گرتی دیواریں : شفیع مشہدی

 بزمِ افسانہ کی پیش کش 

سترہواں ایونٹ 

رنگ و آہنگ 

افسانہ نمبر : 01 


             *گرتی دیواریں*

                شفیع مشہدی



خلیفہ جی کو محلے کے سارے لوگ جانتے تھے۔ بچے، بوڑھے، مرد عورت سب ہی انھیں خلیفہ جی کہتے۔ ویسے نام تو ان کا علی محمد تھا مگر کوئی انھیں نام لے کر نہیں پکارتا تھا۔ حتی کہ ان کے بیٹے بھی اکثر انھیں خلیفہ جی ہی کہتے تھے۔ جب کوئی بچہ اپنی توتلی زبان میں کھلیپا جی کہتا تو خلیفہ جی عجیب شان بے نیازی سے مسکرا دیتے۔ ویسے نہ تو وہ اکھاڑے کے استاد تھے اور نہ پہلوان۔ پیشے کے اعتبار سے سلائی کا کام کرتے تھے۔ میانہ قد، گھٹا ہوا جسم، سانولا رنگ جو سیاہی سے زیادہ قریب تھا۔ گول چہرے پر چھوٹی چھوٹی گول گول آنکھیں، داڑھی، مونچھ اور سر بالکل صاف، بغیر سلی ہوئی سفید تہہ بند جسے وہ پنجابیوں کی طرح لپیٹے رہتے اور اس پر سفید موٹیا کا کرتا اور دوپلی ٹوپی، یہی تھا خلیفہ جی کا حلیہ۔ سنتے ہیں جوانی میں کشتی بھی لڑتے تھے اور بڑے طرح دار جوان تھے۔ اب بھی کوئی ان کی جوانی اور ان کے معاشقے کی فرضی داستان انہیں یاد دلاتا تو خلیفہ جی کے چہرے پر رنگ آ جاتا اور وہ جلدی جلدی حقہ کا کش لینے لگتے مگر میں نے جب انھیں دیکھا تو وہ جوانی کی سرحد پار کر چکے تھے اور بالوں میں چاندی جھلکنے لگی تھی۔ 

سردیوں میں کبھی جوانی کے دن یاد آ جاتے تو خلیفہ جی کچھا باندھ کر دھوپ میں تیل مالش کرنے لگتے اور ہم لوگوں کو اشتیاق سے دیکھتے پاکر دو چار بیٹھکیں بھی لگا دیتے۔ گرچہ ان کی سانس پھولنے لگتی مگر گردن فخر سے تنی رہتی اور چہرے پر ایسا جلال رہتا جیسے کہہ رہے ہوں، 

’’اب کیا دیکھتے ہو۔ تم نے میری جوانی تو دیکھی ہی نہیں، جب شانے پر مکھی نہیں بیٹھتی تھی۔‘‘ 

وہ ہمارے مکان کے سامنے گلی کی دوسری طرف مٹی کے کھپڑے پوش مکان میں رہتے تھے۔ بیوی سے روز جھگڑا کرنا ان کے معمول میں تھا۔ دو بیٹے بھی تھے جنھیں وہ ناکارہ، آوارہ، لفنگا جیسے القاب سے نوازتے تھے۔ البتہ دوسروں کے سامنے ان کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیا کرتے تھے۔ انھیں اس بات کا بڑا غم تھا کہ ان کے بیٹے سب جا ہل رہ جائیں گے جب کہ وارث علی استاد سے انھوں نے عم پارہ اور قواعد بغدادی پڑھی تھی۔ اور اپنے عربی داں ہونے پر فخر بھی تھا جس کا اظہار وہ اکثر کیا کرتے تھے۔ 

پتہ نہیں خلیفہ جی رات کو سوتے بھی تھے یا نہیں کیوں کہ میں جب تک جاگتا رہتا ان کے کھانسنے یا بیوی سے جھگڑا کرنے کی آواز آتی رہتی اور جب صبح نیند ٹوٹتی تو خلیفہ جی کی لہک دار آواز سنائی دیتی۔ 

’’میرے مولا بلا لو مدینے مجھے 

جسے وہ بڑی عقیدت سے ایک مخصوص لے میں الاپتے رہتے، دو تین الاپ کے بعد کچھ وقہ۔ ہو جاتا اور میں سمجھ جاتا کہ یقیناً اس وقفے میں وہ اپنے ناریل کے حقے سے تمباکو کے کش لے رہے ہوں گے۔ دو تین کش لے کر وہ تازہ دم ہو جاتے اور پھر ان کی آواز ابھر آتی۔ 

’’سلام اے آمنہ کے لال اے محبوب سبحانی۔‘‘ 

اسی بیچے میں محلے کا کوئی شریر لڑکا ان کے آنگن میں لگے بیر کے درخت پر ڈھیلا پھینک دیتا اور وہ موٹی سی گالی دیتے ہوئے بھول جاتے کہ ابھی ابھی وہ سلام پڑھ رہے تھے۔ دراصل ان کے آنگن کے بیر کا درخت ان کے لئے بلائے جان تھا۔ ویسے تو بیر ایسی ترش تھی کہ ایک بیر منہ میں ڈال دینے سے سارے دانت کھٹے پڑ جاتے مگر خلیفہ جی نے سارے محلے کے لڑکوں سے اس کے لئے بیر مول لے رکھی تھی۔ روزانہ ڈھیلے گرتے اور خلیفہ جی بلا تکلف موٹی، بھدی بھدی گالیوں کی بوچھار کر دیتے جنھیں سن کر ہماری آیا بہوڑن بوا، منہ بسور دیتیں اور جل کر بول اٹھتیں۔ 

’’ای کھلیپا، کت٘ا گالی بکے ہے۔‘‘ مگر بہوڑن بوا کی نحیف آواز خلیفہ جی کی لہک دار آواز میں دب کر رہ جاتی جو پھر اسی عقیدت سے گانا شروع کر دیتے۔ 

’’سلام اس پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں۔‘‘ 

نو بجتے بجتے وہ سلائی کے کپڑوں کی گٹھری اپنے بڑے لڑکے کے سر پر رکھ کر ہر کس و ناکس کی خیرت دریافت کرتے، مزاج پوچھتے اور سلام علیکم، وعلیکم سلام، جیتے رہو، خوش رہو کی گل افشانی کرتے ہوئے بازار کا رخ کر لیتے، جہاں تھانے والے پیر صاحب کی مزار کے صحن میں ان کی سلائی کی زنگ خوردہ مشین ان کا انتظار کرتی رہتی تھی۔ وہ چونکہ پرانے ڈھنگ کے ہی کپڑے سینا جانتے تھے اس لئے ان کے گاہکوں میں زیادہ تر دیہات کے مزدور طبقہ کے لوگ ہی تھے۔ جو بنڈی، کرتا اور مرزئ وغیرہ سلواتے تھے۔ مگر خلیفہ جی کا خیال تھا کہ ان سے اچھا درزی ابھی تک شہر میں پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔ 

محلے کے سبھی لوگ ان کا لحاظ کرتے تھے۔ جس کی وجہ شاید ان کی صاف گوئی، اور ان کا خلوص تھا جو سب کے لئے یکساں تھا۔ معاملہ کسی کا ہو، جھگڑا کسی کا ہو، خلیفہ جی بن بلائے فیصلہ کرنے کو تیار ہو جاتے اور فیصلہ بھی اس شان سے کرتے کہ خود مرنے مارنے کو تیار ہو جاتے۔ چارو نا چار لوگ ان سے جان چھڑانے کی غرض سے عارضی طور پر ہی سہی مگر صلح کر لیتے اور خلیفہ جی عجیب فاتحانہ انداز سے سبھوں کو نصیحت کرتے اور اپنے گھر آ جاتے۔ ویسے جائے وقوع سے گھر آنے تک جو بھی راہ میں ملتا اسے وہ بتانا نہ بھولتے کہ وہ ابھی ابھی کلوٹ قصاب اور صاحب جان کا جھگڑا ختم کروا کر آ رہے ہیں ورنہ ’’لہاش‘‘ گر جاتی، ’’لہاش‘‘ وہ لاش کی اہمیت بڑھانے کے لئے ہی کہتے ہوں گے.... ویسے وہ اپنی برادری کی چٹائی کے چھڑی دار بھی تھے۔ اور اپنے منصب پر بہت نازاں تھے اکثر ہم انھیں چھیڑنے کے لئے کہتے۔ 

’’خلیفہ جی آپ کیسے چھڑی دار ہیں کہ آپ کے ہاتھ میں چھڑی تک نہیں۔‘‘ تو وہ ہنس کر کہہ دیتے۔ 

’’بابو لوگ مجاک کیجئے ہے.... آپ کے اب٘ا سے کہہ دیں گے۔ ہم تو پنچایت کے چھڑی دار ہیں۔ آپ جانتے ہیں ہم بھی مجس ٹیٹ ہیں۔‘‘ اور ان کے چہرے پر آسودگی کے نقوش بکھر جاتے۔ 

خلیفہ جی کی آمدنی واجب ہی واجب تھی۔ مگر دال روٹی مزے میں چل جاتی تھی۔ اور وہ بڑی آسودہ زندگی گذار رہے تھے۔ اکثر ان کے سکون قلب اور ان کی آسودگی پر ہمیں رشک آتا تھا مگر اس کے باوجود وہ بلا کے خود دار تھے۔ کیا مجال جو کبھی کسی کے آگے ہاتھ پھیلایا ہو یا کسی سے کچھ مانگا ہو۔ ہمیشہ دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہوتے اور ہاتھ بٹاتے۔ محلہ کی ہر خوشی اور غمی میں وہ برابر کے شریک ہوتے خاص کر محلہ میں جتنی بھی موت ہوتی ان کا کفن سینا خلیفہ جی کا فرض تھا۔ خبر ملتے ہی بن بلائے قینچی لے کر پہنچ جاتے۔ چٹائی پر بیٹھ کر کفن سیتے جاتے اور مرنے والے کی خوبیاں بیان کرتے جاتے۔ پھر کفن لے کر قبرستان تک سارے رسوم اپنی نگرانی میں کرواتے اور کہتے جاتے کہ ’’شریت میں ایسے ہی ہونا چاہئے‘‘ اکثر سارا دن کفن سینے ہی میں لگ جاتا اور جب خالی ہاتھ گھر لوٹتے تو گھر کی ہنڈیا الٹ جاتی۔ بچے بھوک سے رونے لگتے تو بیوی جل کر بول اٹھتی۔ 

’’سارا دن کفن سینے میں برباد کر دئیو... اب کھرچی کہاں سے لاؤں، میرے پ٘لے تو پھوٹی کوڑی نہیں...‘‘ تو خلیفہ جی سمجھانے لگے۔ 

’’اری پگلی! کھرچی نہیں تو کیا ہوا پانی پی کر سو جائیں گے۔ کفن سینے میں تو ثواب کماتے ہیں۔ اللہ میاں آخرت میں بدلہ دیں گے۔‘‘ اور پھر رک کر کہنے لگتے۔ 

’’تو کیا جانے... حدیث قرآن پڑھا ہے کبھی۔ جاہل کہیں کی۔‘‘ 

خلیفہ جی ایسے موقعوں پر اپنی علمیت کا رعب ضرور جھاڑتے۔ مگر روتے ہوئے بچوں کو دیکھ کر بیوی جل کر بول ٹھتی ’’ثواب کماؤ۔ مگر کفن کی سلائی کیوں نہیں لیتے۔ آخر کھائیں گے کیا۔‘‘ 

اور اتنا سن کر خلیفہ جی آگ بگولہ ہو جاتے۔ چہرہ سرخ ہو جاتا اور کڑک کر چلانے لگتے۔ 

’’کم بخت ہم کو کفن کا سلائی لینے کو کہتی ہے۔ ہم کوئی فقیر ہیں کیا۔ خبردار جو کبھی ایسا حرف زبان پر لایا۔ زبان کھینچ لوں گا۔‘‘ 

انھیں ایسا لگتا جیسے بیوی نے انھیں کوئی غلیظ سی گالی دے دی ہے اور وہ غصے سے پاگل ہو جاتے۔ بے چاری گھبرا کر جلدی سے خلیفہ جی کے آگے حقہ بڑھا دیتی۔ حقہ جو خلیفہ جی کی کمزوری تھا۔ پل بھر میں غصہ کافور ہو جاتا وہ جلدی جلدی تمباکو کا کش لینے لگتے۔ جیسے سارا غصہ حقہ پر ہی اتار دیں گے۔ بیوی بھی سوچ کر نادم ہو جاتی کہ اس نے ایسا کیوں کہہ دیا۔ بھلا کفن کی سلائی کے پیسوں سے وہ اپنے لاڈلوں کو کھلائے گی اور نہ جانے کیا سوچ کر وہ بیٹے کو گود میں سمیٹ لیتی۔ 

تعلیم اور ملازمت کے سلسلے میں کافی عرصہ تک باہر رہنے کے بعد جب میں پچھلے ماہ گھر لوٹا تو بہت سی تبدیلیوں کو دیکھ کر چونک گیا۔ رام دھنی حجام نے مٹی کا مکان توڑ کر پختہ مکان بنوا لیا تھا۔ ننھک ساؤ نے جس کی دکان میں تیل کی ڈبیا جلتی رہتی تھی اب بجلی لگالی تھی۔ رؤف صاف پیش کار کا مکان گر چکا تھا۔ احمد صاحب مختار کا مکان بک گیا تھا اور امین صاحب کی ڈیوڑھی گر گئی تھی۔ رفیق قصاب کے مکان میں مرکری ٹیوب لگ گیا تھا۔ اور ہر وقت زور زور سے ریڈیو بجتا رہتا تھا۔ اورنگ زیب کے عہد میں بنی ہوئی شاہی مسجد میں لوگوں نے چندہ کر کے بجلی اور پنکھا لگوا دیا تھا مگر نمازیوں کی تعداد صفر کے برابر ہو گئی تھی اور بے چارے پیش امام صاحب اکثر بغیر مقتدی کے نماز پڑھتے تھے۔ مگر سب سے زیادہ دکھ خلیفہ جی کو دیکھ کر ہوا... ان کی بیوی مر چکی تھی۔ دونوں لڑکے شادی کر کے اپنا اپنا گھر بسا چکے تھے اور خلیفہ جی کی خبر بھی نہ لیتے تھے۔ مکان کی چہار دیواری اور ایک کوٹھری گر گئی تھی اور صرف ایک کوٹھری سلامت رہ گئی تھی۔ جس کی دیوار میں دراڑیں پڑ گئی تھیں۔ برسات کے دنوں میں چھپر سے اس قدر پانی ٹپکتا تھا کہ کچی زمین تالاب بن جاتی۔ آنگن میں لگا ہوا بیر کا درخت خلیفہ جی کی زندگی کی طرح جھلس کر رہ گیا تھا۔ 

خلیفہ جی وقت سے پہلے بوڑھے ہو چکے تھے۔ نئے فیند کے کپڑے سینا خلیفہ جی کے بس کی بات نہ تھی۔ نئی ہوا چلی تو کارو بار ٹھپ ہو گیا۔ اب تو دیہات کے لوگ بھی بنڈی کی بجائے ڈبل کف کی قمیض اور مرزئ کی بجائے بش شرٹ پسند کرنے لگے، راج مزدور، رکشا والے، قلی، سبھی فلائنگ شرٹ پہننے میں فخر محسوس کر تے تھے۔ نہ پرانے طرز کے کپڑے لوگوں کو پسند تھے نہ خلیفہ جی کی پرانی ڈھنگ کی سلائی۔ اس پر گرانی نے قیامت ڈھائی۔ لاٹھی کی مار آدمی سہہ سکتا ہے مگر بھوک کی مار سے تو ہاتھی بھی زمین دھر لیتا ہے۔ خلیفہ جی تو آدمی ہی تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے چار پائی دھر لئے۔ بیوی نے خون تھوک تھوک جان دے دی۔ بچے نالائق نکل گئے اور گٹھیا نے خلیفہ جی کی کمر توڑ دی۔ بینائی کمزور ہو گئی اور تھانے والے پیر صاحب کی مزار تک جانا بھی دوبھر ہو گیا۔ دن رات نیم تاریک کوٹھری میں پڑے رہتے۔ کبھی کبھی سلائی کا کام مل جاتا تو دھیرے دھیرے اپنی زنگ آلود مشین پرسی لیتے۔ ورنہ بیٹوں کے ٹکڑوں کے محتاج بنے، چار پائی پر پڑے اللہ اللہ کرتے رہتے۔ محلے والے بھی گویا انھیں بھول ہی گئے تھے فرصت کسے تھی اپنے کاروبار سے جو خلیفہ جی کی جوانی یاد کرتا۔ 

میں نے چاہا کہ خلیفہ جی کی کچھ مالی مدد کروں مگر ان کی خود داری کا خیال آتے ہی ہمت پست ہو گئی۔ پھر بھی ان سے ملنے چلا گیا۔ آواز دی تو تاریک کوٹھری سے آواز آئی۔ 

’’کون ہے؟‘ خلیفہ جی کی آواز کافی کمزور تھی۔ 

’’میں ہوں خلیفہ جی شفّو۔‘ میں نے اپنے بچپن کے نام سے تعارف کرایا کہ شاید یاد ہو۔ 

’’کون چھوٹے بابو... آ جائیے۔ اللہ آپ کو خوش رکھے.... کب آئے؟‘‘

وہ مجھے دعائیں دینے لگے۔ میں کوٹھری میں داخل ہوا تو خلیفہ جی ایک ٹوٹی ہوئی چار پائی پر پڑے تھے۔ ٹوٹی ہوئی دیوار سے دھوپ کی پتلی سی لکیر خلیفہ جی کے جسم کو دو حصوں میں بانٹ رہی تھی۔ کثیف سا بستر تھا۔ جسم پر کرتے میں بے شمار پیوند لگے تھے۔ پھر بھی ان کی سیاہ جلد کرتے سے جھانک رہی تھی۔ ایک ٹوٹی سی صراحی کے بغل میں ان کا پرانا حقہ کس مپرسی کے عالم میں پڑا ہو اتھا۔ کونے میں ان کی پرانی زنگ خوردہ مشین گردوں میں اٹی پڑی تھی۔ خلیفہ جی کو دیکھ کر مجھے جھٹکا سالگا۔ وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ معلوم ہو رہے تھے۔ آنکھیں اندر کودھنس گئی تھیں جنھیں دیکھ کر خوف سا محسوس ہو رہا تھا۔ 

’’کیسے ہیں خلیفہ جی۔‘‘ میں نے ہمدردی سے پوچھا تھا مگر جیسے خلیفہ جی کے زخموں پر نمک کا چھڑکاؤ ہو گیا۔ وہ بلبلا اٹھے۔ 

’’کیا پوچھتے ہو بابو۔ یہ دنیا بہت کھراب ہے۔ بھائی بند بیٹا، بیٹی، کوئی کسی کا نہیں ہوتا۔ آدمی سے اچھی تو یہ لوہے کی مشین ہے بابو جو میرا ساتھ دے رہی ہے۔‘‘ 

میں نے مشین کی طرف دیکھا جو واقعی خلیفہ جی کا ساتھ دے رہی تھی۔ خلیفہ جی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے جسے ا ن کی خود داری نے چھلکنے نہ دیا اور وہ پھر بول اٹھے۔ 

’’خلیفہ مر چکا ہے۔ ہم تو اس کی لاش ہیں لاش....‘‘ 

خلیفہ جی واقعی ایک لاش تھے ایک ایسی زندہ لاش جسے دیکھ کر میں کانپ اٹھا۔ ان کی خود دار آنکھوں میں بلا کا کرب نمایاں تھا۔ میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ شبراتی میاں کے پوتے نے آکر اطلاع دی۔ 

’’کھلیپا جی... دادا مر گیا۔ کفن سینے کو بلایا ہے۔‘‘ اور یہ کہہ کر وہ چلا گیا میں شبراتی میاں کے متعلق سوچنے لگا جو خلیفہ جی کے بچپن کے گہرے دوست اور رشتہ دار بھی تھے۔ دونوں میں گاڑھی چھنتی تھی۔ فرق یہ تھا کہ شبراتی میاں کے بیٹے نے کپڑے کی دکان اور رکشا کی آمدنی سے دولت جمع کر لی تھی اور شبراتی میاں کو آرام و آسائش سے رکھتا تھا۔ مگر خلیفہ جی نیم تاریک کوٹھری میں زندہ لاش کی صورت پڑے تھے۔ میں نے سوچا کہ بچپن کے دوست کی موت سے خلیفہ جی کو گہرا صدمہ پہنچا ہوگا اور مجھے اس لڑکے پر غصہ آنے لگا جس نے اچانک خلیفہ جی کو ایسی المناک خبر سنا دی۔ مگر دوسرے ہی لمحہ میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب میں نے خلیفہ جی کے چہرے پر ایک عجیب سی آسودگی اور ان کی اداس آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک دیکھی۔ میں کچھ سمجھ نہ سکا۔ وہ جلدی سے اٹھے اور قینچی وغیرہ لے کر لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے چل پڑے جیسے جلد از جلد وہاں پہنچ جانا چاہتے ہوں۔ 

میں سوچنے لگا کہ اتنا کچھ ہونے پر بھی خلیفہ جی کی وضع داری اور رواداری میں کوئی فرق نہیں آیا ہے اور آج بھی وہ اسی انہماک سے دوسروں کے غم میں شریک ہوتے ہیں۔ خلیفہ جی کی وقعت میری نگاہوں میں اور بڑھ گئی۔ کتنا عظیم ہے یہ شخص۔ مگر دوسرے لمحہ شبراتی میاں کی موت کی خبر سے خلیفہ جی کے چہرے پر پیدا ہونے والی آسودگی اور آنکھوں کی چمک ایک سوالیہ نشان بن کر میرے سامنے کھڑی ہو گئی اور میں اس کا مفہوم نہ سمجھ سکا۔ 

شام کو میں شبراتی میاں مرحوم کی تعزیت میں ان کے گھر پر گیا تو تجہیز و تکفین ہو چکی تھی۔ اور سارے لوگ واپس جا چکے تھے۔ میں نے دیکھا کہ خلیفہ جی ہاتھ میں سفید نیا لٹھے کا ٹکڑا لئے جانے کو تیار کھڑے ہیں۔ معاً میرے ذہن کو دھچکا سا لگا۔ یقیناًیہ سفید کپڑا کفن کا بچا ہوا حصہ تھا۔ میری آنکھوں کو یقین نہ آیا مجھے ایسا لگا جیسے خلیفہ جی کے ہاتھوں میں سفید لٹھا نہیں ہے بلکہ کوئی لاش اپنا کفن ہاتھوں میں لئے کھڑی ہے۔ 

خلیفہ جی محجوب کھڑے سے تھے کہ شبراتی میاں کے لڑکے نے آواز دی۔ ’’خلیفہ جی سلائی لیتے جائیے—‘‘ اور یہ کہتے ہوئے ایک ایک کے دو نوٹ اس نے خلیفہ جی کی داہنی ہتھیلی پر رکھ دئیے۔ 

خلیفہ جی کا ہاتھ کانپ گیا۔ ان کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ میں نے سمجھا کہ ابھی ابھی وہ یہ روپئے شبراتی میاں کے لڑکے کے منہ پر دے ماریں گے جس نے خلیفہ جی کو ایک غلیظ سی گالی دی تھی—————— مگر دوسرے ہی لمحہ خلیفہ جی کر گرفت روپیوں پر مضبوط ہو گئی اور میں سوچنے لگا کہ حقیقت میں آج کس کی موت ہوئی تھی—؟

                    ختم شدہ ـ

Comments

  1. گرتی دیواریں سادہ بیانہ اسلوب میں لکھا گیا کردار کا افسانہ ہے۔اس کردار کی خوبیوں کو اجاگر کرتے کرتے افسانہ نگا ر جب کلائمکس پر پہنچتا ہے اس وقت کردار کی اصلی صورت مسخ ہوجاتی ہے جس کے باعث axisپر کردار کا جو گراف اوپر اٹھا ہے وہ اختتام پر نیچے گرتا ہے۔ایسا غریبی اور مجبوری کی وجہ سے ہوا ہے۔یہی مجبوری احمد ندیم قاسمی کا افسانہ "الحمد اللہ" میں مولوی صاحب کو اپنے محسن کی موت پر بیوی سے یہ کہنے پر مجبور کرتی ہے کہ منے کی اماں اللہ نے سبیل پیدا کردی ہے ۔جنازہ پڑھائی کی رقم سے منے کی چولی اور چنری کا انتظام ہو جاے گا۔۔۔۔افسانہ پر اثراور پردرد ہے جس نے اعصاب کو جھنجھوڑ دیا ۔نیک خواہشات۔۔۔۔۔عظیم اللہ ہاشمی. (بنگال)

    ReplyDelete
  2. Dr Reyaz Tawheedi Kashmiri3 September 2023 at 21:42

    افسانہ'' گرتی دیواریں
    تجزیہ: ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری
    شفیع مشہدی صاحب کافی عرصے سے افسانے لکھتے ہیں۔ ان کی تھوڑی بہت شاعری بھی نظروں سے گزری ہے۔ جیسے ایک شعر کچھ اس طرح سے ہے:
    ہر ایک ہاتھ میں پتھر تھے میں نشانہ تھا
    گنہگار وہاں اور کوئی تھا بھی نہیں
    ان کے کئی افسانے مجھے پسند ہیں جیسے :کرچیاں۔۔ شونارہرین۔۔۔ طوطے کا انتظار۔۔۔ وغیرہ۔
    افسانہ نگاری میں سب سے اہم بات دیکھنے کی یہ ہوتی ہے کہ افسانہ یا افسانے پڑھ کر یہ احساس ہو جائے کہ واقعی افسانہ نگار فن افسانہ سے واقف ہیں۔ اور شفیع مشہدی صاحب کے افسانے یہ احساس ضرور دلاتے ہیں کہ وہ افسانہ بننے اورکہانی پیش کرنے میں ماہرانہ عبور رکھتے ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہر افسانہ اپنی تکنیک جیسے خود پیدا کرتا ہے وہ ایسے کہ جب افسانہ نگار افسانہ شروع کرتا ہے توکبھی کبھار واقعہ یا کہانی بڑھنے کے ساتھ ساتھ تکنیک بھی بدل جاتی ہے۔ تاہم کئی لوگ تکنیک کے پیش نظر ہی افسانہ مکمل کردیتے ہیں۔ یہ افسانہ بھی تکنیکی طور پر پلاٹ میں تبدیلی کرتا دکھائی دے رہا ہے وہ ایسے کہیں پر خاکہ نگاری کی تکنیک ابھر رہی ہے 'کہیں پر روداد نما اسلوب سر اٹھا رہا ہے اور کہیں پر افسانوی برتاؤ کہانی کا ساتھ دے رہا ہے۔ انجام کے بعد مجموعی طور پر ایک افسانے کا ہی تاثر سامنے آتا ہے۔ فنی طور پر اسے کمزوری بھی کہہ سکتے ہیں اور افسانوی طور پر خوبی بھی۔ کیونکہ آخر پر بہرحال ایک کہانی سامنے آتی ہے۔
    ابتدا میں راوی خلیفہ جی کا خاکہ پیش کرتا ہے'پھر روداد اور آخری حصہ پلاٹ کو افسانوی رنگ دے رہا ہے۔ یہ تھی تکنیکی اور فنی باتیں۔
    اب موضوع اور کردار نگاری پر توجہ دیں تو کردار نگاری کے پیش نظر یہ کرداری افسانہ کہلائے گا کیونکہ افسانہ نگار نے سماج کے ایک مانوس کردار کی کہانی پیش کی ہے اور موضوع بدلتی قدریں 'ماحول اور تبدیلیاں وغیرہ۔ افسانہ نگار نے ہر چیز کو کردار کے درد وکرب اور مجبوری میں ظاہر کردیا ہے۔
    مجموعی طور پر افسانہ حقیقت کو کہانی بنا رہا ہے جو کہ مشایدات و تجربات کی فنی عکاسی پر مبنی ہے۔
    کبھی کبھار انسان کہانی کو حقیقت کے قریب پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے یعنی تخیلی طور پر کوئی کہانی شروع کی پھر وہ سماج یا زندگی کے کسی پہلو سے جوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی کسی حقیقی واقعہ کو ہی پیش نظر رکھ کر کہانی بنی جاتی ہے اورمیں سمجھتا ہوں کہ یہ افسانہ بھی حقیقت کو کہانی کے روپ میں ڈھالنے کی غمازی کرتا ہے۔ ویسے بھی ایک جگہ شفیع مشہدی صاحب اپنے افسانوں کی تخلیق سے متعلق لکھتے ہیں کہ:
    "میری کہانیاں (نوے فیصد) میرے ذاتی مشاہدے کا نتیجہ ہے۔ "
    تو یہ افسانہ بھی ذاتی مشاہدے کا نتیجہ ہی لگتا ہے۔
    کرداری سطح پر اچھا افسانہ ہے اور عام قاری کے لئے دلچسپ بھی۔ البتہ اس میں صرف واقعہ یا واقعات کو زیادہ تر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور فنی رنگ روغن کم ہی نظر آتا ہے۔ پھر بھی گرتی دیواریں کے مطابق بہرحال افسانہ اپنا درد بھرا تاثر چھوڑ جاتا ہے۔۔۔۔کیونکہ اس میں کردار کے پیش نظر گرتی تہذیبی اقدار اور ثقاقتی لگاؤ کے مٹتے نقوش واضح طور پر نظر آرہے ہیں۔
    شفیع مشیدی صاحب کے لئے مسکراہٹ

    ReplyDelete
    Replies
    1. افسانہ : گرتی دیواریں
      افسانہ نگار : شفیع مشہدی
      تاثرات : رفیع حیدر انجم
      فکشن کی دنیا میں شفیع مشہدی وہ نام ہے جن سے افسانوی ادب کی آبرو قائم ہے. ان کے افسانے معاشرتی جراحی کا فریضہ انجام دیتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں جس میں بیانیہ کا شفاف فنکارانہ التزام, کردار کی تحلیل نفسی, زمان و مکان کا نظم و ضبط, زبان کا خلاقانہ برتاؤ اور وقوعوں کا منطقی ظہور قاری کو اپنی گرفت میں لئے چلتا ہے.
      "گرتی دیواریں " افسانہ اپنے عنوان سے ہی معنی خیزی کا پہلا تاثر قائم کرتا ہے. اس افسانہ میں معاشرتی اقدار کی دیوار یکلخت نہیں گری ہے بلکہ یہ تیزی سے بدلتے ہوئے وقت کے بہاؤ کے ساتھ تھوڑی تھوڑی گرتی گئی ہے اور اپنے اختتام پر پوری طرح سے منہدم ہو گئی ہے. ہمارے معاشرے میں خلیفہ جیسے عام انسان اگر قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں تو اس کی ایک بڑی وجہ ان کا بااصول ہونا ہے. یہ خود ساختہ اصول کسی کے لئے تضحیک اور کسی کے لئے قابلِ رحم ہو سکتا ہے مگر ایسے اصول ہی انہیں جینے کا حوصلہ عطا کرتے ہیں. علی محمد نام کا شخص محلے میں خلیفہ کے طور پر جانا جاتا ہے. درزیوں کو خلیفہ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا رہا ہے. خلیفہ ہمارے معاشرے کا ایک جانا پہچانا کردار ہے. یہ ہمارے آس پاس ہی ہوتے ہیں جو شفیع مشہدی جیسے تخلیق کار کے افسانے میں ڈھل کر خاص ہو جاتے ہیں اور قاری اس خلیفہ کے باطن سے آشنا ہوکر حیران رہ جاتا ہے اور مغموم بھی. علی محمد خلیفہ کفن سینے کی اجرت نہیں لیتا تھا. وہ اسے کارِ خیر سمجھتا ہے. یہ اس کا اصول تھا اور اس اصول سے اس کی عقیدت جڑی ہوئی ہے. وہ اسے ثواب کا کام سمجھتا ہے. اسے یقینِ کامل تھا کہ اس کا اجر اسے تب ملے گا جب وہ بعد الموت اللہ کے دربار میں حاضر ہوگا. اس اصول کے لئے اسے اور بیوی بچوں کا بھوکا رہ جانا پسند تھا. مگر جب وہ ناتواں ہو جاتا ہے, بچے اس کی نگہداشت نہیں کرتے, پرانے طرز کے پہناوے ناپسندیدہ ہو جاتے ہیں, اس کا کاروبار ٹھپ ہو جاتا ہے اور وہ دنیا ہی میں موت سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتا ہے تو اس کے لئے ثواب, اجر اور نیکی کی کوئی معنویت نہیں رہ جاتی. اس کا عقیدہ اور اصول پیچھے چھوٹ جاتا ہے کہ سوال زندہ رہنے کا تھا. زندہ رہنے کے لئے کفن سینے کا ہنر ہی اس کے ساتھ تھا خواہ یہ کفن اسے اپنے دوست کے لئے ہی کیوں نہ سینا پڑے. افسانہ اپنے اختتام پر قاری کو گہری اداسی کے ساتھ تفکر کے بھنور میں لے جاتا ہے اور یہی ایک کامیاب افسانے کی خوبی ہوتی ہے. ***

      Delete
  3. افسانہ :گرتی دیواریں
    اظہارِ خیال :فریدہ نثار احمد انصاری.

    زندگی کے مختلف ادوار کی کہانی پر محیط عمدہ افسانہ.
    خلیفہ جی کی شخصیت کی کردار نگاری ایسی کی گئی مانو وہ ہمارے سامنے آگئے ہوں.

    پرانے دور کے اقدار کی سسکتی سانسوں نے "گرتی دیواریں" عنوان کے ساتھ انصاف کیا.

    اختتام نہایت کربناک کہ آخر انسان حالات کے ہاتھوں کس قدر مجبور ہو جاتا ہے.

    قلم کار کو کامیاب افسانے کے لئے مبارک باد.

    ReplyDelete
  4. افسانہ : گرتی دیواریں
    افسانہ نگار : شفیع مشہدی
    اظہارِ خیال : نگار عظیم
    نےء ایونٹ کا آغاز شفیع مشہدی صاحب کے افسانے سے ہوا اس کے لئے مشہدی صاحب اور اراکین بزم کو دلی مبارکباد
    گرتی دیواریں جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے زندگی کی شکست و ریخت، سماجی اور تہزیبی تنزلی اور تیزی سے بدلتا منظر نامہ اس طرح پیش کیا ہے جیسے کسی گھر کی دیواروں سے آہستہ آہستہ اینٹں گرتی رہیں اور وہ اپنی خستہ حالی کو پہنچ جاےء یہ گرتی دیوایں کسی ایک گھر کی نہیں ہیں ہمارے سماج کی ہیں اس کے علاوہ خلیفہ جی کی زندگی پر غور کریں تو یہ ایک کرداری افسانہ محسوس. ہوتا ہے افسانہ نگار نے خلیفہ کا بہت محنت لگن اور باریکی سے جائزہ لیا ہے بیان میں قلمکار خود بھی شامل. ہو جاتا ہے - افسانے کا اختتام موت اور کفن پر ہوتا ہے یہ موت دراصل اس دادا کی نہیں جس کی خبر لڑکا لایا ہے یہ موت ہمارے سماجی اقدار کی موت ہے اس سماج کی مات ہے جہاں ہر کوئی ننگا ہے خود قلمکار بھی اس میں شامل ہے جو خود کو یہ کہ کر تسلی دے لیتا ہے کہ خلیفہ خوددار ہے اسکی مدد قبول نہیں کرے گا - افسانے سے کچھ باتیں حذف کی جا سکتی ہیں جس سے افسانے کی بنت مزید بہتر ہو سکتی ہے بہر حال ایک نامور منجھے ہوےء ماہر قلمکار شفیع مشہدی صاحب کے افسانے پر تنقید کرنے کی جرآت مجھ میں نہیں سواےء اس کے کہ سماجی سروکار پر غور و فکر کی دعوت دیتے اس افسانے پر مبارکباد پیش کروں افسانے کی زبان و بیان سے کچھ سیکھوں افسانے علامتی عنوان "گرتی دیواریں" بہت مناسب اور قابل تعریف ہے ہے - اللہ مشہدی صاحب کا سایہ تا دیر ہمارے سروں پر قائم رکھے آمین فورم کے تمام اراکین کو دلی مبارکباد شکریہ
    نگار عظیم

    ReplyDelete
  5. افسانہ: گرتی دیواریں
    افسانہ نگار: شفیع مشہدی
    تاثرات : محمد علی صدیقی

    بدلتے وقت نے
    بہت سی دیواریں گرائی ہیں۔
    یہاں وہ دیوار خلیفہ جی کے کردار میں نظر آتی ہے۔ خلیفہ جی کے کردار کا مکمل خاکہ پیش کئے بغیر اس دیوار کا تصور نا ممکن تھا۔
    تکنیکی طور پر مجھے اس افسانے کی جو بات سب سے زیادہ اچھی لگی وہ یہ ہے کہ شروع سے آخر تک پورے افسانے میں کہیں بھی کہانی بیان کرنے کی شعوری کوشش نظر نہیں آتی لیکن کہانی بیان ہو جاتی ہے۔ دیوار پوری طرح نظر آنے لگتی ہے، گر بھی جاتی ہے اور ایک دور کا خاتمہ ہوتا صاف نظر آتا ہے۔
    خلیفہ جی جیسے لوگ ایک فرد نہیں بلکہ پورے ایک دور کی نمائندگی کرتے ہیں۔ آج سے پچاس سال قبل کا زمانہ دیکھیں تو ایسے کردار ہمیں آس پاس نظر آ جائیں گے۔ رودار، وضع دار، بے نیاز۔ میں بچپن میں جہاں رہتا تھا وہاں بھی ایک خلیفہ جی رہتے تھے اور پیشے سے درزی ہی تھے۔ صرف قمیض پاجامہ اور بنڈی سلا کرتے تھے، وہ بھی اپنی شرطوں پر۔ وہی شانِ بے نیازی وہی لباس وہی اطوار وہی حقہ۔ ۔ ان کی تنگ دستی اور بے سر و سامانی میں بھی ایک شان تھی۔ میں آج تک نہیں سمجھ سکا کہ انھیں خلیفہ کیوں کہا جاتا تھا۔ افسانہ پڑھتے ہوئے میری نگاہوں کے سامنے وہی خلیفہ جی گھومتے رہے۔
    راوی نے بہت بعد میں دیکھا۔ خلیفہ جی تو بہت پہلے مر چکے تھے۔ دوست کی موت پر کفن سینے کی دعوت ملی تو آنکھوں میں آنے والی چمک اس بات کی غماز ہے۔

    افسانہ کیا ہے
    آتے جاتے قدموں کی آہٹ ہے۔
    ایک دور جاتا ہوا اور ایک دور آتا ہوا۔

    اس خوبصورت افسانے کے لئے
    فاضل قلم کار کو ڈھیروں داد,و مبارک باد پیش ہے۔

    ReplyDelete
  6. افسانہ :گرتی دیواریں
    افسانہ نگار :شفیع مشہدی
    تاثرات :اقبال حسن آزاد
    شفیع مشہدی کا ایک بڑا اختصاص یہ ہے کہ وہ جدیدیت کی اندھی دوڑ میں شامل نہیں ہوئے. دراصل جن افسانہ نگاروں کو بیانیہ پر قدرت حاصل ہوتی ہے وہ اس قسم کی تحریک سے دور ہی رہتے ہیں. "گرتی دیواریں" ایک کرداری افسانہ ہے جس میں خلیفہ میاں کا کردار زندہ اور متحرک ہماری آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے. بدلتے وقت اور بدلتی قدروں کی نہایت عمدہ عکاسی کرتا ہوا یہ افسانہ اگر ایک طرف رشتوں کی شکست و ریخت کا المیہ بیان کرتا ہے تو دوسری طرف خلیفہ میاں کے کردار کے زوال کو بھی درشاتا ہے. پلاٹ سازی گٹھی ہوئی ہے. کردار نگاری اعلیٰ درجے کی اور مکالمے فطری ہیں. اور کلائمکس زبردست ہے.

    ReplyDelete
  7. افسانہ : گرتی دیواریں
    افسانہ نگار؛ شفیع مشہدی
    تبصرہ: شہناز فاطمہ

    ایونٹ کا آغاز ایک ایسے پر اثر افسانے سے ہوا ہے کہ آنکھیں بھیگ گئیں ایک غیرت دار انسان حالات سے کب ٹوٹ کر بکھر جائے اسکی بہترین عکاسی کرتا ہوا محترم شفیع مشہدی صاحب کا افسانہ "گرتی دیواریں" ہیں
    وقت اور حالات انسان کو کتنا بےبس و مجبور بنادیتے ہیں کہ خودار ضمیر بھی حالات کی زد میں بھ جاتا ہے اور محسوس کرتے ہوئے بھی اپنے خیالات اور جذبات کی قربانی کرنی پڑتی ہے دل زخمی ہوتا ہے مگر حالات مجبور کر دیتے ہیں
    یہ افسانہ ان سارے احساسات کا آءینہ ہے
    اس درد بھرے لیکن زندگی کی حقیقت سے قریب افسانے کے لئے محترم جناب شفیع مشہدی صاحب کے لئے نیک خواہشات اور پرخلوص دلی مبارک باد پیش کرتی ہوں

    ReplyDelete
  8. افسانہ :گرتی دیواریں
    افسانہ نگار :شفیع مشہدی
    تاثرات :نسترن احسن فتیحی

    شفیع مشہدی صاحب محتاج تعارف نہیں۔ ان کے فن پاروں میں زبان کا معیار قائم رہتا ہے اور وہ سادہ سلیس بیانیہ میں واقعات نگاری اور کردار نگاری کے فن میں ملکہ رکھتے ہیں ۔ اسی لئے ان کے کئ ڈرامے بے حد مقبول ہوئے "مٹھی بھر خاک" کئ شہروں میں اسٹیج ہوا۔
    زیر نظر افسانہ بھی کردار نگاری کی مثال میں پیش کیا جا سکتا ہے۔اس پر آنے والے تاثرات میں اب تک احباب نے بہت کچھ کہا انہیں دہرانے کی بجائے میں کہونگی کہ ان سب باتوں سے مجھے بھی اتفاق ہے۔ افسانے کے تمہیدی حصے پر خاکہ نگاری کا رنگ غالب ہے، مگر بحیثیت مجموعی یقینا یہ ایک عمدہ افسانہ ہے ۔جو انسانی نفسیات کی ایک ایسی گرہ کو کھولتا ہے جو المناک ہے۔ وقت اور حالات کے شکنجے میں انسان کی نفسیات کس کس طرح اسے بدلتی ہے یہ افسانہ اسی کو اجاگر کرتا ہے ۔ انجام دل پر اثر کرنے والا ہے ۔ جہاں راوی کہتا ہے کہ حقیقت میں آج کسی کی موت ہوئی ہے۔" وہ موت جو ایک لمحے یا ایک سانحے میں نہیں ہوئ بلکہ وہ تل تل کر مرتا ہوا یہاں تک پہنچا کہ اس کی خودداری اور عزت نفس کی گرتی ہوئ دیوار کو یہ معاشرہ سنبھال نہ سکا ۔
    ان باتوں سے الگ ایک سوال میرے ذہن میں یہ ابھرا کہ خلیفہ جی اپنی خدمات تجہیز و تکفین کے لئے وقف کر دیتے تھے ۔ جس میں کفن سینے کا ذکر ہے ۔ اور کئ بار لفظ سینے کا استعمال ہوا ہے ۔جبکہ میں سمجھتی ہوں کہ کفن دفن کے معاملے میں جتنا بھی وقت لگتا ہو اسے سینے کا کام نہیں ہوتا ۔ اگر کسی وجہ سے کبھی ایسا کرنا پڑ جائے تو ہرج بھی نہیں مگر مرد ہو یا عورت اس کا کفن ہمیشہ سیا جاتا ہو ایسا بھی نہیں ہے ۔اس لئے سینے کے بجائے کفن کی کتر بیونت لکھا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا ۔اگر میرا یہ خیال غلط ہے تو پیشگی معذرت قبول کریں۔

    ReplyDelete
  9. افسانہ : گرتی دیواریں
    افسانہ نگار : شفیع مشہدی
    مبصر : وسیم عقیل شاہ

    صنف افسانہ کے مایہ ناز قلم کاروں میں شفیع مشہدی کو اپنے افسانوں کی فکری جہات، بنت و بیانیہ اور طرز و اسلوب کے لحاظ سے نمایاں مقام حاصل ہے ـ انھوں نے اپنے فن کو مختلف موضوعات کا وسیلہ بنایا اور پوری دیانت داری سے انھیں برتا ـ زیر نظر افسانہ 'گرتی دیواریں' موضوع کے اعتبار سے ایک منفرد افسانہ ہے ـ بظاہر افسانے میں ایک عام سی کہانی روایتی انداز میں نظر آتی ہے اور جس کی پرتوں سے تہذیب و اقدار کے تبدل کا نوحہ واضح طور پر جھانکتا نظر آتا ہے، غرض یہ کہ یہ داستانِ گم گشتہ ہے ـ لیکن یہ افسانہ ہر اس نئی تہذیب، نئے تمدن پر بھی کلام کرتا ہے جس کی آمد سے ماضی کا وہ تمدن زائل ہوجائے جو زندگی کرنے کی بنیاد بنتا ہے ـ بعض دفعہ لوگ باگ جوانی، تندرستی اور ذہانت کے بوتے پر نئے کلچر سے ہم آہنگ ہوجاتے ہیں، مگر اکثر دفعہ ایسی صورت حال میں معمر حضرات کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ـ خلیفہ ایک درزی ہے، معقول آمدنی ہے، لہٰذا اس کی زندگی مزے میں کٹ رہی ہے ـ لیکن نئے طرز کے کپڑے نے اس کی سلائی کی ڈیمانڈ گرا دی ـ اب خلیفہ چاہتے ہوئے بھی اس نئے چلن سے مطابقت پیدا نہیں کر پاتا ہے، کیوں کہ ایک تو اس کے ساتھ عمر کے تقاضے ہیں، دوسرے یہ کہ اس کا مزاج دوسری طرح کا ہے ـ مگر افسوس ناک صورت حال اس وقت پیدا ہوجاتی ہے جب وہ اپنے انسانیت نواز اصولوں سے مفاہمت کر لیتا ہے ـ شفیع مشہدی اسی مقام پر پنچ کرتے ہیں کہ کسی تہذیب کے بچھڑنے کا اس سے بڑا نقصان اور کیا ہو سکتا ہے!!!
    افسانے کی ایک بڑی خوبی کردار نگاری ہے ـ افسانہ نگار نے اپنے کردار کو زندگی کے تمام مراحل سے گزار کر اس کا تجزیہ نہیں کیا بلکہ اس کی زندگی کے چند ایسے شیڈس سامنے رکھ دیے کہ اس کی پوری زندگی کا مکمل عکس قاری کے ذہن پر اتر آتا ہے ـ اسی طرح افسانہ کی زبان بھی قابل توجہ ہے ـ ایکدم سلیس و سادہ لیکن اس کی دبازت اتنی ہی گہری ہے ـ
    عنوان سے متعلق جو بات ذہن میں تھی وہ اوپر کسی مبصر نے لکھ دی ہے لہٰذا اسے دہرانا غیر ضروری ہے ـ

    ReplyDelete
  10. رنگ و آہنگ سترہواں ایونٹ افسانہ نمبر ایک
    افسانہ گرتی دیواریں
    افسانہ نگار شفیع مشہدی
    تاثرات محمد سراج عظیم
    شفیع مشہدی صاحب جیسے مشہور و معروف افسانہ نگار کے حساس قلم سے معرض وجود افسانہ سے اس ایونٹ کا آغاز بجا طور رنگ و آہنگ سے میل کھاتا ہوا ہے۔ میں نے شفیع صاحب کے افسانے بزم افسانہ سے پہلے نہیں پڑھے یہ میری کم علمی کی نشانی ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ اتنے حساس اور جزئیات نگاری کے ماہر شخصیت جو ہر سانس کے زیر و بم کے مفاہیم کو بیانیہ کی لڑیوں میں اس طرح پروتا ہے کہ قاری کی خود کی اپنی سانس اٹکنے لگتی ہے۔ میں نے شفیع مشہدی صاحب کے جو بھی افسانے پڑھے ہیں۔ مجھے اپنے دل اور مزاج کے قریب لگے۔ وجہ شائید یہ ہو کہ میں چاہے بچوں کی کہانیاں، افسانہ یا افسانچہ تحریر کرتا ہوں۔ اس میں زیادہ تر سچی کہانیاں اور میرے لڑکپن سے عصر حاضر تک سماج اور دنیا میں رونما ہونے والی تہزیبی تمدنی مزہبی سیاسی اور انسانیت سوز تبدیلیاں اقدار اخلاق کی تنزلی کی جزئیات نگاری میری کمزوری ہے۔ جو مشہدی صاحب کے یہاں بدرجۂ اتم ملتا ہے۔ زیر نظر افسانہ شخصی خاکہ نما تہذیب کے گرتے ہوئے گراف کے اعداد و شمار کی جزئیات نگاری سے لبریز وقت کا نوحہ ہے۔ بظاہر سادہ بیانیہ لئے ہوئے یہ سماج کے ایک فرد کی کہانی ہے مگر شفیع صاحب نے جس چابکدستی سے جزئیات نگاری کے ذریعے وقت کے اندھیروں میں گم ہوتی تہزیب کے اوراق پارینہ کو اجاگر کیا ہے یہ ان مشاق قلم کا سحر ہے ۔ شفیع مشہدی صاحب نے خلیفہ جی کی کردار نگاری اور افسانہ کی بنت میں جزئیات نگاری سے ماضی قریب میں انسانی اقدار کی مٹتی تہزیب کے نقوش اور درد کی ٹیسوں کو کشید کرکے قاری کے دل و دماغ میں اس کو محلول کردیا کہ حساس قاری یک بارگی آہ کر بیٹھے۔ جس مرکزی کردار خلیفہ جی کا ذکر گرتی دیواریں کے تمثیلی عنوان میں کیا گیا ہے۔ میں بذات خود اس دور میں ان کرداروں کا مشاہدہ اپنے شہر بریلی اور دہلی میں آئے دن کرتا رہتا ہوں۔ ایسی کہانیاں آس پاس زندہ لاشوں کی طرح مجھے ملتی رہتی ہیں اور میں ان زندہ لاشوں کی حسرتوں اور غم کا بوجھ دل پر لئے پھرتا رہتا ہوں۔ اس افسانہ نے میرے ارد گرد کتنے خلیفہ جی لاکر کھڑے کردئے جن کے چہرے دیکھ کر واقعی خوف اور افسوس کی جھرجھری میری ریڑھ میں رینگ گئ۔ بہرحال میرے نزدیک کامیاب افسانہ وہ ہوتا ہے جو قاری کے اندرون میں حلول کر جائے۔ میں شفیع صاحب کے طرز تحریر پر کسی طرح کی خامہ فرسائی کرنے سے قاصر ہوں کیونکہ ہم ان سے سیکھنے کے عمل میں ہیں۔ صرف مبارکباد پیش کرسکتا ہوں۔ ﷲ پاک شفیع مشہدی صاحب جیسے لوگوں کو تادیر سلامت رکھے۔ اس ایونٹ کا آغاز اس خوبصورت افسانہ سے کرنے پر منتظمین بزم افسانہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں

    ReplyDelete
  11. افسانہ " گرتی دیواریں "
    افسانہ نگار " شفیع مشہدی "
    تاثرات " رخسانہ نازنین"

    بدلتے وقت کا نوحہ سناتا ایک پراثر افسانہ ۔ کفن سینے کی اجرت لینا ہی خلیفہ جی کی جیتے جی موت تھی ۔ غربت اور مفلسی انسان کو کس طرح مجبور کردیتی ہے کہ وہ اپنے مزاج کے برخلاف کام کرنے لگتا ہے ۔ بہر کیف نئے ایونٹ کا آغاز ایک بہترین افسانے سے ہونے پر منتظمین اور محترم شفیع مشہدی صاحب کو مبارکباد پیش ہے ۔

    ReplyDelete
  12. بزمِ افسانہ کی پیش کش
    سترہواں ایونٹ
    رنگ و آہنگ
    افسانہ نمبر : 01

    *گرتی دیواریں*
    افسانہ نگار: شفیع مشہدی
    گفتگو: طاہرانجم صدیقی


    شفیع مشہدی صاحب کا افسانہ "گرتی دیواریں" اپنے عنوان سے کسی چیز کے کمزور پڑجانے، سماج کے تہذیب و روایات کی گرفت سے پھسل جانے کا اظہار کرتا نظر آتا ہے.
    چونکہ افسانہ حاضر راوی کی زبانی خلیفہ جی کو مرکز کئے ہوئے ہے اس لیے سوال چھوڑ جاتا ہے کہ وہ ہے کون؟
    راوی خلیفہ جی مکان کے سامنے گلی کی دوسری طرف رہنے والا اور ان کی نظروں کے سامنے پلا بڑھا وہ بچہ ہے جو جوان ہوکر کہیں باہر تعلیم اور ملازمت کے لیے برسوں گزار کر واپس محلے میں آ کر وقت اور حالات نے حقیقی اور معنوی طور پر جن دیواروں کو منہدم کیا ہے ان کا تذکرہ کرتا ہے اور ان تذکروں کی زد میں خلیفہ جی کی ذات بھی چلی آتی ہے. ان کی خودداری، رواداری پر پڑنے والی زمانے کی ضربوں سے کبھی ان کی دو وقت کی روٹی متاثر ہوتی ہے، کبھی ان کے خاندان کا شیرازہ متاثر ہوتا ہے تو کبھی ان کی فکر کی بنیادیں ہل جاتی ہیں.
    مشہدی صاحب کا افسانہ خالص کردار نگاری کا افسانہ ہے. وہ اپنے افسانے میں خلیفہ جی کے کردار کو مختلف زاویوں سے افسانے کے فریم میں متجسم کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں. اس کامیابی کے لیے ایک طرف انہوں خاکہ نگاری کا سہارا لیا ہے تو دوسری طرف افسانے کے بیانیہ کے فن سے بھی استفادہ کیا ہے.
    اتنا ہی نہیں بلکہ زبان و بیان، مکالمے اور منظر نگاری کے توسط سے افسانے کو زندگی سے کاٹ کر اس طرح الگ کر لیا ہے کہ اس پر لگے ہوئے برادے تک صاف دکھائی دیتے ہیں اور ایسا دکھائی دینا ممتاز شیریں کے نزدیک افسانہ نگار کی خوبی ہے، جس کی سراہنا کی جانی چاہئے.
    پھر سارے افسانے میں کسک اور درد کی جو زیریں لہریں رچی بسی ہیں وہ افسانے کے کلائمکس سے تاثر کا جو زور دکھاتی ہیں وہ قابلِ مبارکباد ہے.
    بس ایک بات یہ عرض کرنی ہے کہ شفیع مشہدی صاحب حاضر راوی کے تقاضوں کی تکمیل کے لیے کچھ مقامات پر نظرِ ثانی کرلیں.

    ReplyDelete
  13. افسانہ: گرتی دیواریں
    افسانہ نگار: شفیع مشہدی
    اظہار خیال: محمد علیم اسماعیل

    شفیع مشہد کی کہانی "گرتی دیواریں" ایک پُرجوش اور فکر انگیز کہانی ہے جو خلیفہ جی کی زندگی پر روشنی ڈالتی ہے، جو ایک زمانے میں محلے کے ایک معزز درزی تھے جنھیں عمر کے ساتھ ساتھ اپنی قسمت اور قد میں کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
    مصنف نے خلیفہ جی کو ایک بھرپور ماضی کے ساتھ ایک کثیر جہتی کردار کے طور پر پیش کیا ہے۔ وہ اپنے عرفی نام، خلیفہ جی کے لیے جانے جاتے ہیں، جو کمیونٹی کے ساتھ ان کے گہرے تعلق کی عکاسی کرتا ہے۔ کہانی سے پتہ چلتا ہے کہ عمر اور بدلتا وقت ان کی زندگی اور سماجی حیثیت کو کیسے متاثر کرتا ہے۔
    خستہ حال مٹی کا گھر، خستہ حال سلائی مشین، اور خلیفہ جی کے آنگن میں جھلسے ہوئے بیر کے درخت ان کی زوال پذیر زندگی کی علامتی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ علامتیں وقت گزرنے اور اس کے حالات میں ہونے والی تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
    کہانی بدلتے ہوئے حالات کو بخوبی بیان کرتی ہے۔ وقت کا گزرنا، بڑھاپا، سماجی تبدیلی، اور انسانی رشتوں کی نزاکت۔ یہ اس بات کی کھوج کرتا ہے کہ کس طرح لوگوں کی زندگیاں وقت کے ساتھ ڈرامائی طور پر تبدیل ہو سکتی ہیں اور کیسے ماضی انھیں پریشان کر سکتا ہے۔
    یہ کہانی بدلتے ہوئے فیشن اور طرز زندگی کے رجحانات پر سماجی تبصرہ بھی پیش کرتی ہے۔ خلیفہ جی کی ٹیلرنگ کی روایتی مہارتیں متروک ہو گئیں کیونکہ لوگ جدید لباس کے انداز کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کچھ افراد کو پیچھے چھوڑ کر، معاشرہ کیسے ترقی کرتا ہے۔
    کہانی میں ستم ظریفی کا شدید احساس ہوتا ہے۔ خلیفہ جی، جنھوں نے کبھی تنازعات کو حل کیا اور کمیونٹی میں ایک اہم کردار ادا کیا، وہ نظر انداز اور انحصار کی حالت میں ختم ہو جاتے ہیں۔ ستم ظریفی اس حقیقت میں مضمر ہے کہ جب اس نے دوسروں کی مدد کی تو بہت کم لوگ اس کی ضرورت کے وقت اس کی مدد کرنے کو تیار ہیں۔
    خلیفہ جی کا کردار ایک قابل احترام اور خود مختار درزی سے ایک کمزور اور منحصر بزرگ آدمی میں تبدیل ہوتا ہے۔ اس کا جذباتی سفر کہانی کا مرکزی عنصر ہے۔
    کہانی قاری میں ہمدردی کے جذبات کو ابھارتی ہے۔ خلیفہ جی کی حالتِ زار بڑھاپے کی تلخ حقیقتوں اور کمیونٹی سپورٹ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
    آخر میں میں یہی کہوں گا کہ، "گرتی دیواریں" ایک پُرجوش کہانی ہے جو بڑھاپے، سماجی تبدیلی، اور انسانی رشتوں کی نزاکت کے موضوع کو مہارت کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ یہ ایک قابل احترام درزی کے زوال کی ایک واضح تصویر پینٹ کرتی ہے اور کمیونٹی کی نوعیت، حمایت اور وقت کے ساتھ برتاؤ میں ہونے والی تبدیلیوں پر سوالات اٹھاتی ہے۔ کہانی قارئین کو خلیفہ جی کے لیے ہمدردی کا احساس کراتی ہے اور زندگی اور معاشرے کی ارتقائی نوعیت پر غور و فکر کا اشارہ دیتی ہے۔
    اس افسانے سے یہ میسج صاف صاف ملتا ہے کہ بھوک انسان کو اپنے اصولوں کا سودا کرنے پر بھی مجبور کر دیتی ہے۔

    ReplyDelete
  14. بزم کی شروعات ہی ایک بڑے افسانہ نگار محترم شفیع مشہدی صاحب کا افسانہ "گرتی دیواریں "سے کیا گیا ہے ایک زمانے کے اتنا اچھا افسانہ پڑھنے کو ملا جس میں کردار نگاری منظر نگاری کے ایک ایک پہلو اور انکے نکات کو اجاگر کیا گیا ہے جس میں ایک زندہ انسان کی کسمپرسی کے حالات کو بیان کیا گیا ہے تو دوسری جانب انکے احساسات اور اسکی درد بھری زندگی کی حقیقت بیان کیا گیا ہے جو ہم جیسے لکھاریوں کیلئے مشعل راہ ہے
    بزم کی شروعات میں بہترین افسانہ پیش کرنے کیلئے اور محترم شفیع مشہدی صاحب کی شمولیت کیلئے نیک خواہشات اور بہت بہت مبارکباد
    محمد شمشاد
    ایڈمن
    اردو ادب وائس آپ گروپ

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

بادِ صبا کا انتظار : سید محمد اشرف

پناہ گاہ: اسرارگاندھی

مسیحائی : ایم مبین (بھیونڈی)