحائی" کے تانے بانے بننے شروع کئے تھے تو اُس میں آپ کو محض اسپتال کے کرپشن پر ہی توجہ نہیں دینا تھا.. سائیڈ باے سائیڈ کچھ رشتوں کے ذریعے یا اسپتال میں موجود ڈاکٹروں کے عملے میں سے کسی ایک ڈاکٹر کے ارد گرد انہی واقعات میں ٹوئیسٹ پیدا کرنا تھا...بہرحال اس افسانے میں توقع کے عین مطابق افسانوی فضاء کی کمی محسوس کی گئی...
مکالمے و بیانیہ __________
کرداروں کے ذریعے راست بیانیے میں کہانی کو قارئین کے توقع کے مطابق ہی آگے بڑھایا گیا ہے.. یک سطحی کہانی ہونے کی وجہ سے اس کہانی میں سطر در سطر کا تجسس چھوٹتا ہوا محسوس ہوا..
اختتام __________
مسیحائی کی کہانی عنوان کی وجہ سے اور کہانی کی شروعات کے منظر سے ہی سمجھ میں آجاتی ہیکہ افسانے کا اختتام کیا ہوگا... اختتام سمجھ میں آجانا میرے نزدیک کوئی معیوب بات بھی نہیں ہے لیکن اختتام سمجھ میں آجانے والے افسانوں میں افسانوی فضاء کا طلسم تو ہونا ہی چاہیے نیز سپاٹ بہتی ہوئی کہانی میں کچھ ایسے چونکا دینے والے موڑ ضرور ہونا چاہیئے جس کی وجہ سے قاری "کچھ اچھا" پڑھے جانے کے لطف میں راضی بہ خوشی اختتام تک پہنچتا جائے...
فاضل افسانہ نگار کی افسانہ نگاری کا طویل سفر قابل قدر اور یقیناً قابل ستائش ہے... مجھے اس افسانے میں افسانے کی تکنیکی رو سے جو محسوس ہوا میں نے محض اس پر اپنی راے رکھنے کی کوشش ہے.... رد و قبول کا مکمل اختیار ہے.. شکریہ
بزمِ افسانہ کی پیش کش
ReplyDeleteسترہواں ایونٹ
رنگ و آہنگ
افسانہ نمبر : 02
افسانہ: *مسیحائی*
افسانہ نگار: ایم مبین
گفتگو: طاہرانجم صدیقی، مالیگاؤں.
پہلے سے معلوم کہانی کو اس امید پر پڑھا جاتا ہے کہ اس میں کچھ تو نیا ہو گا؟ ایم مبین صاحب کے "مسیحائی" کو پڑھتے ہوئے میرے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آیا. چند سطور کے بعد ہی آگے کی کہانی کا اندازہ ہو گیا. اس کے باوجود بھی میں نئے پن کی تلاش میں افسانہ پڑھتا رہا.
افسانے کے بابو جی کے ساتھ جو ہوا اس کا آغاز ایم مبین صاحب کے جملوں میں دیکھیں:
*ویسےوہ جب سےریٹائر ہوئےتھے، تب سےہی اُن کی طبیعت نرم گرم رہتی تھی ۔ اِس بار بھی طبیعت خراب ہوئی تو اِسی ڈاکٹر کی دوائی شروع کی تھی جس کا وہ علاج کرنےآئےتھے۔*
اس کے بعد ان کے گھر والوں کو خوفزدہ کرکے ان کی جیبیں خالی کرانے کے لیے وہی حربے استعمال کیے گیے جو عام طور پر اسپتالوں میں کیے جاتے ہیں.
*شاید آپ لوگوں کو مریض کی جان کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔“*
*ڈاکٹر بابوجی کوچیک کرکےاُن پربھڑک اُٹھا.*
*”اِن کو ایڈمٹ کرنا بےحد ضروری ہے۔ اِن کا فوراً خون ، شُوگر ، یورین ٹیسٹ کیجئے، سٹی اسکین کرنےکی ضرورت ہے۔ بدن کی سونو گرافی اور چھاتی کےایکسرےکی رپورٹ آنےکےبعد صحیح طور پر علاج کرنا ممکن ہوگا۔*
"مسیحائی" کی کہانی عام طور پر دیکھے اور سنے گیے حالات کے عین مطابق ہی آگے بڑھتی گئی. البتہ ایک جگہ جب افسانے میں *"وہ"* سامنے آیا تو سوال پیدا ہوا کہ افسانے کا *"وہ"* کون ہے؟ جب افسانے کے بابو جی کی دیگر اولادوں اشوک، ودیا، پونم کے نام ظاہر ہیں تو پھر اس *"وہ"* کا نام چھپا لینے کا مقصد سمجھ میں نہیں آیا. حالانکہ افسانہ پڑھتے ہوئے اس *"وہ"* کی موجودگی سے تھوڑی امید بندھی تھی کہ *"وہ"* کچھ نیا کرے گا مگر *"وہ"* تو اوروں ہی کی طرح بے چارہ ثابت ہوا اور افسانے کی بے چارگی کے ساتھ ساتھ اس *"وہ"* کا تذکرہ بھی ختم ہو گیا.
نیز "مسیحائی" میں واقعات کے تانے بانے جس طرح بُنے گیے ہیں، مکالمے جس طرح برتے گیے ہیں، مناظر جس طرح بیان کیے گیے ہیں اور افسانے کا اختتام جس طرح کیا گیا یے وہ اتنا متاثر کن نہیں ہے کہ ہم اس افسانے کو ایم مبین صاحب کے اچھے افسانے کے طور پر کہیں پیش کر سکیں.
*رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معاف*
افسانہ :مسیحائی
ReplyDeleteافسانہ نگار :ایم. مبین
تاثرات :اقبال حسن آزاد
حقیقت ہے یہ افسانہ نہیں ہے.
افسانہ: مسیحائی
ReplyDeleteافسانہ نگار: ایم مبین
اظہارِ خیال: محمد علیم اسماعیل
ایم مبین کا شمار تیزی سے لکھنے والوں میں ہوتا ہے۔ وہ ایک افسانہ نگار، ناول نگار ہونے کے ساتھ ساتھ بچوں کے ادیب بھی ہیں۔ انھوں نے بچوں کے لیے کہانیاں، ناول اور ڈرامے بھی لکھے ہیں۔ اب تک ان کی کئی کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ جس میں افسانوی مجموعے، ناولز، ڈراموں کے مجموعے اور بچوں کی کہانیوں کی مجموعے شامل ہیں۔ زیر نظر افسانہ ’مسیحائی‘ کو راقم الحروف نے ان کے افسانوی مجموعے ’نئی صدی کا عذاب‘ پہلے پڑھا تھا، اور آج بھی پڑھا۔
ایم مبین کی کہانی ’مسیحائی‘ اسپتال کے نظام اور اپنے پیاروں کی بیماری سے نمٹنے کے دوران فیمیلی کو درپیش چیلنجوں پر مبنی ایک داستان کی تصویر کشی کرتی ہے۔ یہ کہانی اسپتالوں کے نظام کی خامیوں اور پیچیدگیوں کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ ایسی صورت حال کو ظاہر کرتی ہے جہاں اسپتال کے وسائل کی دستیابی، جیسے کہ نجی کمرہ اور علاج کے اخراجات، گھر والوں کے لیے ایک اہم مسئلہ بن جاتے ہیں۔ جو انھیں تشویش میں ڈال دیتے ہیں۔ اس کہانی میں محدود وسائل اور مہنگے علاج کے سبب درپیش چیلنجوں پر روشنی پڑتی ہے۔ یہ کہانی طبی بحران سے نمٹنے والے خاندان کے اندر موجود حرکیات کو بھی پیش کرتی ہے۔ یہ کہانی اپنے عزیزوں کی زندگی بچانے کے لیے اور ان کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار رہنے والی فیمیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ تاہم، یہ کہانی مالی تناؤ اور جذباتی انتشار کو بھی ظاہر کرتی ہے جو گھر کے کسی فرد کے شدید بیمار ہونے پر پیدا ہوتی ہے۔
ڈاکٹر کی مایوسی اور مریض کو فوری طور پر ایڈمٹ کرنے کی عجلت بابوجی کی حالت کی نازک نوعیت کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ تصویر اس دباؤ کی عکاسی کرتی ہے جس کا ڈاکٹروں اور مریض کے رشتہ دار اکثر سامنا کرتے ہیں۔ یہاں ڈاکٹر بطورِ سب سے بڑا ہمدرد اور مسیحا نظر آتا ہے لیکن افسانہ نگار اس کی آڑ میں کچھ اور کہنا چاہتا ہے۔ اور وہ کیا کہنا چاہتا ہے اس بات کو ہم بخوبی سمجھ رہے ہیں۔ کہانی صحت کی دیکھ بھال سے وابستہ مالی بوجھ پر روشنی ڈالتی ہے۔ مریض کے رشتے داروں کو اہم طبی بلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور علاج کے اخراجات برداشت کرنے میں ان کی نااہلی مشکل فیصلوں کا باعث بنتی ہے۔ کہانی کا یہ پہلو ان معاشی چیلنجوں پر روشنی ڈالتا ہے جن کا سامنا بہت سے لوگوں کو معیاری علاج کے دوران کرنا پڑتا ہے۔
مریض کے قریبی افراد کی طرف سے محسوس کی جانے والی جذباتی پریشانیاں پوری کہانی میں واضح ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بیماری کس طرح مریض اور ان کے گھر والوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ایم مبین کا افسانہ ’مسیحا‘ معیاری علاج، گھر والوں کی حرکیات، اور ان جذباتی اور مالی چیلنجوں کی کئی جھلکیاں پیش کرتا ہے جو کسی عزیز کے شدید بیمار ہونے پر پیدا ہوتے ہیں۔ یہ کہانی ایک فکر انگیز بیانیہ ہے جو قارئین کو اسپتالوں میں علاج کے نظام کی حقیقت اور کمزوریوں اور مشکل وقت میں گھر والوں کی مدد کی اہمیت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
افسانے کا عنوان ’مسیحائی‘ میں ایک طنز پوشیدہ ہے۔ ڈاکٹر کا پیشہ جسے خدمت کا نام دیا گیا ہے، بظاہر تو ایک خدمت ہے لیکن دراصل یہ ایک طرح کی لوٹ کا ایک مکمل نظام ہے جس میں مجبور لوگوں کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھا کر انھیں لوٹا جاتا ہے۔
"مسیحائی"ایم مبین کی سادہ طرز بیانیہ میں تحریر کردہ ایک پر سوز کہانی ہے ،جو حالات حاضرہ کی عکاس ہے ۔
ReplyDeleteمیرے خیال سے اس کی خوب صورتی "منظر نگاری "میں ہے۔خواندگی کے درمیان قاری کو یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ جیسے وہ بھی اسپتال میں کھڑا اپنی پیشانی کی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ رہا ہے ۔
تحریر میں قاری کی شمولیت نے اس سیدھی سادی کہانی کو بین السطور میں فلسفہ حیات بیان کرنے والے افسانے سے بھی آگے بڑھا دیا ہے ۔
ترسیل کے باوصف قاری کے ذہن تک کامیاب رسائ"مسیحائی"ایم مبین کی سادہ طرز بیانیہ میں تحریر کردہ ایک پر سوز کہانی ہے ،جو حالات حاضرہ کی عکاس ہے ۔
میرے خیال سے اس کی خوب صورتی "منظر نگاری "میں ہے۔خواندگی کے درمیان قاری کو یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ جیسے وہ بھی اسپتال میں کھڑا اپنی پیشانی کی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ رہا ہے ۔
تحریر میں قاری کی شمولیت نے اس سیدھی سادی کہانی کو بین السطور میں فلسفہ حیات بیان کرنے والے افسانے سے بھی آگے بڑھا دیا ہے ۔
ترسیل کے باوصف قاری کے ذہن تک کامیاب رسائی پر ایم مبین اور ایڈمن پینل کو مبارکباد ۔
معین الدین عثمانی ی پر ایم مبین اور ایڈمن پینل کو مبارکباد ۔
معین الدین عثمانی
بزم افسانہ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ مختلف طرح کے کمینٹس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ ادب کے تئیں کون کتنا سنجیدہ ہے ؟ کس کا اپروچ معروضی ہے اور کس کا موضوعی ؟ کون تنقید کا حق ادا کر رہا ہے اور کون رسم نبھا رہا ہے؟ کہانی کس کی سمجھ میں آئی اور کس کی سمجھ میں نہیں آئی ؟ کس کی زبان
ReplyDeleteلڑکھڑاتی ہے اور کس کی نہیں لڑکھڑاتی ؟ کون دوستی یاری نبھا رہا ہے اور کون دشمنی نکال رہا ہے؟
مبین صاحب کی کہانی مسیحائی پر جو کمینٹس آۓ ہیں ان سے بھی بہت کچھ اندازہ ہو جاتا ہے ۔
مسیحائی کا موضوع اگرچہ نیا نہیں ہے مگر
توجہ طلب ضرور ہے کہ اس میں اس نکتے کو
بھی ٹچ کیا گیا ہے کہ ہم نے خدمت خلق کو بھی پیشہ بنا لیا ہے اور ہمارے درمیان درد کا جو اٹوٹ رشتہ تھا وہ بھی شکست و ریخت سے دو چار ہے اور المیہ یہ ہے کہ اس کے ٹوٹنے کا
اب ہمیں احساس بھی نہیں ہو رہا ہے مگر کہانی کار نے اس پہلو کی طرف توجہ کم کی ہے۔ زبان و بیان کی جانب بھی دھیان کم دیا گیا ہے جن سے افسانے میں افسانوی کشش پیدا ہوتی ہے۔اصل میں حقائق کا جب زور زیادہ ہوتا ہے تو فن اکثر دب جاتا ہے۔
تاثرات :اقبال حسن آزاد
ReplyDeleteاگر اس افسانے کو پڑھ کر لوگ اس قسم کے ڈاکٹروں کے پاس جانا چھوڑ دیں تو یہ ایک کامیاب افسانہ ہے. لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس کا پیغام صدا بہ صحرا ثابت ہو گا.
آج کے ہاسپٹل اور وہاں پر علاج کرنے والے ڈاکٹروں اور کارندوں کے حالات اور انکے اخلاق کی بھر پور ترجمانی ہے لیکن اس میں افسانہ پن کی کمی کا احساس ہوتا ہے
ReplyDeleteایم مبین صاحب کو بزم افسانہ میں شمولیت کے لئے بہت بہت مبارک باد