وہ ایک تخلیق کار: فریدہ نثار احمد
بزمِ افسانہ کی پیش کش
سترہواں ایونٹ
رنگ و آہنگ
افسانہ نمبر : 14
*وہ ایک تخلیق کار*
فریدہ نثار احمد انصاری
پہیے پر چلتے چاک کی طرح زبیدہ کی زندگی کے شب و روز بھی ہر آتی جاتی سانسوں کے اردگرد گھوم رہے تھے ۔وہ جی رہی تھی اپنے اکلوتے ساجد کے لئے ، وہی ساجد جو اس کا متاع حیات تھا۔کتنے سپنے دیکھے تھے ان دونوں نے ۔لیکن وقت کا پہیہ ایسا گھوما کہ گاڑی غیر متوازن ہوگئ۔شکیل پیشے سے ڈرائیور تھا۔ ہنستے مسکراتے گھر سے رخصت ہوا تھا لیکن اس کی واپسی نے ہمیشہ کے لئے زبیدہ کے لبوں سے مسکراہٹ چھین لی، اس کے آنکھوں کے قمقموں میں آنسوؤں تیل بن کر شب روز کو روشن کرتے رہے۔
ایسے کڑے وقت میں جب رشتہ داروں نے اس کی گود میں ساجد کو ڈالا تب اس کا سفینہءحیات بھنور میں ڈوبتے ڈوبتے کچھ سنبھل گیا۔ اس نے ساجد کی خاطر پھر سے مٹی کے چاک کو گھر کے کونے سے نکالا ۔وہی چاک جسے شکیل بالکل پسند نہیں کرتا تھا کہ اس سے اس کے ہاتھ مٹی سے سند جاتے تھے، اس کے کپڑے گندے ہو جاتے تھے اس کے پیر میلے ہوجاتے تھے اور کبھی کبھار بالوں کی لٹوں کو ہٹاتے ہوئے چہرے پر بھی چکنی مٹی اپنا نشان چھوڑ جاتی تھی۔وہ مٹی کے خوبصورت برتن، کھلونے بنانا خوب جانتی تھی لیکن شکیل کے دل کی بات کچھ اور تھی.
" میں جانتا ہوں کہ ہم کو تخلیق کار نے اسی مٹی سے بنایا ہے جبھی تو تمہارے ہاتھوں سے اس قدرخوبصورت نقش بنتے ہیں کہ دیکھنے والے دیکھتے رہ جاتے ہیں مگر میں تمہیں اس کے ساتھ کھیلتا نہیں دیکھ سکتا کہ میری جان! تم میلی ہو جاتی ہو، تمہارے چاند جیسے حسن پر دبیز کالے بادلوں کا گھونگھٹ مجھے اچھا نہیں لگتا۔"
اس نے شوہر کی خوشی کے آگے اپنے فن کو قربان کر دیا کہ مٹی جب پیار سے گوندھی جائے تو قربانی کا جھومر پہن کر اپنے دکھ سمیٹ لیتی ہے۔آج اس کی ہستی صرف ساجد کے لئے سانسیں لے رہی تھی ۔زندہ انسان زندگی سے مبرّا نہیں ہو سکتا۔اسی چاک ، اسی مٹی نے ماں اور بیٹے کے غموں کو خود میں سمو لیا تھا۔
وہ روز کھلونے، برتن بناتی انھیں دھنک رنگوں سے سنوارتی اور بازار میں بیچ کر اپنی روزی روٹی کا انتظام کرتی۔ساجد اب اسکول جانے لگا تھا۔ماں چاہتی تھی کہ پڑھ لکھ کر اپنا مستقبل سنوارے اور فرمانبردار بیٹا بھی اپنی ماں کے قدموں تلے جنت تلاش کرتا ۔اس کے پیر دباتا اور وہیں بیٹھ کر اپنی پڑھائی کرتا رہتا۔آج اس کے اسکول میں استانی صاحبہ نے بچوں کو ماحولیاتی آلودگی دن منانے کے بارے میں بتایا تھا اور بچوں سے اسی عنوان پر بہترین کارکردگی کے انعام کا اعلان بھی کیا تھا۔
ساجد نے گھر آ کر ماں کو بتایا۔ایک ہفتے کا وقت تھا۔وہ کیا کرے؟ کہ بازار میں اپنے تخیل کے سر بستہ رازوں کو کھولنے کے لئے کچھ سرمایہ درکار تھا اور ان کے لئے ایک خطیر رقم تھی۔وہ سوچتا ہی رہ گیا۔اس نے ماں کے آگے اپنا خیال ظاہر کیا۔ماں نے اسے بے فکری سے سونے کی تاکید کی ساتھ سائنس کی کتاب اور تصاویر کی ورق گردانی شروع کی اب ساجد کی آنکھوں سے بھی نیند رخصت ہو چکی تھی، وہ کچھ کرنا چاہتا تھا، سبھی بچوں میں نمایاں بننا چاہتا تھا۔۔کیاکرے کیا نہ کرے کا تذبذب کہاں بچوں کو بھی سونے دیتا ہے کہ اسے چاک کی گھر گھر سنائی دی۔اس نے ایک آنکھ کھول کر دیکھا، ماں چاک نکالے مٹی سے کچھ بنا رہی تھی۔اب بھی وہ مطمئن نہیں ہوا، بند کھلے پپوٹے نے گویا ساری حرکات و سکنات کو اپنے وجود میں قید کرلیا تھا ۔دیکھتے دیکھتے رات کے کس پل اس کی آنکھ لگ گئی اسے پتہ نہ چلا۔فجر کی اذان پر روزمرہ کی طرح اس نے بستر چھوڑ کر مسجد کا رخ کیا۔ بچپن سے ہی ماں نے اسے اللہ تعالٰی، اپنے تخلیق کار کے روبرو حاضر ہونے کی تلقین کروا دی تھی۔
مسجد سے واپسی پر اس کی نگاہ کھلونوں پر پڑی اور وہ دیکھتا ہی رہ گیا کہ ماں نے کتاب کے ان اوراق کو گویا کھلونوں کا روپ دے تو دیا تھالیکن ادھورا تھا، ابھی ان کی نوک پلک سنوارنے، ان میں رنگوں سے سجانے کا کام باقی تھا۔اس کی خوشی دیدنی تھی۔وہ ایک ایک کھلونا ہاتھ میں لے کر دیکھتا رہا ۔ہر کھلونے میں ایک گولا سا بنایا ہوا تھا۔ کہیں چھوٹا تو کہیں بڑا۔ ماں نے بھی ناشتہ تیار کر لیا۔
بڑے لاڈ سے ماں سے کہے بغیر نہ رہ سکا " امی! مجھے تو ایک ماڈل چاہئے آپ نے اتنے سارے بنا دئیے؟؟ "
" بیٹا! یہ تیرے لئے نہیں ہیں، اس کو بیچ کر اللہ کے کرم سے کچھ رقم اور جمع ہو جائے، عید بھی تو آنے والی ہے۔" ساجد منھ دیکھتا رہ گیا
" پر امی میرے ماڈل کا کیا ہوگا؟ مجھے بھی تو اسکول میں جمع کروانا ہے۔" ماں نے محبت سے اسے دیکھا
" بیٹا! تیرا ماڈل سب سے منفرد ہوگا، میرے ساجد جیسا "
اور اس نے اس کا ماتھا چوم لیا۔محبت کی مہر جب ماتھے پر لگ جائے تب شاید فرشتے بھی اس ماتھے کے تقدس پر ناز کرنے لگتے ہیں اور یوں وہ مسکراتا ہوا اسکول کے لئے روانہ ہو گیا۔
اسکول میں سبھی ساتھی اپنے چارٹس و ماڈلز کے بارے گفتگو میں مگن تھے۔ابھی دن باقی تھے۔اس کے دوستوں نے بھی اس سے جاننا چاہا۔سر ہلا کر کچھ کہے کچھ ان کہے جملوں سے دل کی ترجمانی کی۔" ہاں! بناؤں گا، ابھی پتہ نہیں، امی کچھ کریں گی۔" عبدل چہکا
" تیری امی کیا کریں گی، وہ تو صرف برتن اور گلدان بنائیں گی۔بچّوُ! یہ سائنس پروجیکٹ ہے کوئی آسان کام نہیں، دماغ چلانا پڑتا ہے۔دیکھنا اب کی بار میری امی کس قدر شاندار ماڈل بنائیں گی۔امی نے کل ہی بازار جا کر خوب شاپنگ کی ہے، خوب ڈھیر سارے رنگ، پیپرز، چارٹس اور ڈیکوریشن کی چیزیں لائی ہیں۔اب کی بار تو میرا انعام پکا ۔"
ساجد صرف مسکرا کر رہ گیا کہ بات بڑھا کر کوئی فائدہ نہ تھا۔اس نے اپنی امی کی بات کو گرہ سے باندھ رکھا تھا کہ
"ہمیشہ کچھ بنانے سے پہلے اس کے وسطی حصے پر نظر رکھا کرو کیوں کہ جب مٹی کی پکڑ وسط میں مضبوط ہوتی ہے تب ہی کوئی شئے کار آمد ہوتی ہے ورنہ افراط وتفریط کا شکار ہو جاتی ہے اور اس کے لئے وقت درکار ہوتا ہے۔زندگی تجربے کا دوسرا نام ہے. "اور امی نیہ بھی بتایا تھا :
" دیکھو دل بھی تو بچے کے بدن میں سب سے پہلے دھڑکتا ہے۔ یہ بات مجھے ڈاکٹر صاحب نے بتائی تھی ۔"اور ساجد نے بھی وقت کے انتظار کے لئے خود کو زندگی کی بھٹی میں جھونک دیا۔
وقت بیت رہا تھا ساجد نے دیکھا کہ ماں کے مٹی سے سندھے ہاتھ بڑی ہی تندہی سے کام کر رہے تھے۔لگ رہا تھا خوابوں کو سینت سینت کر دونوں ہتھلیوں میں بند کر لئے ہوں۔اگلے دن سر پر سارے مٹی کے ماڈلز رکھ کر وہ بازار کی جانب روانہ ہوئی۔بڑے سلیقے سے اس نے سارے کھلونوں کو اپنی چادر پر سجا ہی رہی تھی کہ یکے بعد دیگرے گاہک آنے لگے ۔ہر ایک اپنے جگر گوشے کے لئے حسب استطاعت کھلونا خرید کر خوشی خوشی گھر کی راہ لیتا۔زبیدہ کو لگ رہا تھا کہ گول دنیا جسے اس نے دو مضبوط ہاتھوں میں تھما دیا تھا بالکل اسی طرح اس سے آنے والی رقم نے اسے تھام لیا تھا۔کہیں اس نے پیڑ کاٹنے کے عمل کو بےجان مٹی میں نہایت واضح طریقے سے جذب کیا تھا تو کہیں حضرت انسان کے ہاتھوں دنیا کے استحصال پر اس چہرے کی دو آنکھیں اشکبار تھیں۔کسی ماڈل پر سائنس کی کتاب کی اصطلاحات کو درج کرنے کے لئے رنگوں سے اجاگر کرنے کی کوشش کی تھی۔غرض
" ہر کھلونا یکتا تھا ۔"
شام تک تقریباً سارے کھلونے فروخت ہو گئے. کل ہی مختلف اسکولز کا انعامی مقابلہ تھا۔اس نے اپنی چادر تہہ کی ٹوکری کو سر پر رکھا اور جھولا اٹھا ہی رہی تھی کہ ایک کار بالکل قریب آ کر رکی۔ اس میں موجود شخص نے ان ماڈلز کے بارے میں دریافت کیا جو وہ بیچ رہی تھی. ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہاں سے گزرتے ہوئے وہ دیکھ گیا تھا۔زبیدہ نے بتایا
" صاحب سبھی کھلونے بِک گئے۔ کل صبح آئیے میں بنا کر لے آؤں گی۔" نخوت خریدار کے چہرے سے ٹپک رہی تھی " کل۔۔نہیں، کل تک تو تاخیر ہوجائے گی مجھے آج اور ابھی چاہئے ۔وہ دیکھو تمہارے جھولے میں کچھ دِکھائی دے رہا ہے۔"
" صاحب! یہ بیچنے والا کھلونا نہیں اور ادھورا بھی ہے۔ غلطی سے جھولے میں آگیا۔"
" بتاؤ۔میں دیکھنا چاہتا ہوں ۔" اس نے حکم صادر کیا۔" صاحب! اس میں رنگوں کو بھرنا ابھی باقی ہے اور یہ میرے بیٹے کے لئے بنایا ہے۔"
" اچھا! اب ایک معمولی مٹی سے کھیلنے والا بچہ میرے ببلو کا مقابلہ کرے گا ، نہیں یہ نہیں ہو سکتا اور یہ میں ہونے نہیں دوں گا۔میرا بیٹا میرا راج دُلارا ہے، میری آنکھوں کا تارا ہے۔رہا رنگ بھرنے کا سوال تو اس کی امی یہ کام کر لے گی۔تم مجھے جانتی نہیں میں کون ہوں، میں اس علاقے کا کارپریٹر ہوں۔آن کی آن میں تمہاری زندگی برباد کر سکتا ہوں سمجھیں" اس نے دھمکایا۔ زبیدہ کی زبان مانو منھ میں چپک گئی ۔ایک پل کے لئے کچھ سوچا اور ٹھہرے ہوئے انداز میں کہا " صاحب اس کی قیمت زیادہ ہوگی ،کیا آپ اتنا دیں گے؟ " اس کی آن پر تازیانہ پڑا " تم جتنا مانگو گی اتنا دوں گا۔تم نہیں بیچنے کا بہانہ بنا رہی ہو " " صاحب! میں کیا میری اوقات کیا! آپ کا بچہ آپ کی آنکھوں کا تارا ہے اور میرا بیٹا میرے دل کا سکون ہے۔"
" دیکھ مجھے تم جیسوں سے بھاشن نہیں سننا ۔" اس نے جیب سے والٹ نکالا اور ہزار ہزار کے پانچ نوٹ اس کی جانب اڑا دئیے۔ " میرے خیال میں اتنے بس ہو جائیں گے۔" کار سے وہ ایک طمطراق سے باہر آیا۔" ذلیل مطلبی عورت! " جھولے سےاس کھلونے کو نکالا اور اسے دھکا دے کر کار میں سوار ہو کر یہ جا وہ جا۔
غریب عورت نے اپنے حواس یکجا کئے، نوٹوں کو بٹورا اور کچھ دیر زمین پر بیٹھ گئی ۔اس کی آنکھوں میں آنسو جھلملا رہے تھے اور لب کانپ رہے تھے۔یہ آنسو خوشی کے تھے یا غم کے کہ ایک طرف دل ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا تھا تو دوسری جانب نوٹ آنے والی عید کی خوشی کا پیغام سنا رہے تھے۔ملے جلے جذبات کے ساتھ ٹوکری سر پر اٹھائی اور گھر کی راہ لی۔
ساجد گھر پر منتظر تھا۔ماں کو آتے دیکھ کر صبر نہ کر سکا کہ تھکی ماندی سُستا تو لینے دیتا. یہی بے صبری ہی اس کی محبت کی غماز تھی ۔" امی میرے ماڈل کا کیا بنا؟ میں گھر پر ڈھونڈتا ہی رہا، شاید آپ کے ساتھ چلا گیا۔" ایک ہی سانس میں اس نے کئ سوال داغے۔ " بیٹا! پہلے کھانا تو کھا لے پھر دیکھتی ہوں " " دیکھتی ہوں، مطلب آپ کو بھی پتا نہیں پھر کہاں چلا گیا؟ " " کھانا کھا لے بتاتی ہوں "
" نہیں پہلے بتائیے ورنہ میں کھانا نہیں کھاؤں گا۔" زبیدہ نے ہتھیار ڈال دئیے
" بیٹا! میں وہ بیچ آئی ہوں۔" اس نے لمبی سانس لی " ہائیں! یعنی آپ نے میرے ماڈل کے دام لگا دئیے۔اپنے بیٹے کی خوشیوں کو تختہء دار پر چڑھا دیا، اب میں کلاس میں کیا کہوں گا؟ " ماں نے اپنی مامتا میں اسے سمیٹتے ہوئے کہا :" بیٹا! مانا میں نے ٹھیک نہیں کیا۔میرے بچے نے پہلی بار میری گوندھی مٹی کی فرمائش کی تھی لیکن میں اسے بیچ آئی محض تیرے چہرے پر عید کی خوشیاں دیکھنے کے لئے ۔بیٹا! ذرا ٹھنڈے دل سے سوچ کہ کیا کوئی اس ماڈل کے پانچ ہزار دے سکتا ہے؟ مجھے ایک کھلونے کے اتنے ڈھیر سارےروپے ملے ہیں۔اب شان سے میں اپنے گڈو کے عید کے کپڑے خریدوں گی اور رہا ماڈل کا سوال تو بیٹا یہ مٹی ہمارے گھر کی باندی ہے ۔کھانا کھا کر میں اور میرا چاک سلامت۔ان شاء الله کل اسکول جانے سے پہلے تیرا ماڈل تیار ملے گا۔" خوشی کے جھل مل تارے اب ساجد کی آنکھوں میں جگنو بن کر سِمٹ آئے۔
" امی میں آپ کا ساتھ دوں گا، جلد از جلد ہم کچھ کر لیں گے " اور پھر رات کی تنہائی میں دو معصوم دل کچھ کر گزرنے کا سودا کر گزرے۔امی نے پھر سے ویسی ہی تخلیق کو چاک پر ڈھالا ۔ایک گیند اور اس سے نکلتے دو ہاتھ ساتھ اس نے ویسی ہی ٹوکری ان دونوں ہاتھوں میں تھما دی اار مٹی کی پکڑ کو وسط سے پختہ ہونے کے لئے چھوڑ دیا۔زبیدہ نے ساجد کو سونے کے کہہ دیا اور خود بھی بستر پر دراز ہوگئ۔نیند کی کرم فرمائی نے دونوں کو اپنے شبستانوں کی سیر کے سپرد کیا۔تہجد کے وقت امی نے نماز سے فارغ ہو اپنی اس بے لاگ تخلیق پر رخ کیا ۔کچھ دیر بعد رنگوں کے جوبن نے گیند کو دھانی و نیلے رنگ سے دلہن سا سنوار دیا۔کون کہتا ہے کہ صرف قرطاس پر سرحدیں بنائی جا سکتی ہیں۔آج زبیدہ نے دنیا کے نقشے اور سرحدوں کی وضاحت کچھ اس طرح سے کی کہ لگ رہا تھا کہ دھرتی کی گیند مانو بول ہی تو اٹھے گی۔اب اس نے اس پر رکھی ٹوکری کو نہایت باریکی سے رنگا کہ اس پر لکڑی کا گمان نظر آیا۔رنگ کچھ سوکھا تو ساجد نے روزمرہ کی طرح بستر چھوڑا اور امی کو ماڈل پر جھکا دیکھ خود بھی آ گیا۔اتنے خوبصورت ماڈل کو پا کر بچہ خوشی کے شانوں پر اڑنے لگا پر ساتھ ساتھ کچھ سوچتا ہوا مسجد کی جانب بڑھا۔
امی نے خوشی کا مژدہ سنایا کہ لو ہو بہو ویسا بلکہ اس سے بہتر ماڈل تیار ہو گیا۔ساجد نے کچھ توقف کے بعد کونے سے دو چھوٹے چھوٹے لڑکوں کے کھلونے اٹھائے اور اس ٹوکری میں ڈال دئیے۔اب امی سے کہا کہ ایک کو اچھا بچہ اور دوسرے کو شرارتی بنانے والے رنگ بھریں اور ٹوکری میں ان کے اطراف دونوں کے کردار کی مناسبت سے چھوٹی چھوٹی چیزیں رکھ دیں اور گتہ لے کر خوش خطی سے اس پر لکھا
" ہر اچھے برے کی پناہ گاہ دھرتی ! جس کی گود پا کر ہر وجود سکون پاتا ہے لیکن کیا انسان اس کا حق ادا کرتا ہے؟ "
زبیدہ اپنے لاڈلے کو دیکھتی ہی رہ گئی کہ مٹی کا درد اس کی تحریر میں سمٹ آیا تھا۔ساجد احتیاط سے اسے اسکول لے آیا۔سبھی نے اپنے اپنے ماڈلز پرنسپل کے آگے اسٹیج پر رکھے۔عبدل نے بڑے فخریہ انداز میں وہی ماڈل اسٹیج پر رکھا جو کہ بقول اس کے ابو کے کسی بڑی دُکان سے لے آئے تھے۔پرنسپل صاحب نے سر ہلا کر اس کی تعریف کی. ساجد آگے بڑھا اور ماڈل سے اخبار کی تہوں کو علیحدہ کیا۔اب ایک شاندار ماڈل کو دیکھ کر اسٹیج پر موجود سارے اراکین ،پرنسپل و اساتذہء کرام دیکھتے ہی رہ گئے ساتھ لگا سلوگن آج کے دور کی غمازی کر رہا تھا اور وہ منفرد سا بچہ اپنی منفرد سوچ کے ساتھ سبھی کا دل جیتنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
ختم شدہ ـ

افسانہ - وہ ایک تخلیق کار
ReplyDeleteافسانہ نگار - فریدہ نثار احمد انصاری
تاثرات - عمران جمیل
___________________________________
" وہ ایک تخلیق کار" ایک مقصدی یا نظریاتی افسانہ ہے... افسانے میں بیانیے کے ذریعے فاضل افسانہ نگار کی یا یوں کہیں کہ راوی کی اسلامی فکر واضح و نمایاں طور پر دکھائی دے رہی ہے...
افسانے کی زبان و جملہ بندی اچھی ہے.. فلیش بیک میں واقعات کے اظہار میں اور کئی جگہ بیانیے میں خوبصورت تخلیقی جملوں کا استعمال کیا گیا ہے.....
افسانے میں گو کہ مجھے کئی جگہ ناصحانہ و واعظانہ Sermon style انداز کھٹکتا رہا پھر خیال آیا کہ اس طرح کے مقصدی و نظریاتی افسانوں Objective fiction کا یہی تقاضہ ہوتا ہے...بس ہمیں یہ دھیان رکھنے کی ضرورت ہیکہ ایسے ناصحانہ انداز کا افسانے پر غلبہ نہ ہونے پاے. کیونکہ ناصحانہ انداز کے غلبے کی وجہ سے افسانے کی افسانوی فضا کے متاثر ہونے کا خدشہ بنا رہتا ہے...
" یہ مٹی ہمارے گھر کی باندی ہے.. کھانا کھا کر میں اور میرا چاک سلامت ان شا اللہ کل اسکول جانے سے پہلے تیرا ماڈل تیار ملیگا.." خوشی کے جھل مل تارے اَب ساجد کی آنکھوں میں جگنو بن کر سمٹ آے..
مذکورہ بالا جملوں پر اگر " افسانے کا اختتام کیا جاتا تو اس افسانے کو چار چاند لگ جاتے اور
افسانہ اینٹی کلائمیکس کی اضافی سطروں سے بھی صاف بچ جاتا... مشورہ دیا گیا اختتام ہو افسانے کا اختتام ہو دونوں اختتام خوشیوں بھرا ہے جو کسی مقصدی افسانے کے پیغام کی ترسیل میں معاون ہی تو بن رہا ہے...
زبیدہ و ساجد کی کردار نگاری میں اُن کرداروں کے " باڈئ لینگوئج " سے اُن کے ذریعے ادا کراے گئے مکالموں سے " عُسر میں یُسر کا یقین بڑھتا ہے...."
بےلاگ تخلیق کو دیکھا کی جگہ شاہکار تخلیق کو دیکھا صحیح جملہ ہے... اسی طرح غریب بیچاری عورت کی جگہ لفظ زبیدہ ہی استعمال کرنا تھا..
خوشی کے شانوں پر اُڑنے لگا کی بجاے خوشی کے دوش پر اُڑنے لگا یہ مستعمل ہے...
یہ افسانہ جہاں عام قارئین کے لئے ہے وہیں ادبِ اسلامی کو پسند کرنے والوں کو بالخصوص یہ افسانہ پسند آسکتا ہے...وہ بچے جنکی عمریں بارہ سے پندرہ برس کے درمیان ہے اُن کے مطالعے کے لئے بھی ایسے حوصلہ بخش و مقصدی افسانے کارآمد ہوسکتے ہیں.. افسانہ مجھے پسند آیا..
آپ کے لئے رحمت و عافیت کی ڈھیر ساری دعائیں.. رد و قبول کا اختیار ہے...
"وہ ایک تخلیق کار" محترمہ فریدہ نثار احمد انصاری کا مذہبی افکار و نظریات پر مشتمل ایک تبلیغی افسانہ ہے۔ حضرت مائل خیرآبادی کی یاد آ گئی۔ افسانہ اپنی ابتداء سے انتہا تک قار ئین کے حضور کئ پیغامات نشر کرتا ہے۔ بچوں کے لئے پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے۔ یہ واضح حقیقت اس وقت سامنے آتی ہے جب زبیدہ اپنا تیار کردہ خوبصورت ماڈل اپنے بیٹے کو دیتی ہے مگر اس کے بیٹے کی سوچ تو اس سے سوا نکلی۔ مٹی کا صحیح مفہوم اور مقصد کو اس نے سمجھ لیا تھا۔ یہی سبب ہے کہ اس کے ماڈل کو اول قرار دیا گیا۔ زیرِ نظر افسانے میں کئی مقام پر زبان و بیان کی کمزوریاں درآئیں ہیں ۔ اس کامیاب افسانے پر نظرثانی کی ضرورت تھی۔ مجموعی طور پرافسانے اپنے پیغام کی بدولت قارئین کے دل و دماغ پر اپنا اثر مرتسم کرنے میں کا میاب ہے۔ افسانہ نگار کو مبارکباد یہ افسانہ ان کے لئے توشہ ءِ آخرت ہو آمین
ReplyDeleteشبیر ذوالمنان۔۔۔۔ ہوڑہ
شہناز فاطمہافسانہ نمبر :14
ReplyDeleteافسانہ :وہ ایک تخلیق کار
افسانہ نگار :فریدہ نثار احمد انصاری
تاثرات :شہناز فاطمہ
ماں کی ممتا سے بھرا ایک ایک شاندار و شاہکار افسانہ
غریب بیوہ زبیدہ کسطرح اپنے ساجد کو اپنے ہاتھوں کےفن کے ذریعہ پروان چڑھا رہی تھی
یہ اپنی دھرتی کی مٹی کو اپنے ہاتھوں فنکارانہ ڈھنگ سے ڈھال کر اپنے بچے کے مستقبل کے خوب صورت خواب بنتی ہے
مگر یہ دنیا کے عیار امیر غریب کو ہمیشہ ذیل کرکے خوش ہونے کی کوشش کرتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ خدا بہت بڑا ہے اور بہت منصف ہے اسنے زبیدہ سے جسطرح کھیلونا حاصل کیا اور جن لفظوں کا استعمال کیا
"آن کی آن میں
"میں تمہاری زندگی برباد کر سکتا ہوں تم مجھے جان تی نہیں میں کون ہوں میں اس علاقہ کا کار پرریٹر ہوں
آن کی آن میں تمہاری زندگی برباد کر سکتا ہوں سمجھیں اسنے دھمکایا
کار سے وہ طمطراق سے باہر آیا ذیل مطلبی عورت! جھولے سے کھلونے کونکال اور اسے دھکا دیکر کار میں سوار ہوکر یہ جاوہ جا "
اور بیچاری زبیدہ کی کیا حالت ہوئی ہو گی اس انسانیت سوز حرکت سے
لیکن خدا بہت بڑا ہے
اور یہ" ماں "اسنے صبر کے ساتھ پھر اپنے بیٹے کے لئے فن کا مظاہرہ کیا اور اپنی مٹی کو محبت کے خمیر میں گوندھ کر اس سے ذیادہ حسین ماڈل تیار کردیا ایک رات میں اور بچے نے اپنی معصوم لیاقت سے اسپر یہ عبارت کندہ کردی
"ہر اچھے برے کی پناہ گاہ دھرتی!
جسکی گودپاکر ہر وجود سکون پاتا ہے لیکن کیا انسان اسکا حق ادا کرتا ہے؟"
دیکھا جائے تو بہت ذو معنی جملہ ہے
"ماں" کی گود جو بچے کے لئے سب سے پرسکون پناہ گاہ ہے کیا کوئی اسکا حق ادا کرسکتا ہے
اور اپنی مٹی جس سے ہم سب کو تخلیق کیا گیا ہے کیا اسکا حق کوئی ادا کر سکتا ہے؟
افسانہ بہت ہی خوبصورت انداز سے لکھا گیا ہے اور بہت نازک احساسات سے لبریز ہے اور یہ کھ رہا ہے افسانہ کے عزت صرف امیروں کی میراث نہیں بلکہ خدا جسے چاہے عزت دے جیسے اسمیں ساجد کو ملی
بہت ہی عمدہ افسانہ جزبات نگاری نے اسمیں چار چاند لگا دیئے انداز بیاں ایسا سحر انگیز ہے کہ قاری اکدم مسحور ہوکر اسی کا ہوکر رہ جائے
اس بہترین پر اثر افسانے کے لئے محترمہ فریدہ نثار احمد انصاری صاحبہ کے لئے نیک خواہشات اور پرخلوص دلی مبارک باد پیش کرتی ہوں بہت پر درد وپر اثر افسانہ ہے اللہ زور قلم اور زیادہ
افسانہ : وہ ایک تخلیق کار
ReplyDeleteافسانہ نگار : فریدہ نثار احمد انصاری
تاثرات : رفیع حیدر انجم
کہانی کے متن سے جو پیغام فلٹر ہو کر آرہا ہے وہ یہ ہے کہ ایک جینوئن اور اوریجنل فنکار کی تخیلاتی سطح تک کوئی دوسرا فنکار نہیں پہنچ سکتا. لیکن بیانیہ میں فنکارانہ حسن و صداقت پیدا نہیں ہو سکا ہے. دورانِ قرات یوں محسوس ہوتا رہا جیسے اپنے محور پر گھومتا ہوا کوئی چاک بار بار رکاوٹ کا شکار ہو رہا ہے اور کوزہ گر اس نقص سے بےخبر ہے. کارپوریٹر کا ڈرا دھمکا کر نامکمل ماڈل چھین لے جانا بھی غیر منطقی لگا.
افسانہ : وہ ایک تخلیق کار
ReplyDeleteافسانہ نگار : فریدہ نثار احمد انصاری
اظہار خیال : رفیعہ نوشین
فریدہ نثار صاحبہ کو اکثر پڑھتی رہتی ہوں - ان کی تخلیقات میں اصلاحی پہلو نمایاں رہتا ہے -
اس افسانہ کو میں نے کسی عید کے موقع پر پہلے بھی پڑھا تھا -
وہ خود ٹیچر ہیں اسی مناسبت سے اسکول کی سرگرمی کے گرد یہ کہانی بنی گئی ہے - جس میں سیاستداں کا منفی کردار، ایک بیوہ اور یتیم بچہ کی محرومیاں، ماں کی عظمت اور اس کا احترام ، اولاد کی تربیت ، جیسے اہم موضوعات کا بہت خوبصورتی سے احاطہ کیا گیا ہے -
جملوں کی ساخت میں تخلیقات ہے - اور الفاظ کو خوبصورت پیرہن میں ڈھالا گیا ہے -
زبان و بیان نیز مکالمے بہت ہی پر اثر ہیں - افسانہ سے زیادہ اس تخلیق پر بچوں کی کہانی کا گمان ہوتا ہے -
اس کہانی کے لئے میں فریدہ صاحبہ کو مبارکباد پیش کرتی ہوں -
افسانہ: وہ ایک تخلیق کار
ReplyDeleteافسانہ نگار: فریدہ انصاری
تبصرہ : رضوان الحق
بہت سی باتیں احباب نے کہہ دی ہیں بس ایک بات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا۔ بچوں کے مقابلے میں والدین کا ماڈل بنانا ایک غلط بات ہے۔ وہ ماڈل بچوں کو ہی ہر حال میں بنانا چاہیے۔ تعلیمی اعتبار سے یہ افسانہ ایک غلط پیغام دیتا ہے۔ دوسرے سائنسی ماڈل کا مقابلہ سائنسی تصورات کو مرکز میں رکھ کر مقابلے ہوتے ہیں۔ زبیدہ سائنس میں مہارت رکھتی ہیں کہیں سے ظاہر نہیں ہے۔ ایسے مقابلے کوزہ گر کے کھلونے نہیں جیت سکتے۔
افسانے کا عنوان بھی ٹھیک نہیں ہے۔ تخلیق کار creative writer کو کہتے ہیں۔ زبیدہ ایک کوزہ گر ہے اسے تخلیق کار نہیں کہہ سکتے۔
افسانہ نگار سے معذرت چاہوں گا لیکن غلط پیغام کی نشاندہی ضروری تھی۔