کفارہ : نصرت شمسی

 بزمِ افسانہ کی پیش کش 

سترہواں ایونٹ 

رنگ و آہنگ 

افسانہ نمبر : 07 


               *کفارہ* 

                    نصرت شمسی



میرے ہاتھ میں ہندوستان سے آیا ہوا آپا کا ای میل تھا اور یہ کوئی پہلامیل نہیں تھا۔ پچھلے تین ماہ میں تینوں بہنوں کے کئی میل آچکے تھے کہ

”منور بھائی اب اپنے ملک لوٹنے کا وقت آچکا ہے، لوٹ آؤ،“

 میں خط پڑھ کر حیران تھا کہ اب کیا کروں؟ میرے سامنے میرے دونو ں بچے تھے جو ہندوستان سے دور بیرونی مٹی میں پلے بڑھے تھے۔ جن کی زندگی وہاں کی زندگی سے بالکل مختلف تھی۔ آ خر یہ بچے اس تہذیب کو کیسے اپنائیں گے اور کیسے وہاں رہ پائیں گے؟میرے دونو ں بچے اپنی زندگی میں بالکل آزاد تھے جنھیں نا کوئی تربیت مل رہی تھی نہ کوئی ماحول، ایک مشینی زندگی تھی جو اپنے آپ چل رہی تھی۔ میری بیوی جو روز صبح سب سے پہلے تیار ہوکرگاڑی لے کر آفس کے لئے نکل جاتی۔ اس کے بعد میڈ آتی اتنی دیر میں دونوں بچے اسکول کے لیے تیار ہو جاتے۔ وین آتی اور وہ اسکول کے لیے چلے جاتے۔ میڈ گھر کے سارے کام کرتی، میرا ناشتہ تیار کرتی اور چلی جاتی۔ اس کے بعد میں بھی شام تک کے لیے گھر سے چلاجاتا۔

دوپہر کے وقت بچے آتے۔ لنچ کے نام پہ کبھی میگھی، کبھی برگر، کبھی پیزا، کھا کراپنے اپنے کمروں میں چلے جاتے۔ دن بھر گھر میں کیا ہوتا اس کا علم نہ مجھے ہوتا نہ میری بیوی کو، رات کے کھانے کے لیے  ہم ضرور ٹیبل پے جمع ہوتے اور وہی سوکھا سوکھا مختلف قسم کی ساسیس اور چٹنیوں سے کچھ نہ کچھ کھا لیتے اور سو جاتے۔

اس ماحول کے بچے اس ماحول میں کیسے رہ پائیں گے؟ میں نے تو کبھی اپنی تہذیب کی ”ت“بھی نہیں سکھائی پھر بھلا یہ وہاں کے ماحول میں کیسے رہیں گےَ؟ میری آنکھوں کے سامنے میرے گھر کا دسترخوان ڈول گیا۔ کبھی شلجم گوشت، کبھی آلو گوشت، کبھی گاجر، چقندر، ان کھانوں کی لذت یہ کیا جانیں۔ اماں کیسے مزے کے کھانے پکایا کرتی تھی۔ ان کے ہاتھ کا شلجم گوشت آہا…… ہا اور جاڑوں میں ارد کی دال کی کچھڑی جس میں اماں دیسی گھی چمچہ بھر بھر کے ڈالا کرتی تھی اور ہم سب ابا کے ساتھ چٹائی پر بیٹھ کر چولہے کے پاس کیسے لطف لے لے کرکھایا کرتے تھے۔ بیچ بیچ میں ابا انگلیاں چاٹتے تو ہم سب کو بھی ”ہوں“ کر کے اشارہ کرتے اورپھر ہم سب بھی اپنی انگلیاں چاٹنے لگتے۔ کتنا مزہ آتا تھا۔  اوہ سب سے یاد آرہا تھا ۔انہی چٹی ہوئی انگلیوں سے ابا کبھی کبھی اماں کے منھ میں کھچڑی کانوالہ دے دیا کرتے تھے اور اماں جسے بڑے مزے سے کھایا کرتی تھی۔ نہ تو ان چٹی ہوئی انگلیوں سے اماں کو کبھی کراہیت آئی اور نہ  ہی دوبارہ ان سے اپنے منھ میں لقمہ لے جانے میں ابا کو کچھ کراہیت محسوس ہوئی اور میں…… میں نے تو آج تک اپنی بیوی کی پلیٹ سے ایک نوالہ بھی لگا کر نہیں کھایا تھا۔ ڈیزی تو ویسی بھی وہمی عورت تھی اس کا تو چمچہ، پلیٹ، کاٹا سب بالکل الگ تھا۔جسے نہ کوئی چھو سکتا تھا اور نہ اس میں کھا سکتا تھا۔ آہا……ایک وہ ماحول اور ایک اس کا ماحول، میرے  بچوں نے تو اس تہذیب کو اس مٹی کو کبھی دیکھا ہی نہیں رہنا تو بہت دور کی بات تھی اور غلطی میری  تھی۔ میں کیوں اپنی مٹی کے رنگوں کو چھوڑکرغیر کے رنگوں میں ڈوب گیااور اب جب نکلنے کا وقت تھا تو وہ رنگ اتنے پکے ہو چکے تھے کے ان سے پیچھا چھڑانا اب ناممکن بات تھی۔

مجھے یاد آیا کہ کیسے مہمانوں کی آمد پر گھر بھر میں رونق بھر جایا کرتی تھی۔ ابا جاڑوں میں اپنی بہنوں کی پائیوں کی دعوت کیا کرتے تھے۔ایک ہفتہ پہلے ہی ابا ماں سے مشورہ کرتے اور پھر ابا میری  انگلی پکڑ کے ایک ایک کے گھر دعوت دینے جایا کرتا۔ ابا ساتھ میں کچھ کھانے پینے کا سامان بھی کے کر جایا کرتے اور بڑی عزت و احترام سے بہنوں کو دعوتیں دے کر اماں کو آ کر بتاتے کے سب سے بات پکی ہو گئی ہے۔ میری  بہنیں دعوت سے تین دن پہلے گھر کے کاموں میں لگ جاتی۔ کوئی پردے بدلتا، کوئی گھر کی جھڑائی،صفائی، تو کوئی برتن نکال کر صاف کر کے رکھتی۔ گھر کا کونا کونا دھو دھلا کر چمکایا جاتا۔ اگلے دن ابا بازار سے کھانا پکانے کا سامان لانا شروع کرتے اور اماں کھانے پکانے میں لگ جایا کرتیں۔ دعوت والے دن صبح سے کوئی بہن چادریں بدلتی، کوئی فرش لگاتی، کوئی اماں کے ساتھ باورچی خانے میں گھس جا تی۔ باورچی خانے سے آنے والی اشتہا انگیز خوشبویں بھوک کو جیسے چمکا دیتی۔ ہم سوچتے دن میں بھی کچھ اچھا ملے گا لیکن اماں مونگ یا مسور کی کھچڑی ، چٹنی، اچار سے کھلا کر کہتیں کہ پیٹ بھی ہلکا رہے گا اور میرا کام بھی، شام کو اچھا کھانا کھا لینا اور ہم سب بے چینی سے رات کے کھانے کا انتظار کرنے لگتے۔ شام ہوتے ہوتے گھر سج کر تیار ہو جاتا۔ ابا سیکڑوں چکر باورچی خانے کے لگاکر اماں سے پوچھتے رہتے۔

”کچھ لانا تو نہیں ہے سب کچھ ہو گیا۔؟" اماں کے اندر باہر کے ہزارہا چکر لگتے لیکن ماتھے پر ایک شکن بھی نہ آتی۔ 

عصر، مغرب کے درمیان مہمان آنا شروع ہو جاتے۔ اندھیرا ہونے سے پہلے باجی، آپا مل کر بڑے سے دالان میں دسترخوان سجانے لگ جاتیں۔چاندنیاں بیچھائی جاتیں اور یہاں سے وہاں تک کپڑے کا دسترخوان اماں کے جہیز کے چینی کے برتنوں سے سج جاتا۔ آپا بار بار کبھی ایک چادر کا کونا درست کرتیں تو کبھی دوسری کا۔ مہمانوں سے  گفتگو ہوتی اور موسمی پھلوں سے توازے، اور ہنسی خوشی کا ماحول، اسی ماحول میں کھانے کا وقت آجاتا۔ اور سب اماں کے ہاتھ کے بنے لذیذ کھانوں میں مشغول ہو جاتے۔ چمچوں، پلیٹوں کی آوازیں کتنی بھلی لگا کرتی تھی۔ اماں بار بار خالی ہونے والے ڈونگے بھر بھر کے لاتیں۔ کتنا مزا آتا تھا ان دعوتوں میں۔ کیسے پایئوں کے سنے ہاتھوں کو میں کھول بند کرتا تھا۔ ان کی چپک مجھے اچھی لگا کرتی تھی۔ کہاں وہ ماحول، کہاں یہ ماحول…… دعوت کے نام پر آج تک کوئی میرے گھر میں نہیں آیا تھا۔ جب کسی کا دل کسی کو کچھ کھلانے پلانے کو چاہتا تو ٹیبل بک کراتا اور چلا جاتا۔  یہاں تو عید، بقرعید کا تصور بھی نہیں تھا۔ میرے بچوں کو پتہ ہی نہیں تھا کہ تہوار کسے کہتے ہیں؟

کیسے لوٹوں ……؟  لیکن جانا تو تھا یہ تو میں نے طے کر لیا تھا اگر اب نہ گیا تو ساری عمر پچھتا تا رہوں گا۔

میں نے رات کو میز پر سب کو بتایا کے اب ہم لوگ انڈیا جانے والے ہیں۔

     ”واؤ……انڈیا اماں، بابا کے پاس“۔ بچوں نے انجانی خوشی محسوس کرتے ہوئے کہاں۔

”ہاں بیٹا“۔

”کب ڈیڈ“

”بہت جلد شاید اگلے ہفتے تم لوگ پیکیگ کرلو۔“

”اوکے               ڈیڈی“

میں نے  خاموش بیٹھی ڈیذی کو پکارا،جو اتنے عرصے میں میری زبان سمجھنے لگی تھی اور بچے بھی، بس  اتنا ہی ہندوستان زندہ تھا ہماری  زندگی میں۔

     ”وہاں بابا بہت بیمار ہیں، انہیں میرے ضرورت ہے۔ اور اب شاید ہم کبھی واپس  بھی نہ لوٹ پائیں۔ دیکھوں میں ابھی یہ نہیں کہہ رہا کہ تم ہمیشہ کہ لئے رک جانا لیکن رفتہ رفتہ عادت تو ڈالنا ہے پلیز ڈیزی۔“

”منٹو دیکھوں اس معاملہ میں ضد نہ کرنا۔ میں اور بچے وہاں ایڈجسٹ نہیں ہو پائںں گے۔ اگر ہم رک نہ سکے تو ہمیں واپس آنا ہی ہوگا۔“

ٹھیک ہے لیکن اب تو چلنا ہے۔میں نے ہتھیار ڈال دئے۔

جہاز میں بیٹھتے ہی میں پھر اپنی مٹی سے جڑگیا۔ مجھے یاد آیا کہ دو ماہ بعد عید بھی تو آنے والی ہے۔ اوہ! عید …… عید کا خیال آتے ہی مجھے بیس بائیس سال پہلے کی عید یاد آگئی۔ کتنا خوبصورت منظر ہوا کرتا تھا رمضان کا، اور رمضان کا آخری عشرہ تو عبادتوں میں یوں گزر جاتا تھا کہ پتہ ہی نہ چلتا۔ دن میں عید کی تیاریوں کا ذکر، فکر اور رات کو عبادتیں، اور وہ چاند رات،کتنا خوبصورت سماع ہوا کرتا تھا اس وقت محلے کا۔ کیا اب بھی ویسا ہی ہوتا ہوگا؟ ہو سکتا ہے کیونکہ ہندوستانی بہت جلد اپنی تہذیب اور روایات کو نہیں بھولتے اور کہیں نہ کہیں زندہ ہی رکھتے ہیں۔ کیسے مزے کی عید کی رونقیں ہواں کرتی تھی۔ سارا محلہ چندا جمع کر کے سب کے گھر سجواتا۔ محلے کے بڑے بزرگ اپنے اپنے گھروں کے باہر چوپال سی لگا کر بیٹھ جاتے۔ کسی کی چارپائی، تو کسی کا تخت، کھانے پینے کی چیزیں، چائے کی کیتلیاں، شربت کے گلاس، ہنسی مذاق، حقوں کے دھویں، اور محلے بھر کے شور مچاتے بچے۔ عورتوں کی آمد و رفت، بازار کے چکر، چوڑی، مہندی بیچنے والوں کی آوازیں، گھروں میں پکتے ہوئے پکوانوں کی خوشبوں اور ماحول میں  جلترنگ بکھیرتی لڑکیوں کی ہنسی۔ کوئی اس کی اماں سے چھوٹی الائچی لینے آتا تو کہیں اماں اسے دوڑاتیں کہ تیز پات کے چند پتے لے آ۔ کوئی لیموں پوچھنے آتی، تو کوئی دہی کی چٹنی پوچھنے آتا۔ باورچی خانے میں خوشی خوشی سردھنتی عورتیں، برتنوں کی کھڑکنے کی آوازیں، پٹاخوں کا شور تو ایک طرف عید پر پہنے جانے والے کپڑوں کی بہار۔ ہائے اماں کی ہاتھ کی لذیذ سیوئیاں اور دہی بڑے۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اماں کے ہاتھ کے بڑے بڑے پتلے پتلے دہی بڑے گھوم گئے اور  منھ میں پانی سا بھر آیا۔ آپا اسے پلیٹ بنا کر دیا کرتیں۔ سفید سفید دہی بڑوں پر کھٹی اور میٹھی چٹنی پڑی ہوئی اور اماں کے ہاتھ کے سیخ کے کباب،کباب بنانے میں بہت ماہر تھیں …… کیسے فٹافٹ سیخ پر چڑھاتی اور اتارتیں۔ 

عید کی صبح  ابا میری ا نگلی پکڑ کر عید گاہ جاتے تھے ۔واپسی پر ابا ہمیشہ ڈھیر ساری مٹھائیاں خریدتے اور سب رشتہ داروں کے یہاں بانٹتے ہوئے آتے۔محلے کے بچے ایک دوسرے کے گھر شیر، فیرینی، سوئیاں اور نہ جانے کیا کیا بانٹتے پھرتے تھے پھر عیدی بٹتی تھی۔کتنا مزہ آتا تھا۔اس کے گھر تو عید کے دن ایک سادہ سا کیک آجاتا تھا۔قریبی مسجد میں نماز ادا ہوجاتی اور بس……شام کو بچوں کو لے کر وہ کسی ریستورانٹ میں ڈنر کرآتے تھے اور ہوجاتی تھی عید۔

آہ……منور تو نے باہر جانے کی ضد میں کیا کیا کھو دیا۔کمی تو وہاں بھی کچھ نہ تھی۔ابا کی زمینں تھیں اور آج بھی ہیں اور چلتا ہواکاروبار”مگر میں الگ سے خود کچھ کروں گا“ کی ضد نے مجھ سے سب کچھ چھٹوا دیا۔ کیا ضرورت تھی مجھے۔

یادوں میں گھیرے گھیرے کب میں اپنے گھر کے دروازے پر آپہنچا  پتہ ہی نہ چلا۔”گھر“ میں نے حیرانی سے اپنے بدلے ہوئے گھر کو دیکھا۔ابا نے پرانے گھر کو جدید طرز کا بنوا کر بہت خوبصورت کر لیا تھا۔ میں وہ پرانا دروں والا دروازہ تلاش کرتا ہوا اندر داخل ہو گیا۔آہنی گیٹ،خوبصورت لان اور پھر دالان اور پھر دو کمرے۔سائڈ میں داہنے ہاتھ پر باورچی خانہ،غسل خانہ اور پھر بیت الخلا۔کتنا سب کچھ بدلا بدلا لگ رہا تھا ۔ابا نے اس کے بچوں کے لیے بہت خوبصورت کمرہ تیار کرایا تھا۔ابا اور اماں سے ملنے کے بعد ڈیزی بچوں کو لے کر برابر والے کمرے میں چلی گئی تھی۔میں جانتا تھا کہ روم شئیر کرنا اس کے مزاج میں نہیں،لیکن اس وقت کوئی اور چارہ بھی نہیں تھا۔میں تو سوچ رہا تھا کہ ابا اماں اور گھر نہ جانے کن حالوں میں ہوگا۔ کوئی دیکھ بھال کرنے والا بھی تو نہیں تھا لیکن گھر بھی صاف ستھرا پڑا تھا۔کھانے کی خوشبوئیں پورے گھر میں مہکی ہوئی تھی۔

چند منٹ بعد ابا نے کھانا لگنے کی اطلاع دی تو  سب ٹیبل پر آگئے ۔ٹیبل دیکھ کر مجھے حیرانی ہوئی۔نئی چمچماتی شیشے کی ٹیبل جو ابا نے میری  بیوی اور بچوں کی وجہ سے ڈلوائی تھی ورنہ وہاں تو آج بھی دسترخوان  ہی لگتا تھا۔

”ابا کھانا کس نے پکایا۔“میں نے ڈھکن ہٹاتے ہوئے پوچھا۔

”بیٹا!ہمارے یہاں کوئی تنہا نہیں ہوتا۔تمہیں تو پتہ ہے تمہاری بہنیں پردیسن ہیں۔صبح سے نور جہاں لگی ہوئی تھی۔تمہارے بچوں کی پسند کا اسے پتہ نہیں تھا۔تو میں نے ٹماٹر پلاؤ اور قورمہ بنوا لیا۔مجھے یقین تھا کہ بھلے ہی تم پردیس میں ہو لیکن بچوں کو اپنے ملک کی تہذیب ضرور سکھائی ہوگی۔“

”نور جہاں“میرے ہونٹ بدبدائے۔

”ہاں! بڑا خیال رکھتی ہے۔سارا گھر سنبھالتی ہے۔کبھی احساس ہی نہیں ہوا کہ ہمارا کوئی نہیں ہے۔یہی تو یہاں کے رکھ رکھاؤ ہیں۔خدمت گزاری،ایک دوسرے کی دیکھ بھال کرنا،اپنائیت،آنا جانا،سب بڑی قیمتی چیزیں ہیں۔انھیں سہاروں پر اپنی زندگی گزر رہی ہے۔“

”واقعی“میں حیرت میں پڑ گیا۔کیسی مٹی ہے اپنے دیس کی؟نور جہاں جسے میں بڑی رعونت سے ٹھکرا گیا تھا۔میری خالہ کی بیٹی۔تو کیا وہ آج بھی کنواری ہے؟سوالات نے مجھے گھیر لیا۔میں الجھا الجھا سا بچوں کو کھانا کھلانے میں لگ گیا۔ڈیزی کہہ کر کہ جا چکی تھی میں اسے میگھی لا کر دیدوں۔

ہفتہ بھر بعد ہی ڈٖیزی اور بچوں نے جانے کی ضد پکڑ لی۔وہ یہاں ہم آہنگی پیدا نہیں کر پا رہے تھے۔بقول ڈیزی کے کہ”کھانے دیکھ دیکھ کر اسے ابکائیاں آتی ہیں اوپر سے اماں کی گیلی کھانسی اور ایک کمرے میں ہم سب کی رہائش،ناٹ پاسیبل۔“

”ڈیزی میں تمہارا اور بچوں کا الگ کمرہ بنوا دوں گا۔زمین تو بہت ہے بلکہ تم اپنے حساب سے پورا گھر بنوا لینا۔کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔تم فی الحال چلی جاؤ۔کچھ وقت بعد آجانا۔پلیز یہ تو کرنا ہی ہوگا۔میں نے تم سے شادی کے وقت بھی کہا تھا کہ مجھے اپنے ملک بھی لوٹنا پڑ سکتا ہے۔ اس وقت تو تم نے ہاں کر لی تھی۔یہ ہمارا ملک ہے۔اب ہمیں یہیں رہنا ہوگا۔

”نہیں منٹو!یہ تمہارا ملک ہے ہمارا نہیں۔جس طرح تم اپنے ملک میں رہنا چاہتے ہو اسی طرح میں اور بچے اپنے ملک میں خوشی خوشی رہ لیں گے۔تم یہیں رہ لو۔“

اس نے لمحے بھر میں رشتہ توڑنے کی بات کر ڈالی اور یہاں ٹوٹے ہوئے رشتے بھی رشتوں کو بنھائے چلے جارہے ہیں۔میرے تصور میں سانولی سی نور جہاں گھوم گئی۔

”ڈیزی یہ اتنی آسانی سے تم کیسے کہہ گئیں؟“میں نے اس کا منھ تکا۔

”ہاں منٹو!میں اور بچے یہاں نہیں رہ پائیں گے اور ہم رہنا بھی نہیں چاہتے ہاں تم رہ لو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔یا پھر منٹو تم اماں بابا کو اولڈ ایج ہوم میں بھیج دو۔پورا خرچہ اٹھاتے رہنا مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا لیکن میں ……“

”ڈیزی یہ تم کیا کہہ رہی ہو۔میں انھیں ……“

”ڈیڈی مما ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ہمارے یہاں تو سب بوڑھے لوگ وہیں رہتے ہیں تو ……“

میں حیرانی سے ان کا منھ تکتا رہ گیا  مجھ پر واضح ہو گیا تھا کہ وہ رکنے والے نہیں۔بچے اگلے پندرہ دن میں چلے گئے اور میں اماں بابا کے پاس رہ گیا۔گھر کا سارا انتظام اب بھی نور جہاں سنبھالے ہوئے تھی۔وہ کس وقت آتی کام کرتی اور چلی جاتی مجھے تو پتہ بھی نہ چلتا۔میرا تو اس سے اب تک سامنا بھی نہیں ہوا تھا۔

”منور!اب کیا ہوگا تیرا؟تو تو تنہا رہ گیا۔میرے اندر کہیں خوف نے سر ابھارا ۔ڈیزی اور بچے اب لوٹنے والے نہیں۔بچے عمر کے اس دور میں داخل ہو چکے تھے جہاں اپنی مرضی زندگی کے فیصلوں میں شامل ہوتی ہے اور ویسے بھی وہ اس ملک کے تو تھے نہیں۔جو بڑوں کے فیصلوں کے آگے سر جھکا دیتے اور تونے کون سا اپنا سر جھکا دیا تھا ابا کے فیصلے کے آگے؟“

اسے بابا کے جملے یاد آئے کہ بیٹا جا تو رہے ہو لیکن جب فیصلے کا وقت ہوگا تو بڑا خصارہ بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے۔“

کتنا صحیح کہا تھا ابا بے۔سوچتے سوچتے میراخیال پھر نورجہاں کی طرف چلا گیا۔

”نورجہاں! وہ اب تک کس کے انتظار میں ہے؟کیا میرے؟“

میرے اندر کے خود غرض مرد نے سر ابھارا۔

کئی دن گزرنے کے بعد میں خالہ کے گھر پہنچ گیا۔خالہ کا گھر بھی چندن بنا ہوا تھا۔خالو حقہ پی رہے تھے۔اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔خالہ اور خالو سے باتوں کے درمیاں مجھے پتہ چلا کہ نورجہاں نے شادی ہی نہیں کی اور وہ ہی اماں ابا کے ساتھ سوتی رہی ہے۔میں اپنے اندر کی دبی خواہش کا اظہار کرنا چاہتا تھا لیکن اس سے پہلے میں نورجہاں سے ملنا چاہتا تھا۔

”خالو!میں نورجہاں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔کہاں ہے وہ؟“

میں نے نظریں گھمائیں تو وہ اپنے کمرے کی آڑ میں مجھے اس کی ایک جھلک نظر آئی۔

”اپنے کمرے میں ہے۔چلے جاؤ۔“

نہ کوئی شکوہ نہ شکایت،کتنی اپنائیت ہے یہاں کے لوگوں میں۔میں نے خالو کو دیکھا اور پھر نورجہاں کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔نورجہاں نے دور سے ہی میرے قدموں کی آہٹ اور اس میں چھپے خودغرضی کے سوالات بھانپ لیے تھے اسی لیے جیسے ہی میں اس کے کمرے کے بالکل قریب گیا اور ہولے سے اسے پکارا اس نے جھٹ سے دروازہ بند کرلیا۔میرا ہاتھ اٹھا کا اٹھا رہ گیا۔مجھے جواب مل گیا تھا۔بے غرض،بے لوث محبت کرنے والے یہ لوگ جنھیں میں نے خودغرضی کے ترازو میں تولنے کی کوشش کی۔میں اپنا سا منھ لے کر واپس پلٹ آیا۔ 

نورجہاں میری بچپن کی مانگ تھی اور مجھے پسند بھی تھی میں نے ہزاروں محبت بھرے پل بھی اس کے ساتھ گزارے تھے لیکن ملک سے باہر جانے کے جنون نے میرے اندر اس کے لیے بے اعتنائی پیدا کردی اور پھر میں اسے کالی کہہ کر چھوڑ کر چلا گیا۔دراصل میں اپنے گلے میں بیوی نام کا پھندا ڈال کر جانا ہی نہیں چاہتا تھا کہ کہیں اس کے نام پر چند مہینوں میں واپسی نہ کرنی پڑ جائے۔وہاں جاکر میں نے خوب انجوائے کیا اور پھر کچھ عرصہ بعد ڈیزی سے شادی کر لی۔ڈیزی کی ماں پاکستانی خاتون تھیں اور آج جب میں اپنی غرض سے اس کی واپسی چاہتا تھا تو اس نے مجھے صاف جواب دے دیا تھا۔

”آہ……منور!اب یہی تیری زندگی ہے۔اماں ابا کی خدمت اور اس گھر میں آنے والے وقت کے ساتھ قید تنہائی۔یہ کفارہ تو تجھے ادا کرنا ہی پڑے گا۔اسے پتہ تھا کہ اگر اب وہ اپنے ملک واپس نہ آتا تو چند سالوں بعد میرے بچے مجھے اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آتے۔یہاں  یہ تو یقین تھا کہ کوئی رشتہ کسی سے نہ ہوتے ہوئے بھی لوگوں میں آج بھی ایک دوسرے کا خیال رکھنا،خدمیت گزاری، وفاداری،ایثاراور صلہ رحمی اتنی زندہ ہے کہ تنہائی کی زندگی میں بھی سکون میسر ہو سکتا ہے۔میں  نے ابا کی کھانسی اتارنے کو ان کی کمر سہلائی اوراپنی غلطیوں کا کفارہ  کے بارے میں سوچنے لگا۔۔۔


                    ختم شدہ ـ

Comments

  1. شہناز فاطمہافسانہ نمبر :07
    افسانہ :کفارہ
    افسانہ نگار : نصرت شمسی
    تاثرات :شہناز فاطمہ
    ارے واہ بڑا نیچرل گھریلو سا افسانہ سامنے آیا تو دل خوش ہو گیا کسی تلمیح، علامت، یا تصنع سے دور ایک سچی حقیقت تہذیب تمدن کے ساتھ گھر کا خوب صورت خوشگوار ماحول
    دسترخوان کے لوازمات، ارد کی کھچڑی اصلی گھی چٹنی اچار پاءے کی دعوت
    مزے آگءے واقعی " زندگانی " بھرا ماحول اب تو یہ سب خواب ہوگیا جب "ابا اماں کو چٹی ہوئی انگلیوں سے نوالہ کھلاتے تھے"
    اور پھر باہر کے ممالک کی زندگی رہائش کے طور طریقے کھانے پینے کا اسٹائل
    ان سارے لمحوں کی بیحد خوبصورتی سے عکاسی کی ہے محترمہ نصرت شمسی صاحبہ نے سارے منظر نگاہوں کے سامنے آگءے اور... اور نور جہاں. بہت اچھا لگا اسکا دروازہ بند کرنا مرد کتنا خود غرض اور مفاد پرست ہوتا ہے اسکی خودداری نے افسانے کو اور بھی خوبصورت بنا دیا
    اپنے ملک کی تمیز تہذیب، اپنائیت، محبت ،خلوص پر بھی بہت خوبصورتی سے روشنی ڈالی ہے محترمہ نصرت شمسی صاحبہ نے افسانہ زندگی سے بہت قریب ہے اسلیے بہت اچھا لگا محترمہ کے لئے ڈھیروں ڈھیر نیک خواہشات اور پرخلوص دلی مبارک باد پیش کرتی ہوں
    اللہ کرے زور قلم اور زیادہ آمین

    ReplyDelete
  2. افسانہ : کفارہ
    افسانہ نگار : نصرت شمسی
    تاثرات : رفیع حیدر انجم
    "میں نے خاموش بیٹھی ڈیزی کو پکارا جو اتنے عرصے میں میری زبان سمجھنے لگی تھی اور بچے بھی. "
    "ڈیزی کی ماں پاکستانی خاتون تھیں. "
    کیا منور / منٹو کسی یورپین کنٹری میں رہ رہا تھا کہ زبان کا مسئلہ درپیش آیا ؟ ڈیزی کی ماں پاکستانی تھیں تو کیا غیر ممالک میں پاکستانی اپنی زبان بھول جاتے ہیں. ؟ غالباً ڈیزی کے نانا نانی پاکستان سے ہجرت کر کے آئے ہوں گے اور اپنی بیٹی کو مادری زبان نہیں سکھا سکے ہوں گے. منور نے کم از کم اتنا تو کیا کہ اپنی بیوی اور بچوں کو مادری زبان سے کام چلاؤ واقفیت کرا دی. غالباً ایسا ہی ہوا ہوگا.

    ReplyDelete
  3. افسانہ:کفارہ
    افسانہ نگار:نصرت شمسی
    مبصر:عظیم اللہ ہاشمی(بنگال)
    افسانہ "کفارہ "سادہ بیانیہ اسلوب میں لکھاگیاہے جس کے کم وبیش 80فیصدحصے پرہندوستانی مسلم معاشرے کی خوشبو غالب ہے.اس افسانے میں دوممالک کی تہذیبی زندگی کے تصادم،اپنی مٹی کا کرب اورنوجوانی کے دنوں میں غلط فیصلے کے بد انجام ،کرداروں کے زریعہ درشایاگیاہے۔افسانے میں بیانیے کا فسوں ہے۔افسانہ ایک سبق چھوڑاہے کہ اولادکوماں باپ کے فیصلےکومانناچاہیے ورنہ اس کا کفارہ اداکرناہوگا۔کل ملاکر افسانہ غلط فیصلے کے دردکوقاری کے سامنے پیش کرتاہے جس کوپڑھنے اور سمجھنے میں کوئی قباحت نہیں ہوتی ہے ۔نیک خواہشات

    ReplyDelete
  4. افسانہ " کفارہ "
    کبھی کبھی زندگی میں کچھ پانے کی خواہش میں بہت کچھ کھونا پڑتا ہے.زبان وبیان رواں دواں ہے بہت ہی جوبصورت منظر نگاری.... اپنے ملک کی تہذیب اور روایات کو بہت خوبی سے بیان کیا ہے. املا کی غلطی شاید ٹائپنگ کی وجہ سے ہو سکتی ہے. کلائمکس پر ایک بار غور کریں. ایک بہترین افسانے کے لئے نصرت باجی کو بہت مبارک باد
    سیدہ تبسم ناڈکر

    ReplyDelete
  5. افسانہ : ادیب
    افسانہ نگار : فرخندہ ضمیر
     اظہار خیال : رفیعہ نوشین

    فرخندہ ضمیر صاحبہ ادبی دنیا کی جانی مانی ہستی ہیں - اور اپنے نام کے مصداق ان کی تحریریں بھی ضمیر کو جھنجھوڑنے والی ہوتی ہیں -
    افسانہ کا موضوع نیا ہے اور اہم بھی - افسانہ دو کرداروں کے گرد گھومتا ہے ایک مفلوک الحال ادیب (کیوں کہ ہر ادیب مفلوک الحال نہیں ہوتا ) اور دوسرا ایک سیاست دان -
    اس افسانہ میں ان دونوں کے حالات زندگی، معاشی حالات اور ان کے ساتھ مختلف لوگوں کے رویہ کی عمدہ عکاسی کی گئی ہے -
    ہسپتال میں شاد صاحب کے دوستوں نے جس طرح سے شاد صاحب کی مدد کی وہ واقعی قابل ستائش ہے - مشکل حالات میں دوستوں کی محبت اور ان کا خلوص بہت حوصلہ دیتا ہے -
    اس سادہ، سلیس، پر اثر افسانے کے لئے میں فرخندہ ضمیر صاحبہ کو مبارکباد پیش کرتی ہوں - اور مستقبل کے لئے نیک خواہشات !
    سلامت رہیں !

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

بادِ صبا کا انتظار : سید محمد اشرف

پناہ گاہ: اسرارگاندھی

مسیحائی : ایم مبین (بھیونڈی)