سانڈ : غضنفر

 بزمِ افسانہ کی پیش کش 

سترہواں ایونٹ 

رنگ و آہنگ 

افسانہ نمبر : 08 


                  *سانڈ*

                        غضنفر



’’یہ کیسی بھگدڑ مچی ہے بھائی؟‘‘ 

سورج پور گاؤں کے ایک بوڑھے نے اپنے برآمدے سے بھاگنے والوں کو مخاطب کیا — ایک نوجوان نے رک کر ہانپتے ہوئے جواب دیا۔‘‘ 

’’چاچا! گاؤں میں آج سانڈ پھر گھس آیا ہے۔‘‘ 

’’سانڈ پھر گھس آیا ہے!‘‘ بوڑھے کی سفید لمبی داڑھی اوپر سے نیچے تک ہل اٹھی — 

’’ہاں چاچا! پھر گھس آیا ہے اور آج تو اس نے ایسی تباہی مچائی ہے کہ پوچھیے مت۔ نتھو کی بچھیا کو خراب کر دیا۔ چھیدی کے بچھڑے کو سینگ مار دیا۔ بھولو کے بیل کو ٹکریں مارمار کر لہولہان کر دیا۔ کالو کی گائے بھینس کے چارہ پانی کے برتن کو توڑ پھوڑ دیا۔ بدھو اور بھولا کی تیار سبزیوں کو نوچ کھسوٹ کر ملیامیٹ کر دیا۔ اب بھی بورایا ہوا اینڈتا پھر رہا ہے۔ نہ جانے اور کیا کیا کرےگا؟ کس کس پر قیامت ڈھائےگا؟‘‘ 

’’تم لوگ دھام پور والوں سے کہتے کیوں نہیں کہ و ہ اپنے سانڈ کو روکیں۔ ادھر نہ آنے دیں۔‘‘ 

’’کہا تھا چاچا! گاؤں کے بہت سے لوگوں نے مل کر کہاتھا۔ ان سے بتایا تھا کہ ان کے گاؤں کا سانڈ ہمارا کتنا نقصان کر رہا ہے۔ مگر جانتے ہیں انھوں نے کیا جواب دیا۔‘‘ 

’’کیا جواب دیا؟‘‘ 

’’انھوں نے یہ جواب دیا کہ بھلاسانڈ کو بھی کہیں روک کر رکھا جا سکتا ہے۔ سانڈ تو دیوی دیوتا کا پرساد ہوتاہے۔ اسے بھگوان کے نام پر چھوڑا جاتا ہے اور بھگوان کے نام کا سانڈ بھگوان کی بنائی ہوئی اس دنیامیں کہیں بھی بنا روک ٹوک جا سکتا ہے۔ بھگوان ہی کی طرح اس کا بھی سب پہ حق ہے۔ سب میں اس کا حصہ ہے۔ وہ جو چاہے کھا سکتا ہے۔ اسے روک کر اپنے کو بھگوان کی نظروں میں دوشی اور نرک کا بھوگی بنانا ہے کیا ——؟ چاچا! میری سمجھ میں نہیں آیا کہ دھام پور کے لوگوں نے ایسا کیوں کہا؟ کیا سچ مچ سانڈ بھگوان کے نام پر چھوڑا جاتا ہے؟‘‘ 

’’ہاں بیٹے! بات تو سچ ہے۔ لوگ اپنی کسی مراد کو پانے کے لیے بھگوان یا دیوی دیوتا سے منت مانتے ہیں کہ اگران کی مراد پوری ہو گئی تو وہ بھگوان یادیوی دیوتا کے نام کا کوئی سانڈ چھوڑ دیں گے اور اپنی گائے کے بچھڑے کو یا کسی دوسری گائے کے بچھڑے کو خرید کر آزاد چھوڑ دیتے ہیں۔ چھوڑنے سے پہلے اس بچھڑے کو خوب مل مل کر نہلاتے ہیں۔ اس کے گلے میں پھولوں کا ہار ڈالتے ہیں۔ گاؤں والوں کو ایک جگہ جمع کرکے پوجاپاٹ کرتے ہیں اورسب کے سامنے بچھڑے کے جسم یا ماتھے پر بھگوان یا دیوی، دیوتا کا کوئی پکّا نشان بنا دیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ بچھڑے کو کھونٹے سے کھول کر آزاد کر دیتے ہیں۔ 

چونکہ وہ بھگوان کے نام پر چھوڑا جاتا ہے۔ اس لیے اس کے کھانے پینے اور گھومنے پھرنے میں کوئی کسی طرح کی رکاوٹ نہیں ڈالتا اور وہ آزادی اور بےفکری سے خوب کھا پی کر بہت جلد بچھڑے سے سانڈ بن جاتا ہے۔‘‘ 

’’پھر تو دھام پور والوں نے ٹھیک ہی کہا تھا چاچا؟‘‘ 

’’ٹھیک تو کہا تھا، مگر یہ بھی تو ٹھیک ہے کہ کوئی اپنی بربادی کو چپ چاپ نہیں دیکھ سکتا۔ اپنے بچاؤ کے لیے اسے بھی تو کچھ کرنا ہی پڑتا ہے۔‘‘ 

’’تو اب ہمیں کیا کرنا چاہیے چاچا؟‘‘ 

’’تم لوگ کانجی ہاؤس کے افسروں سے ملو۔ گاؤں کا حال بتاؤ اوران سے کہو کہ وہ دھام پور گاؤں کے سانڈ سے ہمارے گاؤں کو تباہ ہونے سے بچائیں۔ ان سے یہ بھی کہو کہ یہ سانڈ پاگل ہو گیا ہے۔ اس لیے اسے جلد سے جلد کانجی ہاؤس میں بند کر دیا جائے۔ ورنہ ہمارے گاؤں کے ساتھ ساتھ دوسرے گاؤں کو بھی روند ڈالےگا۔‘‘ 

’’ٹھیک ہے چاچا!میں آج ہی گاؤں والوں کو تیار کرتا ہوں۔‘‘ 

سورج پور والے اپنی تباہی کی خبر اور سانڈ کی شکایت لے کر کانجی ہاؤس پہنچے۔ 

کانجی ہاؤس کے افسرِ اعلیٰ نے ان کا دکھڑا سن کر کہا۔ 

’’آپ لوگوں کی تکلیف سن کر ہمیں بہت دکھ ہوا۔ مگر افسوس کہ اس سلسلے میں ہم آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔‘‘ 

’’کیوں صاحب؟‘‘ گاؤں والے اس کی طرف دیکھنے لگے۔ 

’’اس لیے کہ اس کانجی ہاؤس میں لاوارث سانڈ کو بند کرنے کا چلن نہیں ہے۔ یہاں تو ایسے جانوروں کو بند کیا جاتا ہے جن کا کوئی نہ کوئی وارث ہوتا ہے۔ جو کچھ دنوں کے اندر اندر اپنے جانوروں کو جرمانہ بھرکر چھڑا کر لے جاتا ہے۔ اگر ہم ایسے جانوروں کو باندھ کر رکھنے لگے تو کچھ دنوں میں یہ ہاؤس ہی بند ہو جائےگا۔‘‘ اس نے نہایت ہی نرم لہجے میں جواب دیا۔ 

افسر کا جواب سن کر گاؤں والے گڑگڑاکر بولے‘ 

’’صاحب! کچھ کیجیے۔‘‘ورنہ تو ہمارا ستیاناس ہو جائےگا۔ ہم کنگال ہو جائیں گے۔‘‘ 

افسر نے انہیں سمجھاتے ہوئے پھر کہا۔ 

’’ہم مجبور ہیں۔ ہم ایسے جانور کو کانجی ہاؤس میں بالکل نہیں رکھتے۔ آپ لوگوں کو میری بات پر شاید یقین نہیں آر ہا ہے۔ آئیے میرے ساتھ۔‘‘ 

افسر گاؤں والوں کو اپنے ساتھ لے کر کانجی ہاؤس میں داخل ہوا۔ 

گاؤں والوں کی نگاہیں وہاں پربندھے ہوئے جانوروں کو گھورنے لگیں۔ انہیں کہیں بھی کوئی سانڈ نہیں ملا۔ وہاں تو ایسے جانور بندھے تھے جوبہت ہی کمزور اور دبلے پتلے تھے جن کے پیٹ اندر کو دھنسے ہوئے تھے اور پسلیاں باہر کو نکلی ہوئی تھیں۔ 

کانجی ہاؤس کے اندر کا حال دیکھ کر گاؤں والے واپس لوٹ آئے اور اپنے کو قسمت کے حوالے کرکے بیٹھ گئے۔ 

ایک دن سانڈنے گاؤں میں پھر تباہی مچائی۔ اس کے بعد ایک بار اور گھس آیا۔ پریشان ہوکر گاؤں والے ایک جگہ جمع ہوئے۔ بوڑھے نے گاؤں والوں کو اس باریہ مشورہ دیاکہ وہ کانجی ہاؤس کے اوپروالے محکمے میں جاکراپنی فریاد سنائیں۔ گاؤں والے وہاں بھی پہنچے۔ وہاں کے افسروں نے گاؤں والوں کی درخواست پر سنجیدگی سے غور کیا اور کانجی ہاؤس کے افسران کو زور دے کر لکھا کہ وہ دھام پور والوں کو سانڈ کی تباہی سے بچائیں اور گاؤں والوں سے کہاکہ وہ کانجی ہاؤس کے افسران سے رجوع کریں۔ وہ ضرور اس سلسلے میں ضروری کارروائی کریں گے۔ 

گاؤں والے پھر کانجی ہاؤس پہنچے—افسران نے ان سے کہا۔ 

’’ٹھیک ہے۔ آپ لوگ سانڈ کو پکڑکر لائیے۔ ہم اسے یہاں بند کر لیں گے۔‘‘ 

گاؤں والے کانجی ہاؤس کے افسرکی بات سن کر بہت خوش ہوئے اور گاؤں آکر انہوں نے سانڈ کو پکڑنے کی تیاری شروع کر دی۔ 

گاؤں کے مضبوط اور پھرتیلے نوجوان ہر طرح سے تیار ہوکر سانڈ کا انتظار کرنے لگے۔ جلد ہی موقع ہاتھ آ گیا۔ سانڈ کے گاؤں میں گھستے ہی نوجوانوں کی ٹولی اپنے ہاتھوں میں لاٹھی اور رسی لے کر اس کے پیچھے دوڑ پڑی۔ 

نوجوانوں نے سانڈ کو گھیرنے اور اسے گراکر پکڑنے میں بڑی ہوشیاری دکھائی۔ اَن تھک محنت کی مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ سانڈ ان کے نرغے سے نکل بھاگا۔ اس کوشش میں بہت سے نوجوان زخمی بھی ہوگئے۔ مگر نوجوانوں نے بھی ہمت نہیں ہاری۔ وہ اس کا پیچھا کرتے رہے۔ وہ سانڈ سورج پور گاؤں سے نکل کر اپنے گاؤں یعنی دھام پور کی طرف بھاگا۔ نوجوان بھی اس کے پیچھے دوڑے۔ 

دھام پور والوں نے جب یہ دیکھا کہ کچھ لوگ ان کے سانڈ کو دوڑارہے ہیں اور دوڑانے والوں کے ہاتھوں میں لاٹھیاں اور رسیاں بھی ہیں تووہ اپنے سانڈ کو بچانے کے لیے اپنے گھروں سے لاٹھی، بھالے اور بندوقیں لیے باہر نکل آئے اور پیچھا کرنے والوں کو للکارتے ہوئے چلائے۔ 

’’خبردار! وہیں رک جاؤ! آگے مت بڑھو۔ اگر تم نے ہمارے سانڈ کو ہاتھ بھی لگایا تو ہم تمہارے ہاتھ توڑ ڈالیں گے۔ تمھیں گولیوں سے بھون دیں گے۔ یہیں زمین پر ڈھیر کرکے رکھ دیں گے۔جانتے نہیں، یہ سانڈ ہمارے دیوتا پر چڑھایا گیا پرساد ہے۔‘‘ 

سانڈ کا پیچھا کرنے والے سورج پور کے نوجوانوں نے جب دھام پوروالوں کی دھمکی سنی اوران کے ہاتھوں میں لہراتے ہوئے بھالوں، لاٹھیوں اورتنی ہوئی بندوقوں کو دیکھا تو ان کے پاؤں تھراکر تھم گئے اور وہ آگے بڑھنے کے بجائے منھ لٹکائے ہوئے پیچھے پلٹ آئے۔ 

اس حادثے کے بعد دھام پور والے اور شیر ہو گئے اور اب وہ اپنے سانڈ کو آئے دن جان بوجھ کر سورج پورگاؤں کی طرف ہانکنے لگے۔ 

سورج پور گاؤں کی تباہیاں جب حد سے زیادہ بڑھ گئیں تو ایک دن بوڑھے نے گاؤں کے چھوٹے بڑے سبھی کو بلاکر کہا۔ 

’’میرے گاؤں کے پیارے لوگو! ہم نے ہر طرح کی کوشش کرکے دیکھ لی مگر سانڈ سے اپنے گاؤں کو نہ بچاسکے اور یہ بھی اندازہ ہو گیا کہ اگر ہم سانڈ کو پکڑنے کے لیے زیاوہ کچھ کریں گے تو اس کی مدد کے لیے دھام پور والے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ نتیجے میں بھاری خون خرابہ ہوگا اور تباہی مچےگی۔ اس لیے اب ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ ہم لوگ بھی اپنے دیوتا کے نام پر ایک بچھڑا چھوڑ دیں اورجلد سے جلد اسے سانڈ بنا دیں۔‘‘ 

’’اس سے کیا ہوگا چاچا؟‘‘——کئی نوجوان ایک ساتھ بول پڑے۔ ان کی حیران آنکھیں بوڑھے کے چہرے پر مرکوز ہو گئیں۔ 

’’اس سے یہ ہوگا کہ ہمارا سانڈ بھی دھام پور والوں کا وہی حال کرنے لگےگا جواپنے سانڈ سے وہ ہمارا کرواتے ہیں۔ ادھربھی جب تباہی مچے گی تب ان کی آنکھیں کھلیں گی اور وہ اپنے سانڈ کو روکنے پر مجبور ہوں گے۔‘‘ 

’’آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں چاچا۔ یہ راستہ ہی ان کے لیے ٹھیک ہے۔‘‘ نوجوانوں کے چہرے انتقام کی آگ سے دہک اٹھے۔ مگر بعض بزرگوں کے چہروں پر سنجیدگی طاری ہو گئی۔ 

سور ج پور والوں نے ایک بچھڑا خریدا اسے نہلایا دھلایا۔ گلے میں ہار پہنایا اور سب کے سامنے اس کی پیٹھ پر دیوتا کے نام کا ایک ٹھپّہ لگاکر اسے آزاد چھوڑ دیا۔ 

کمزور بچھڑا کھونٹے سے الگ ہوتے ہی آزادی اور بےفکری سی کھانے پینے اور پروان چڑھنے لگا اور سارے گاؤں کا چارہ پانی کھاپی کر بہت جلد بچھڑے سے سانڈ بن گیا۔ 

سانڈ بن کر جب اس نے اینڈنا اور سینگ مارنا شروع کیا تو سورج پور والوں نے اس کا رخ دھام پور والوں کی طرف موڑ دیا۔ دھام پورگاؤں میں گھس کر اس نے گاؤں کو روندنا اور تہس نہس کرنا شروع کر دیا۔ وہاں بھی بیل لہو لہان ہونے لگے۔ ان کے چارہ، پانی کے برتن بھی ٹوٹنے پھوٹنے لگے۔ان کے کھیت اور کھلیان بھی تباہ وبرباد ہونے لگے۔ 

دونوں طرف سے سانڈ ایک دوسرے کی جانب ہانکے جانے لگے۔ کچھ دنو ں بعد ایک روز ایک عجیب وغریب منظر رونما ہوا۔ دونوں سانڈوں کو لوگوں نے ایک ساتھ گھومتے ہوئے دیکھا۔ دونوں اینڈتے ہوئے پہلے سورج پور گاؤں میں گھسے اور دونوں نے مل کرگاؤں کوروند روند کر ملیا میٹ کیا۔ پھر وہاں سے ایک ساتھ نکلے اور دھام پور میں گھس کر توڑ پھوڑ مچانے لگے۔ 

یہ منظر دیکھ کر دونوں گاؤں والوں کی آنکھیں حیرت میں ڈوب گئیں۔ 

اس دن کے بعد دونوں سانڈوں کاایک ساتھ گھومنا اور مل جل کر گاؤں کو روندنا معمول بن گیا۔ دونوں گاؤوں کے علاوہ آس پاس کے دوسرے گاؤں بھی ان سانڈوں کی چپیٹ میں آنے لگے۔ 

اپنی بربادی سے تنگ آکر آس پاس کے سبھی گاؤں والے مل جل کر سانڈوں کو مارنے کا منصوبہ بنانے لگے مگر کسی طرح یہ خبر محکمۂ تحفظ وحشیان تک پہنچ گئی اور اس نے ان سانڈوں کی پیٹھ پر اپنا ٹھپہ لگا دیا جو اس بات کا اعلان تھاکہ یہ جانور محکمۂ تحفظ وحشیان کی حفاظت میں ہیں۔ انہیں کوئی بھی مارپیٹ نہیں سکتا۔ 

لوگوں نے یہ دیکھ کر سانڈ وں کو مارنے پیٹنے کے بجائے اپنا اپنا سرپیٹ لیا۔


                   ختم شدہ ـ

Comments

  1. افسانہ : سانڈ
    افسانہ نگار : غضنفر
    تاثرات : رفیع حیدر انجم

    عہدِ حاضر کے صاحبِ طرز افسانہ نگار غضنفر نے اس افسانہ میں اپنے واضح بیانیہ اسلوب کی انفرادیت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک ایسے عنوان (سانڈ) کو سرنامہ بنایا ہے جو ظلم و بربریت کی علامت ہے اور جو فوری طور پر قاری کے ذہن میں اپنا ایک تخریبی / منفی امیج بنا لیتا ہے. سورج پور کے باشندے ایک معصوم جانور (بچھڑا) کو سانڈ بناتے ہیں.سانڈ بنائے جانے کی حد تک تو ٹھیک تھا مگر اس پر مذہبی عقائد کا ٹھپہ بھی لگاتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے تشدد کو آستھا کی آڑ میں نہ صرف یہ کہ جائز قرار دیا جا سکے بلکہ مذہب کو خوف کی نفسیات میں بدلا بھی جا سکے. اس افسانے میں جو سانڈ ہے وہ محض سانڈ نہیں ہے. اگر ایسا ہوتا تو دھام پور گاؤں کے نوجوان اسے ضرور زیر کر لیتے. بھگوان کے نام پر آذاد کیا گیا بےلگام سانڈ اب گاؤں کے بھولے بھالے انسانوں کے قابو میں نہیں آ سکتا کہ اس کی طاقت کا منبع اور کہیں ہوتا ہے. لہٰذا سانڈ کی تباہ کاریاں جاری رہتی ہیں. دھام پور کے متاثرہ لوگوں کی فریاد جب اعلی حکام / سسٹم کے نزدیک بھی بےاثر ہو گئی تو تباہی کا جواب تباہی سے دینے کا حربہ اختیار کیا گیا.دھام پور والوں نے بھی اپنا ایک سانڈ تیار کیا اور سورج پور کی طرف ہانک دیا کہ اب تشدد سے لڑنے کے لئے عدم تشدد کا فارمولا بےاثر اور آؤٹ ڈیٹیڈ ہو چکا ہے. دھام پور کے سانڈ نے بھی سورج پور کو تاراج کرنا شروع کر دیا. مقصد جب تباہی و بربادی ہو تو ایک ظالم دوسرے ظالم کا دوست بن جاتا ہے اور اس وقت مذہب بھی اپنا چولا بدل لیتا ہے اور علاقائی حدود بھی اپنی معنویت کھو دیتے ہیں . جب تک سورج پور اور دھام پور اپنے اپنے خود ساختہ سانڈوں کی اصلیت جان پاتے, بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے. اب ان سانڈوں سے نجات پانے کا کوئی راستہ نہیں رہ جاتا ہے کہ یہ سانڈ زیادہ طاقتور محافظوں کی پناہ میں چلے جاتے ہیں. بچھڑوں کو سانڈ بنا کر ان کے ذریعے برسرِ اقتدار بنے رہنے کے اس سیاسی کھیل کو ایک چھوٹے سے گاؤں کی سرزمین سے لے کر ملکی اور عالمی سطح تک کے وسیع و عریض تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے. غضنفر کے اس افسانے میں دلچسپ طنزیہ قصہ بھی ہے اور قصے کا دور تک پھیلا ہوا کربناک انجام بھی جس سے ہمارا موجودہ سماج نبرد آزما ہے.

    ReplyDelete
  2. افسانہ :سانڈ
    افسانہ نگار :غضنفر
    تاثرات :اقبال حسن آزاد
    غضنفر کا سانڈ ایک علامتی افسانہ ہے. علامتی. افسانہ لکھنے کی ایک سائنس ہوتی ہے. علامتیں نہ اس قدر گنجلک اور دبیز نہیں ہونی چاہئیں کہ قاری ان کی بھول بھلیوں میں گم ہو کر ٹامک ٹوئیاں مارتا پھرے اور جس کی سمجھ میں جو آئے وہ کہہ دے اور نہ اس قدر صاف و شفاف اور سادہ ہوں کہ قاری انہیں ننگی آنکھوں سے دیکھ لے بلکہ اچھی علامتیں ایسی ہونی چاہئیں جیسے باریک سی چلمن کے پیچھے کوئی حسن ہوش ربا.
    سانڈ مذہبی غنڈہ گردی کی ایک کھلی ہوئی علامت ہے. سسٹم بھی اس کا ساتھ دے رہا ہے. اور اگر ایک غنڈے کے مقابلے میں دوسرے غنڈے کو تیار کیا جاتا ہے تو پھر دونوں مل کر غنڈہ گردی ہیں اور اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے. بس اتنی سی بات ہے. اب اس افسانے میں جو کچھ بھی ہے وہ غضنفر کا کسا ہوا اسلوب ہے. اس میں کوئی شک نہیں کہ غضنفر زبان کے بادشاہ ہیں اور وہ کنکر کو ہیرا بنانے کا فن جانتے ہیں.
    نیک خواہشات کے ساتھ
    اقبال حسن آزاد

    ReplyDelete
  3. افسانہ : سانڈ۔
    اظہارِ خیال : فریدہ نثار احمد انصاری ۔

    سب سے پہلے" معزز سر " کو نصف صدی کی ادبی خدمات کے لئے "شمیم نکہت ایوارڈ" پانے پر دلی مبارکباد.

    مبصرین نے علامتی افسانے کی کئ پرتیں کھولیں. اس پر مزید گفتگو قاری پر بوجھل ہو سکتی ہے اس لئے انھیں نہیں دہراؤں گی.

    دو گاؤوں کا ذکر.. سورج پور اور دھام پور. سورج پور یعنی روشنی والے اور دھام پور یعنی مذہبی عقائد پر سختی سے چلنے والے.محترم سر نے ان دو گاؤوں کے نام بھی اپنی فہم و ادراک کے لب و لہجے پر رکھے.
    وہ مذہبی عقائد پر سختی سے عمل کر رہے تھے اور بطور روایت سانڈ کو بھگوان کا اوتار بنا کر کھلی چھوٹ دے رکھی تھی.
    سوال یہ کہ کیا کسی مذہب میں دوسروں کو اس طرح پریشان کرنے کی چھوٹ دی گئی ہے؟؟؟
    لیکن دھرم کے نام پر غلط کام ہر دور میں شدت پسند لوگ کرتے چلے آ رہے ہیں. اب وہ آج کے "دہشت گرد" ہی کیوں نہ ہوں.

    " جس کی لاٹھی اس کی بھینس " کے مصداق جس کے نام پر چڑھاوا چڑھایا گیا اسے مکمل جھوٹ دے دی گئی ۔
    جب کہ کسی دھرم میں دوسروں کی سمپتّی کو برباد کرنے کا حق نہیں ہے۔پھر بھی آج کے دھرماتما دھرم کے نام پر سبھی کچھ جائز قرار دیتے ہیں اور عام جنتا ان کی باتوں پر سر تسلیم خم۔۔جیسے آج وطن عزیز کی فضا سے بارود کی بو آتی رہتی ہے ۔ایسا لگتا ہے کہیں کچھ ہوگا اور دھرم ہی کے نام پر ہوگا۔

    "معزز سر" نے وطن کی ایک روایت کو بہترین انداز سے تخیل کے میزان پر جانچا اور عمدگی سے اسے قلم و قرطاس کے حوالے کیا۔وہ باتیں جنھیں قلم کار کھلے عام قاری تک نہیں پہنچا سکتا اسے مایہءناز شخصیات علامتی روپ میں پیش کر دیتی ہیں.

    "سر" گلشن ادب کے مایہء ناز افسانہ نگار ہیں،معاشرے کی چھوٹی بڑی حکایتوں سے قاری کے لئے چشم کشا تحریر کو افسانے کے پیکر میں ڈھال دیتے ہیں۔

    کچھ دنوں پہلے " سر " کا افسانہ " خالد کی ختنہ " نظر نواز ہوا تھا۔وہ بھی اسی طرح حقیقت آشنا تحریر تھی ۔

    یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہم سبھی " محترم سر " کے تحریر کردہ افسانوں،ان کے سمجھائے اسباق سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں بلکہ سیکھ رہے ہیں۔

    سر سے کہیں ملاقات تو نہیں ہوئی لیکن اپنے تیسرے افسانوی مجموعے" ہم قدم" پر بہت ڈرتے ڈرتے میسج کیا اور یہ ان کا بڑپّن کے ساتھ انکساری کہ انھوں نے اجمالی تبصرہ لکھنے کی حامی بھر لی اور اس قدر مصروفیت کے باوجود وقت سے پہلے تبصرہ ارسال کر دیا جو میرے افسانوی مجموعے کا الحمد للہ اہم ترین حصہ ہے.

    اللہ تعالیٰ سے یہی دعا ہے کہ اللہ پاک انھیں صحت و عافیت کے ساتھ عمر دراز سے نوازے ۔آمین۔

    ReplyDelete
  4. افسانہ :سانڈ
    افسانہ نگار:غضنفر(صاحب)
    مبصر:عظیم اللہ ہاشمی(بنگال)
    پروفیسرڈاکٹر غضنفر صاحب کا شمار معاصرافسانہ نگاروں کی پہلی صف میں ہوتاہے۔سرسوتی اسنان،کڑواتیل،حیرت فروش ان کے شاہکار افسانے ہیں۔موصوف افسانے کے بہترین پارکھ بھی ہیں۔ کسی بھی فن پارے کی اپنی ایک مخصوص نفسیائی ماہیت ہوتی ہے جو ایک احساس کے زیر اثر وجود میں آتی ہے۔ اس میں خالقِ فن پارہ کے محسوسات وجذبات کاخمیر شامل رہتاہے ۔ اس عمل کے دوران ایک قلم کار اپنے معاشرے یا سماجی سطح پر وقوع پزیر واقعے سے متاثرہوتاہے ۔اس کا وہ مطالعہ کرتاہےپھر فیصلہ کرتاہے کہ اس کے اثرات سے انسانی زندگی کس قدر متاثر ہوئی ہے۔ افسانہ ۔”سانڈ”کو رقم کرتے وقت غضنفر صاحب کے یہاں یہی جذبہ عمل پیہم رہا ہے ۔۔”سانڈ بن کر جب اس نے اینڈنا اور سینگ مارنا شروع کیا تو سورج پور والوں نے اس کا رخ دھام پور والوں کی طرف موڑ دیا۔ دھام پورگاؤں میں گھس کر اس نے گاؤں کو روندنا اور تہس نہس کرنا شروع کر دیا۔ وہاں بھی بیل لہو لہان ہونے لگے۔ ان کے چارہ، پانی کے برتن بھی ٹوٹنے پھوٹنے لگے۔ان کے کھیت اور کھلیان بھی تباہ وبرباد ہونے لگے۔ ”
    مذکوہ بالامتن میں جن مسائل کی طرف نشاندہی کی گئی ہے وہ زندگی کے خارجی مظاہر کے خمیر سے تیار ہوئے ہیں۔ان مسائل سے آج کا انسان نبردآزماہے۔ سانڈ ایک علامت کے طور پر افسانے کے کینوس پر ابھراہے۔جو عام انسانوں کی زندگی کودوبھر بنائے رکھتاہے لیکن افسوس اس پر ہے کہ ان عناصر کی پشت پناہی ایسے ہوئی ہے۔۔”اپنی بربادی سے تنگ آکر آس پاس کے سبھی گاؤں والے مل جل کر سانڈوں کو مارنے کا منصوبہ بنانے لگے مگر کسی طرح یہ خبر محکمۂ تحفظ وحشیان تک پہنچ گئی اور اس نے ان سانڈوں کی پیٹھ پر اپنا ٹھپہ لگا دیا جو اس بات کا اعلان تھاکہ یہ جانور محکمۂ تحفظ وحشیان کی حفاظت میں ہیں۔ انہیں کوئی بھی مارپیٹ نہیں سکتا۔ ”

    اس افسانے میں ایک اور بات قابل غور ہے کہ جب سورج پوروالوں نے دھام پور کے سانڈ کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک دوسرے سانڈ کو تیار کیا تو وہ بھی ایک دن دھام پورکے سانڈ سے مل کر پہلے سے زیادہ تباہی مچانے لگا۔یعنی غضنفر صاحب اس متن میں کہناچا ہتے ہیں کہ غلط کی کاٹ غلط سے نہیں ہوناچاہے۔افسانہ مذہبی جنونیت کی نشاندہی بھی کرتاہے جہاں ضعف الاعتقادی اپنے شباب پر ہے۔بہرحال کسی فن پارے کا متن کئی نسلوں سے ہم کلام ہوتاہے ۔اس افسانے کے متون بھی یقیناکئی نسلوں سے ہمکلام ہوں گے کیونکہ زیرنظر افسانہ "سانڈ” میں یہ خوبی ہے۔ایسا اس لیے نہیں کہ اس افسانے کا خالق پروفیسر ڈاکٹرغضنفر صاحب ہیں بلکہ ایسا اس لیے کہ یہ ہمارے عصر کی کڑوی سچائی ہے جس سے نجات ملنی چاہے۔ نیک خواہشات

    ReplyDelete
  5. افسانہ : سانڈ
    افسانہ نگار : غضنفر
    غضنفر صاحب کو سب سے پہلے شمیم نکہت ایوارڈ سے نوازے جانے کے لیے مبارکباد۔
    افسانہ سانڈ دلچسپ افسانہ ہے۔ غضنفر صاحب کا زور بیان قابل ذکر ہے، اس افسانے میں بھی ان کا زور بیان پورے شباب پر ہے۔ اور ہر منظر کو بیان کرنے پر وہ پوری طرح قادر نظر آتے ہیں۔ البتہ زور بیان میں کچھ باتیں نظر انداز بھی ہو گئی ہیں۔ مثلاً سانڈ سانڈ ہوتا ہے۔ نہ وہ کسی شخص کی تفریق کرتا ہے نہ گاؤں کی۔ ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ سانڈ سورج پور گاؤں کا تو نقصان کرے اور دھام پور گاؤں کا نقصان نہ کرے۔ پھر یہ بھی ممکن نہیں ہوتا ہے کہ سورج پورے والے جب سانڈ چھوڑیں تو وہ صرف دھام پور کا نقصان کرے سورج پور کا نقصان نہ کرے۔
    اس کے بعد دونوں سانڈوں کا گینگ بنا لینا بھی سانڈوں کی فطرت کے خلاف ہے۔ اگر اسے علامتی افسانے کے طور پر بھی پڑھا جائے تو بھی افسانے کو پہلی سطح پر اپنے جواز کے ساتھ قائم ہونا لازمی ہے۔ علامتی معنی افسانے کی اضافی خوبیاں ہوتی ہیں لیکن اگر پہلی سطح پر ہی افسانہ قائم نہیں ہوتا ہے تو علامت اسے بچا نہیں سکتی۔ ویسے مجھے لگتا ہے سانڈ علامت بن بھی نہیں سکا ہے۔
    سانڈ کو پڑھتے ہوئے مجھے سید محمد اشرف کا غیر معمولی ناول نمبر دار کا نیلا بار بار یاد آتا رہا۔ شاید ایسی توقع تھی کہ اسی طرح یہ افسانہ بھی بن جائے لیکن وہ شان نہیں پیدا ہو سکی۔ بہر حال ان خامیوں کے باوجود مجموعی طور پر یہ ایک اچھا افسانہ ہے. افسانہ نگار کو مبارک باد۔

    ReplyDelete
  6. افسانہ: سانڈ
    افسانہ نگار: غضنفر
    اظہارِ خیال: محمد علیم اسماعیل

    غضنفر صاحب ہمارے عہد کے سنیئر فکشن نگار ہیں۔ جو شاعری میں بھی ید طولی رکھتے ہیں۔ ان کی تخلیقات عام و خاص دونوں کو متوجہ کرتی ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر بھی بڑے فعال رہتے ہیں۔ ان کا افسانہ ’سانڈ‘ ایک علامتی افسانہ ہے۔ جس کی علامتیں سمجھ سے بالاتر نہیں۔ سیاست، مذہب، اور سیاسی غنڈا گردی کے تعلقات کو بیان کرتا ہوا یہ افسانہ متاثر کرتا ہے۔
    افسانے پر کیے گئے دیگر تبصروں سے پتہ چلتا ہے کہ غضنفر صاحب کا یہ افسانہ بہت مشہور ہے لیکن میں نے آج اس گروپ میں اس افسانے کو پہلی بار پڑھا۔
    غضنفر صاحب کی کہانی ’سانڈ‘ ایک گاؤں جو کہ ہمارے ملک کی علامت ہے میں رونما ہونے والے واقعات کے سلسلے کو نمایاں کرتی ہے، ظاہری طور پر یہ افسانہ ایک سانڈ کی وجہ سے ہونے والی تباہی پر بات کرتا ہے۔ لیکن اس کے باطن میں اصل بات پوشیدہ ہے۔ یہ کہانی اپنے موضوع کے مختلف عناصر کو چھوتی ہوئی نظر آتی ہے۔
    کہانی کا مرکزی تنازعہ ایک سانڈ کے ذریعے تباہ کن اعمال کے گرد گھومتا ہے۔ یہ تنازعہ اس وقت بڑھ جاتا ہے جب سورج پور کے گاؤں والے دھام پور کے گاؤں والوں سے بدلہ لینا چاہتے ہیں، جو کہ سانڈ کے مالک ہیں، اور بدلہ لینے کی خواہش مزید ایک سازش کو جنم دیتی ہے۔
    افسانے میں بظاہر نظر آنے والے سبھی عناصر علامتی ہیں۔ افسانے میں جو کچھ بھی نظر آرہا ہے مصنف نے اس کے پردے میں ایک تلخ حقیقت بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور اپنی اس کوشش وہ میں کامیاب ہیں۔
    مجموعی طور پر غضنفر صاحب کی کہانی ’سانڈ‘ زندگی کی پیچیدگیوں کو بیان کرتی ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ مذہب، روایت اور توہم پرستی کا سہارا لیتی ہوئی سیاست کے چہرے سے نقاب ہٹاتی ہے۔
    ایک اچھے افسانے کی تخلیق پر اور ’بزمِ افسانہ‘ گروپ میں پیش کیے جانے پر میں غضنفر صاحب کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

    ReplyDelete
  7. Nastaran Ahsan Fatihi20 September 2023 at 14:49

    افسانہ:سانڈ
    مصنف:غضنفر
    تبصرہ نگار: نسترن فتیحی
    ادب اکثر انسانی معاشرے کی پیچیدگیوں کی عکاسی کرنے والے آئینے کا کام کرتا ہے۔ غضنفر صاحب کا افسانہ"سانڈ" ایک طاقتور استعاراتی بیانیہ پیش کرتا ہے جو سیاسی غنڈہ گردی کے پس منظر میں ہمارے سامنے آتا ہے۔ افسانے میں بل فائٹ کا واقغہ کہانی کی طاقت اس کی حرکیات، ہیرا پھیری اوربےلگام اتھارٹی کے نتائج کی کھوج کرتا ہے۔ کہانی کے مرکز میں " سانڈ" ہے، ایک ایسی طاقت جو سیاسی اشرافیہ کے بے لگام اختیارات کی نمائندگی کرتا ہے۔"سانڈ" کی طاقت اس طاقت کی علامت ہے جو سیاستدان عوام پر رکھتے ہیں۔سیاست میں، طاقت کو جوڑ توڑ اور کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس طرح حفظان جانور کا دفتر "سانڈ" کے تحفظ میں عمل پیرا ہے بالکل ان حلقوں کی طرح جو اکثر خود کو اقتدار میں رہنے والوں کے رحم و کرم پر پاتے ہیں۔

    مزید برآں" سانڈ" کی شو مین شپ سیاست دانوں کے زیر استعمال تھیٹرکس کی آئینہ دار ہے۔ بل فائٹ کی وسیع کوریوگرافی احتیاط سے آرکیسٹریٹ پرفارمنس کی نمائندگی کرتی ہے جو اکثر سیاسی مہمات اور مباحثوں میں دیکھی جاتی ہے۔ یہ علامت سیاست کی سطحی حیثیت کو اجاگر کرتی ہے، جہاں اختیار کو برقرار رکھنے کے لیے عوامی تاثرات سے جوڑ توڑ کیا جا سکتا ہے۔
    دوسری طرف یہ افسانہ بے آواز عوام کی بھی نمائندگی کرتا ہے جو سیاسی غنڈہ گردی " سانڈ"کا شکار ہیں۔ اسی طرح اس علاقے کے شہری بھی ان حالات کے زیر اثر خود کو مجبور پاتے ہیں۔ "سانڈ" کا خوف ان لوگوں کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے جو سیاسی غنڈہ گردی کا شکار ہوتے ہیں، کیونکہ وہ بے اختیاری کے احساس سے دوچار ہوتے ہیں۔

    " سانڈ" کے تسلط کے خلاف عوام کی لاحاصل جدوجہد، قائم شدہ سیاسی نظام کو چیلنج کرنے کی پسماندہ لوگوں کی اکثر بیکار کوششوں کے مترادف ہے۔ یہ جدوجہد (شاہین باغ احتجاج) خواہ کتنی ہی بہادر کیوں نہ ہو، شاذ و نادر ہی اہم تبدیلی کا باعث بنتی ہے، جو معاشرے میں سیاسی غنڈہ گردی کی گہری جڑی ہوئی نوعیت کو اجاگر کرتی ہے۔
    جیسے جیسے بل فائٹ سامنے آتی ہے، سیاسی غنڈہ گردی کے نتائج واضح ہوتے جاتے ہیں۔ عوام کو جسمانی اور جذباتی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے،۔ یہ معاشرے پر سیاسی غنڈہ گردی کے نقصان دہ اثرات کی عکاسی کرتا ہے، جہاں پسماندہ افراد اور برادریوں کو گہرا نقصان پہنچ سکتا ہے۔
    مزید برآں، کہانی میں تماشائی سیاسی غنڈہ گردی کو جاری رکھنے میں عوام کی شراکت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ اس بات کی وضاحت ہے کہ لوگ کس طرح غیر فعال طور پر جابرانہ نظاموں کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ پیچیدگی حقیقی دنیا کے سیاسی سیاق و سباق میں دیکھی جا سکتی ہے، جہاں افراد طاقت کے غلط استعمال پر آنکھیں بند کر سکتے ہیں یا خوف یا بے حسی کی وجہ سے فعال طور پر ان کی حمایت کر سکتے ہیں۔
    "" سانڈ" سیاسی غنڈہ گردی کے لیے ایک طاقتور استعارے کے طور پر کام کرتا ہے، جو طاقت کی حرکیات، ہیرا پھیری اور معاشرے میں ان کے نتائج پر روشنی ڈالتا ہے۔ کہانی میں کرداروں، علامتوں اور واقعات کے ذریعے، غضنفر صاحب نے ایک ایسی داستان تیار کی ہے جو بہت سے لوگوں کو درپیش سیاسی مسائل سے ملتی ہے۔"سانڈ" ہمیں سیاسی غنڈہ گردی کے مسئلے کوح کرنے اور اس کو درست کرنے کی فوری ضرورت کی یاد دلاتا ہے، ایک ایسے معاشرے کی اہمیت پر زور دیتا ہے جہاں طاقت کو ذمہ داری کے ساتھ اور بے آواز عوام کے لیے ہمدردی کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے ۔جس طرح عوام کی جدوجہد ہماری توجہ اور ہمدردی کی مستحق ہے، اسی طرح سیاسی غنڈہ گردی کے شکار لوگوں کی حالت زار بھی تبدیلی کے لیے ہماری اجتماعی کوششوں کی ضمانت دیتی ہے۔
    نسترن احسن فتیحی

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

بادِ صبا کا انتظار : سید محمد اشرف

پناہ گاہ: اسرارگاندھی

مسیحائی : ایم مبین (بھیونڈی)