واپسی : رخسانہ نازنین

 بزمِ افسانہ کی پیش کش 

سترہواں ایونٹ 

رنگ و آہنگ 

افسانہ نمبر : 13 


                *واپسی* 

                  رخسانہ نازنین



 

" ممی. مجھے 500 روپئے چاہئے. بائیک میں پٹرول ڈلوانا ہے.  ہاں شام میں 2 ہزار روپئے بھی چاہئے .جم کی فیس دینی ہے! " 

سہیل کی بات سنکر ثمینہ کے ماتھے پر بل پڑگئے.

" افوہ.  کہاں مارے مارے پھرتے ہو. چار دن پہلے ہی تو پٹرول کے لئے پیسے دئیے تھے. اور یہ جم کا الگ جنجال پال رکھا ہے. پتہ نہیں آج کل کے لڑکوں کو یہ جم کا کیا شوق چڑھا ہے کوئی وزن بڑھانے کے لئے جم جاتا ہے تو کوئی گھٹانے کے لئے.  ہم نے نہ دیکھے کبھی ایسے چونچلے! "

سہیل اسکی جھلاہٹ پر ہنس پڑا 

" میری پیاری ممی.  آپکا دور گزر گیا.  یہ نیوجنریشن ہے. یہ سب کچھ اب ضروری ہے ـ" 

" یہ لو پیسے . پٹرول ڈال لینا. مگر غیر ضروری سڑکیں مت ناپا کرو.  پتہ ہے نا پاپا واپس آگئے ہیں. کفایت شعاری سے گزر بسر کرنی ہے! " اسکی تاکید سن کر سہیل نے منہ بنا لیا...

" افوہ ممی.  اب بس بھی کیجئے.  یہ نہ کرو ، وہ نہ کرو!  بندہ کرے تو کیا کرے!  میں کتنا جی کو مار کر خرچ کرتا ہوں آپ نہیں جانتیں میرے دوست ہزاروں کی پاکٹ منی چٹکیوں میں اڑادیتے ہیں. ! آپ بس مجھے ہی لیکچر دیتی رہتی ہیں! "

اسکا موڈ خراب ہوگیا اور وہ منہ پھلائے کالج روانہ ہوگیا 

ثمینہ بڑ بڑانے لگی

" اسے تو نصیحت کرنا ہی بے کار ہے.  میں بھی کیا کروں....  محدود آمدنی میں 4 بچوں کے   یہ سارے خرچ کیسے پورے کروں ؟ ایک تو اچھی خاصی دوبئی کی ملازمت چھوڑ آئے جناب عالی..... اور یہ 15 ہزار کی ملازمت کرلی. ! "

ڈرائینگ روم کے صوفے پر بیٹھے اخبار کا  مطالعہ کرتے ہوئے شکیل احمد کے دل میں یہ الفاظ تیر کی مانند گڑ گئے.  جب سے وہ دوبئی کی ملازمت سے استعفی دے کر لوٹے تھےاور یہیں ایک کمپنی میں ملازمت کرلی تھی آئے دن انہیں  یہ طعنے سننے پڑ رہے تھے.  دانستہ نادانستہ بیوی بچوں کی باتیں سنکر وہ خود کو انکا مجرم سمجھنے لگتے. انہیں  پتہ نہیں تھا کہ واپسی انکے گھر والوں کو اس قدر ناگوار گزرے گی.  وہ برسوں سے آسائشوں کے عادی ہوچکے تھے اور اب کفایت شعاری انہیں گوارہ نہ تھی . مگر وہ بھی تھک گئے تھے.  20 برس صحرا کی خاک چھانی تھی. کڑی محنت ومشقت ، بیوی بچوں سے دوری.... اور صحت بھی جواب دے رہی تھی. بی پی اور شوگر کے عارضے کے بعد وہ مزید دوبئی میں قیام کی ہمت نہیں کرپارہے تھے.  اسی لئے اس ملازمت کو خیر باد کہکر لوٹ آئے . سیلز مین کی جاب تھی. جتنا کمایا اتنا خرچ بھی ہوجاتا. یہ اطمینان ضرور تھا کہ خوشحالی نہ سہی تنگدستی بھی نہ تھی.  انہوں نے سوچا   کوئی ملازمت یہیں کر لیں گے.  اور اپنوں کے ساتھ رہیں گے.  مگر انکا فیصلہ غلط ثابت ہوا. ایک کمپنی میں ملازمت مل گئی مگر  اخراجات کے لئے 15 ہزار کی سیلری ناکافی تھی. ثمینہ اور بچوں کی ضروریات کا دامن وسیع تھا. وہ محدود آمدنی میں گزارہ نہیں کرپارہے تھے. انہوں نے ٹھنڈی سانس بھری اور پھر سے اخبار پر نظر دوڑائی مگر دل اچاٹ ہوچکا تھا. اخبار ٹیبل پر رکھا اور کچن میں چلے آئے. ثمینہ پکوان میں مصروف تھی. انہیں  دیکھا تو کہا " اگر فارغ ہیں تو سبزی ، گوشت وغیرہ لے آئیں. آٹو کے  کرائے کی بچت ہوجائے گی. میں ابھی نکلنے ہی والی تھی. "

شکیل احمد کا دل چاہ رہا تھا کچھ دیر اس سے بات کریں . مگر اسکی بات سنکر چپ ہوگئے اور بازار چلے گئے  

مہنگائی کا ذکر یوں تو روز ہوا کرتا ہے مگر جب اسکا سامنا کرنا پڑے تو پسینے چھوٹ جاتے ہیں. سبزیوں کے دام سنکر شکیل احمد  کا سر چکرانے لگا. پتہ نہیں  ثمینہ کا بجٹ کیسے یہ سب کچھ برداشت کرتا ہے! 

گھر پہنچے تو چھوٹی سالی نیہاں آئی ہوئی تھی.  شاپنگ کر کے لوٹی تھی.  ڈھیر سارے سوٹس  ثمینہ کو دکھا رہی تھی.  وہیں زارا اور طہورا بھی تھیں.  شکیل احمد نے دیکھا. ثمینہ کے ساتھ ان دونوں کے چہروں پر بھی مایوسی کے سائے تھے. 

" باجی.  بہترین اسٹاک آیا ہوا ہے.  آپ بھی اپنے اور بچیوں کے لئے شاپنگ کرلیں.  ابھی شادیوں کا سیزن شروع ہونے والا ہے اور خاندان میں کئی تقریبات متوقع ہیں. "

ثمینہ نے بجھے ہوئے لہجے میں کہا.. " نہیں ابھی ہم لوگ شاپنگ کے موقف میں نہیں.  وہی پرانے سوٹس پہن لیں گے.  "

" ارے ہاں. میں تو بھول ہی  گئی تھی. بھائی جان لوٹ آئے ہیں نا!  پتہ نہیں کیا سوجھی انہیں.!  اچھی بھلی جاب چھوڑ آئے!  انڈیا میں کیا ملتا ہے ؟چاہے کتنی ہی محنت کرو  وہی 15- 20 ،  ہزار کی سیلری!  " وہ بہن سے ہمدردی جتا رہی تھی.  ثمینہ خاموش رہی. شکیل احمد کو دیکھا اور انکے ہاتھ سے سبزیوں کے پیکٹس لیتے ہوئے کہا " چائے لاتی ہوں " 

نیہاں بھی انہیں دیکھکر سنبھل گئی اور ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگی. مگر شکیل احمد مضطرب ہی رہے.

دو چار دن یونہی گزر گئے.  اس صبح گھر میں ہنگامہ بپا تھا.  نبیل نے گھر سر پہ اٹھا رکھا تھا. کالج کی طرف سے تفریحی ٹور پر لیجایا جارہا تھا. اور  اسے آج ہی 5 ہزار روپئے ٹور کی فیس ادا کرنی تھی.  ثمینہ اسے ٹور پر نہ جانے کو کہہ رہی تھی مگر وہ ضد پہ اڑا ہوا تھا.  " ممی. میرے سب دوست جارہے ہیں. وہ سب انجوائے کریں گے.  ایسے موقع بار بار نہیں آتے. میں نے سب سے کہہ دیا تھا کہ میں بھی آرہا ہوں. اب انکار کرونگا تو سبکی ہوگی.  " " میں سب کچھ سمجھتی ہوں بیٹا مگر 5 ہزار کہاں سے لاؤں ؟" ثمینہ روہانسی ہوگئی.  شکیل احمد کے دل پر ٹیس لگی.  وہ بستر سے اٹھے اور کمرے سے باہر آئے اور نبیل سے کہا 

" بیٹا تم کالج جاؤ. میں ایک گھنٹے میں رقم لے کر کالج آتا ہوں.  فیس جمع کروا دینا! " 

" اوہ. تھینک یو پاپا!  یو آر گریٹ " اسکا چہرہ کھل اٹھا. اور وہ کالج چلا گیا. ثمینہ سوالیہ نگاہوں سے انکی طرف دیکھ رہی تھی. انہوں نے کہا " فکر مت کرو. میں کچھ انتظام کرتا ہوں. " انہوں نے اپنے دوست انور کو فون کیا اور قرض کا مطالبہ کیا. اس نے پہلے تو اپنے اخراجات کی دہائی دی پھر بمشکل احسان جتاتے ہوئے حامی بھری. 

نبیل کے تفریحی ٹور کی فیس ادا کردی گئی مگر انکی عزت نفس کو گہری ٹیس پہنچی. انور کے برے وقت میں انہوں نے کئی بار اسکی مالی مدد کی تھی.  آج پہلی بار انہوں نے اس سے مدد چاہی وہ بھی بطور قرض!  مگر اسکے تیور دیکھکر انہیں جو دکھ محسوس ہوا شاید اسی لئے  قرض کو لعنت کہا گیا ہے.

شکیل احمد حالات کا رخ دیکھکر پریشان ہوگئے تھے. ثمینہ کچھ کہتی نہیں تھی مگر اسکی جامد خاموشی سے انہوں نے بھانپ لیا تھا کہ وہ انکے لوٹ آنے پر خوش نہیں ہے!  

کتنی عجیب بات ہے کہ ضرورتیں اور خواہشیں جذبات واحساسات پر حاوی ہوجاتی ہیں.  ! 

اور پھر آئے دن کی آوازیں انکی سماعت پر ہتھوڑے کی مانند برستی رہیں..... 

" ممی . نیٹ پیک ختم ہوگیا ہے ری چارج کے لئے پیسے چاہئیں !" 

" ممی.  میری دوست کی برتھ ڈے ہے آج. ہم سب کالج میں ہی سلیبریٹ کررہے ہیں.  گفٹ بھی دینا ہے اور کیک وغیرہ کے اخراجات میں بھی حصہ داری ہے. " 

" ثمینہ. کیا بات ہے پارلر نہیں آرہی ہو ؟ فیشل وغیرہ کروانا بھی چھوڑ دیا ہے ؟ " 

" بی بی جی. میری تنخواہ میں اضافہ کرنے کا وعدہ کیا تھا آپ نے ؟" 

" ہاں. لیکن صاحب آگئے نا تو اب ممکن نہیں! " 

" ٹھیک ہے پھر میں بھی اسی وعدے پر کام کررہی تھی. اب اتنی تنخواہ میں نہیں کرسکتی! " ملازمہ کے حتمی لہجے پر ثمینہ کا لہجہ بھیگ سا گیا 

" ٹھیک ہے جیسی تمہاری مرضی.! " 

شکیل احمد نے ملازمہ کے جانے کے بعد کہا " ثمینہ دوسری ملازمہ رکھ لو. تم پر کام کا بوجھ بڑھ جائے گا "

 " اتنے پیسوں میں کوئی کام کرنے کے لئے تیار نہیں. انکے نخرے بہت ہوتے ہیں اور ہم اب افورڈ بھی نہیں کرسکتے!  کرلونگی میں ہی سب کچھ! " ثمینہ کے لہجے میں نادانستہ ہی طنز ابھر آیا. شکیل احمد چور سے بن گئے.

    جیسے جیسے وقت گزرتا رہا انہیں احساس ہوتا گیا کہ انڈیا میں اس قلیل آمدنی میں گزر بسر مشکل ہے. اور بیوی بچے دل مار کر جینے پر مجبور ہورہے ہیں. اسٹیٹس کے مطابق اخراجات بھی ہوا کرتے ہیں.!  مانا کہ خواہشات کی چادر سمیٹ لیں گے مگر ضروریات تو منہ پھاڑے کھڑی تھیں.  

اور ایک شام وہ ثمینہ سے کہہ رہے تھے. 

" ثمینہ. میں کئی دن سے کوشش کررہا تھا. الحمدللہ کامیابی مل گئی. جلد ہی ویزہ آجائے گا. میں پھر سے دوبئی جارہا ہوں! "

 " سچ ؟ ارے واہ چپکے چپکے آپ نے سب تیاری کرلی. بتایا بھی نہیں! "

 وہ خوشی سے چہک اٹھی. بچے بھی فرط مسرت سے جھوم رہے تھے

 " پاپا  خوب سرپرائز دیا آپ نے.  !"

شکیل احمد کا دل تاریک ہوگیا. لبوں پر پھیکی سی مسکراہٹ ابھر آئی. 

 واپسی کاسفر انکے لئے نہایت تکلیف دہ تھا مگر انہوں نے اپنے دل پر پتھر رکھ لیا . ثمینہ اور بچے ہشاش بشاش انہیں ائیر پورٹ تک وداع کرنے آئے تھے.  فلائٹ نے اڑان بھری اور پھر سے صحرا نوردی انکا مقدر بن گئی.


                         ختم شدہ ـ

Comments

  1. Jawed Nehal Hashami27 September 2023 at 13:28

    رخسانہ نازنین صاحبہ کا یہ افسانہ پہلے بھی پڑھ چکا ہوں۔ اس وقت جتنا متاثر کن لگا تھا آج بھی اتنا ہی اثر انگیز محسوس ہوا۔
    تعجب ھے اکثر مبصرین نے اسے "عام سا" "سادہ سا" اور "پامال موضوع" کہہ کر اسے معمولی افسانہ قرار دینے کی کوشش کی ھے۔ جب کہ حقیقت یہ ھے کہ اس کی سادہ بیانی ہی اس کی سب سے بڑی خوبی ھے جو اثر انگیزی میں اہم رول نبھا رہی ھے۔ زبان اتنی رواں دواں اور بہاؤ اتنا فطری کہ قاری ایک ہی نشست میں پڑھ جاتا ھے۔ آخری کا وہ منظر جب وہ خلیج واپسی کی خبر دیتا ھے اور گھر والوں کے چہروں پر بشاشت لوٹ آتی ھے، درد، مجبوری اور بےچارگی کی ایسی عکاسی کرتا ھے جس کے لیے الفاظ کی ضرورت ہی نہیں پڑی کیوں کہ خلیج سے گھر لوٹ آنے پر گھر والوں کے چہروں اور رویّوں سے مترشح خاموش شکایت اور احتجاج نے اس لمحے کے لیے فیلڈ آگے سے ہی پوری طرح تیار کر رکھا تھا۔ گھر والوں کی خوشی گویا اس ex-gratia پیمنٹ کی عکاسی کرتا ھے جو مرنے والے کے پسماندگان کے دکھوں کو کم کرنے کے مقصد سے دیا جاتا ھے۔ انسانی رشتوں کی کشمکش اور جذبات و احساسات پر ضروریات و خواہشات کے حاوی ہو جانے کی بڑی خوبصورت عکاسی کی گئی ھے۔ ابتدا سے اخیر تک روز مرہ کے واقعات اور مڈل کلاس گھروں کے مانوس مکالمے اتنے نیچرل انداز میں بیان ہوئے ہیں کہ نہ کہیں کسی بوریت کا احساس ہوا نہ ہی اثر انگیزی میں کسی کمی کا احساس ہوا۔ افسانے کی ایک خوبی یہ بھی ھے کہ جذبات نگاری کے لیے راست بیانیہ سے زیادہ مکالموں اور اشاروں کنایوں کا سہارا لیا گیا ھے جو اچھے افسانوں کی پہچان ہوا کرتی ھے۔ الفاظ اور جملوں کی فضول خرچی سے بھی اجتناب برتا گیا ھے۔
    ایک شعر:

    *اچھی صورت کو سنورنے کی ضرورت کیا ھے*
    *سادگی میں بھی قیامت کی ادا ہوتی ھے*

    ( *جاوید نہال حشمی*)

    ReplyDelete
  2. افسانہ : واپسی
    افسانہ نگار : رخسانہ نازنین
    تاثرات : رفیع حیدر انجم
    عرصہ گزرا, کسی کو کسی سے کہتے ہوئے سنا تھا کہ کسی طرح گلف کنٹری چلے جاؤ, وہاں بھیک بھی مانگو گے تو لکھ پتی ہوکر لوٹوگے. ہمارے یہاں بہار کے مزدور پنجاب چلے جاتے ہیں اور پنجاب کے لوگ کناڈا. تلاشِ معاش لوگوں کو در در بھٹکاتی ہے اور اسی کے ساتھ دکھ سکھ کی کہانیاں بھی جنم لیتی رہتی ہیں. افسانہ "واپسی " کے موضوع پر اتنی ساری کہانیاں مختلف زبانوں میں لکھی جا چکی ہیں کہ اب اگر کسی کہانی میں کوئی نیا زاویہ نظر نہ آئے تو وہ غیر متاثر کن ہی کہلائے گی. رخسانہ نازنین صاحبہ بیانیہ کے فن میں افسانوی چاشنی کو برتنے کے ہنر سے متصف ہیں اور ان کی اسی ایک خوبی نے مجھے متاثر کیا.

    ReplyDelete
  3. افسانہ - واپسی
    افسانہ نگار - رخسانہ نازنین
    تاثرات - عمران جمیل
    _____________________________________

    افسانہ " واپسی" میں بتائی گئی کہانی جیسی مماثل کہانیاں اگرچہ برسوں سے لکھی جارہی ہیں.. چلئے کوئی بات نہیں ہر رائٹر اپنے گردوپیش میں موجود گھریلو و سماجی موضوعات پر ہی تو لکھے گا نا..رومانوی و نفسیاتی موضوعات پر بھی رائٹرز طبع آزمائی کرہی رہے ہیں... موضوعاتی سطح پر کسی افسانے کی کہانی کا مماثل ہونا یا پامال موضوع پر پھر ایک نیا افسانہ لکھنا میرے نزدیک بالکل بھی قابلِ اعتراض بات نہیں ہے....
    مثال کے طور پر پریم چند کا شہرہ آفاق افسانہ " کفن" کے مادھو اور گھیسو جیسے پچھڑوں کی حالتِ زار پر اور اُن جیسوں کی Opportunistic Greed Psychology پر مبنی سینکڑوں افسانے تَب سے اَب تک لکھے گئے ہیں ایک جیسے موضوع پر لکھے جانے کے باوجود اُن سب میں اُنہی افسانوں کو مقبولیت بھری کامیابیاں ملی ہیں جن افسانوں کی بُنَت میں کرافٹنگ میں، کرداروں کی معاشی حالت و فکری سوچ کے مطابق ادا کراے گئے مکالموں میں، پُرکشش و منفرد اُسلوب میں، ابہام کی خوبصورتی میں، افسانوی فسوں خیزی میں نیز اختتام پر تحیّرخیز بھری خوشی میں قارئین کو مبتلا کیا گیا یا بہ اعتبار مجموعی قارئین کے دل کو چھو لیا گیا ....
    *یہ افسانہ افسانوں کے ذہین قارئین کے دل کو کس درجہ اپیل کرسکا؟؟ کیا یہ افسانہ پڑھنے کے بعد افسانوی لوازمات میں سے کوئی ایک بات قارئین کو کسی نہ کسی درجے میں متاثر کرسکی...!!!*
    " افسانہ واپسی خلیجی ممالک میں یا بیرونی ملکوں میں کام کرنے والے ایشیائی لوگوں کی معاشی ضرورتوں، مجبوریوں و محرومیوں پر لکھے گئے افسانوں میں بَس ایک اور اضافہ ہے .... افسانہ کرافٹنگ کی سطح پر اور اختتامیہ پر متاثر کرنے سے قاصر رہا..."
    عنوان " واپسی " پڑھتے ہی جب ہم پہلے دوسرے پیراگراف پر آتے ہیں وہیں سے *شکیل احمد کا انجام یعنی افسانے کا اختتام سمجھ میں آجاتا ہے* کہ اُسکی ( شکیل احمد کی) بڑھتی عمر کی تکلیفوں کی اور بیماریوں کی اُسکے اپنوں کو ہی کوئی فکر و پرواہ نہیں ہے اَب اُسے ثمینہ و بچوں کی آرام دہ طرز زندگی کی خاطر دُبئی کے لئے پھر سے چاروناچار لوٹنا ہی پڑےگا..
    اہل وعیال کی آسودہ حال زندگی کی خاظر ذاتی خواہشات کو مار کر غریب الوطنی کی زندگی گھسیٹنے والوں کے کرب کو سمجھنے والے کم ہی لوگ ہوتے ہیں.... اکثر معاملات میں شکیل احمد جیسے لوگوں کی قربانیوں پر ثمینہ و اُنکے جیسے بچوں کی خود غرضیوں کو حاوی ہوتے دیکھا گیا ہے..
    افسانہ میں Situation based emotional depth کی کمی بھی مجھے کھٹکتی رہی.... خاتونِ مشرق، بیسویں صدی، گلابی کرن میں لکھے جاتے رہنے والے اُن عام سے افسانوں کی سہل پسندی سے نکل کر تخلیقی کرب سے گذر کر لکھنے کی شدید ضرورت ہے... ( ان میگزین میں نامور ادیبوں کے معیاری افسانے بھی شائع ہوتے رہے ہیں.. )
    فاضل افسانہ نگار کے لئے نیک خواہشات اور عافیت و رحمت بھری دعائیں..
    عمران جمیل. 9325229900

    ReplyDelete
  4. افسانہ:واپسی
    افسانہ نگار:رخسانہ نازنین
    تاثرات:عظیم اللہ ہاشمی (بنگال)
    بالکل عام فہم زبان میں لکھاگیا یہ افسانہ معاصر زندگی کے شب وروز کی ایک ایسی روداد ہے جس میں باپ اپنے گھریلو معاشی کفالت کے بوجھ تلے دب کر سسک رہا ہے لیکن زبان پر حرف شکایت نہیں.آج کے سماجی زندگی میں رشتے ناتے سب کے سب مادیت کے محور پر گردش کرتے ہیں.اس مادی دور میں ضرورتیں اور خواہشیں جذبات واحساسات پر حاوی ہوگئے ہیں.افسانے کو پڑھ کر ایسا ہی محسوس ہوا کہ
    جھوٹے ہیں یہ خون کے بندھن رشتوں کا پیمانہ سکہ...,...نیک خواہشات

    ReplyDelete
  5. شہناز فاطمہافسانہ نمبر :13
    افسانہ :واپسی
    افسانہ نگار :رخسانہ نازنین
    تاثرات :شہناز فاطمہ
    ایک حساس انسان دل پر ایک گہرا تاثرات چھوڑ نے والا افسانہ
    اف! یہ دنیا کتنی مفاد پرست اور خود غرض ہوگئی ہے جہاں "محبت" اپنائیت نہیں صرف دنیاوی آرام و آسائش کی فکر

    "کتنی عجیب بات ہے کہ ضرورتیں اور خواہشیں جزبات و احساسات پر حاوی ہو جاتی ہیں"
    سچی حقیقت ہے کہ اب خون کے رشتوں میں کوئی جان نظر نہیں آتی ہر شخص صرف اپنے مفاد ہی کے بارے میں سوچتا ہے
    آج کے دور کا کھلا چربہ محترمہ رخسار نازنین صاحبہ نے بہت خوبصورتی پیش کیا بالکل سادہ بیانیہ کے ساتھ بہت دل دکھا
    حد ہے ثمینہ تک کو بھی شکیل احمد کا خیال نہیں انکی عزت نفس مجروح ہو مگر ہر شخص اپنے میں مست
    یہی دور زندگی چل رہا ہے
    جب شکیل صاحب نے واپسی کے بارے میں بتایا تو
    "وہ خوشی سے چہک اٹھی اور بچے بھی فرطِ مسرت سے جھوم رہے تھے"
    کیسا لگا ہوگا شکیل صاحب کو کیسا خون سفید ہوگیا ہے رشتوں کا
    اس دلگداز افسانے کے لئے محترمہ رخسانہ نازنین صاحبہ کی خدمت میں نیک خواہشات اور پرخلوص مبارکباد پیش کرتی ہوں

    ReplyDelete
  6. افسانہ : واپسی.
    اظہارِ خیال :فریدہ نثار احمد انصاری.

    فاصلے ویسے کسی بھی حال میں دکھ دے ہی جاتے ہیں. اپنوں سے دوری کبھی درد جان بنتی ہے تو بسا اوقات قربت کو جب آسائشوں کی نظر لگ جاتی ہے تب بھی یہی دوریاں لوگوں کو بھلی بھی لگتی ہیں.اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ *لوگ عالمی سے مقامی بن جاتے ہیں*

    ایسی ہی دوریوں کا ذکر رخسانہ بہن کا مذکورہ افسانہ ہے. قلم کار اپنے اطراف و جوانب سے کئی کہانیاں رقم کر دیتا ہے. ان کی لکھی یہ بات معاشرے کا عینی ثبوت ہے کہ آج کا دور آسائشوں کا دور ہے. وہ والد جو دوریاں سہہ سہہ کر مریض بن جاتا ہے اس کے بچے اس کے وجود کی قدر نہیں کرتے حتی کہ شریک حیات بھی اس کا ساتھ دینے دل سے تیار نہیں ہوتی.

    ہمیشہ کی طرح رخسانہ بہن نے عمدگی سے اپنی بات رکھ کر موضوع سے انصاف کیا. رواں اسلوب کے ساتھ کردار نگاری کا بھی حق ادا کیا.
    میری جانب سے رخسانہ بہن کے لئے نیک خواہشات.

    ReplyDelete
  7. افسانہ : واپسی
    افسانہ نگار : رخسانہ نازنین
    تاثرات : وسیم عقیل شاہ

    راقم رخسانہ نازنین کے اس سے قبل دس سے زائد افسانے پڑھ چکا ہے ـ اپنے ناقص مطالعے کی بنیاد پر یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ موصوفہ نے مختصر افسانہ میں متعدد موضوعات کو برت کر انھیں اچھی فنکاری سے سجایا ہے ـ
    بزمِ افسانہ کی توسط پیش کردہ افسانہ 'واپسی ' کا موضوع اور اس کا کرافٹ بھی معمولی نہیں ہے ـ ایک عام سے موضوع میں سے ایک یونک پہلو کو الگ کر کے افسانہ بنا گیا اور کامیابی سے بنا گیا ـ اس طرز کے تخلیقی ادب کو ایک سیکشن کے طور پر قبول کیا جا رہا جسے بہت سے لکھنے پڑھنے والے 'مہجری ادب ' کہتے ہیں ـ لیکن افسانے کو پڑھیں تو جس طرح عنوان کی سطح پر افسانے کو الٹ کر رکھ دیا گیا ہے بالکل اسی طرح مہجری ادب کے تناظر میں بھی افسانے کا منشا یکسر الٹ ہے ـ
    بہر حال یہ کہہ سکتے ہیں کہ افسانہ اپنی ترسیل میں کامیاب ہے اور افسانہ نگار کا فن بھی اس میں احسن نظر آتا ہے ـ
    لیکن یہ بات غیر منطقی لگی کہ ایک شخص بیس برس گلف میں گزار کر آتا ہے اور اب وطن میں اس کا خانوادہ کاٹ کسر کا شکار ہے، بلکہ کہانی میں بتائے گئے حالات سے تو یوں لگ رہا ہے یہ لوگ کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں ـ دیکھا یہ گیا ہے کہ گلف میں دو چار سال معمولی جاب بھی کرنے والے شخص کے حالات بدل جاتے ہیں ـ یہاں ان حضرت کی تو پورے بیس برس بعد واپسی ہوئی ہے!!! گلف میں بیس برس گزارنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بندے نے اپنے پوتوں تک کا مستقبل سیٹ کر دیا ہے ـ دوسری بات، بیویاں ہر صورت میں شوہر کے ساتھ ہی زندگی گزارنا چاہتی ہیں ، یعنی وہ شادی کے بعد اپنے شوہر سے الگ رہنا قطعاً پسند نہیں کرتیں ـ وہ قطعی نہیں چاہتیں کہ ان کے شوہر مہینوں، سالوں بعد گھر لوٹیں ـ شوہر جب کمانے کے لیے پردیس جاتے ہیں تو بیویوں ہی کے دل پر پہاڑ ٹوٹتے ہیں ـ پھر بھلا ایسا کیوں کر ممکن ہو سکتا ہے کہ بیوی شوہر کے پردیس جانے پر اطمینان کا اظہار کرے ـ
    آخری بات ذکیہ مشہدی صاحبہ کے تبصرے کے حوالے سے کہ یہ افسانہ 'واپسی 'ہندی کی پرسیدھ کتھا کار اوشا پریمودا کی کہانی 'واپسی 'سے ایکدم مماثلت رکھتی ہے ـ یہاں تک کہ دونوں کہانیوں کے عنوان بھی سیم ہی ہیں ـ اس پر انور مرزا صاحب نے بھی وہ کہانی پڑھی اور پایا کہ کرداروں کے نام اور کچھ مکاں و زماں کی تبدیلی کے علاوہ اور کچھ پلاٹ میں رد و بدل کر لینے کے علاوہ دونوں "واپسیاں " سیم سیم ہیں ـ ہم کسی بھی طرح کا الزام رخسانہ نازنین صاحبہ پر لگانے کہ اہل نہیں ہیں لیکن جو حقیقت ہے وہ سامنے ہے ـ یہ اتفاق بھی ہوسکتا کہ ایک طرح کا تھیم دو اذہان میں آجائے!!! وللہ عالم !

    ReplyDelete
  8. رخسانہ نازنین کا افسانہ" واپسی "موضوع کے اعتبار سے بہت پا مال ہے اس نوع کے افسانے اور کہانیاں مبتدی افسانہ نگاروں کی نگارشات میں کثرت سے ملتے ہیں۔ اس کے باوصف افسانہ نگار کی کاوش لائق تحسین ہے۔ انہوں نے نسوانی فطرت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے کہ گھر کی مالکہ کو کن کن حالات سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس حقیقت کا آشکارہ بھی کیا ہے کہ انسان کی غیر ضروری ضرورتوں نے محبت کے رشتوں پر فتح پالی ہے۔ انسان کی قدر زر کی بدولت ہے۔ افسانہ کیاہے بس پاس پڑوس کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ یہ افسانہ بالکل تجسس کی کیفیت سے عاری ہے۔
    شبیرذوالمنان ۔۔۔۔۔ شیب پور ہوڑہ

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

بادِ صبا کا انتظار : سید محمد اشرف

پناہ گاہ: اسرارگاندھی

مسیحائی : ایم مبین (بھیونڈی)