پہاڑی گلاب: اسلم جمشید پوری

بزمِ افسانہ کی پیش کش 
سترہواں ایونٹ 
رنگ و آہنگ 
افسانہ نمبر : 10 

            *پہاڑی گلاب*

        پروفیسر اسلم جمشیدپوری





ایک بار کا ذکر ہے۔یہی کو ئی دس بارہ برس قبل کی بات ہوگی۔ وہ ہماچل پردیش کے سفر پر نکلا تھا۔دراصل کلو منالی کے راستے سے ایک راستہ شملہ کے لئے جاتا ہے۔اسی راستے پر ایک علاقہ بلاس پور پڑتا ہے۔وہاں ایک پہاڑی پر جواہر نوودے ودیالیہ ہے۔یہاں اس کا ایک دوست اکرم حسین اردو کا ٹیچر ہے۔ویسے تو یہاں پہاڑوں کا ایک سلسلہ ہے۔جو آگے جاکر ہمالیائی سلسلے سے  جا ملتا ہے۔
پورے ملک میں جواہر نوودے ودیالیہ کی ایک زنجیر ہے۔یہ اسکول ہر ضلع میں ہوتا ہے۔اس میں چھٹی سے بارھویں تک پڑھائی ہوتی ہے۔یہ اسکول سابق وزیر اعظم آنجہانی راجیو گاندھی کی نئی تعلیمی پالیسی کا نتیجہ ہے۔اس کا ریزلٹ پرایؤیٹ اسکولوں کے مساوی ہوتا ہے۔ان اسکولوں میں داخلے انٹرنس کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔یہ اسکول طلبہ کے ساتھ ساتھ اسا تذہ کے لئے بھی رہائشی  ہوتے ہیں۔ان اسکولوں میں طالب علموں کی تعلیم کے ساتھ تربیت بھی کی جاتی ہے۔حکومت فری ایجوکیشن اسکیم کے تحت ان اسکولوں کو چلاتی ہے۔
اکرم بہت کم عمری میں ہی جے این وی میں بطور استاد بحال ہو گیا تھا۔زمانے تک لوہر دگا،رانچی میں رہا۔بعد میں ٹرا نسفر کی مار جھیلتا ہوا پہلے ہما چل پردیش،میں لاہول۔ اسپیتی،کازہ، رو ہتانگ بلاس پور،اور نجانے کہاں کہاں پھرتا رہا۔نوشادجب اس کے یہاں گیا تو وہ بہت خوش ہوا۔دراصل نوشاداور اکرم بچپن کے دوست تھے۔ دونوں ساتویں جماعت سے ساتھ تھے۔پہلے دونوں کے سیکشن الگ تھے،جو نویں کلاس میں ایک ہو گئے تھے۔ونوں میں دانت کاٹی روٹی والی دوستی تھی اور وہ ایک دوسرے کے ہمراز بھی تھے۔بچپن میں دونوں نے بہت سی شرارتیں کی تھیں۔اکرم فٹ بال اور بیڈ منٹن میں بھی ماہر تھا۔نوشاد کا دل فٹ با ل میں لگتاتھا مگر وہ صرف شوقیہ ہی کھیلتا تھا۔
٭
اکرم اسکول احاطے ہی میں تین کمروں کے فلیٹ میں اپنی ایک عدد بیوی،ایک بیٹی اور ایک بیٹے کے ساتھ رہتا تھا۔میں وہ اکرم کے پاس دن میں پہنچا تھا۔شام کو سبھی اسپورٹس گراؤنڈ پہنچے۔شام بڑی سہانی تھی۔پہاڑی علاقے کی شامیں نوشادکو بہت پسند تھیں۔دونوں نے ریکٹ سنبھا لے، نوشاد نے خوب دوڑ دھوپ کی،دمگر اکرم ہر بار نوشاد کو ہرا دیتا تھا۔رات نیچے اترنے لگی تھی۔اسکول احاطے کی لائیٹیں روشن ہو گئی تھیں۔روشنی میں اسکول کا نظارہ بالکل نئی طرح کا تھا۔سب لوگ گھر واپس آگئے۔ نوشاد کوچائے کا بہت شوق تھا۔بھابھی اس کی چائے کا خیال رکھتیں۔اکرم نے بتا یا کہ یہاں آس پاس کوٹھی پورہ،نونی،بلاس پور،آنندصاحب،سولن، کرتپور وغیرہ چھوٹے چھوٹے قصبے اور شہر آباد ہیں۔یہاں بازار بھی ہیں۔پلاسٹک پے پابندی ہے۔بازارجاتے وقت،گھر سے تھیلا لے کر جانا ہوتا تھا۔اکرم کی بائیک پر وہ بازار وغیرہ بھی گھوم آیا تھا۔اسکول کاراستہ اور آس پاس کو اس نے اچھی طرح ذہن نشین کر لیا تھا۔
ایک رات بارش کے بعد سبھی لوگ بالکونی میں بیٹھے تھے۔یہی کوئی نو بج رہے ہوں گے۔کیا نظارہ تھا۔مت پو چھئے۔۔بارش کے بعد رات اس قدر سیاہ اور روشن تھی کہ آسمان میں ستارے پوری تابناکی ساتھ روشن تھے۔زمین پر بھی یہی منظر تھا۔گویا کسی نے آسمان کے منظر کی فوٹو کاپی کی ہو۔گھپ سیاہ رات۔۔۔کچھ کچھ دوری پر مکانات،سرکاری عمارتیں اور ہوٹلوں کی روشنیاں۔۔۔ایسالگ رہا تھا۔۔آسمان زمین ہوگیا ہواور زمین آسمان۔۔۔نیچے سے اوپر تک ایک سا منظر۔۔بلکہ آسمان کے تاروں سے زیادہ زمین کے تارے منور تھے۔
٭
اکرم ڈیڑھ دو کلو میٹر دور ایک گاؤں سے دودھ لایا کرتا تھا۔کئی بار وہ بھی اس کے ساتھ بائیک پر گیا تھا۔ایک دن اکرم کو ایک ضروری کام تھا۔اس نے نوشاد سے دودھ لانے کو کہا۔
”نوشاد!۔۔ آج مجھے کام ہے تم میری موٹر سائیکل لے جاؤ اور دودھ لے آؤ۔۔“
”جی۔۔اکرم۔۔میں لے آؤں گا۔“
وہ بائیک پر سوار دودھ والے کے گھر پہنچا۔وہ ایک پہاڑی گاؤں تھا۔مشکل سے پچیس۔تیس گھروں پر مشتمل ہائی  وے کے قریب گاؤں۔گھروں کے درمیا ن بھی دوریاں تھیں۔اوپر نیچے بنے مکانات۔مکان کیا تھے،لکڑی،پھوس،اور اینٹ کی دیواریں۔ٹین کی چادروں کی چھت۔۔جب اس نے دودھ کے لئے کہا۔
”دو کلو دودھ اکرم کے گھر کا۔۔۔“
”ابھی کچھ دیر تھمو۔۔۔“
ایک نسوانی آواز گھنگرو کی آواز کے ساتھ سنائی دی۔آواز کا سحر ایسا تھا کہ وہ اسی میں کھو گیا۔ابھی آواز کا جادو کم بھی نہیں ہوا تھا کہ ایک تیئس چوبیس سالہ دوشیزہ بالٹی میں دودھ لئے حاضر تھی۔وہ تو دیدار کرتے ہی مبہوت ہو گیا۔اسے دیکھے گیا۔وہ دوشیزہ تھی یاشہد اور دودھ کا خمیر۔ایسا لگتا تھاکہ قدرت نے شہد اور دودھ سے مٹی گوندھ کر روح پھونک دی ہو۔اس کی رنگت میں سفیدی کے ساتھ سرخ رنگ کی ایسی آمیزش تھی کہ شام میں بھی دمک رہی تھی۔اس کے چہرے سے نظریں ہٹنے کو تیار نہ تھیں۔چہرے سے نظریں نیچے پھسلیں۔تو صراحی دار گھاٹی سے پھسلتی ہوئی بلند و بانگ پہاڑیوں سے الجھ گئیں۔پہاڑیاں کیاتھیں،وہ تو ان کے بلند آہنگی میں ہی گم ہو گیا۔
”بابوجی! دودھ۔۔۔“
وہ  فلم تھیٹر میں انٹڑول ہونے اور لائٹ آن ہونے جیسی کیفیت سے دوچار تھا۔تصور کی دنیا سے گرتا پڑتا بھا گا۔
”جی! دو کلو۔۔اکرم کے نام کا۔۔“
”وہی ماسٹر صاحب۔۔“
”ج۔۔ج۔۔جی۔۔“
پتہ نہیں اسے کیا ہو گیا تھا۔اس کی آواز لڑ کھڑا رہی تھی۔اس نے اپنا کین سامنے کردیا۔وہ جھک کر بالٹی میں رکھے لیٹرسے دودھ ناپنے لگی۔یہی وہ لمحہ تھا جب اس کی نظر پہاڑیوں کی جانب چلی گئی۔وہ لمحہ اف۔۔پہاڑیوں سے ٹکراتی سورج کی شعائیں جب منعکس ہو کر واپس لوٹ رہی تھیں تو آنکھیں چندھیا گئیں۔وہ دوشیزہ تو دودھ ڈھال کے جا چکی تھی۔وہ بھی خوابناک ماحول سے باہر آیا۔دودھ لے کر گھر واپس آگیا۔
٭
اکرم سے ملاقات ہوئی تو اس نے کچھ بھی نہیں کہا۔آج اس کا دل کہیں نہیں لگ رہا تھا۔تھوڑی ہی دیر میں اکرم کی آوازابھری۔
”نوشاد کھانے پر آجاؤ۔۔اور سناؤ دودھ لانے میں کوئی دقت تو نہیں ہوئی۔“
”نہیں۔۔کچھ بھی نہیں۔۔ہاں آج سے میں دودھ لا دیا کروں گا۔۔“
”نہیں۔۔نہیں۔۔تم تکلیف نہ کرو۔۔آج مجھے کچھ کام تھا۔۔کل سے میں لے آیا کروں گا“
”نہیں۔۔ جب تک میں ہوں،یہ کام میں کر دیا کروں گا۔۔“
”اچھا ٹھیک ہے۔۔اب کھاناکھاؤ“
کھانا کھانے کے بعد سب لوگ ٹہلنے کے لئے نیچے گراؤنڈکی طرف چلے۔نوشاد اپنے آپ میں کھویا ہوا تھا۔وہ تو آج کی دوشیزہ سے یک طرفہ ملاقات کے سحر میں گم تھا۔اسے پہاڑیاں،صراحی اور مجسمہ بار بار یاد آرہا تھا۔
”کہاں کھوئے ہوئے ہو دیور جی! لگتا ہے کہیں کچھ کھو گیا ہے۔۔؟“
    اس نے چونکتے ہوئے بھا بھی کی طرف دیکھا۔وہ مذاق کے موڈ میں لگ رہی تھیں۔
”ہم سب مل کر کھوجیں۔۔ پتہ بتائیں۔۔کہاں کھویا ہے۔۔؟“
”کچھ نہیں بھا بھی جان۔۔۔بس یوں ہی۔۔۔آپ بھی نا کمال کرتی ہیں۔۔ذرا آہستہ بولیں۔۔اگر اکرم نے سن لیا تو وہ بنا بات کا بتنگڑ بنا دے گا۔۔“
بھا بھی سے بچ کر وہ اکرم کے ساتھ ٹہلنے لگا۔اکرم نے بتایا کہ کل اسے پرنسپل صاحب نے بلوایاہے۔کل ٹھیک صبح نو بجے تیار رہنا۔وہ چلتے چلتے گھر تک آگئے تھے۔ گھر میں گھستے ہی نوشاد اپنے کمرے میں چلا گیا۔تھوڑی دیر میں ہی بیگم اکرم چائے لے کر آئیں۔کچھ ہی دیر میں اکرم بھی وہیں آگیا۔تینوں مختلف موضوعات پر بات کرتے رہے۔اسے بیگم اکرم کی آنکھوں میں شرارت نظر آئی۔اس نے آنکھوں کے اشارے سے ان سے التجا کی۔التجا کا اثر یہ ہوا کہ بیگم،اکرم کو بھی یہ کہتے ہوئے ساتھ لے گئیں کہ نوشاد بھائی کو سونے دیں،تھک گئے ہوں گے۔ان کے جانے کے بعد بہت دیر تک نیند اس سے روٹھی رہی کہ اس کے تصور میں اس دوشیزہ کا سراپا گھوم رہاتھا۔
٭
اگلے دن وہ اکرم کے ساتھ اس کے پرنسپل کے کمرے میں تھا۔پرنسپل نے پر تپاک خیر مقدم کیا۔دراصل نوشاد مینیجمنٹ کا آدمی تھا۔وہ مینیجمنٹ میں ماسٹرز کرنے کے بعد ایک مینجمنٹ اسکول میں درس وتدریس کی خدمات انجام دے رہا تھاور چھٹیاں لے کر اکرم سے ملنے آیا تھا۔پرنسپل کی درخواست اور اکرم کی خوشی کے لئے وہ اسکول کے بڑے بچوں کی پرسنالٹی ڈیولپمنٹ کی کلاس لینے کو تیار ہو گیا۔دن اور تاریخ طے ہونے کے بعد وہ دونوں وہاں سے باہر آئے۔اکرم تو اپنی کلاس میں چلا گیا۔اور وہ گھر آگیا۔
٭
آج وہ وقت رہتے ہی دودھ لینے پہنچ گیا تھا۔اس کے کانوں میں باہر ہی ایک آوازپڑی۔
”اری گل۔۔گایوں کو سانی ٹھیک کر دی ہے۔ذرا دھیان رکھا کر ان بے زبانوں کا“۔
وہ سمجھ گیا کہ یہ آواز اس دوشیزہ کی والدہ کی ہے۔اور اس کا نام ’گُل‘ ہے۔کیا خوبصورت نام ہے اور نام ہی کی طرح وہ خود بھی تھی۔پہاڑی گلاب۔وہ تو اللہ کی قدرت کا قائل تو تھا ہی،مگر گُل کو دیکھ کر وہ خدا کی صناعی کا مزید قائل ہو گیا تھا کہ اس نے پہاڑوں میں بھی گلاب کھلا دیا تھا۔وہ اپنا کین رکھ کر باہرپڑی بانس کی کر سی پر بیٹھ گیا۔وہ پہلا گراہک تھا۔ماں،بیٹی گایوں کو کھلانے پلانے میں لگی تھیں۔
”اری گُل۔۔باہر دیکھیو کون آیا ہے۔۔؟“
دوشیزہ باہر آئی۔اور زور سے بولی۔”ماں،ماسٹر ساب کے گھر والے بابو آئے ہیں“
وہ گھومی اور اس سے مخاطب ہوتے ہوئے بولی۔
”بابو آج بہت جلدی آ گئے۔۔ابھی تو گائیں چارہ کھا رہی ہیں۔۔“
”وہ میں ماسٹر صاحب کا دوست ہوں۔۔گھومنے آیا ہوں۔۔وقت ہی وقت ہے میرے پاس،تو سو چا جلدی ہی دودھ لے آؤں“
نظریں تو اس کونہار رہی تھیں۔گل کی پنکھڑی پنکھڑی ترو تازہ تھی۔ زبان اپنا کا م کر رہی تھی۔ وہ اسے باتوں میں لگانا اور اس کے قریب آنا چاہتا تھا۔
”گل صاحبہ! آپ کے یہاں کتنی گائیں ہیں۔۔۔؟“ اس نے اندھیرے میں تیر چلایا۔جو نشانے پر لگا تھا۔
”آپ کو میرا نام کیسے پتہ چلا۔۔؟“ وہ حیرت سے اسے گھور رہی تھی۔
”وہ۔۔وہ۔۔آپ کی والدہ آپ کو پکار رہی تھیں شاید۔۔۔میں سمجھ گیا یہ آپ کا ہی نام ہوگا۔۔“
”ہوں آدمی تو ہشیار لگتے ہو۔۔۔کہاں سے آئے ہو۔۔اور کیا نام ہے تمہارا؟“
اس کی دل کی مراد پوری ہورہی تھی۔وہ حسینہ بات کر رہی تھی۔ایسا محسوس ہو رہاتھا،مانو کوئی جھرنا گر رہا ہو۔اس کی کانوں میں جلترنگ سے بج رہے تھے۔وہ تو آواز اور قربت کے سحر میں گرفتار تھا۔سادگی میں قیامت،اس نے صرف کتابوں میں پڑھا تھا۔مگر آج قیامت کو رو برو دیکھ اور سن رہا تھا۔
”میں۔۔میں۔۔“
”یہ کیا میں،میں لگارکھی ہے۔۔“
”میں کہہ رہا تھا کہ میں مظفر نگر کا رہنے والا ہوں۔۔میرا نام نو شاد ہے۔۔میں مظفر نگر میں ایک کالج میں پڑھاتا ہوں۔۔۔“
”بس کرو۔۔جو میں نے پوچھا بھی نہیں،وہ بھی بتا رہے ہو۔۔“
”اری گُل۔۔چل دودھ نکال دیر ہو رہی ہے۔۔“
اور وہ ”جی۔۔ی۔۔“ کی آواز کے ساتھ اندر سما گئی۔اسے یوں محسوس ہواکہ وہ کوئی خواب دیکھ رہاتھا۔جو اس کی جی،پر ریت کے محل کی طرح کی دھڑام سے بکھر گیا تھا۔دوسرے گرا ہک بھی آ رہے تھے۔وہ سب سے آخر میں دودھ لینا چاہتا تھا۔مگر گل،بالٹی لئے جب اس کے پاس آئی تووہ دودھ لینے پر مجبور ہو گیا۔
”لاؤ اپنا برتن۔۔نوشاد بابو۔۔“
یہ کہتے ہوئے وہ ہلکی سی مسکرائی۔اس کی مسکراہٹ میں نجانے کیسا جادو تھا کہ وہ وہیں جم گیا اور اس کو ہی نہارتا رہا۔اتنے میں بہت زور کی بجلی چمکی،شایدآسمان بھی اس کی مسکراہٹ میں اپنی مسکراہٹ ضم کر رہا تھا۔
”بابو۔۔جلدی کرو۔۔کہیں بھیگ نہ جاؤ۔۔“
اسے کیا پتہ تھا کہ جو اس کی مسکراہٹ میں بھیگ چکا ہو اسے کسی بھی بارش میں بھیگنے کا ڈر نہیں۔اس علم نہیں تھا کہ اس نے اور اس کے حسن نے پہلے ہی اسے اتنا بھگو دیا تھا،کہ اب بارش میں بھیگنا الگ ہی لطف دے گا۔گُل برتن میں دودھ ڈال کر مسکراتی ہوئی آگے بڑھ گئی تھی۔وہ بھی دودھ لے کر گھر آگیا۔
٭
آج گُل کی آنکھوں سے نیند غائب تھی۔پہلی بار کسی نے اس کے دل پر دستک دی تھی۔دستک کیا تھی،پوری عمارت میں زلزلہ پیدا کر دیا تھا۔اس کے منھ سے ’گُل‘ کتنا اچھا لگ رہا تھا۔جیسے کسی نے گلاب کی ٹہنی ہی ہلا ڈالی ہو۔ایک موہوم سی سرسراہٹ کی آواز۔۔اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اجنبی یوں ہی اس کا نام لیتا رہے اور فضاؤں میں اس کے نام کی گونج،پانی کی دائرہ نما لہروں کی طرح دور دور تک پھیلتی جائے۔اور پورے علاقے کے پہاڑوں،راستوں اور وادیوں میں اس کے نام کی گونج سنائی دیتی رہے۔وہ شخص اب اجنبی نہیں رہا تھا۔کتنا بے وقوف ہے،جو کچھ پوچھا نہیں،وہ بھی بتا رہا تھا۔شاید اسے بھی محبت ہو گئی ہے۔جب ہی تو کوئی کسی کا نام یاد رکھتا ہے۔جب ہی تو وہ عجیب و غریب باتیں کر تاہے۔یقیناً اسے بھی محبت ہو گئی ہے۔مگر ان شہری بابوؤں کا کیا بھروسہ۔۔؟اسے یاد آیا کہ ایک نوجوان اس کی ماں کو شملہ میں ملا تھا۔جس نے ماں کو اپنے پریم جال میں ایسا پھانسا تھا کہ ماں کو وہ دنیا کا سب سے سچا آدمی لگتا تھا۔آخر اس نے اپنا رنگ روپ دکھا ہی دیا۔وہ شہر یہ کہہ کر گیا تھا کہ شہر کی جایداد فروخت کرکے دو ایک مہینے میں بہت سارے پیسے لے کر آئے گا۔مگر افسوس دوماہ ہی کیا چار ماہ ہو گئے۔یہاں تک کہ ماں نے مجھے جنم دیا۔ماں تو پہلے ہی اپنے والدین کا گھر چھوڑ چکی تھی۔اس نے اپنی ایک سہیلی کی مدد سے وہ علا قہ ہی چھوڑ دیا تھا۔اور ِاس علاقے میں ایک جھونپڑی ڈال لی۔شروع شروع میں بہت سے لوگوں نے ماں کو کافی پریشان کیا۔وہ تو اس کی سہیلی کے ایک رشتہ دار پہلے سے یہاں آباد تھے۔انہوں نے ہماری بہت مدد کی۔اور آج جب کے وہ تیئس چوبیس برس کی ہو چکی ہوں۔دودھ کا کاروبار بھی اچھا خاصا چل رہا تھا۔اس کے سوئے ہوئے دل کے تاروں کو کسی نے چھیڑا تھا۔ایک عجیب سا راگ اس کے پورے بدن سے پھوٹ رہا تھا۔کوئی چپکے چپکے اس کی پنکھڑی پنکھڑی کو نظروں سے یوں سہلاگیا تھا گویاخواب میں کوہ قاف کی پری گال سہلا رہی ہو۔نو شاد،ہاں یہی نام اس نے بتایا تھا۔کتنا اچھا نام ہے۔وہ اگر مجھ سے اصلی محبت کرتا ہے،تو اسے میری باتوں کو ماننا پڑے گا۔میں ماں،جومیری دوست،باپ،بہن،سب کچھ تھی،کو اس نوجوان کے بارے میں سب کچھ بتا دوں گی۔اور ان کا جو مشورہ یا فیصلہ ہوگا،وہ میرے ساتھ ساتھ اسے بھی ماننا ہو گا۔        
٭
نوشاد اور گُل کی جوڑی بالکل فٹ تھی گویا دونوں کو قدرت نے ایک دوسرے کے لئے ہی بنایا ہو۔اب وہ اکثرجنگلوں اور پہاڑوں میں گھومتے پھرتے۔ایک دن ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے دونوں پہاڑوں میں دور نکل گئے۔گُل نے جو شرطیں رکھیں۔نوشاد نے سر تسلیم خم کر دیا۔
”دیکھو نو شاد۔۔۔تم مجھے کبھی چھوڑو گے تونہیں۔۔؟“
”نہیں۔۔ایساسوال بھی دوبارہ مت کرنا۔۔“
  یہ کہتے ہوئے نوشاد نے گُل کو اپنی بانہوں میں لے لیا۔گُل کو تھوڑا تردد ضرور ہوا،لیکن اس نے پھر خود کو نوشاد کی دسترس میں دے دیا۔نوشاد نے گل کی پنکھڑیوں پر بوسوں کی بوچھار کر دی۔اس نے گُل کو ایک عجیب دنیامیں پہنچا دیا تھا۔وہ نشیب وفراز سے سانپ کی سی پھنکار کے ساتھ گذرتا گیا۔آج وہ ساری حدیں پارکر رہا تھا۔گُل نے کئی بار ہلکی سی مزاحمت بھی کی تھی۔لیکن وہ خود محبت کے جنون اور نشے میں گرفتار تھی۔اس نے بھنورے کو پھول کا رس پینے کی نہ صرف اجازت دی بلکہ اس کا تعاون بھی کیا۔ان کا نشہ اس وقت اترا جب ندی کا اپھان سرد پڑا۔مگر یہ کیا۔؟سارا آسمان کالے کالے بادلوں سے بھرگیا۔گویا بادل بھی آسمان کی وسعتوں میں محبت محبت کھیل رہے ہوں اور ایک دوسرے کو پانی پانی کرنے پر تلے ہوں۔وہ دونوں بھی گھر کی جانب بھاگے۔نوشاد،گُل کو اس کے گھر چھوڑ کے اسکول کی جانب چل پڑا۔راستے میں بارش نے اس کاحال دریافت کیا۔
بارش کا نظارہ ہی مختلف تھا۔بادل پہاڑوں سے اٹھکھیلیاں کر رہے تھے۔کبھی بادل پہاڑوں سے دور چلے جاتے اور کبھی ہم آغوش ہو جاتے۔نتیجتاًدنیا کے دیکھ لینے سے مارے شرم کے پانی پانی ہو جاتے اور سارا علاقہ بارش کی زد میں آجاتا۔بارش کی رم جھم۔۔بادلوں کی سر گو شیاں۔۔ہواؤں کی سرسرا ہٹ۔۔ پرندوں کی چہچہاہٹ۔۔سب مل کر ایک عجیب سی مو سیقی پیش کر رہے تھے۔ہرے بھرے درختوں نے دودھیا بادلوں کی قبا زیب تن کر لی تھی۔جیسے سبزے پر سفید غازہ ہو۔۔اچانک دھوپ مسکراتی ہوئی    نمو دار ہوئی۔اس کی معنی خیز مسکراہٹ کا راز۔۔بادل اورہواؤں کی آنکھ مچولی تھی۔دھوپ نے سب کو بے نقاب کر دیا تھا۔ گویا کسی اندھیرے ہال میں کوئی جوڑا عشق و محبت کی منزلیں طے کرنے میں مصروف ہو اور اچانک بجلی آجا ئے۔دھوپ نے۔پہاڑ۔۔کھیت۔،کھلیان اور راستوں کے ہر کونے کو روشن کر دیا تھا۔بادل غائب ہو چکے تھے۔آسمان گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے کا ماہر،رنگ بدل چکا تھا۔نیلاہٹ بھرا آسمان الگ قسم کا رومان پیش کر رہا تھا۔ہرے پہاڑ،نیلا آسمان،چمکتی چلچلاتی دھوپ،سانپ کی مانند بل کھاتی سیاہ سڑکیں اوران پر رواں دواں رنگ برنگی گاڑیاں۔۔ ایک الگ قسم کا منظر آنکھوں کے سامنے تھا۔    
٭
نوشاد کا لکچر بہت متاثر کن تھا۔اس نے طالب علموں کو پرسنا لٹی کے تعلق سے بہت سی مثالوں کے ذریعہ سمجھایا۔طالب علموں کے ساتھ ساتھ اساتذہ کو بھی نوشاد کے لکچر سے کافی فائدہ ہوا۔دراصل نوشا د کے سمجھانے کا انداز ہی مختلف تھا۔لکچر ختم ہونے کے بعد پرنسپل نے نو شاد کی بہت تعریف کی۔اکرم کو بڑا فخر محسوس ہو رہا تھا۔اس نے بھی نوشاد کے لکچر کی تعریف و توصیف کی۔
٭
نوشاد نے اکرم اور اس کے گھر والوں کو اپنے پیار کی بھنک لگنے نہیں دی تھی۔کبھی شملہ اور کبھی سولن جانے کی بات کہہ کر اپنی لمبی غیر حاضری کو اپنی ذاتی مصروفیت ثابت کیا۔دراصل وہ گُل کو سب سے چھپانا چاہتا تھا۔اسے گُل سے بے انتہا پیار تھا۔وہ اب روزانہ دن میں اس سے اور اس کی ماں سے ملنے جا تا۔اس نے گُل کی تمام شرطیں مان لی تھیں۔
گُل بھی اس سے بہت محبت کرتی تھی۔ماں کے سمجھانے کے باوجود،گُل،نوشاد سے پیار کرتی رہی بلکہ اس نے ماں کو بھی سمجھا لیا تھا۔
”گل! میں نے دنیا دیکھی ہے۔۔بہت دھوکے کھائے ہیں“
”ماں! نوشاد ایسا نہیں ہے۔وہ بھی مجھ سے سچا پیار کرتا ہے“
”دیکھ لو بیٹی۔۔ویسے نوشاد مجھے بھی پسند ہے۔۔تم شادی کی بات کرو۔۔“
”ماں وہ شادی کو تیار ہے۔۔بس چاہتا ہے کہ اس کی شادی میں اس کے ماں باپ بھی شریک ہوں۔وہ انہیں لانا چاہتا ہے۔“
”دیکھ لو بیٹا میری طرح دھوکہ نہ کھا بیٹھنا۔۔۔“
”نہیں ماں۔۔ نوشاد ایسا نہیں ہے۔۔۔“
”ٹھیک ہے بیٹی تم زمانے کے نشیب و فراز کا خیال رکھنا۔۔“
گُل کو نوشاد سے بہت پیار تھا۔وہ یہ بھی جانتی تھی کہ نوشاد بھی اس سے سچا پیار کر تا تھا۔وہ مظفر نگر میں ایک پرایؤیٹ کالج  میں پڑھاتا تھا۔اسے شملہ یا سولن میں بھی کہیں جاب مل سکتی تھی۔نوشاد کا منصوبہ بھی ایسا ہی کچھ تھا۔وہ کچھ دنوں کے لئے اپنے والدین کے پاس جانا چاہتا تھا۔تا کہ ان کو لے کر آئے اور شادی کی رسومات ان کی موجودگی میں پوری ہو سکیں۔گل نے تو اجازت دے دی تھی۔اور وہ دن بھی آگیا جب نوشاد کو گُل سے رخصت ہونا تھا۔گُل کے دل کی زمین آنسوؤں سے گیلی ہوکر بیٹھتی معلوم ہو رہی تھی۔وہ نوشاد سے لپٹ کر روئے جا رہی تھی۔گُل کی سسکیوں نے نوشاد کو بھی کمزور کر دیا تھا۔اس کے عارض پر آنسو کے قطرے یوں لگ رہے تھے گویا صبح سویرے گلاب کی پتیوں پر شبنم کے قطرے پڑے ہوں۔
”پگلی۔۔ میں کوئی ہمیشہ کے لئے تم سے جدا تھوڑی ہو رہاہوں۔یہ تو عارضی ہجر ہے۔تم دیکھنا میں جلد ہی آؤں گا اور تم سے شادی رچا کر یہیں پہاڑوں پر تمہارے ساتھ بس جاؤں گا ۔۔ہمارے بچے ہوں گے۔۔اور۔۔“
بچوں کے نام سے گُل کچھ یوں شرمائی جیسے چھوئی موئی کا پودا چھونے پر اپنے آپ کو سمیٹ لیتا ہے۔گل کے چہرے پر حیاکی سرخی پھیل گئی تھی۔جو چہرے سے سفر کرتی ہوئی بدن کی دیواروں میں اتر تی چلی گئی۔اس کے منھ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے۔مگر اس کا ذرہ ذرہ بول رہا تھا۔
”نوشاد۔۔آجانا۔۔ورنہ میں تمہارے انتظار میں مر جاؤں گی۔۔“
نوشاد نے ایک بار گل کو بانہوں میں لیا۔پیار کیا اور چل پڑا۔گُل کی سسکیاں اور آنسو بہت دور تک اس کا پیچھا کرتے رہے۔وہ دل پر پتھر رکھ کے گُل سے رخصت ہواتھا۔
٭
مظفر نگر آکر نوشاد کے سامنے حالات کا ایسا بھنور آگیا تھا۔کہ وہ چاہتے ہوئے بھی اس سے نکل نہیں پارہا تھا۔اس نے ماں باپ دونوں کو اپنے پیاریعنی گُل کے بارے میں سب کچھ بتا دیا تھا۔جو گل سے اس کی شادی کو قطعی تیار نہ تھے۔اس کے کالج والے بھی اس کو چھوڑنے کوتیار نہ تھے۔پھر سب سے بڑی پریشانی یہ ہوئی کہ اس کے والدکو کینسر ہو گیا تھا۔انہیں اسپتال میں داخل کرنا پڑا۔ایسے حالات میں بھی گُل اور اس سے کئے وعدے اسے یاد تھے۔اس کی یادیں اب اس کا سرمایا تھیں۔اس نے اس راز کو اکرم سے بھی چھپایا تھا۔کوئی ایسا نہیں تھا جو گل کی خیریت اسے دیتا۔وہ ہجر کی آگ میں جھلس رہاتھا۔مجبور تھا ورنہ گل کے پاس اڑکر پہنچ جا تا۔
وقت گذرتا رہا۔دن مہینے اور سال میں تبدیل ہو نے لگے۔کینسر جیسے موذی مرض نے اس کے والد کو نگل لیا۔وہ حالات کی  ایسی دلدل میں پھنس گیا تھا جس سے نکلنے کی جتنی کوشش کرتا،اتنا ہی اور اندر دھنس جاتا۔والد کے جانے کے بعد حالات کی سخت دھوپ اس پر کچھ اس طرح چھا گئی تھی کہ وہ بے آب و گیاہ ریگستان میں تن تنہا کھڑا رہ گیا تھا۔کوئی اس کی خیریت لینے والا تھا نہ دلاسہ دینے والا۔ایسے میں گُل اسے بہت یاد آئی کہ بے چاری اس کا انتظار کر رہی ہو گی۔
٭
نوشاد کو گئے ہوئے جب کئی ماہ ہو گئے تو گُل کی ماں کی آواز بلند ہونے لگی۔
”میں پہلے ہی کہہ رہی تھی۔۔۔مرد سب ایک جیسے ہوتے ہیں۔۔“
”پر ماں نوشاد ایسا نہیں ہے۔۔کو ئی مجبوری ہوگی۔۔“
”چپ رہ۔۔میں نے زمانہ دیکھا ہے۔۔میں نے تجھے خوب سمجھایا تھا۔۔“
اور جب گل کی ماں کو گل کے پاؤں بھاری ہونے کا پتہ چلا تو اس نے گھر سر پہ اٹھا لیا۔اس نے تو بچے کے بوجھ سے ہمیشہ کے لئے چھٹکارا پانے کی بات تک کہہ دی۔گل کو ماں سے یہ امید نہیں تھی۔ماں بہت غصے میں تھی۔
”گل مجھے کیا پتہ تھا کہ تو یہ گل کھلا رہی ہے۔۔ایسا کرنے سے پہلے تمہیں لاکھ بار سوچنا چاہیے تھا۔“
اس کی خاموشی اور اور بے جوابی نے ماں پر اثر کیا۔۔
”گل بیٹی۔۔اب جو ہوا سو ہوا۔۔مگر تم اسے گروادو۔۔اسی میں تمہاری اور سب کی بھلائی ہے۔۔میری پیاری گل“
اس معاملے میں وہ ماں سے متفق نہیں تھی۔وہ چاہتی تھی اگر نوشاد بے وفا ہو بھی گیا ہے،تو وہ اس اولاد کو ضرور پالے گی۔بہت دنوں تک ماں بیٹی میں بات تک نہ ہوئی۔
٭
ادھر ہائی وے کے قریب ہونے پر گُل کے گاؤں میں بس ڈپو بننے کی تیاری شروع ہو گئی۔سبھی کو اچھا خاصا معاوضہ دیا گیا۔سب ادھر ادھر چلے گئے۔گُل کی ماں تو یہی چاہتی تھی۔وہ گُل کو لے کر سولن آ گئی۔جہاں گُل نے ایک بیٹی کو جنم دیا۔گُل کو اب بھی امید تھی کہ نوشاد ضرور آئے گا،اور اسے بیاہ کر لے جائے گا۔اسے جب بھی فرصت ملتی وہ اپنی بیٹی کو کمر پر جھولی میں ڈال کر شاہراہ پر آ جاتی اور ہر آنے جانے والی بس اور کاروں کو اس امید کے ساتھ دیکھتی کہ جیسے،نوشاد آجائے گا اورکہے گا۔
”گل میں آ گیا ہوں۔۔اب تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔“
٭  
اکرم کا بھی ٹرانسفر ہو گیا تھا۔پور ے دو برس بعد نوشاد اپنی ماں کے ساتھ ہما چل کے لئے نکلا۔شملہ میں ایک ہوٹل لے کر ماں کو چھوڑا اور خود ٹیکسی لے کر گُل کے گاؤں پہنچا۔مگر یہ کیا؟گاؤں تو وہاں تھاہی نہیں۔اس نے سوچا۔۔کہیں وہ غلط پتے پرتو نہیں آ گیا۔۔۔اس نے دور۔دور تک د یکھا۔اسے کوئی آبادی نظر نہیں آئی۔اچانک اس کے دماغ میں ایک بات آ ئی۔اور اس نے ڈرایؤر سے کہا۔
”پیچھے گھما لو۔۔اور اسکول کی طرف لے لو۔۔“
اسکول پہنچنے پر پتہ چلا کہ پرنسپل کا ٹرانسفر ہو گیا ہے۔اور نئے پرنسپل کسی کام سے دو چار دن کی چھٹی پر ہیں۔وہ مایوس لوٹنے ہی کو تھا کہ پیچھے سے آنے والی ایک آواز نے اس کے قدم روک دیے۔
”نو شاد سر!آپ یہاں کیسے۔۔؟“
اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔یہ تو مسز ریکھا تھیں۔مسز ریکھا اکرم کے سامنے و الے فلیٹ میں رہتی تھیں اورتاریخ پڑھاتی تھیں۔ان سے کئی بار اکرم کے ساتھ ہی ملاقات تھی۔وہ دیکھتے ہی خوش ہو گئیں۔
”بس یوں ہی ادھر سے گذر رہا تھا تو سوچا ملتا جاؤں۔۔مگر اکرم کیا گیا،یہاں تو بہت سے لوگ چلے گئے۔۔پرنسپل صاحب بھی۔۔۔“
”ہاں۔۔ٹرانسفر تو ہوتا ہی رہتا ہے۔۔اب میرا نمبر ہے۔۔آپ گھر چلیں۔۔“
”نہیں۔۔نہیں۔۔پھر کبھی۔۔ویسے پورے علاقے میں کا فی ترقی ہو گئی ہے۔روڈ راستے کافی چوڑے ہو گئے ہیں۔۔ادھر دودھ والے رہتے تھے۔۔“
”جی بھائی صاحب! خوب ترقی ہوئی ہے۔دودھ والوں کو بھی سرکار نے پیسے دیے۔سب ادھر ادھر چلے گئے۔۔۔“
”مسز ریکھا۔۔۔اب میں چلتا ہوں۔۔پھر کبھی ادھر آنا ہوا تو میراوعدہ ہے کہ آپ کے گھر ضرور آؤں گا۔۔“
وہ وہاں سے نکلا۔ معلومات مل گئی تھیں۔اس نے ڈرائیور کو واپس شملہ چلنے کو کہا۔اس کے سرمیں درد ہو رہا تھا۔وہ سوچنے لگا۔۔نجانے گل کہاں ہوگی۔۔وہ کیسی ہوگی۔۔اس کی ماں نے کہیں اس کی شادی نہ کر دی ہو۔ اس سے آ گے وہ سوچنانہیں چاہتا
 تھا۔اس نے سیٹ پرسر ٹکا کر سونے کی کو شش کی۔مگر نیند کا دور دور تک اتہ پتہ نہیں تھا۔اسے رہ رہ کر گُل کے ساتھ گذارے ہوئے لمحات یادآرہے تھے۔وہ بھی کیا زمانہ تھا،جب وہ اور گلُ پہاڑوں اور جنگلوں میں بے فکر گھوما کرتے تھے۔
وہ روزانہ گاڑی اور ڈرائیور لے کر نکلتا،پہاڑی علاقوں کی خاک چھانتا اور مایوس و نا مراد واپس لوٹ آتا۔گل کا کہیں پتہ نہیں تھا۔مگر اس نے تلاش جاری رکھی۔مایوسی اور ناکامی اپنا حصار تنگ کر رہی تھی۔اس کی دل کی زمین دھنسنے لگی تھی۔
٭
گُل کی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا۔اس کی بیٹی جوہی اب پیروں پیروں چلنے لگی تھی۔گُل نے ماں کی موجودگی میں ہی چار پانچ گائیں پال لی تھیں۔وہ دودھ بیچ کراپنا اور اپنی بچی کا پیٹ پال رہی تھی۔اسے جب کاموں سے فراغت ہوتی تو وہ جوہی کو لے کر شاہ راہ کی جانب نکل پڑتی۔اور امید بھری نظروں سے ہر آنے جانے والی گاڑی کو تکا کرتی۔اسے آج بھی امید تھی کہ نوشاد ضرور آئے گا اور اس کی زندگی میں بہار واپس آ ئے گی۔وہ سڑک کنارے سبزی خریدنے لگی تھی۔اس کی بیٹی کھیلتی ہوئی کچھ نکل آگئی تھی۔اس کے ہاتھ سے اس کی گڑیا گر گئی تھی جو لڑھک کر نیچے سڑک تک پہنچ گئی تھی جسے پکڑنے کو وہ آگے بڑھتی گئی۔ادھر نوشاد کے ڈرائیورنے بچی کے بچانے کوگاڑی ذرا سا موڑتے ہوئے بریک لگائے۔بچی نے گڑیا اٹھائی اور ماں کی طرف پلٹ پڑی۔نوشاد کے ڈرائیور نے بھی گاڑی آگے بڑھا دی۔ادھردھول کے غبار نے اپنی بیٹی کی طرف دوڑتی ہوئی گُل کو ڈھانپ لیا تھا۔  

                  ختم شدہ ـ

Comments


  1. افسانہ: پہاڑی گلاب
    افسانہ نگار : پروفیسر اسلم جمشیدپوری
    تاثرات : محمد علی صدیقی

    موضوعاتی سطح پر
    نوشاد کا گل سے شادی کا وعدہ کر کے ساری حدیں پار کر جانا نوشاد کے کردار کی کمزوری ہے۔ نوشاد گل کو پہلی بار جن نظروں سے دیکھتا ہے ان نظروں سے کوئی شریف النفس انسان کسی لڑکی کو نہیں دیکھتا۔ یہ تو ہوس ہے۔ جس پیار کی بنیاد ہی ہوس ہو اس کا انجام کیا ہو گا۔ ایک لڑکی کو ماں بننے کے مرحلے سے گزار کر اپنے آپ کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا انتہائی غیر ذمے دارانہ رویہ ہے۔ جب اس کی یاد آتی ہے تو دو سال گزر چکا ہوتا ہے۔ اتنا وقت کسی طوفان کے آ کر گزر جانے کے لئے کافی ہے۔
    گاڑی کے آگے کسی بچی کا آ کر دبتے دبتے بچ جانا بھی کسی حادثے سے کم نہیں۔ نوشاد کو اتر کر خیریت دریافت کرنی چاہئے تھی۔ اخلاق کا تقاضہ یہی تھا۔ اس طرح دو بچھڑے آمنے سامنے آجاتے اور گناہ کی سیاہی کچھ کم ہو جاتی۔ مگر یہاں بھی نوشاد کا غیر ذمہ دارانہ رویہ آڑے آتا ہے اور کہانی ادھوری رہ جاتی ہے۔

    افسانہ پڑھ کر یہی تاثر قائم ہوتا ہے کہ مرد کی ترجیحات میں عورت شاید آخری نمبر پر آتی ہے۔ جس عمل سے عورت کی پوری زندگی کانٹوں کی سیج بن سکتی ہے وہ عمل مرد کے لئے صرف ایک لمحہ ہوتا ہے جو گزر جاتا ہے اور پتا بھی نہیں چلتا۔

    موضوعاتی سطح پر مجھے یہ افسانہ سبق آموز پیغام کا حامل نظر آیا۔

    🌷🌷

    ReplyDelete
  2. افسانہ: پہاڑی گلاب
    افسانہ نگار: پروفیسر اسلم جمشید پوری
    اظہارِ خیال: محمد علیم اسماعیل

    پروفیسر اسلم جمشید پوری کی کہانی "پہاڑی گلاب" ایک ایسی داستان ہے جو دیہی ماحول میں محبت، جدائی اور گزرتے وقت کے کرب کو بیان کرتی ہے۔ کہانی نوشاد، گل اور دیگر ذیلی کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔ کہانی ہماچل پردیش کے ایک دلکش دیہی علاقے میں ترتیب دی گئی ہے، جو افسانے کے لیے ایک بھرپور پس منظر فراہم کرتا ہے۔ پہاڑ، جنگل اور گاؤں کے ماحول کی واضح وضاحت قدرتی مناظر کا مضبوط احساس کراتی ہے۔ کہانی میں کرداروں کی جذبات نگاری بھی متاثر کرتی ہے۔ کرداروں میں، خاص طور پر نوشاد اور گل، کی اچھی طرح نشو نما کی گئی ہے۔ ان کی محبت، کہانی میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ گل کی ماں کا کردار بھی کہانی میں ٹوسٹ پیدا کرتا ہے، جو شروع میں ان کے رشتے کی مخالفت کرتی ہے۔

    کہانی کئی موضوعات کو ٹچ کرتی ہے، جیسے محبت، قربانی، اور تعلقات پر حالات کے اثرات وغیرہ۔ نوشاد، گل کے ساتھ وابستگی کے بعد جدائی کا کرب جھیلتا ہے۔ اس کے بعد وہ مختلف چیلنجوں کا سامنا کرتا ہے اور جیسے ہی حالات اجازت دیتے ہیں وہ اپنا وعدہ پورا کرنے کے لیے نکل پڑتا ہے جس کے لیے وہ خوب جدوجہد کرتا ہے جس سے قاری کے من میں امید کی ایک کرن جاگ جاتی ہے۔ ادھر گل بھی ہر پل نوشاد کا انتظار کرتی ہے۔ وہ اپنی کھوئی ہوئی محبت کو دوبارہ حاصل کرنا چاہتی ہے لیکن اس کی زندگی کے اہم لمحات میں نوشاد کی غیر موجودگی غلط فہمیوں کا باعث بنتی ہے۔
    کہانی ایک تھرڈ پرسن راوی کے ذریعے بیان ہوئی ہے جو قارئین کو متعدد کرداروں کے خیالات اور جذبات سے آگاہ کراتی ہے۔ کہانی اپنے بیانیہ اسلوب میں انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں اور انسانوں کے ذریعے لیے گئے فیصلوں کے نتائج کو پرتجسس طور پر پیش کرتی ہے۔
    کہانی کا عنوان "پہاڑی گلاب" محبت اور آرزو کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ گل کو اس کی خوبصورتی کی وجہ سے پہاڑوں میں اگنے والے گلاب سے تشبیہ دی گئی ہے۔ ’گلاب‘ نوشاد کی گل سے گہری محبت اور اس سے دوبارہ ملنے کی خواہش کی علامت ہے، جبکہ اس راستے میں نوشاد کو کئی چیلنج درپیش ہیں۔

    کہانی نوشاد کی ذمہ داریوں/ مجبوریوں اور گُل سے اس کی محبت کے درمیان تنازع کے گرد گھومتی ہے۔ نوشاد کے والد کی بیماری اور مختلف حالات کی وجہ سے اس کا گل کے پاس جلد واپس نہ جا پانا، کہانی میں تناؤ بڑھاتا ہے۔ ادھر جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے، گل کی زندگی بدلتی جاتی ہے۔ لیکن جب وعدے کے مطابق نوشاد گل کے پاس واپس جاتا ہے تو اسے اپنی جگہ نہیں پاتا۔ جس سے وہ تشویش میں پڑ جاتا ہے۔
    یہ کہانی قارئین میں خواہش اور امید کے جذبات کو مؤثر طریقے سے ابھارتی ہے۔ کہانی کی جذباتی گہرائی ہر قسم کے قاری کو متاثر تو کرتی ہی ہے، ساتھ ہی ہر اس شخص کے لیے نہایت ہی پرکشش اور متاثر کن بن جاتی ہے جو اس طرح کے حالات سے کبھی گزرا ہو، اور جس نے اپنی زندگی میں کبھی اس طرح کے چیلنجوں کا سامنا کیا ہو۔
    "پہاڑی گلاب" محبت اور علیحدگی کی ایک پُرجوش کہانی ہے جو ایک خوبصورت دیہی پس منظر میں لکھی گئی ہے۔ کہانی کا پلاٹ اچھی طرح سے تیار کیا گیا ہے جس میں کردار اور تھیمز کی واضح تصور کشی کی گئی ہے۔

    کہانی کا کلائمکس اس وقت ہوتا ہے جب نوشاد، برسوں کی تلاش کے بعد بالآخر گل اور اس کی بیٹی جوہی کا سامنا کرتا ہے۔ جس سے دو بچھڑے ہوئے دلوں کے دوبارہ مل جانے کی امید پیدا ہوتی ہے لیکن ...... امید بر نہیں آتی۔ بہت دنوں بعد ایک اچھی رومانی کہانی پڑھنے کو ملی۔ جس نے شروع سے آخر تک ایک تجسس بنائے رکھا۔

    آج کا دور ایسا ہے جس میں ہر قسم کی کہانیاں لکھی جا رہی ہیں۔ یوں سمجھ لیجیے کہ اس دور میں پچھلی گزر چکی سبھی تحریکوں اور ادوار، جیسے: رومانی، ترقی پسندی، جدیدیت اور مابعد جدیدیت کا عکس نظر آتا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ آج کے افسانے میں نئے مسائل کا بیان اور اسلوب و تکنیک کی سطح پر نئے تجربات بھی ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج سادہ بیانیہ، منفرد بیانیہ، پیچیدہ اور علامتی، تجریدی، حقیقت پسندی، اصلاح نگاری، نفسیاتی اور رومانی افسانے بھی لکھے جا رہے ہیں۔ ایک بات یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ کوئی اگر نفسیاتی افسانے کو پسند کرتا ہے تو وہ رومانی افسانے کو ردّ نہیں کر سکتا۔ اگر کسی کو علامتی افسانہ پسند ہے تو وہ سادہ بیانیہ افسانے کو ردّ نہیں کر سکتا۔ یہ صنف ترقی پذیر ہے اور یہ ترقی کرتی رہے گی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی نئی صورت کو دیکھ کر ہم اس کی پرانی صورت کو ردّ کر دیں۔
    کہانی میں پیش ہونے والے کچھ واقعات تھوڑے فلمی لگتے ہیں۔ لیکن اسے کسی قسم کی خامی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کہانی میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ کرشن چندر کے رومانی افسانوں میں بھی یہ خوبی پائی جاتی ہے۔

    ReplyDelete
  3. افسانہ : پہاڑی گلاب
    افسانہ نگار :: پروفیسر اسلم جمشید پوری
    تاثرات. : نگار عظیم
    مدت بعد ایک رومانی افسانہ پڑھا حالات زندگی نے انسان کو رومان سے دور کر دیا ہے تو ادب سے بھی رومان غائب ہو گیا ہے ٹائپو کی غلطیوں کے باوجود افسانہ خود کو پڑھوا لیتا ہے. مرد کی فطرت اور عورت کی معصومیت اس افسانے کا خاص فوکس ہے افسانہ کچھ مختصر کیا جا سکتا ہے ماں اور بیٹی دونوں کے ساتھ ایک جیسا واقعہ....؟؟ بھلے ہی سچائی ہو یہ افسانے کو ڈرامہ تو دے رہا ہے لیکن فلمی انداز لگنے لگتا ہے -
    مشورہ ہے اختتام پر غور کریں تاکہ محبت کا بھرم اور مرد کی عزت باقی رہ جائے
    نیک خواہشات
    نگار عظیم

    ReplyDelete
  4. افسانہ "پہاڑی گلاب "
    پروفیسر اسلم جمشید پوری
    تاثرات: سلیم سرفراز
    پروفیسر اسلم جمشید پوری ایک جانا پہچانا نام ہے ـ بعض ادبی حلقوں میں انہیں ایک معتبر افسانہ نگار اور نقاد قرار دیا جاتا ہے ـ اب کیوں دیا جاتا ہے، یہ تو وہی جانیں ـ میں نے "بزم افسانہ "کے توسط سے ان کے دوتین افسانے پڑھے اور ہربار ایک نئی کوفت کا شکار ہوا ـ اس مرتبہ تو یہ کوفت دوگنی ہوئی کیونکہ اس افسانے کو "نیا دور " میں پہلے ہی پڑھ چکا تھا ـ یہاں تبصرے کے لیے دوبارہ پڑھنا پڑا ـ عجب بےسرپیر کا طویل افسانہ ہے ـ افسانے کا نصف ابتدائی حصہ تو گلزار کی فلم "موسم " کا چربہ لگا حالانکہ اور بھی کچھ فلموں میں ایسے کردار اور واقعات پیش کیے جاچکے ہیں ـ اس طویل افسانے میں کہانی تو غیرمنطقی ہے ہی، زبان وبیان کے بھی بہت سے مسئلے ہیں ـ منظرنگاری اور کردارنگاری میں الفاظ اور جملوں کا بےجا اصراف ہیں جس کی وجہ سے کہانی انتہائی بوجھل اور گراں بار ہے ـ خیر کہانی تو کچھ ہے بھی نہیں، بس "خاتون مشرق " ٹائپ کی لایعنی محبت کی روداد ہے ـ جس لڑکی کی ماں کسی شہری لڑکے سے فریب کھاچکی ہو اور اس کی بیٹی اسی فریب کی نشانی ہو، وہ بیٹی وہی دھوکہ کس طرح کھاسکتی ہے؟ آخر ماں کو فریب خوردہ اور بیٹی کو ناجائز اولاد دکھانے کی ضرورت کیا تھی؟ کہانی کو طول دینے کے علاوہ اور کوئی سبب سمجھ میں نہیں آتا ـ اختتام تو سی گریڈ ہندی فلموں سے بھی بدتر ہے ـ مصنف کا مقصد شاید قارئین کو بوریت کی انتہا تک لے جانے کا رہا ہو ـ
    معذرت.....

    ReplyDelete
  5. افسانہ :پہاڑی گلاب.
    اظہارِ خیال :فریدہ نثار احمد انصاری.

    عنوان سے ہی کم و بیش ظاہر ہو گیا کہ کہانی اپنے جلو میں دوردراز سفر پر لے جائے گی.

    قابل قلم کار نے منظر کشی نہایت عمدگی سے کی ساتھ کردار نگاری بھی خوب رہی. اسلوب، اندازِ بیاں بھی جس طرح افسانے کی جان ہوتے ہیں، انھیں بھی عمدگی سے ادا کیا لیکن کہانی ایک فلم کی طرح لگی.

    دو خواتین ماں اور بیٹی کو ایک جیسے ہی گھاؤ ملے جب کہ ماں کہتی رہی لیکن بیٹی آگے بڑھ گئی.
    نوشاد نے ایک نہیں دو خواتین کو ناشاد کیا.
    وہ گر نہ پہنچ سکا تھا تو اپنے دوست اکرم کی مدد بھی لے سکتا تھا. یہ بات سمجھ میں نہیں آئی.

    کھیلوں کا ذکر ہوا پر ان کی زندگی کے شب و روز میں رابطہ نہ رہا.

    اکرم اپنی ایک عدد بیوی.. کیا ایک عدد لکھنا ضروری تھا؟

    مائع کو لیٹر سے ناپا جاتا ہے جب کہ وہ" دو کلو" دودھ لینے گیا.

    لو ایٹ فرسٹ سائڈ ہوا اور بڑی آسانی سے دوشیزہ کے حسن کی منظر کشی کی گئی گویا نوشاد کے دل میں پہلے ہی سے چور تھا اور نہ صرف پہلی بار بلکہ بار بار اس کے خدوخال کا ذکر ملا.

    گاؤں کے جغرافیائی احاطے کو اس طرح رقم کیا گویا ہم فلم دیکھ رہے ہوں.بادل، پانی، بارش کی منظر کشی بھی خوب رہی.

    دونوں کی جوڑی ایک دوسرے کے لئے بنی تھی پھر اختتام ویسے ہی چھوڑ دیا.

    افسانے کی طوالت قاری پر گراں نہیں گزرتی جب تک تجسس جاری رہے.
    سفر نامے کے بعد جب زندگی کا ذکر آیا اسی نے قاری کو باندھے رکھا اور افسانہ ختم شدہ پر آ کر مکمل ہو گیا. جب کہ قاری کی یہی چاہ رہی کہ آگے اور کچھ ہو.

    دلی مبارک باد و نیک خواہشات.

    ReplyDelete
  6. جناب اسلم جمشید پوری کا طویل افسانہ پہاڑ ی گلاب کی سحر میں دیر تک کھویا رہا۔ افسانہ جیسے جیسے آگے بڑھ رہا تھا دل میں کئی انجانےخوف جنم لے رہے تھے کہ شاید گل کی ماں کی باتیں اور تجربات ہی سچ ثابت نہ ہوجائیں کیونکہ بچپن سے یہی سن رکھا ہے کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے مگر افسانے کے اختتام نے اس خیال کی مکمل ترید کردی۔۔۔ وقت گذرنے کے باوجود یقین و اعتماد کی ڈور کہیں سے کمزور ہوتی ہوئی نظر نہیں آئی۔۔۔ یہ الگ بات ہے محبت کے انجام پر رونا آیا ہے۔ قریب پہنچ کر بھی ملن نہ ہوسکا۔ شاید قدرت کو یہی منظور تھا۔ پہاڑ ی علاقے کی کامیاب منظر کشی اور گل کی خوبصورتی کے ذکر نے افسانے کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیا ہے۔ میں افسانے کے خالق کو صمیم قلب سے مبارکباد پیش کر تا ہوں۔
    شبیر ذوالمنان ۔۔۔۔۔ ہوڑہ

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

بادِ صبا کا انتظار : سید محمد اشرف

پناہ گاہ: اسرارگاندھی

مسیحائی : ایم مبین (بھیونڈی)