افیم کی گولی: مقصود حسن
بزمِ افسانہ کی پیش کش
سترہواں ایونٹ
رنگ و آہنگ
افسانہ نمبر : 09
*افیم کی گولی*
مقصود حسن
گھر ہو یا اسکول، ایک کتابی کیڑے کو عموماً سبھی پسند کرتے ہیں اور اگر اس کے ساتھ " پڑھاکو" کا ٹیگ لگ جائے تو والدین ایسے بچوں کو بڑی محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں ـ لیکن کچھ کتابی کیڑوں کیلئے" کچی عمر " میں " پکی کتابوں" کا مطالعہ اکثر ان کی پٹائی کا سبب بھی بن جاتا ہے ـ اسد کے ساتھ بھی یہی معاملہ درپیش ہوا تھا ـ جب ایک دوپہر اس کے تکیے کے نیچے سے ابن صفی کا جاسوسی ناول برآمد ہوا تھا ـ ـ ـ ـ
موسم سرما کی چھٹیوں کے دن تھے، ان دنوں اسد اپنے کمرے میں کچھ زیادہ ہی " گھسا" رہتا تھا ـ ـ ـ ـ کئی بار اس کے والد نے محسوس کیا کہ اچانک انہیں دیکھ کر وہ کچھ چھپانے کی کوشش کر رہا ہو ـ وہ ایک سخت گیر باپ تھے مگر دنیا شناس بھی تھے ـ جلد ہی وہ بھانپ گئے کہ کہیں تو کچھ گڑبڑ ہے ـ اور پھر ایک دن چوری پکڑی گئی ـ ـ ـ ـ اسد کو بہت ڈانٹ پڑی تھی اور اس ڈانٹ نے ہی یہ راز افشاں کر دیا کہ خاندان میں ایک اور" افیمچی" پیدا ہو گیا ہے ـ ویسے بھی جس خاندان میں سبھی ابن صفی کے جاسوسی ناولوں کے دیوانے ہوں، وہاں ایک کتابی کیڑے کو اس کا چسکا نہ لگے، یہ کوئی غیر فطری بات نہیں تھی ـ
اسد کا پشتینی مکان تھا، جس میں ابھی بھی پوری فیملی ایک ساتھ رہتی تھی ـ اسکی فیملی، اس کے چچاؤں کی فیملی اور چھوٹے دادا کا خاندان ـ ہاں ،چولہے سب کے الگ کر دیے گئے تھے ـ شام کو ناشتے کے وقت گھر کے آنگن ہی میں اڈہ جمتا تھا ـ گھر کی عورتیں، بڑے بوڑھے، سبھی چارپائی، آرام کرسی، اور چٹائی بچھا کر اکٹھا ہو جاتے تھے اور دنیا جہان کی باتیں ہوتی تھیں ـ انھی اڈوں پر اسد نے اکثر و بیشتر ابن صفی کا نام سنا تھا اور اس طرح اسے بھی ابن صفی کے جاسوسی ناولوں کا چسکا لگ گیا تھا ـ
اس شام آنگن میں بیٹھے لوگوں میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی، اس کی کزن بہنوں نے با قاعدہ ابن صفی کی دنیا میں اسد کا استقبال کیا تھا ـ کچھ کزن بھائی اس کی طرف ایسی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے کہ گویا کہہ رہے ہو " بیٹا، تم بھی چھپے رستم نکلے ـ ـ ـ ـ "
سبھی کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر اسد کچھ جھینپ سا گیا تھا ـ پھر اس کے دادا جان نے اسے سمجھایا کہ وہ فی الحال نصابی کتابوں پر اپنی توجہ مرکوز کرے، جاسوسی کتابیں پڑھنے کیلئے ابھی پوری عمر پڑی ہے ـ
شروع شروع میں اسد نے چوری چھپے اپنے گھر میں موجود ابن صفی کے کلیکشن کو چاٹ ڈالا ـ اگرچہ اس کے گھر پر ہر ماہ " ہما" اور " چہار رنگ" جیسے ڈائجسٹ بڑی پابندی سے آتے تھے مگر وہ پورے مہینے مختلف ہاتھوں میں " گھومتے" رہتے اور اسد کے ہاتھوں میں ان کا آنا محال ہی نظر آتا تھا ـ چنانچہ محلے میں موجود " بھارتی لائبریری" کو اسد نے کھنگالنا شروع کیا ـ " ہما"، " صدہا رنگ"، " چہار رنگ" جیسے ڈائجسٹوں کو کھوج کھوج کر نکالتا تھا اور ان میں چھپے ابن صفی کے ناولوں کو" نگلنا" شروع کر دیتا تھا ـ کتنی بار اسے اپنے والد کی ڈانٹ سننی پڑی مگر نشہ ایسا تھا کہ چھڑائے نہ چھٹے!! کبھی کبھی یوں بھی ہوا کہ ایک ہی رات میں پورے کا پورا ناول ختم کر ڈالا اور فجر کی نماز کے بعد ہی اس کی آنکھ لگی -
* *
کالج سے فارغ ہونے کے بعد اسد کو ایک پرائیوٹ انشورنس کمپنی میں نوکری مل گئی تھی اور اس سلسلے میں اسے اپنے گھر سے دور چنّئی شہر میں منتقل ہونا پڑا تھا ـ یہ پہلا موقع تھا جب اسے گھر سے دور رہنا پڑ رہا تھا، ایک ہفتے کے اکیلے پن نے ہی اسے احساس دلا دیا کہ زندگی گزارنا کتنا مشکل کام ہے ـ تینوں وقت کا کھانا باہر ہی کھانا, دیر رات تک فلیٹ پر لوٹنا اور پھر بستر پر ایسا گرنا کہ کچھ ہوش نہ ہوں, یہ اسکی زندگی کا معمول بن گیا تھا ـ دن رات کیسے گزرتے, اسے کچھ خیال تک نہ رہتا, کبھی کبھی تو حیرت ہوتی کہ کام کی مصروفیت کی وجہ سے اسے تاریخ یا دن کے نام تک یاد نہ رہتے, گویا اس کی زندگی میں کلینڈر کا وجود ہی ختم ہو گیا تھا!!
اسد اکثر سوچا کرتا کہ اس پرائیویٹ سیکٹر کی نوکری نے اسے بالکل مشین میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے ـ انسان ہونے کی وہ ایک سزا کاٹ رہا تھا ـ کاش! وہ مشین کی طرح کبھی کبھار خراب ہو سکتا تاکہ اسے کچھ وقت کیلئے آرام مل سکے یا اسے کسی کونے میں کچھ دیر کیلئے پھینکا جا سکے ـ مصروفیت ایسی ہوتی تھی کہ اسے سانس لینے تک کی فرصت نہ ملتی, اسکی فرسٹریشن اپنی انتہا پر تھی ـ اس طرح دو سال کیسے گزر گئے اسے کچھ پتا بھی نہیں چلا ـ زندگی میں تفریح کے نام پر صرف ہر اتوار کو مال (Mall)جانا, فلمیں دیکھنا اور اپنے کلیگ کے ساتھ فاسٹ فوڈ کھانا ہی رہ گیا تھا ـ اکیلے پن نے اسے ایک چین اسموکر میں بدل دیا تھا ـ
ایک دن گھر سے اسکے والد کا فون آیا ـ اگلے مہینے کی پانچ تاریخ کو اسکے کزن بھائی کی شادی طے ہوئی تھی, چنانچہ اسے چھٹی لیکر گھر آنے کی تاکید کی گئی تھی ـ پہلے تو اسے اپنے والد کی باتوں پر ہنسی آئی، گویا چھٹی لینا اسکے والد کی نظر میں کوئی معمولی بات ہو ، مگر اسد ہی جانتا تھا کہ چھٹی کا نام لینے سے ہی اسکے باس کو سانپ سونگھ لیتا تھا ـ آفس میں اسکے باس نے ایسا ماحول بنا کر رکھا تھا کہ گویا کچھ دنوں کیلئے چھٹی مانگنا کوئی گناہ ہو ـ چنانچہ اسد کو چھٹی کیلئے اپنے باس کے سامنے گڑگڑانا پڑا ـ چونکہ پچھلے کئی مہینوں سے وہ گھر نہیں گیا تھا, اس لئے بہت ہی منت سماجت کے بعد اسے دو ہفتے کی چھٹی منظور ہو گئی ـ جب گھر جانے کیلئے وہ ٹرین پر سوار ہوا تو اسے یوں محسوس ہونے لگا کہ جیسے اسکی روح کسی پنجرے میں برسوں قید تھی اور اب اسے آزادی ملی ہو ـ ٹرین چلنے کے ساتھ ہی کئی طرح کے خیالات اس کے ذہن میں دوڑنے لگے ـ دل کہہ رہا تھا کہ اب اسے اس ماحول میں دوبارہ نہیں لوٹنا ہے, وہ کہاں آکر پھنس گیا تھا!! اس کام کی زندگی میں ہر طرف صرف بھاگ دوڑ تھی, سارا دن ٹارگٹ, ٹارگٹ ـ ـ ـ ـ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی جدوجہد، نہ کوئی سکون, نہ کوئی جنون ـ ـ ـ ـ زندگی ایک ٹرین کی طرح بس پٹری پر دوڑی جا رہی تھی ـ
* * *
اسد جب گھر پہنچا تو اسے ایسا لگا کہ وہ پھر اپنی دنیا میں واپس آ چکا ہے ـ گھر میں شادی بیاہ کے ماحول کی وجہ سے چہل پہل بڑھ گئی تھی ـ کچھ رشتے دار پہلے ہی سے جمع ہوگئے تھے ـ شام کے وقت آنگن میں دوبارہ اڈے شروع ہو گئے ـ لوگ پرانی باتوں کو مزے لے لے کر یاد کرتے, نئے نئے لطیفے سنائے جاتے ـ ایک شام باتوں باتوں میں ابن صفی کا کیا ذکر آیا, گرما گرم بحث ہونے لگی ـ وہاں موجود زیادہ تر لوگ ابن صفی کے رسیا تھے, ایسی بحثوں میں عام طور پر لوگ دو گروپ میں بٹ جاتے تھے, اسکے دادا, والد اور سینئر لوگ فریدی کے مداح تھے اور اسکی طرفداری کرتے تھے جبکہ نسبتاً جوان لوگ عمران کے حامی تھے ـ اسد کے دادا اور والد کو عمران کی بے ہودگی پسند نہیں تھی، جبکہ اسد اور اس کے کزنز کو فریدی کی حد سے زیادہ سنجیدگی بورنگ لگتی تھی ـ یہ بحثیں بہت دلچسپ ہوتی تھیں ـ اسکے دادا کو ان ناولوں کے لمبے لمبے جملے یاد ہوا کرتے تھے، جنہیں دہراتے وقت وہ بہت فخر محسوس کرتے تھے اور اکثر کہتے تھے کہ ابن صفی بہت بڑے مفکر تھے ـ
شادی کے اس ماحول میں چھٹی کے چار پانچ دن کیسے گزر گئے اسد کو کچھ پتا بھی نہیں چلا ـ ایک رات اسے نیند نہیں آرہی تھی، گیس کی وجہ سے پیٹ بھاری بھاری سا لگ رہا تھا, بستر پر کروٹیں بدلتے وقت اسکی نظریں پلنگ کے سامنے طاق پر رکھے ہوئے ابن صفی کے کچھ ناولوں پر پڑیں ـ یہ ہارڈ باؤنڈ ناول تھے اور ایسا لگتا تھا کہ نئے طور پر خریدے گئے تھے ـ کیونکہ کچھ سالوں پہلے تک گھر میں جو ناول نظر آتے تھے وہ کتابی دنیا کی طرف سے شائع کئے گئے ہوتے تھے, وہ پیپر بیک میں آتے تھے ـ
اسد کے ہاتھ میں جو کتاب تھی, اس کے سبھی ناول پڑھے ہوئے تھے، "لاش گاتی رہی" , "بابا سگ پرست" , " خوشبو کا حملہ" , "مہکتے محافظ"ـ ـ ـ ـ ـ وہ "بابا سگ پرست " کو سرسری طور پر دیکھ رہا تھا مگر دو چار صفحات کی ورق گردانی کے بعد اسے کچھ یاد نہیں رہا کہ کب اس نے سمندر میں غوطہ لگائی اور گہرائی میں اترتا چلا گیا ـ اتنے برسوں کے بعد دوبارہ پڑھنے کے باوجود بھی اس ناول میں وہی تازگی تھی, وہی پہلے جیسا لطف تھا ـ اسے پتا ہی نہیں چلا کہ کب فجر کی اذان ہوگئی ـ جب کھڑکی سے صبح کا اجالا نظر آرہا تھا تو وہ اس وقت پورا ناول ختم کر چکا تھا ـ اس وقت کھڑکی سے باہر نمازی ٹہلتے ہوئے نظر آ رہے تھے ـ اس نے کھڑکی کا پردہ کھینچا اور جلد ہی نیند اسکے کانوں میں سرگوشی کرنے لگی ـ
اگلے دو تین دن شادی کی مصروفیات میں گزر گئے ـ اِدھر چھٹی کے دن بھی ختم ہو رہے تھے ـ ایک دن صبح کی چائے پر وہ ایک مقامی اردو اخبار کے صفحات الٹ پلٹ رہا تھا ـ زیادہ تر خبریں ایک دن کی پرانی تھیں ـ تبھی اس کی نظر ایک اشتہار پر پڑی اور اسے معلوم ہوا کہ اس وقت کولکتہ کتاب میلہ لگا ہوا تھا ـ اس نے گھڑی دیکھی, دس بج رہے تھے ـ کچھ دوستوں کو فون کیا مگر ورکنگ ڈے ہونے کی وجہ سے وہ مصروف تھے ـ اس نے اکیلے ہی کتاب میلہ جانے کا پروگرام بنا لیا ـ آج سے تقریباً چار پانچ سال پہلے تک ہر سال اپنے دوستوں کے ساتھ کتاب میلہ بڑی پابندی سے جایا کرتا تھا ـ کتابی کیڑا تو تھا ہی وہ, پسندیدہ کتابوں کی ایک جھلک اسے دیوانہ بنا دیتی تھی ـ میلہ میدان میں داخل ہونے کے بعد مختلف اسٹالوں میں گھومتا رہتا, پسندیدہ کتابوں کو حسرت بھری نگاہوں سے الٹ پلٹ کر دیکھا کرتا ـ اس وقت ان کتابوں کو حاصل کرنا ایک خواب ہوا کرتا تھا کیونکہ اس کی جیبیں خالی ہوا کرتی تھیں !!
* * * *
کولکاتہ کتاب میلہ بھی ایک بھول بھلیاں سے کم نہیں ہے, اگر آپ کے پاس کتاب میلہ میدان کا نقشہ نہ ہو تو آپ کچھ دیر کے بعد گھوم پھر کر وہیں پہنچ جائیں گے جہاں کچھ دیر پہلے آپ کھڑے تھے ـ ویسے کتابیں تو کم قیمت میں کالج اسٹریٹ سے بھی مل جاتی ہیں، لیکن کولکاتہ کتاب میلے کی بات اور ہے ـ کچھ لوگوں کیلئے یہ میلہ ایک تہوار کی طرح ہے اور کتاب کے عاشق ہر سال اسے ایک تہوار کے طور پر ہی مناتے ہیں ـ اسد بھی اسکول اور کالج کے زمانے میں انھی لوگوں میں شامل تھا جو ہر سال کتاب میلہ کا بے صبری سے انتظار کرتے رہے ہیں ـ
فروری کی شروعات تھی, دوپہر تین بجے جب اسد کلکتہ کتاب میلہ میدان میں داخل ہوا تو اس وقت دھوپ میں کوئی تپش نہیں تھی, ابھی بھیڑ اپنے شباب پر نہیں پہنچی تھی, اسلئے آرام سے چہل قدمی کی جاسکتی تھی ـ اسد نے سب سے پہلے گیٹ کے پاس ایک اسٹال سے میلہ میدان کا نقشہ حاصل کیا اور پھر اپنے مطلوبہ اسٹالوں کے نمبروں پر دائرہ بناتا رہا ـ اردو کتابوں کے پانچ ہی اسٹال تھے, اس کے علاوہ اس نے چند بنگلہ ادب اور انگریزی زبان کے مشہور پبلیشروں کے اسٹالوں کو بھی منتخب کیا ـ اسد نے پہلے اردو کتابوں کے اسٹالوں کا رخ کیا ـ مغربی بنگال اردو اکیڈمی کے اسٹال پر زیاد تر پرانی اور مقامی مصنفوں کی کتابیں تھیں، جو پہلے سے ہی اس کے پاس موجود تھیں, اس لئے اس نے وہاں زیادہ وقت نہیں گزارا ـ اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ کچھ شناساؤں سے ملاقات ہو گئی ـ چنانچہ ان کے ساتھ علیک سلیک کے بعد وہ وہاں سے نکل پڑا ـ اسے دہلی والے اس اسٹال کی تلاش تھی جہاں نئی کتابوں کے ملنے کے امکانات تھے اور ابن صفی کے ناول دستیاب ہو سکتے تھے ـ نقشے کی مدد سے اس اسٹال کو بھی کھوج نکالنے میں اسد کو زیادہ وقت نہیں لگا ـ حسب توقع اسٹال کے اندر زیادہ بھیڑ نہیں تھی, کتابوں کو بڑے سلیقے سے سجا کر رکھا گیا تھا ـ شاعری کی کتابیں, افسانے, اسلامی ناول, قرآن مجید, مذہبی کتابیں, پکوان کی کتابیں اور ایک طاق پر قطار کی شکل میں ابن صفی کے جاسوسی ناول ـ اتفاق سے ان ناولوں کے پاس دو لڑکیاں کھڑی تھیں اور کچھ نالوں کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھیں ـ اسٹال کا مالک انکی طرف مشکوک نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ـ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ وہاں کافی دیر سے منڈلا رہی تھیں ـ اسد ان نگاہوں سے اچھی طرح واقف تھا ـ جب آپ کتابیں صرف الٹتے پلٹتے رہیں اور انکی قیمت دیکھ کر انہیں یونہی واپس رکھ دیں تو ظاہر سی بات ہے کہ اسٹال کے مالک کو غصہ آئے گا ہی, وہ بخوبی سمجھتا ہے کہ آپ ٹائم پاس کرنے آئے ہیں یا آپ کے حلیے سے صاف جھلکتا ہے کہ آپ کی جیب میں پیسے نہیں اور آپ ونڈو شاپنگ کرکے کھسک پڑیں گے ـ
اسد نے دیکھا کہ دونوں لڑکیاں عمران سیریز کے دو تین ناول, "بیگم ایکس ٹو" , "ڈیڑھ متوالے" اور "جونک کی واپسی" کی ورق گردانی کر رہی تھیں ـ وہ بھی اس گوشے میں پہنچ گیا ـ کچھ ناول کے عنوان پڑھے ہوئے لگ رہے تھے اور بہت سارے ناول اس کے لئے نئے تھے ـ اس نے بھی عمران سیریز کے ناول منتخب کرنا شروع کیا ـ کچھ کتابیں ایسی تھیں جن میں تین -چار ناول اکٹھا کر دیئے گئے تھے ـ لگ بھگ دس کتابیں اسد کو پسند آئیں ـ دکان دار اسد کی طرف تعجب سے دیکھ رہا تھا جبکہ وہ دونوں لڑکیاں کچھ بے چین نظر آ رہی تھیں ـ ان کے ہاتھ میں عمران سیریز کے دو ناول "جونک کی واپسی" اور" ڈیڑھ متوالے" تھے, اسد نے انکی طرف اشارہ کر کے پوچھا کہ کیا وہ انہیں خریدنا چاہتی ہیں ؟ ایک لڑکی جو ذرا تیز لگ رہی تھی, نے جواب دیا " خریدنا تو تھا مگر قیمت بہت زیادہ ہے ؟"
اس عمر میں ابن صفی کے ناولوں میں اتنی دلچسپی ـ ـ ـ ـ ! یہ بات اسد کیلئے حیران کن بات تھی ـ مزید کریدنے پر پتا چلا کہ وہ دونوں بارہویں جماعت کی طالبہ تھیں, اپنے اسکول کی لائبریری سے ابن صفی کے کچھ جاسوسی ناول پڑھ چکی تھیں اور انکی دیوانی ہو گئی تھیں ـ ابن صفی سے انکی ایک استانی نے ان کا تعارف کرایا تھا ـ ان جاسوسی ناولوں کی وجہ سے انہیں اپنے والدین سے کئی بار ڈانٹ بھی سننی پڑی تھی ـ آج پہلی بار وہ کولکاتہ کتاب میلہ آئی ہوئی تھیں اور ان کا خاص مقصد ابن صفی کے ناول خریدنا تھا ـ اس کے لئے وہ کچھ مہینوں سے پیسے بھی جمع کر رہی تھیں مگر انہیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ان ناولوں کی قیمت اتنی زیادہ ہوگی ـ انہیں کئی ناول پسند آئے تھے لیکن ان کا بجٹ جواب دے چکا تھا ـ وہ اسی کشمکش میں مبتلا تھیں کہ کونسا ناول خریدیں اور کسے چھوڑ دیں ـ اسد کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر وہ اسلامی کتابوں کے طاق کی طرف چلی گئیں مگر ان کا ذہن اسی گوشے کی طرف تھا کیونکہ وہ تھوڑی تھوڑی دیر کے وقفے سے اسکی طرف دیکھ رہی تھیں ـ
اِدھر اسد اپنے منتخب کئے ہوئے ناولوں کی طرف دوبارہ متوجہ ہوا اور انہیں الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا ـ پھر وہ انہیں اٹھا کر کاؤنٹر کی طرف جانے والا ہی تھا کہ اسٹال کا ایک ملازم اس کی مدد کیلئے پہنچ گیا ـ کاؤنٹر کے پاس پہنچ کر اسد نے اپنا پرس نکالا اور پیسے ٹٹولنے لگا، پھر اطمینان کر لینے کے بعد اس نے اسٹال کے مالک کو بل بنانے کیلئے کہا ـ
اسد نے بل ادا کیا اور صرف دو ناولوں کو اپنے ہاتھ میں لیکر اسٹال کے مالک کو مسکراتے ہوئے آہستگی سے کہا " یہ سب ان لڑکیوں کو دے دیں ـ "
اس نے پلٹ کر دیکھا, وہ دونوں کسی گفتگو میں مشغول تھیں ـ
اسٹال سے نکل کر وہ تیز قدموں سے کتاب میلے کی بھیڑ میں گم ہو گیا ـ
* * * * *
ختم شدہ ـ

افسانہ : افیم کی گولی
ReplyDeleteافسانہ نگار : مقصود حسن
تاثرات : رفیع حیدر انجم
یہ غالباً پہلا افسانہ ہوگا جو ابنِ صفی کو مرکز میں رکھ کر لکھا گیا ہے. ابنِ صفی کے حوالے سے کئی بہت اچھے افسانہ نگاروں نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں لکھنے کی ترغیب ابنِ صفی سے ملی. ان کو نقل کرنے والے بھی کئی مصنفین سامنے آنے مگر ابنِ صفی کے مزاج و معیار تک نہیں پہنچ پائے. ایک منفرد جاسوسی ناول نگار کے مرتبے پر وہ تنہا فائز رہے. ابنِ صفی کے قاری کو انہیں پڑھنے کا چسکا ٹھیک اسی طرح سے لگ جاتا تھا جیسے کسی افیمچی کو افیم کی گولی کا چسکا لگ جاتا ہے. لیکن اس افیم میں ایک ایسا ادبی سرور ہے جس میں زبان دانی کے کئی اسرار و رموز کھلتے ہیں اور اس نشے کے عادی لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ سرور کی اس کیفیت سے دوسرے لوگ بھی آشنا ہوں. اس نظریے سے دیکھیں تو یہ افسانہ ابنِ صفی کے لئے ایک نذرانہء عقیدت ہے. عقیدت مندی کے جذبے پر اکثر و بیشتر وارفتگی غالب ہو جاتی ہے اور فنی التزام کی ہوش مندی کہیں پیچھے چھوٹ جاتی ہے.یہ افسانہ بھی اسی واردات سے گزرا ہے .
افسانے کی فضا بندی بہت اچھی تھی. ابنِ صفی کو لے کر گھر کے افرادِ کے تحفظات اور متعلقات کا ذکر اور پھر گھر سے باہر دوستوں کے درمیان ابنِ صفی کا موضوعِ بحث ہونا کہانی میں ایک دلچسپ افسانوی فضا کی تعمیر کرتا ہوا نظر آیا. لیکن نوکری کے سلسلے میں مرکزی کردار کا اپنے شہر سے دور ہو جانے کے بعد ابنِ صفی کے تعلق سے تمام تر دلچسپیوں کا منقطع ہو جانا ,فرصت کے اوقات کو فلم بینی میں گزارنا ابنِ صفی کے ایک سچے عاشق کا کام نہیں ہو سکتا. اس مرحلے کے بعد اختتام تک کا افسانہ روز نامچہ کے طرز پر بڑھتا ہے اور ہم یہی سمجھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ کتاب میلہ میں لڑکیوں کو ابنِ صفی کی کتاب گفٹ کر دینا افسانے کے عنوان کو جسٹیفائی کرنے کی حد تک ہی رہ گیاہے . بہر کیف, موضوع کا انتخاب قابلِ تحسین ہے. مقصود حسن صاحب کے لئے نیک خواہشات.
شہناز فاطمہ
ReplyDeleteافسانہ نمبر :09
افسانہ :افیم کی گولی
افسانہ نگار :مقصود حسن
تاثرات :شہناز فاطمہ
واقعی "افیم کی گولی" کی ہی طرح ابن صفی کی ناویلیں ہوتی تھیں شاید میں نے اپنے بھائیوں کو دیکھا ہے ابن صفی کی ناولوں پر لوٹن کبوتر بنتے ہوئے خود مجھے جاسوسی ناولوں سے کبھی دلچسپی نہیں رہی مگر بھائی کبھی فریدی اور عمران کے مزے دار جملے اور پیراگراف سنا سنا کر ہنسایا کرتے تھے اور افیمچیوں کی طرح اسمیں اسمیں لگے رہتے تھے اور اس افسانے میں میں محترم مقصود حسن صاحب نے ان لڑکیوں کی دلی کیفیات کا اظہار بھی کچھ اسی طرح کیا یے کہ پیسے جمع کرنے کے باوجود وہ اتنی قیمتی کتابیں خرید نہیں پارھی تھیں
مرکزی کردار کو اپنا ماضی یاد آگیا وہ بھی تو ایک کتابی کیڑا تھا
"پسندیدہ کتابوں کی ایک جھلک اسے دیوانہ بنا دیتی تھی. میلہ میدان میں داخل ہونے کے بعد مختلف اسٹالوں پر گھومتا رہتا، پسندیدہ کتابوں کو حسرت بھری نگاہوں سے الٹ پلٹ کر دیکھتا رہتا. اسوقت ان کتابوں کو حاصل کرنا اک خواب ہوا کرتا تھا کیونکہ اس کی جیبیں خالی ہوا کرتی تھیں "
اسکا دل حساس تھا آج جب اسکی جیبیں بھری ہوئی تھیں تو اسنے لڑکیوں کی کیفیت محسوس کرتے ہوئے انسانیت کا ثبوت دیا اور ساری کتابیں خرید کر ان دونوں لڑکیوں کو دے دیں ایسے فرشتہ صفت لوگ آج کے دور میں تو ہوتے نہیں مگر مقصود حسن صاحب نے بہت حساس قلم سے لکھا ہے یہ افسانہ بہت اچھا لگا اختتام بہت پر اثر
اور اس بہترین خوبصورت افسانے کے لئے بہت داد اور نیک خواہشات قبول کریں محترم جناب مقصود حسن صاحب زندگی سے قریب ہے اور بہت خوبصورت دلچسپ پیراءے میں لکھا گیا افسانہ دل کی گہرائیوں میں اتر گیا
✍
ReplyDeleteافسانہ: افیم کی گولی
افسانہ نگار : مقصود حسن
تاثرات : محمد علی صدیقی
"افیم کی گولی" ابنِ صفی کے ناولوں کے لئے ایک انوکھا اور دل کو چھو لینے والا خطاب ہے۔ بیسویں صدی کی ستر اور اسی کی دہائی میں شاید ہی کوئی اردو داں طالب علم رہا ہو جس نے ابنِ صفی کے ناولوں کو چھپا کر پڑھنے کی وجہ سے والد کی ڈانٹ نہ سنی ہو۔ میں بھی ان ہی میں سے ایک ہوں۔ واقعی ابنِ صفی کے ناولوں کا نشہ افیم کے نشے جیسا ہی تھا۔ ہم خرید کر یا لائبریری سے لا کر ابنِ صفی کے ناول پڑھا کرتے تھے۔ میں خریدی ہوئی ناولوں کو سنبھال کر رکھتا تھا اور انھیں دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا تھا اور ابا جان اس انبار کو دیکھ کر کڑھتے تھے۔ اسد کی طرح ہم دوستوں کے درمیان بھی فریدی اور عمران کے کرداروں پر بحث ہوتی تھی۔ ہم میں سے بھی کوئی عمران کا فین تھا تو کوئی فریدی کا۔ ناولوں پر اس طرح گفتگو ہوتی تھی جیسے کسی حقیقی واقعے کا ذکر ہو رہا ہو۔ یہی نہیں اس کا ایک ایک کردار پیارا اور اپنا سا لگتا تھا۔ حمید، قاسم، صفدر، جوزف، جولیانا فٹزواٹر کی ایکسٹو کو بے نقاب کرنے کی دھن۔ عمران سے پیار بھی اور نفرت بھی اور بہت کچھ۔
ویسے تو ابنِ صفی جاسوسی ناول لکھتے تھے لیکن ان کی زبان ادبی ہوا کرتی تھی۔ منظر بگاری ایسی کہ ناول پڑھتے وقت بالکل ایسا معلوم ہوتا جیسے فلم دیکھ رہے ہوں۔ ابنِ صفی کا ایک ناول "زیرو لینڈ" مجھے آج بھی اکثر یاد آتا ہے جس کا تھیم "ورلڈ آرڈر" تھا۔ آج دنیا میں یہی سب چل رہا ہے۔
میں نے ایک انگریزی فلم "Charlies Angels" دیکھی تھی۔ مجھے بالکل ایسا لگا جیسے میں کوئی عمران سیریز دیکھ رہا ہوں۔ اس میں بھی تینوں لڑکیوں کا باس ان کے ساتھ رہتا ہے لیکن انھیں پتا نہیں رہتا کہ وہی ان کا باس ہے۔ آخر میں مشین سے انھیں مخاطب بھی کرتا ہے جبکہ ان کے سامنے ہی موجود ہوتا ہے۔
معذرت خواہ ہوں میں ابن صفی کے سحر میں کھو گیا۔ افیم کی گولی ایسی تھی جس کا اثر برسوں گزر جانے کے بعد آج بھی زائل نہیں ہوا ۔ موقع خواہ کچھ بھی ہو ابنِ صفی کا نام آ جائے تو کم از کم اتنی باتیں تو ابنِ صفی کے کسی مداح کے منہ سے نکل ہی سکتی ہیں جو کہ قابلِ معافی بھی ہے۔ جہاں تک افسانے کا تعلق ہے تو اس بحث سے قطع نظر کہ یہ افسانے سے کتنا قریب ہے یا کتنا دور مجھے افسانہ اچھا لگا۔ خاص طور سے اختتام بیحد پسند آیا۔ یہ بھی ایک مداح کا خراج عقیدت ہی ہے کہ اس نے اپنے ہی جیسے کسی مداح کو کتاب کی دکان سے مایوس جانے نہیں دیا۔ بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ ابنِ صفی کے مداح کے سامنے کوئی اس کی کتاب خریدنا شاہے اور نہ خرید پائے۔ مجھے یقین ہے کہ اسد کوئی اور نہیں بلکہ قلم کار خود ہے۔
اس افسانہ نما خراجِ عقیدت کے لئے
فاضل قلم کار کو بہت بہت مبارک باد۔
🌷🌷
افسانہ :افیم کی گولی
ReplyDeleteافسانہ نگار :مقصود حسن
تاثرات :اقبال حسن آزاد
مقصود حسن نو جوان افسانہ نگار ہیں. اردو ادب کو ان سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں. ان کا افسانہ "ڈیتینش کیمپ" ثالث افسانوی نشست 2021 میں شامل تھا اور ثالث عالمی افسانہ نمبر میں بھیت شایع ہوا تھا. اس افسانے کی خاطرخواہ پذیرائی ہوئی تھی.
زیر نظر افسانہ اپنے اندر خاصا نیا پن لیے ہوئے ہے. ابن صفی کا ایک زمانہ معترف ہے.
میں بھی ان کے دیوانوں میں سے ایک ہوں. ایک دفعہ روزے کی حالت میں میں نے دن بھر میں ابن صفی کے تین ناول پڑھ ڈالے تھے. اس افسانے سے وہی قاری لطف اندوز ہو سکتا ہے جس نے ابن صفی کو ڈوب کر پڑھا ہے. ابن صفی کے قلم کا جادو آج بھی سر چڑھ کر بول رہا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ ان کے ناولوں کے نہ صرف نئے نیے ایڈیشن شائع ہو رہے ہیں بلکہ نئی نسل بھی ان کی دیوانی ہے. جو قلم کار اپنی تحریر میں حسن و اثر پیدا کرنا چاہتے ہیں انہیں ابن صفی کے ناولوں کا مطالعہ کرنا چاہیے.
ایک نیے ذائقے کا افسانہ لکھنے کے لیے مقصود حسن کو مبارکباد
افسانہ : افیم کی گولی
ReplyDeleteافسانہ نگار : محترم مقصود حسن صاحب
تاثرات : ڈاکٹر انیس رشید خان، امراؤتی
آج محترم مقصود حسن صاحب کا افسانہ پہلی بار پڑھا۔ بہت ہی دلچسپ اور زبردست رواں دواں افسانہ ہے۔ شروع سے آخر تک دلچسپی بنی رہتی ہے کہ آخر اب کیا ہونے والا ہے۔
اس افسانے کو پڑھتے ہوئے مجھے میرا لڑکپن یاد آگیا۔ مجھے اچھے سے یاد ہے کہ ابن صفی کا پہلا ناول میں نے اس وقت پڑھا تھا جب میں نویں جماعت کا طالب علم تھا۔ پھر کیا تھا علی عمران کی روح گویا میرے جسم میں داخل ہوگئی تھی۔ رات رات بھر ناول پڑھنے کا لازمی نتیجہ یہ نکلا تھا کہ دسویں جماعت میں آتے آتے چشمہ لگ چکا تھا!
اس افسانے کو پڑھتے ہوئے وہ تمام دن اور راتیں یاد آگئیں اور مجھے لگتا ہے کہ اس افسانے کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ اس نے ہمارے اندر زمانے سے سوئے ہوئے اس بچے کو گہری نیند سے آج اچانک اٹھا دیا ہے جو کسی زمانے میں اپنے ماں باپ کے ڈر کی وجہ سے نصابی کتابوں میں ابن صفی کے ناول چھپا چھپا کر پڑھا کرتا تھا۔ آج یہ بچہ جب اطراف میں دیکھتا ہے تو عجیب سا احساس ہورہا ہے کہ آج کل زندگی سے رومانیت جیسے غائب ہوگئی ہے۔ زندگی بے رنگ سی ہوگئی ہے بالکل اسی طرح جس طرح اسد اپنے آپ کو انشورنس کمپنی میں کام کرنے والی ایک مشین کی طرح محسوس کرتا ہے۔ یہ افسانہ نہایت سادگی اور خاموشی سے دل کو جھنجھوڑ کر کہہ رہا ہے کہ زندگی کو جینا ہے تو تھوڑا سا رومانی ہوجائیں اور بچپن و لڑکپن کے وہ شوق تھوڑے بہت ہی سہی، پھر سے کر گزریں۔ اور اطراف میں دیکھیں کہ موجودہ دور میں کوئی نوجوان لڑکا یا لڑکی ایسا تو نہیں جس کو ہم اسد کی طرح ابن صفی کے ناول ہی صحیح تحفتاً دے سکتے ہوں۔
نہایت خوبصورت افسانے کے لئے منتظمین بزم کا بہت بہت شکریہ اور محترم جناب مقصود حسن صاحب کو اس شاندار کامیاب افسانے کے لئے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد 🌹